اقبال اشعار و خطاطی

اقبال اشعار و خطاطی Allah Almighty is sufficient for me.

14/05/2026


کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا
اور اسير حلقہ دام ہوا کيونکر ہوا
شاعر کہتا ہے کہ میں اپنے اصل مقام اور سکون سے جدا کیسے ہوگیا؟ اور آزادی کی جگہ دنیا کی خواہشات اور غموں کے جال میں کیسے پھنس گیا؟
یہ انسان کی روحانی تنزلی کی طرف اشارہ ہے۔

جائے حيرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں ميں
مجھ کو يہ خلعت شرافت کا عطا کيونکر ہوا
اقبالؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو جانتا ہوں، پھر حیرت ہے کہ لوگ مجھے عزت و شرافت والا کیوں سمجھتے ہیں۔
یہ عاجزی اور انکساری کا اظہار ہے۔

کچھ دکھانے ديکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کيا خبر ہے تجھ کو اے دل فيصلا کيونکر ہوا
یہاں “طور” سے مراد کوہِ طور ہے جہاں حضرت موسیٰؑ کو تجلی دکھائی گئی۔ شاعر کہتا ہے کہ وہاں حسنِ الٰہی کی جھلک دکھانا مقصود تھی، مگر اے دل! تجھے کیا معلوم کہ یہ راز اور فیصلہ کیسے ہوا۔
یہ عشقِ الٰہی اور اسرارِ قدرت کی بات ہے۔

ہے طلب بے مدعا ہونے کي بھي اک مدعا
مرغ دل دام تمنا سے رہا کيونکر ہوا
دل کی یہ خواہش بھی ایک خواہش ہے کہ انسان خواہشات سے آزاد ہوجائے۔ شاعر حیران ہے کہ دل آرزوؤں کے جال سے آزاد کیسے ہوسکتا ہے۔
یہ نفس اور خواہشات کے فلسفے کی طرف اشارہ ہے۔

ديکھنے والے يہاں بھي ديکھ ليتے ہيں تجھے
پھر يہ وعدہ حشر کا صبر آزما کيونکر ہوا
اگر اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور اہلِ دل اسے محسوس کر لیتے ہیں، تو پھر قیامت کے دن دیدار کا وعدہ اتنا صبر آزما کیوں بنایا گیا؟
یہ شوقِ دیدارِ الٰہی کا اظہار ہے۔

حسن کامل ہي نہ ہو اس بے حجابي کا سبب
وہ جو تھا پردوں ميں پنہاں ، خود نما کيونکر ہوا
کامل حسن خود کو ظاہر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو حسن پہلے پردوں میں چھپا ہوا تھا، وہ خود ظاہر کیوں نہ ہوتا؟
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حسنِ کامل کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے۔

موت کا نسخہ ابھي باقي ہے اے درد فراق!
چارہ گر ديوانہ ہے ، ميں لا دوا کيونکر ہوا
فراق اور جدائی کا درد اتنا شدید ہے کہ اس کا علاج صرف موت معلوم ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ طبیب تو دیوانہ ہوگیا، پھر میرا علاج کیسے ممکن تھا؟
یہ عشق کے شدید درد کی تصویر ہے۔

تو نے ديکھا ہے کبھي اے ديدہء عبرت کہ گل
ہو کے پيدا خاک سے رنگيں قبا کيونکر ہوا
اے نصیحت حاصل کرنے والی آنکھ! کیا تو نے دیکھا کہ ایک پھول مٹی سے پیدا ہوکر اتنا حسین اور رنگین کیسے بن گیا؟
یہ قدرتِ الٰہی کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت ہے۔

