06/03/2026
🚨 “ایک میزائل مسجد اقصیٰ پر گرا دو اور الزام ایران پر ڈال دو” — امریکی میڈیا میں چونکا دینے والا دعویٰ
حامد میر
"اس وقت دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے اور مسلمانوں کے دشمن فرقہ واریت کی بنیاد پر اختلافات پیدا کرنے اور مسجدِ اقصیٰ کو شہید کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔
یہ کوئی افواہ نہیں ہے۔
اب اس سازش کے شواہد ہمیں امریکہ سے مل رہے ہیں۔
اور یہ شواہد ہمیں ایک بہت معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے فراہم کیے ہیں۔
ہم پہلے بھی ٹکر کارلسن کا ذکر کر چکے ہیں، لیکن اب انہوں نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو نیتن یاہو کے بہت قریب ہیں۔
وہ مسجدِ اقصیٰ کو شہید کیسے کرنا چاہتے ہیں؟
آئیے ٹکر کارلسن کی ایک مختصر کلپ سنتے ہیں۔
ایک اسرائیلی ربی جوزف مسراخ یہ بیان کر رہا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے ساتھ جاری ایک تنازع سے کیسے فائدہ اٹھانا چاہیے—جو اس وقت کے مقابلے میں کم شدت کا تھا—تاکہ ڈوم آف دی راک اور مسجدِ اقصیٰ کو تباہ کیا جا سکے۔
وہ کہتا ہے:
اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو جب پچھلی بار سینکڑوں میزائل فائر کیے گئے تھے،
تو میں یہ دکھاوا کرتا کہ ایک میزائل ایران کی طرف سے آیا ہے اور پھر اسے مار گراتا۔
پھر تمام عرب ایران کے خلاف ہو جاتے اور مسائل ختم ہو جاتے۔
تم انہیں آپس میں لڑاؤ، یہ پاگلوں کا ایک گروہ ہے۔
ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔
تم بزدلوں کے ایک گروہ سے نمٹ رہے ہو۔
ایک میزائل ڈوم آف دی راک اور مسجدِ اقصیٰ پر گرا دو۔
اسے تباہ کر دو—جسے اسرائیلی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں—اس کی بنیاد کے پتھر سمیت۔
اسے تباہ کر دو اور الزام ایران پر لگا دو۔
اور جیسا کہ آپ نے اسے کہتے سنا، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دشمن آپس میں لڑنے لگیں گے۔
دیکھیں یہ۔
ایک امریکی صحافی بیان کر رہا ہے کہ اسرائیل ڈوم آف دی راک اور مسجدِ اقصیٰ کو گرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
میزائل خود اسرائیلی فائر کریں گے،
لیکن الزام ایران پر ڈال دیا جائے گا۔
اور پھر عرب ممالک ایران پر حملہ کر دیں گے۔"
,
,
,
,
,
,
,
,
,
,