25/07/2026
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ گزشتہ سو سال میں اکثر مراجع عظام نے 90، 95 بلکہ 100 سال سے زیادہ عمر کیوں پائی؟
چند مثالیں:
• آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی — 92 سال
• آیت اللہ امام خمینی — 86 سال
• آیت اللہ سید محمدرضا گلپایگانی — 95 سال
• آیت اللہ شہاب الدین مرعشی نجفی — 93 سال
• آیت اللہ محمد تقی بہجت — 92 سال
• آیت اللہ سید علی سیستانی — 98 سال
• آیت اللہ حسین وحید خراسانی — 105 سال
• آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی — 99 سال
یہ اعداد توجہ طلب ہیں۔
آج کے حیات مراجع:
آیت اللہ سید علی سیستانی — 98 سال
• آیت اللہ حسین وحید خراسانی — 105 سال
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی— 99 سال
جدید دنیا جہاں تمام تر طبی سہولیات کے باوجود قبل از وقت امراض کا شکار ہے، وہیں ان مراجع کی طویل عمری اور ذہنی بیداری کا اصل سبب ان کا وہ متبادل طرزِ زندگی ہے جس کی بنیاد اسلام کے اعلیٰ اصولوں پر ہے۔
1- سادہ غذا اور اعتدال (قناعت)
ان مراجع عظام کی زندگی کا سب سے بڑا اصول کم کھانا اور سادہ کھانا رہا ہے ان کے دسترخوان شاہانہ تکلفات، ثقیل غذاؤں اور فاسٹ فوڈ سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔
2-خوراک کی سادگی ان کی روزمرہ کی غذا عام طور پر روٹی، دہی، دال، پنیر یا سادہ شوربے پر مشتمل ہوتی ہے۔
3- طبی حکمت: وہ پیٹ بھر کر کھانے کے سخت خلاف ہوتے ہیں اور بھوک رکھ کر اٹھنا ان کا مستقل معمول ہوتا ہے
4- دنیا سے بے رغبتی (زہد)
طویل عمری کا ایک بڑا راز دماغی سکون اور اسٹریس (Stress) سے دوری ہے مراجع عظام دنیاوی جاہ و جلال، مال و دولت اور آسائشوں سے دور رہتے ہیں۔
5- سادہ رہن سہن (زاہدانہ زندگی)
لاکھوں مریدین اور کروڑوں کے شرعی فنڈز (خمس و زکوٰۃ) کے امین ہونے کے باوجود، ان مراجع کے گھروں کو دیکھ کر گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ وقت کی اتنی بڑی علمی شخصیات ہیں۔
ایک چھوٹے سے کچے یا پرانے مکان میں چٹائی پر بیٹھنا، زمین پر سونا، اور اپنے ذاتی کام خود کرنا ان کی عادت ہوتی ہے یہ زاہدانہ طرزِ زندگی انہیں تکبر سے دور اور جسمانی طور پر متحرک (Active) رکھتا ہے۔
6- باقاعدگی اور ذہنی نظم و ضبط
ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایک طے شدہ نظام کے تحت گزرتا ہے
سحر خیزی رات کے آخری پہر بیدار ہونا، نمازِ شب، اور طلوعِ آفتاب سے پہلے عبادت و تفکر۔
7-مستقل علمی مصروفیت:
آخری عمر تک کتابوں کا مطالعہ، تحریر اور تدریس ان کے دماغی خلیات (Brain Cells) کو متحرک رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ 100 سال کی عمر میں بھی ان کا حافظہ حیران کن حد تک تیز رہتا ہے۔
ان مراجع عظام کی طویل عمریں محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ سادہ غذا، دنیا سے بے رغبتی، اور یادِ الٰہی میں ڈوبے ہوئے پرسکون دل کا قدرتی نتیجہ ہیں۔
اگر ہم بھی آج کے اس پرآشوب اور نفسا نفسی کے دور میں اپنی زندگیوں میں سادگی اور قناعت کو شامل کر لیں، تو بہت سی ذہنی و جسمانی بیماریوں سے نجات پا سکتے ہیں۔