Manto

Manto Saadat Ḥhasan Mantō; 11 May 1912 – 18 January 1955) was a Pakistani short story writer of the Urdu language. He is best known for his short stories.

19/09/2026

Celebrating my 11th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

*خالی جیب*وہ روز آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی جیبیں ٹٹولتا تھا۔جیب ہمیشہ خالی ہوتی تھی۔ایک دن اس نے آئینے سے پوچھا،"بت...
15/09/2026

*خالی جیب*

وہ روز آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی جیبیں ٹٹولتا تھا۔

جیب ہمیشہ خالی ہوتی تھی۔

ایک دن اس نے آئینے سے پوچھا،
"بتا، میں غریب ہوں یا میری جیب؟"

آئینہ خاموش رہا۔

وہ ہنس پڑا اور بولا،
"چل، تو بھی امیر لوگوں کی طرح خاموش رہتا ہے۔"

اسی شام اسے سڑک پر ایک بٹوا ملا۔
اندر ہزاروں روپے تھے اور ایک تصویر۔

تصویر میں ایک بوڑھی عورت مسکرا رہی تھی۔

وہ دیر تک تصویر دیکھتا رہا، پھر بٹوا لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔

پولیس والے نے حیرت سے پوچھا،
"پیسے نہیں رکھے؟"

وہ بولا،
"نہیں۔"

"کیوں؟"

اس نے اپنی خالی جیب پر ہاتھ رکھا اور کہا:

**"میں غریب ضرور ہوں، مگر اتنا نہیں کہ کسی ماں کی دعا بھی چوری کر لوں۔"**

اگلے دن اس کی جیب پھر خالی تھی۔

مگر پہلی بار اسے اپنا آپ بہت امیر محسوس ہو رہا تھا۔

**— منٹو سے متاثر ایک مختصر افسانہ**
کچھ لوگ جیب سے غریب ہوتے ہیں،
اور کچھ لوگ کردار سے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ
**خالی جیب ہمیشہ نظر آ جاتی ہے،
خالی کردار نہیں۔**

📖 *منٹو سے متاثر ایک مختصر افسانہ*

آپ کے خیال میں انسان کی اصل دولت کیا ہے؟
**پیسہ، عزت یا کردار؟**

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

04/09/2026

"اگر آپ میری تحریروں کو برداشت نہیں کر سکتے... تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ہی ناقابلِ برداشت ہے!" ✍️🖤
سعادت حسن منٹو صرف ایک افسانہ نگار نہیں، اپنے دور کا وہ شفاف آئینہ تھے جس نے سماج کے سچ کو بغیر کسی ملاوٹ کے دنیا کے سامنے رکھا۔ انہوں نے ان تلخ حقیقتوں پر سے پردہ اٹھایا جنہیں اکثر دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
یہ مختصر ویڈیو منٹو کے اسی بے باک اور سچے انداز کی ایک عکاسی ہے۔ 👇🎬
💬 سعادت حسن منٹو کی کون سی تحریر یا جملہ آپ کا پسندیدہ ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!
#منٹو #افسانہ

سعادت حسن منٹو کا شاہکار افسانہ: "کالی شلوار 🖤ایک ایسی کہانی جو معاشی تنگی، انسانی نفسیات اور معاشرتی محرومی کی تلخ اور ...
04/09/2026

سعادت حسن منٹو کا شاہکار افسانہ: "کالی شلوار 🖤

ایک ایسی کہانی جو معاشی تنگی، انسانی نفسیات اور معاشرتی محرومی کی تلخ اور دردناک حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔

* امبالہ سے دہلی کا سفر*
سلطانہ اور اس کا ساتھی خدا بخش بہتر روزگار کی امید میں امبالہ سے دہلی منتقل ہوتے ہیں۔ لیکن دہلی آ کر ان کی توقعات پوری نہیں ہوتیں اور کام بالکل ٹھپ ہو جاتا ہے۔ سلطانہ تنہائی کا شکار ہو جاتی ہے جبکہ خدا بخش غیبی مدد کے لیے مزاروں کے چکر کاٹنے لگتا ہے۔

