میاں کامرلطیف کی شاعری

میاں کامرلطیف کی شاعری please subscribe 🙏👇
https://www.youtube.com/

تمہاری یاد کے صحرا میں اب کوئی نہیں ملتا۔ #کامرلطیف   خالی تیرا نگرتجسس میں پرندے اڑ رہے ہیں آسماں تک بھی،مگر اس وسعتِ د...
10/08/2026

تمہاری یاد کے صحرا میں اب کوئی نہیں ملتا۔
#کامرلطیف
خالی تیرا نگر
تجسس میں پرندے اڑ رہے ہیں آسماں تک بھی،
مگر اس وسعتِ دل میں تیرا کوئی نشاں نہیں ملتا۔

جلائے ہم نے کتنے دیپ یادوں کے دریچے میں،
کہ اب اس تیرگی میں کوئی روشن سا دھواں نہیں ملتا۔
✍️ مہرکامر

کچھ شہر اینٹوں سے نہیں، اُن خوابوں سے بنتے ہیں جو انسان کے اندر خاموشی سے دفن ہو جاتے ہیں۔ #کامرلطیف       عنوان:خواب کا...
09/08/2026

کچھ شہر اینٹوں سے نہیں، اُن خوابوں سے بنتے ہیں جو انسان کے اندر خاموشی سے دفن ہو جاتے ہیں۔
#کامرلطیف
عنوان:
خواب کا ملبہ

نظم:

خاموشیوں کے شہر میں
آج پھر ایک دن ڈوب گیا ہے

مگر عجیب بات ہے
کہ سورج غروب ہونے کے بعد بھی
روشنی کہیں باقی نہیں رہتی۔

گلی کے آخری موڑ پر
ایک بند دروازہ ہے
جس پر مدت سے کسی نے دستک نہیں دی،
مگر مجھے یقین ہے
کہ اندر کوئی اب بھی
قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔

شاید وہی شخص
جو برسوں پہلے
اپنے حصے کی محبت
اسی دہلیز پر رکھ کر چلا گیا تھا۔

اب اس شہر میں
لوگ ملتے ہیں
مگر ملاقات نہیں ہوتی،
باتیں ہوتی ہیں
مگر کوئی لفظ
دل تک نہیں اترتا۔

ہر چہرے پر
زندگی کا ایک مصنوعی سا نقش ہے
اور ہر آنکھ کے پیچھے
کوئی ایسا کمرہ
جس میں جانے کی اجازت
خود اُس شخص کو بھی نہیں۔

میں نے بھی
اپنے اندر ایک شہر بسا رکھا تھا،
جہاں تمہاری آواز
صبح کی پہلی روشنی تھی
اور تمہاری خاموشی
شام کا آخری چراغ۔

پھر ایک دن
تم گئے تو
شہر نہیں اجڑا—

صرف راستے
اپنے معنی کھو بیٹھے۔

اب کبھی کبھی
رات کے پچھلے پہر
میں اپنے ہی وجود کی دیواروں پر
ہاتھ پھیرتا ہوں
تو یوں لگتا ہے
جیسے کسی پرانے مکان کے ملبے میں
کوئی خواب ابھی تک زندہ ہو۔

میں اسے نکالنا نہیں چاہتا۔

کچھ خواب
پورے ہونے کے لیے نہیں ہوتے،
وہ صرف اس لیے زندہ رہتے ہیں
کہ انسان کو یاد رہے—

وہ کبھی
دل سے بھی جیا تھا۔

✍️ مہرکامر

سکوتِ شب میں دبی سسکیاں بولتی ہیں۔ #کامرلطیف   خامشی کا سفرمطلع:ہماری بے کسی کا مرحلہ بھی اب یہی ہےکہ اب ہر ایک رشتہ ایک...
09/08/2026

سکوتِ شب میں دبی سسکیاں بولتی ہیں۔
#کامرلطیف
خامشی کا سفر
مطلع:
ہماری بے کسی کا مرحلہ بھی اب یہی ہے
کہ اب ہر ایک رشتہ ایک صدمے کی نفی سے ہے
مقطع:
یہ کَامر کس کی جانب دیکھتا ہے بے قراری سے
تیرے لہجے کی تلخی بھی عجب اک دل لگی سے ہے
✍️ مہرکامر

