LE VAE HUN DAS

LE VAE HUN DAS ITS APAGE OF ENTERTAINMENT AND INFORMATION

10/06/2023
13/10/2021

Forwarded as received

خبردار ہوشیاررررر

چھ دن سے میرے کزن کی بیٹی اسپتال میں داخل تھی۔ اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ چیختی ہے چلاتی ہے اور کاٹتی ہے۔
بارہ سال کی بچی ہے۔ مجھے پتہ چلا تو دیکھنے اسپتال گیا۔ بچی کی ٹانگیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور وہ تڑپ رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو بولے ہیسٹیریا ہے۔ باپ سے پوچھا تو کہنے لگے اس کو سایہ ہو گیا ہے۔ والدہ نے کہا اسکی پھوپھو نے جادو کروا دیا ہے۔ ۔!!!
جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں نے بچی کے پاس جا کر اسے پیار کیا اور پانی پلایا۔ وہ بیقرار تھی۔ کہتی ہے مجھے گول گپے کھانے ہیں۔ !!!
ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ اس کو کوئی چیز بازار سے نہیں دینی ۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے پوچھا کہ بچی کی یہ حالت کب سے ہے۔ !!والدہ نے بتایا کہ چھٹیوں کے آخری بیس ایام اپنی پھوپھو کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے جب واپس آئی ہے طبیعت ناساز ہے۔ چڑچڑی ہوگئی ہے۔ باہر نکل نکل کر بھاگتی ہے۔ کہتی ہے کہ گول گپے کھانے ہیں وہ بھی لا کر دئیے پر پسند نہیں آتے پھینک دیتی ہے۔ چیختی ہے چلاتی ہے۔
میں نے لڑکی سے تنہائی میں بات کرنے کی اجازت چاہی جو مل گئی۔میں نے بچی کے ہاتھ پاؤں کھولے اور ٹیرس پر لے گیا، اسے پانی پلایا میں نے کہا مجھے اپنا دوست سمجھو جو کچھ ہم میں بات ہوگی وہ راز رہے گی۔ میں نے قسم کھائی۔ لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی ۔!!
آپ اپنی ماں کی قسم کھائیں کہ کسی کو نہیں بتائیں گے، کہنے لگی پھوپھو کے محلے میں ایک گول گپے والا ہے جس کے گول گپے مجھے بہت پسند ہیں۔
میرا کزن اور میں ہم دونوں وہ کھانے کیلئے جاتے تھے میں جب سے واپس لوٹی ہوں دل بہت بیقرار رہتا ہے اور جسم میں جیسے کچھ جل سا رہا ہے۔ میں نے اس سے اس کی پھوپھو کا نمبر لیا اور اس کو یقین دلایا کہ میں جو کچھ بھی کر سکا ضرور کروں گا۔
اگلے روز میں اس کی پھوپھو کے گھر گیا۔ رشتے دار تھے میری بہت عزت کی۔ میں نے اس کے بیٹے کے ساتھ سے بازار تک ساتھ چلنے کو کہا ۔ہم پیدل ہی شام کو گھر سے نکلے، باتوں باتوں میں نے لڑکی کے حوالے سے گول گپوں کی تعریف کی اور یوں ہم اس دکان کے کیبن میں پہنچ گئے۔
گول گپے منگوائے گئے اور کھائے بھی۔ بہت مزے دار تھے۔ الگ سا ذائقہ تھا۔ خیر میں نے کچھ پیک کروا لئیے اور ساتھ لے آیا۔ رات کو واپس شہر آیا اور وہ گول گپے ایک دوست کی لیب والے کو دیئے کہ اس کو چیک کردے۔ منشیات والے ادارے کو بھی ایک سیمپل دیا۔
اگلے دن رپورٹ آئی تو میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا،رپورٹ میں پتہ چلا کہ مصالحہ جات میں ہیروئن ملائی گئی ہے۔ میرا ایک لمحے کیلئے دم بند سا ہو گیا۔
میں نے فوراًاینٹی نارکوٹکس سے رابطہ کیا اور اس گول گپے والے کی دکان پر ریڈ کیاتو وہاں سے شراب، ہیروئن اور چرس برآمد ہوئی۔ یہ باقاعدہ ایک منشیات کا اڈہ تھا اور گول گپے والا اپنے گول گپوں میں ہیروئن گھول کر کھلا رہا تھا۔ جو لگ گئے وہ یہاں سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔
ان کو پکڑوا کر بچی کی طرف لوٹا اور ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لے کر بچی کو ترک منشیات کے ادارے میں داخل کروا کر علاج کروایا۔
یہ ایک سچا واقعہ تھا۔۔ اب آئیں اصل مسئلے پر۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے۔
اسکولوں کے باہر ریہڑیوں پر اور اسکول کالجوں کی کینٹینوں پر محلے میں پھرتے رہڑی والے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں ۔ہمارے بچے اب نشوں پر لگ چکے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی اپنی اولادوں سے غافل ہیں۔