پرسش اعمال سے مقصد تھا رسوائي مري
ورنہ ظاہر تھا سبھي کچھ ، کيا ہوا ، کيونکر ہوا
قیامت میں اعمال کا حساب شاید میری رسوائی ظاہر کرنے کے لیے ہوگا، ورنہ اللہ کے سامنے تو سب کچھ پہلے ہی ظاہر ہے کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔
یہ بندے کی عاجزی اور خوفِ آخرت کا بیان ہے۔
10۔
ميرے مٹنے کا تماشا ديکھنے کي چيز تھي
کيا بتائوں ان کا ميرا سامنا کيونکرہوا
شاعر کہتا ہے کہ میرا فنا ہونا اور مٹ جانا ایک عجیب منظر تھا، اور محبوب یا حقیقتِ مطلق سے میرا سامنا کیسے ہوا، یہ بیان سے باہر ہے۔
یہ عشق میں فنا ہونے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔

بانگ درا

04/05/2026
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں  یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
25/04/2026

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اللہ کریم عزوجل
24/04/2026

اللہ کریم عزوجل

23/03/2026

اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحرِ فرنگیانہ

معانی:اعجاز: معجزہ ۔ سحر: جادو ۔ فرنگیانہ: انگریز کا طور طریقہ ۔

مطلب: اس نظم کے مطلع میں اقبال اپنے عہد کی عالمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یورپ کی نئی ایجادات اور عسکری قوت کے باوجود آج پورے ایشیائی ممالک میں اس کے خلاف مزاحمتی تحریکوں کا زور شور سے جاری ہونا جہاں ان ممالک کے لوگوں کی بیداری کی دلیل ہے وہاں یورپی استعمار کی عملاً ناکامی کو یا تو زمانے کی گردش کہا جا سکتا ہے یا پھر معجزے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔

تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ

معانی: اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو آزادی اور زندگی کا مکمل شعور اور ادراک رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ غیر ضروری بار خود پر مسلط کرنے کے مقابلے میں بے سروساماں رہنا بھی بہتر ہے ۔ یہی ایک سچے انسان کی شان بے نیازی ہے ۔


یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی
یا بندہَ خدا بن ، یا بندہَ زمانہ

مطلب: ایک بندگی تو خدائے عزوجل کے سایہ عاطفت میں حاصل ہونے والی شے ہے اور دوسری بندگی محض مادی مفادات تک محدود ہوتی ہے ۔ یہ بندگی کی دو حقیقتیں ہیں ۔ اے انسان! اب یہ تیری صوابدید پر منحصر ہے کہ تو خدا کا بندہ بنتا ہے یا مادی مفادات کے لئے زمانے کا ۔


غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ

مطلب: اپنی خودی کا تحفظ کر اورا س سے غافل نہ ہو جا کہ شاید یہی خودی تیرے لیے عزت و وقار کا وسیلہ بن جائے ۔


اے لا الہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ

معانی: دلبرانہ: دل پسند ۔ قاہرانہ: زبردست ۔

مطلب: حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ تو جس پر اپنی قاہرانہ نگاہ ڈالتا تھا اس کا سینہ خوف سے دہل جاتا تھا ۔ لیکن اب افسوسناک امر یہ ہے کہ درویشی کی یہ صلاحیت بھی تجھ میں ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔


تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

معانی: حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ تو جس پر اپنی قاہرانہ نگاہ ڈالتا تھا اس کا سینہ خوف سے دہل جاتا تھا ۔ لیکن اب افسوسناک امر یہ ہے کہ درویشی کی یہ صلاحیت بھی تجھ میں ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔


رازِ حرم سے شاید اقبال باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ

معانی: اندازِ محرمانہ: جاننے والا ۔

مطلب: یوں محسوس ہوتا ہے کہ بقول اقبال میں کعبے کے بھیدوں سے پوری طرح واقف ہو چکا ہوں ۔ حرم کے تمام راز مجھ پر منکشف ہو چکے ہیں ۔ اس لیے کہ لوگوں کے نزدیک میں ان سے جو مکالمہ کرتا ہوں اس کا ماحصل یہی ہے ۔

Address

Mirpur Sakro
786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اقبال اشعار و خطاطی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category