Ramooz E Asif

Ramooz E Asif عہدِ حاضر کا شاعر، ہجر و وصل اور ذات کے کرب کا بیانیہ "رموزِآصف" کے عنوان سے سلسلہ وار غزل و نظم

رموزِ آصف — جلد 26: دشت کے باسیاُلفت کے کِھلے پُھولوں کو جُھلسایا گِیا ھےدَشت کے باسِیوں میں ہے اَب شُمار اَپناخَیر ہُو ...
29/04/2026

رموزِ آصف — جلد 26: دشت کے باسی

اُلفت کے کِھلے پُھولوں کو جُھلسایا گِیا ھے
دَشت کے باسِیوں میں ہے اَب شُمار اَپنا

خَیر ہُو رَقیِبوں کِی مُحبّت میں وہ مُبتِلا ہے
رہے سَربَسر وہ بَھاڑ میں جائے خُمار اَپنا

دُکھ کِتابوں نے دِئیے ہیں کیا اُن سے شِکوہ
فَقط صحبتِ غم ہی تو ہے در و دیوار اَپنا

محمد آصف مہد

یہ تین شعر، تین زخم ہیں:

#جلد26 #اردوشاعری #محمدآصفمہد #دشت #فراق #پیار
© مُحمد آصِف مَہدٌ

رموزِ آصف — جلد 25: دستِ تعزیرمختص برائے عمران خان، پاکستان تحریکِ انصافاَذیتیں تلخیوں سے اُترتی ہیں دَستِ تَعزِیرْ متاَ...
25/04/2026

رموزِ آصف — جلد 25: دستِ تعزیر
مختص برائے عمران خان، پاکستان تحریکِ انصاف

اَذیتیں تلخیوں سے اُترتی ہیں دَستِ تَعزِیرْ متاَعِ جَاں
لیِکن ہم تم کو کَہِیں آنکُھوں سے چَھلکنے نہیں دیتے

محمد آصف مہد

یہ شعر ان تمام قیدیوں، کارکنوں، اور رہنماؤں کے نام ہے
جن پر "دستِ تعزیر" یعنی سزا کا ہاتھ پڑا۔
جن کی "متاعِ جاں" — زندگی کی پونجی — اذیتوں کی نذر ہوئی۔

"تلخیوں سے اُترتی ہیں" — یعنی یہ زخم زبان کے نہیں، نظام کے دیے ہوئے ہیں۔
مگر دوسرا مصرع عہد ہے: "ہم تم کو کَہِیں آنکُھوں سے چَھلکنے نہیں دیتے"۔
یعنی تمہاری قربانی، تمہارا درد، تمہارا آنسو — ہم رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

#جلد25 #اردوشاعری
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 24: لہجے کی کڑواہٹ[تشخیص]لہجے میں تلخیاں یہ طے کرتی ہیں کہ آپ کا من پسند شخص آپ کے بنا نہیں رہنا چاہتا ی...
23/04/2026

رموزِ آصف — جلد 24: لہجے کی کڑواہٹ
[تشخیص]
لہجے میں تلخیاں یہ طے کرتی ہیں کہ آپ کا من پسند شخص
آپ کے بنا نہیں رہنا چاہتا یا پھر آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔

لیکن! لہجے کی کڑواہٹ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ
آپ جس شخص کے لیے اپنا سکون برباد کررہے ہیں
وہ کسی اور کا ہے۔ آپ کا کبھی تھا ہی نہیں۔

محترم! اُس کی نظروں میں آپ اپنا مقام اور احترام کھوچکے ہیں۔

محمد آصف مہد

یہ شعر نہیں، تشخیص ہے۔
محبت کے مرنے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ: لہجہ

#جلد24 #اردوادب #محمدآصفمہد #لہجہ #محبت #تلخی
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 23: محبت کے در سےاے محبّت تیرے دامن سے تو وابستہ ہوں گے وہ لوگ جو گزریں ہیں مسکراتے ہوئے اے محبّت ہمیں ب...
22/04/2026