(مکمل نظم)(ماں،حیات وہجر)ماں کی حیات سایہ ہوتی ہے، اور اس کا ہجر وہ دھوپ ہے جس سے عمر بھر پناہ نہیں ملتی۔ #کامرلطیف   عن...
08/08/2026

(مکمل نظم)(ماں،حیات وہجر)
ماں کی حیات سایہ ہوتی ہے، اور اس کا ہجر وہ دھوپ ہے جس سے عمر بھر پناہ نہیں ملتی۔
#کامرلطیف
عنوان:
ماں: حیات و ہجر

نظم:

ماں جب زندہ تھی
تو گھر صرف گھر نہیں تھا،
ایک پناہ گاہ تھا۔

دن کتنا ہی سخت ہو،
لوٹنے پر ایک آواز
ساری تھکن اتار دیتی تھی۔

وہ پوچھتی تھی،
"کیا ہوا؟"

اور اس مختصر سے سوال میں
دنیا بھر کی تسلی ہوتی تھی۔

اس کے ہاتھ
روٹی سے زیادہ
دعا بناتے تھے،
اور اس کی آنکھیں
ہماری خاموشیوں تک پڑھ لیتی تھیں۔

تب ہمیں معلوم نہیں تھا
کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت
ہم روزمرہ کے معمول میں
بے خبری سے گزار رہے ہیں۔

پھر ایک دن
ماں چلی گئی۔

نہ گھر بدلا،
نہ دروازے،
نہ دیواریں،
نہ صحن—

صرف گھر سے
وہ شخص اٹھ گیا
جس کے ہونے سے
گھر، گھر تھا۔

اب بھی کبھی
دروازہ کھلنے کی آواز آئے
تو دل بے اختیار ٹھہر جاتا ہے،
جیسے برسوں کا فاصلہ
ایک لمحے میں ختم ہونے والا ہو۔

پھر یاد آتا ہے—

کچھ دروازے
صرف دنیا میں کھلتے ہیں،
آخرت کی طرف جانے والے دروازوں پر
واپسی کا راستہ نہیں ہوتا۔

ماں کے بعد
میں نے جانا
کہ ہجر صرف کسی شخص سے دوری نہیں،

ہجر وہ خاموش جگہ ہے
جہاں انسان
اپنی خوشی کے بیچ بھی
ایک کمی کو محسوس کرتا رہتا ہے۔

کبھی کسی بوڑھی عورت کے ہاتھ دیکھتا ہوں
تو ماں یاد آتی ہے۔

کسی کے لہجے میں
شفقت سنائی دے
تو ماں یاد آتی ہے۔

اور جب زندگی
اپنی پوری سختی کے ساتھ
میرے سامنے کھڑی ہوتی ہے،

تو دل چاہتا ہے
بس ایک بار
ماں کے پاس بیٹھ کر کہہ دوں:

"آج بہت تھک گیا ہوں۔"

مگر اب
میرے حصے میں
صرف دعا ہے،
یاد ہے،
اور ایک ایسا ہجر
جس کی مدت
زندگی سے بھی طویل ہے۔

ماں کی حیات
میری سب سے خوبصورت پناہ تھی،

اور اس کا ہجر—

میری عمر بھر کی
سب سے خاموش حقیقت۔

✍️ مہرکامر

تنہائی کے اس دشت میں ہر سانس ادھوری لگتی ہے۔ #کامرلطیف   سفرِ ہجرِ یاروہ اک چہرہ جو بچھڑا ہے تیرے چشمِ کرم سے،جدائی کا ی...
08/08/2026

تنہائی کے اس دشت میں ہر سانس ادھوری لگتی ہے۔
#کامرلطیف
سفرِ ہجرِ یار
وہ اک چہرہ جو بچھڑا ہے تیرے چشمِ کرم سے،
جدائی کا یہ عالم ہے کہ دل لرزے ہے غم سے۔

تمہیں معلوم ہی کب ہے کہ یہ تنہائی کا روگ،
بجھا دیتا ہے چپکے سے حیاتِ دل کے دَم سے۔
✍️ مہرکامر

Address

رائیونڈ روڈ لاہور
Lahore
5400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میاں کامرلطیف کی شاعری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category