09/08/2026
کچھ شہر اینٹوں سے نہیں، اُن خوابوں سے بنتے ہیں جو انسان کے اندر خاموشی سے دفن ہو جاتے ہیں۔
#کامرلطیف
عنوان:
خواب کا ملبہ
نظم:
خاموشیوں کے شہر میں
آج پھر ایک دن ڈوب گیا ہے
مگر عجیب بات ہے
کہ سورج غروب ہونے کے بعد بھی
روشنی کہیں باقی نہیں رہتی۔
گلی کے آخری موڑ پر
ایک بند دروازہ ہے
جس پر مدت سے کسی نے دستک نہیں دی،
مگر مجھے یقین ہے
کہ اندر کوئی اب بھی
قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔
شاید وہی شخص
جو برسوں پہلے
اپنے حصے کی محبت
اسی دہلیز پر رکھ کر چلا گیا تھا۔
اب اس شہر میں
لوگ ملتے ہیں
مگر ملاقات نہیں ہوتی،
باتیں ہوتی ہیں
مگر کوئی لفظ
دل تک نہیں اترتا۔
ہر چہرے پر
زندگی کا ایک مصنوعی سا نقش ہے
اور ہر آنکھ کے پیچھے
کوئی ایسا کمرہ
جس میں جانے کی اجازت
خود اُس شخص کو بھی نہیں۔
میں نے بھی
اپنے اندر ایک شہر بسا رکھا تھا،
جہاں تمہاری آواز
صبح کی پہلی روشنی تھی
اور تمہاری خاموشی
شام کا آخری چراغ۔
پھر ایک دن
تم گئے تو
شہر نہیں اجڑا—
صرف راستے
اپنے معنی کھو بیٹھے۔
اب کبھی کبھی
رات کے پچھلے پہر
میں اپنے ہی وجود کی دیواروں پر
ہاتھ پھیرتا ہوں
تو یوں لگتا ہے
جیسے کسی پرانے مکان کے ملبے میں
کوئی خواب ابھی تک زندہ ہو۔
میں اسے نکالنا نہیں چاہتا۔
کچھ خواب
پورے ہونے کے لیے نہیں ہوتے،
وہ صرف اس لیے زندہ رہتے ہیں
کہ انسان کو یاد رہے—
وہ کبھی
دل سے بھی جیا تھا۔
✍️ مہرکامر