رموزِ آصف — جلد 23: محبت کے در سے

اے محبّت تیرے دامن سے تو وابستہ ہوں گے
وہ لوگ جو گزریں ہیں مسکراتے ہوئے

اے محبّت ہمیں بھی بخش چند راز کی باتیں
ہم لوگ تو لوٹ آئیں ہیں تیرے در سے خالی

محمد آصف مہد

یہ شکوہ نہیں، سوال ہے:
محبت کس کو ملتی ہے؟ جو مسکراتے ہوئے گزر جائے اسے، یا جو روتے ہوئے لوٹ آئے اسے؟

یہی "رموزِ آصف" ہے — ایک زخم بھرتا نہیں کہ دوسرا تازہ ہو جاتا ہے۔

#جلد23 #اردوشاعری #محمدآصفمہد #محبت
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 22:  انٹرنیشنل ایڈیشن غزل: دن ہجرت کے آئے شیکم کی آگ میں لیپٹے، بوجھ خوابوں کے اٹھائے افسردہ شبِ فرقت تھ...
21/04/2026

رموزِ آصف — جلد 22: انٹرنیشنل ایڈیشن
غزل: دن ہجرت کے آئے

شیکم کی آگ میں لیپٹے، بوجھ خوابوں کے اٹھائے
افسردہ شبِ فرقت تھے، کیوں دن ہجرت کے آئے

دیارِ غیر کی نظروں سے اوجھل، دشت و صحرائے
تپتی ریت کو گلے لگائے، ہائے دن غربت کے آئے

چاکِ بدن درد میں ڈھالتے برس بیت گئے
مشقت کی دھوپ آزمائے، مائے دن شجاعت کے آئے

بریشم یاروں کی یادیں اور اپنے تاشا سے غم
بیتاب آنکھیں راستہ تکتی، کہا دن قربت کے آئے

اجنبی آشناؤں سے گہری وابستگی گہری باتیں
آشیانہِ سخنوری میں، جب دن رغبت کے آئے

خوابوں کی تعبیر میں، اک گھر تعمیر ہوا تھا
بڑا کمرہ ماں اور بابا کا، سب دن حکمت کے آئے

کِس قدر کارِ آزمودہ ہے، ہجرت کی تمنّا آصف
گلے ہم مِل نہ پائے، جب دن محبت کے آئے!

محمد آصف مہد

"مائے" پنجابی میں ماں کو کہتے ہیں۔
یہ غزل پیٹ کی آگ سے دل کے زخم تک کا سفر ہے۔
بھوک سے شروع، بہادری سے گزری، حکمت پر رکی، محبت پر ٹوٹی۔

جلد 21 میں "امیدوں کے چراغ" جلے تھے۔
جلد 22 میں پتا چلا کہ چراغ جلانے کی قیمت کیا ہے: پردیس۔

#جلد22 #اردوشاعری #محمدآصفمہد #ہجرت #مائے #پردیس
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 21: چراغہر شام عجب تماشا ہے کہ دلِ ناداں  تیری امیدوں کے چراغ جلا لیتا ہے!محمد آصف مہد"خواہشات کی لاشیں"...
19/04/2026

رموزِ آصف — جلد 21: چراغ

ہر شام عجب تماشا ہے کہ دلِ ناداں
تیری امیدوں کے چراغ جلا لیتا ہے!

محمد آصف مہد

"خواہشات کی لاشیں" دفن کرنے کے بعد بھی،
دلِ ناداں ہر شام تیرے نام کا دیا جلا دیتا ہے۔

#اردوشاعری #محمدآصفمہد #امید #چراغ
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 20: لاشیں[شعر]اتنی فرصت نہ ملی کہ ہم خدشات کی گنتی کرتے،ہمارے لمحوں میں خواہشات کی لاشیں دفن ہیں!محمد آص...
19/04/2026

رموزِ آصف — جلد 20: لاشیں
[شعر]

اتنی فرصت نہ ملی کہ ہم خدشات کی گنتی کرتے،
ہمارے لمحوں میں خواہشات کی لاشیں دفن ہیں!

