26/10/2024
کتابوں کا مطالعہ کرنا ہر دور میں بہت اہمیت رکھتا ہے، اور مختلف علماء اور سائنسدانوں نے اس کے فوائد اور ضرورت پر اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔ یہاں کچھ مشہور سائنسدانوں اور علماء کے اقوال دیے گئے ہیں جو کتابیں پڑھنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں:
1. امام غزالی: "کتاب ایک ایسا دوست ہے جو نہ آپ کو دغا دیتا ہے اور نہ ہی آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ آپ کو ہمیشہ علم و حکمت کے راستے پر چلنے کا مشورہ دیتی ہے۔"
2. شیکسپیئر: "کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ ان کے ذریعے ہم زندگی کی حقیقتوں کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔"
3. علامہ اقبال: "مطالعہ فکر کو بلندی عطا کرتا ہے اور انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زندگی کو نئی آنکھوں سے دیکھے۔"
4. مولانا روم: "علم کتابوں میں نہیں بلکہ کتابوں کے سمجھنے میں ہے۔"
5. نیلسن منڈیلا: "تعلیم اور مطالعہ وہ سب سے طاقتور ہتھیار ہے جس کے ذریعے آپ دنیا کو بدل سکتے ہیں۔"
6. ارسطو: "کسی کتاب سے صرف پڑھنے والا فائدہ نہیں اٹھاتا، بلکہ وہ کتاب ہر پڑھنے والے کو نیا علم اور نیا خیال دیتی ہے۔"
7. کونفیوشس: "اگر آپ ایک سال کی خوشبو چاہتے ہیں تو پھول لگائیں، اگر دس سال کی خوشبو چاہتے ہیں تو درخت لگائیں، اور اگر زندگی بھر کی خوشبو چاہتے ہیں تو کتابیں پڑھیں۔"
8. بنجمن فرینکلن: "مطالعہ انسان کی سوچ کو وہ پختگی عطا کرتا ہے جو اسے کسی اور ذریعہ سے نہیں مل سکتی۔"
9. رالف والڈو ایمرسن: "کتابیں وہ خوشبو ہیں جو ہمیں خود میں مکمل کر دیتی ہیں، چاہے ہم دنیا میں کہیں بھی ہوں۔"
10. ابنِ خلدون: "جو شخص کتابوں کا دوست ہے، وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔"
یہ اقوال ظاہر کرتے ہیں کہ کتابیں پڑھنے کی عادت نہ صرف علم و حکمت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ شخصیت کو بھی سنوارتی ہے۔ مطالعے کی عادت ہمیں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور نئے خیالات کو اپنانے کا موقع دیتی ہے۔
پاکستان میں کتابیں پڑھنے کا رجحان ہر دور میں رہا ہے، لیکن اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ طبقے میں کتابوں کی اہمیت کو ہمیشہ محسوس کیا گیا ہے، مگر عمومی طور پر دیکھیں تو وقت کے ساتھ کتابوں سے دلچسپی میں کمی آ رہی ہے، خاص طور پر جب سے ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا زیادہ عام ہوئے ہیں۔