12/01/2026
تم ہی سے اس دلِ شکستہ کو آباد کرنا ہے
چھوڑو ماضی کے وقت کو کیا یاد کرنا ہے
گل و لالہ کی سیج پر پہنچنے کو ہم نشیں
خواہشات والے کانٹوں کے رستے کو پار کرنا ہے
مجھے تیرے سایہ کی رسوائی بھی منظور نہیں
جو بھی ہو تیری آبرو کو نہیں داغدار کرنا ہے
سب بھول چکے ہیں اپنی فطری حقیقت کو
آستیں کے سانپوں نے دامن لگاتار بھرنا ہے
عاشقی کا عاشق سے ازل سے یہی تقاضا ہے
عشق کیا تو موت سے پہلے اک بار مرنا ہے
بلال انصاری
#ظرف