**🖤 محرم اور کالی شلوار کی حسرت**
محرم کا مہینہ قریب آتا ہے تو سلطانہ کا دل بھی سوگ کے لیے کالی شلوار پہننے کو چاہتا ہے، لیکن جیب میں پیسے نہیں ہوتے۔ مفلسی اور محرومی کا یہ احساس اس کی بے چینی مزید بڑھا دیتا ہے۔

**🎭 شنکر کی آمد اور حیران کن سودا**
مایوسی کے اس عالم میں سلطانہ کی ملاقات شنکر نامی ایک بے باک اور چالاک شخص سے ہوتی ہے۔ وہ سلطانہ کو محرم سے پہلے کالی شلوار کا انتظام کرنے کا وعدہ کرتا ہے، مگر بدلے میں اس کی چاندی کی بالیاں مانگ لیتا ہے۔ کالی شلوار کی حسرت میں سلطانہ بالیاں اس کے حوالے کر دیتی ہے۔

**💥 افسانے کا تلخ اور غیر متوقع اختتام**
محرم کے دن سلطانہ کالی شلوار پہن کر تیار ہوتی ہے، لیکن جب اپنی پڑوسن انوری کو دیکھتی ہے تو دنگ رہ جاتی ہے! انوری کے کانوں میں وہی چاندی کی بالیاں ہوتی ہیں جو سلطانہ نے شنکر کو دی تھیں۔ شنکر نے انوری کی کالی شلوار لے کر سلطانہ کو دے دی اور سلطانہ کی بالیاں انوری کو پہنا دیں!

منٹو نے کسی اخلاقی وعظ کے بغیر یہ دکھایا ہے کہ غربت اور محرومی کے ماحول میں انسان کی چھوٹی چھوٹی حسرتیں کس طرح چالاکی اور استحصال کے دائرے میں گھومتی ہیں۔

---

💬 **کیا آپ نے منٹو کا یہ افسانہ پڑھا ہے؟ اس کے حیران کن اختتام کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے!**

---

#افسانہ #ادبيبه

سعادت حسن منٹو کا افسانہ "کھول دو" (Khol Do) تقسیمِ ہند کے دوران ہونے والے فسادات، انسانی وحشت اور المئے پر لکھا گیا ایک...
03/09/2026

سعادت حسن منٹو کا افسانہ "کھول دو" (Khol Do) تقسیمِ ہند کے دوران ہونے والے فسادات، انسانی وحشت اور المئے پر لکھا گیا ایک بے حد دردناک اور مؤثر ترین افسانہ ہے۔

افسانے کا تفصیلی تجزیہ و خلاصہ (Detailed Breakdown)
۱. پس منظر اور مرکزی خیال (Theme)
یہ افسانہ ۱۹۴۷ء کی تقسیمِ ہند کے وقت رونما ہونے والے فسادات، انسانی اقدار کی پامالی اور صدمے (Trauma) کی عکاسی کرتا ہے۔ منٹو نے دکھایا ہے کہ کس طرح فسادات اور افراتفری کے ماحول میں انسان درندہ بن جاتا ہے اور مدد کا لائلہ پہن کر بھی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔

۲. اہم کردار (Key Characters)
سراج الدین: ایک بوڑھا اور لاچار باپ جو فسادات میں اپنی بیٹی سے بچھڑ جاتا ہے۔

سکینہ: سراج الدین کی جوان بیٹی۔

رضاکار (Red Cross/Volunteers): آٹھ جوان جو بچھڑے ہوئے لوگوں کو تلاش کرنے اور مدد کا دعویٰ کرتے ہیں۔

