14/05/2026
1۔
کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا
اور اسير حلقہ دام ہوا کيونکر ہوا
شاعر کہتا ہے کہ میں اپنے اصل مقام اور سکون سے جدا کیسے ہوگیا؟ اور آزادی کی جگہ دنیا کی خواہشات اور غموں کے جال میں کیسے پھنس گیا؟
یہ انسان کی روحانی تنزلی کی طرف اشارہ ہے۔
2۔
جائے حيرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں ميں
مجھ کو يہ خلعت شرافت کا عطا کيونکر ہوا
اقبالؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو جانتا ہوں، پھر حیرت ہے کہ لوگ مجھے عزت و شرافت والا کیوں سمجھتے ہیں۔
یہ عاجزی اور انکساری کا اظہار ہے۔
3۔
کچھ دکھانے ديکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کيا خبر ہے تجھ کو اے دل فيصلا کيونکر ہوا
یہاں “طور” سے مراد کوہِ طور ہے جہاں حضرت موسیٰؑ کو تجلی دکھائی گئی۔ شاعر کہتا ہے کہ وہاں حسنِ الٰہی کی جھلک دکھانا مقصود تھی، مگر اے دل! تجھے کیا معلوم کہ یہ راز اور فیصلہ کیسے ہوا۔
یہ عشقِ الٰہی اور اسرارِ قدرت کی بات ہے۔
4۔
ہے طلب بے مدعا ہونے کي بھي اک مدعا
مرغ دل دام تمنا سے رہا کيونکر ہوا
دل کی یہ خواہش بھی ایک خواہش ہے کہ انسان خواہشات سے آزاد ہوجائے۔ شاعر حیران ہے کہ دل آرزوؤں کے جال سے آزاد کیسے ہوسکتا ہے۔
یہ نفس اور خواہشات کے فلسفے کی طرف اشارہ ہے۔
5۔
ديکھنے والے يہاں بھي ديکھ ليتے ہيں تجھے
پھر يہ وعدہ حشر کا صبر آزما کيونکر ہوا
اگر اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور اہلِ دل اسے محسوس کر لیتے ہیں، تو پھر قیامت کے دن دیدار کا وعدہ اتنا صبر آزما کیوں بنایا گیا؟
یہ شوقِ دیدارِ الٰہی کا اظہار ہے۔
6۔
حسن کامل ہي نہ ہو اس بے حجابي کا سبب
وہ جو تھا پردوں ميں پنہاں ، خود نما کيونکر ہوا
کامل حسن خود کو ظاہر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو حسن پہلے پردوں میں چھپا ہوا تھا، وہ خود ظاہر کیوں نہ ہوتا؟
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حسنِ کامل کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے۔
7۔
موت کا نسخہ ابھي باقي ہے اے درد فراق!
چارہ گر ديوانہ ہے ، ميں لا دوا کيونکر ہوا
فراق اور جدائی کا درد اتنا شدید ہے کہ اس کا علاج صرف موت معلوم ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ طبیب تو دیوانہ ہوگیا، پھر میرا علاج کیسے ممکن تھا؟
یہ عشق کے شدید درد کی تصویر ہے۔
8۔
تو نے ديکھا ہے کبھي اے ديدہء عبرت کہ گل
ہو کے پيدا خاک سے رنگيں قبا کيونکر ہوا
اے نصیحت حاصل کرنے والی آنکھ! کیا تو نے دیکھا کہ ایک پھول مٹی سے پیدا ہوکر اتنا حسین اور رنگین کیسے بن گیا؟
یہ قدرتِ الٰہی کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت ہے۔
9۔
پرسش اعمال سے مقصد تھا رسوائي مري
ورنہ ظاہر تھا سبھي کچھ ، کيا ہوا ، کيونکر ہوا
قیامت میں اعمال کا حساب شاید میری رسوائی ظاہر کرنے کے لیے ہوگا، ورنہ اللہ کے سامنے تو سب کچھ پہلے ہی ظاہر ہے کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔
یہ بندے کی عاجزی اور خوفِ آخرت کا بیان ہے۔
10۔
ميرے مٹنے کا تماشا ديکھنے کي چيز تھي
کيا بتائوں ان کا ميرا سامنا کيونکرہوا
شاعر کہتا ہے کہ میرا فنا ہونا اور مٹ جانا ایک عجیب منظر تھا، اور محبوب یا حقیقتِ مطلق سے میرا سامنا کیسے ہوا، یہ بیان سے باہر ہے۔
یہ عشق میں فنا ہونے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔
بانگ درا