محمد آصف مہد

خانہ بدوش کا خیمہ نہیں ہوتا، قبرستان ہوتا ہے۔

#اردوشاعری #شعر #محمدآصفمہد
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 19: خانہ بدوش[نظم]آخرکار میں بھی گھر چھوڑ کر آیا ہوں دکھ میرا بھی تو پرندوں کے جیسا ہے سردیوں کے کوچ سے ...
18/04/2026

رموزِ آصف — جلد 19: خانہ بدوش
[نظم]

آخرکار میں بھی گھر چھوڑ کر آیا ہوں
دکھ میرا بھی تو پرندوں کے جیسا ہے
سردیوں کے کوچ سے ان بہاروں کے کوچ تک
دکھ میرا بھی تو خانہ بدوشوں کے جیسا ہے

محمد آصف مہد

جب گھر چِھن جائے تو سارے موسم ہجرت بن جاتے ہیں۔

#اردونظم #محمدآصفمہد #ہجرت
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 18: دراڑیں[نظم]جاناں!اِس دلِ زار میں دراڑیں نہ پڑ جائیںدیمک میرے بدن کو خستہ نہ کردےزَخم اذیت کے جُنوں م...
18/04/2026

رموزِ آصف — جلد 18: دراڑیں
[نظم]

جاناں!
اِس دلِ زار میں دراڑیں نہ پڑ جائیں
دیمک میرے بدن کو خستہ نہ کردے
زَخم اذیت کے جُنوں میں مبتلا ہیں
ڈر ہے کہ اندھیروں سے مجھے ڈر نہ لگے
کبھی کوئی دشتِ بلا مجھے رولا نہ سکے
یہ جو فُرقت کی تلخیوں سے،
میں گھبرایا نہیں ہوں!

محمد آصف مہد

الوداع کے بعد بھی جو کھڑا رہے، وہی شاعر ہے۔

#اردونظم #محمدآصفمہد #دراڑیں
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 17: خطِ الوداع[نظم]روحِ من! فی امان اللہ جانِ جانم! یہ خط الوداع سے پہلے پہنچ نہیں پائے گا۔ جانتا ہوں تج...
18/04/2026

رموزِ آصف — جلد 17: خطِ الوداع
[نظم]

روحِ من! فی امان اللہ
جانِ جانم!
یہ خط الوداع سے پہلے پہنچ نہیں پائے گا۔
جانتا ہوں تجھے اذیت ہوگئی مگر تم سوچنا!
اونچے اونچے پربتوں کی چوٹیاں ہیں
وادیوں میں گنگناتی آبشاریں ہیں
چاندنی راتیں، ستاروں کے جھرمٹ ہیں
ساون کی گھٹائیں، بہاروں کے موسم ہیں

محمد آصف مہد

زخموں کے بعد جب لفظ مرہم بن جائیں، تو شاعر رخصت ہو جاتا ہے۔

#اردونظم #محمدآصفمہد
© محمد آصف مہد

رموزِ آصف — جلد 16: تڑپ[نظم]جاناں! تیرے بن تیرے ہجر میں اس قدر تڑپا ہوںکہ جیسے کسی سوالی کی کوئی لاحاصِل سدا تڑپے.... جا...
18/04/2026

رموزِ آصف — جلد 16: تڑپ
[نظم]

جاناں! تیرے بن
تیرے ہجر میں اس قدر تڑپا ہوں
کہ جیسے کسی سوالی کی
کوئی لاحاصِل سدا تڑپے....

جاناں! تیرے بعد
تیرے ہجر میں اس طرح تڑپا ہوں
کہ جیسے کسی قصاص میں
اُتر رہا ہو بیٹے کا سر
اور سامنے کھڑی ہوئی ماں تڑپے

محمد آصف مہد

جب ہجر کی انتہا ہو، تو تڑپ وراثت بن جاتی ہے۔

#اردونظم #محمدآصفمہد #تڑپ #ہجر
© محمد آصف مہد

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ramooz E Asif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category