۳. کہانی کا خلاصہ (Plot Summary)
بچھڑنا: سراج الدین ریلوے اسٹیشن کے پاس کیمپ میں ہوش میں آتا ہے۔ اس کا ذہن مفلوج ہے، لیکن اسے آہستہ آہستہ یاد آتا ہے کہ فسادات کے دوران اس کی بیوی ماری گئی تھی اور بھاگتے ہوئے اس کی بیٹی سکینہ کا دوپٹہ گر گیا تھا، جسے اٹھانے کے چکر میں وہ بچھڑ گئی۔

رضاکاروں کی مدد: سراج الدین کیمپ میں اٹھتے بیٹھتے اپنی بیٹی کا حلیہ بتاتا ہے۔ وہاں کچھ نوجوان رضاکار اسے تسلی دیتے ہیں اور سکینہ کو ڈھونڈ نکالنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

سکینہ کی تلاش: کچھ دن بعد رضاکاروں کو ایک لڑکی ملتی ہے جو سکینہ ہی ہوتی ہے۔ وہ اسے گاڑی میں بٹھا کر لے جاتے ہیں، لیکن اسے اس کے باپ کے حوالے کرنے کے بجائے خود اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔

اسپتال کا منظر (نقطہٴ عروج/Climax): سراج الدین کو اسپتال کے اسٹریچر پر ایک بے ہوش اور نیم مردہ لڑکی ملتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی سکینہ کو پہچان لیتا ہے۔

آخری جملہ (Conclusion): ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوتا ہے، روشنی جلائیکر لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سراج الدین سے کہتا ہے: "کھڑکی کھول دو..."۔ لیکن اسٹریچر پر پڑی بے ہوش سکینہ اپنے بے حس و حرکت ہاتھوں سے اپنے شلوار کا بند کھول کر نیچے کر دیتی ہے۔

سراج الدین خوشی سے چیخ اٹھتا ہے: "زندہ ہے... میری بیٹی زندہ ہے!" جبکہ ڈاکٹر کے جسم پر سرد لہر دوڑ جاتی ہے۔

افسانے کا اقتباس (Excerpt)
"سراج الدین نے بوجھل آنکھوں سے اپنے ارد گرد دیکھا۔ چاروں طرف مرد، عورتیں اور بچے بے حال پڑے تھے۔ اس نے اپنے ذہن پر زور دیا لیکن اسے صرف اتنا یاد آیا کہ وہ، اس کی بیوی اور بیٹی سکینہ کیمپ کی طرف بھاگ رہے تھے...

ڈاکٹر نے کمرے میں داخل ہو کر روشنی جلائی۔ اس نے اسٹریچر پر پڑی بے حس و حرکت لڑکی کی طرف دیکھا، نبض ٹٹولی اور کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 'کھول دو!'

اسٹریچر پر پڑی لڑکی کے جسم میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ اس کے مردہ ہاتھوں نے آہستہ سے شلوار کا بند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی۔

بوڑھے سراج الدین نے خوشی سے چیخ کر کہا: 'زندہ ہے... میری بیٹی زندہ ہے!'
ڈاکٹر کو سر سے پیر تک پسینہ آ گیا..."

11/05/2026

11/05/2026

زیشان روکھڑی بتاتا ہے کہ ایک اچھے پروگرام میں ایک رات کا میں پچاس لاکھ کما لیتا ہوں ، ذرائع
مہک ملک کہتی ہے میں صرف ایک ہفتہ اسٹیج ڈرامہ کروں تو تیس پینتیس لاکھ کما لیتی ہوں اور شادی کے فنکشن الگ سے، ذرائع
مشہور ٹک ٹاکر اسد (Sid Mr Rapper) بتاتا ہے کہ میں ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا ایپس سے ایک ماہ کا پچیس تیس لاکھ کما لیتا ہوں
سکول ٹیچر جس کی تعلیم ایم فل بائیو ٹیکنالوجی ہے وہ پرائیویٹ سکول میں ایک ماہ کا اٹھائیس ہزار کماتی ہے
مسجد کا امام ایک ماہ کا پندرہ بیس ہزار کماتا ہے،
ہے نہ کمال کی بات،،

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Manto posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category