میں نے بھی بلیو ایریا سے ایک ٹھیلے سے چائے پی تو مجھے بہت سکون محسوس ہوا. میں اگلے دن نمل سے پھر چائے پینے چلاگیا.مجھے مجھے احساس ہی نہیں رہا کہ میں تین ماہ تک چائے پیتا رہا پھر ایک رات نیوز دیکھی کہ مطلوبہ ٹھیلہ جس میں چائے پیتا تھا اس کو سیکیورٹی والوں نے دھر لیا ہے وہ چائے میں ڈوڈے وغیرہ ڈالتے تھے.. وہ لوگ اپنے منافع کے لئے لوگوں کی جان کھیل جاتے ہیں اللہ کریم انھیں ہدایت دے!
حکومت بے خبر ہے تو والدین اور اساتذہ کو جاگنا ہوگا۔ ان تک اپنے بچوں کو نہ جانے دیں۔ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ،گول گپے والاتو گول گپے بیچ جائے گا مگر ہماری پوری نسل نشہ آور بن کر تباہ ہو جائے گی۔۔!!!
جاگتے رہیں ورنہ سب کچھ سو جائے گا۔۔

10/09/2021

*بچوں کو موبائل و کمپیوٹر آلات سے دور رکھنے کے طاقتور طریقے*
تحریر: فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

عالیان کا ہروقت ایک ہی کام تھا، موبائل پر کارٹون دیکھنا، اگر موبائل اس کے بابا کے پاس ہے تو پھر ٹی وی پر ہی سہی، صبح و شام اور رات دن کی یہ مشغولیت آہستہ آہستہ عالیان کی جسمانی کمزوری کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن اور ہر کسی سے دور بھاگنے کی صورت میں نکلنی شروع ہوگئی۔

موبائل دور کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی تھی کیونکہ اس کے والد اور والدہ اسے کوئی متبادل نہیں دے پارہے تھے جو اتنا دلچسپ ہو کہ اسے موبائل سے دور رکھ سکے، اتفاق سے ایک کاؤنسلنگ کے ماہر سے بات ہوئی تو انہوں نے بچوں کو ہر طرح کی ڈیوائس کے استعمال کا وقت کم کرنے کا سب سے بہتر ٹول عالیان کے والد کو سکھایا اور وہ ٹول تھا کوئی بھی کھیل کھیلنا۔

بچوں کے لیے ڈیوائس کی رنگارنگ دنیا سے بھی زیادہ جو چیز، اتنی دلچسپ ہو سکتی کہ انہیں اسکرین دیکھنے کا خیال بھی نہ آئے وہ والدین کا بچوں کا ساتھ کھیلنا ہے، چاہے پھر کوئی سا بھی کھیل کیوں نہ ہو جو بچے کو اپنے اندر جذب کرلے۔

کھیل کی طاقت بچوں کے لیے اتنی زبردست ہے کہ یہ ڈیوائس اور اسکرین ٹائم کو بھی ثانوی بنا دیتی ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ والدین روزمرہ کے گھریلو کاموں اور بچوں کو سختی اور نظم و ضبط سے 'ٹھیک کرنے ' میں اتنا مصروف ہوتے ہیں کہ کھیل ان کی لغت میں موجود ہی نہیں ہوتا۔

لیکن بچوں کی پرورش اور کاؤنسلنگ سے متعلق ماہرین کہتے ہیں کہ کھیل کو آپ کی دن بھر کی ترجیحات میں کہیں اوپری نمبر میں ضرور ہونا چاہیے۔

*والدین کا 'کھیلنا' کیوں ضروری ہے؟*
ایک مشہور کہاوت ہے کہ 'کھیلنا بچپن کی تجارت ہے،' جب ایک بچہ یہاں تک کہ کوئی ننھا منّا بے بی بھی کھیلتا ہے تو وہ دراصل پرابلم سولونگ، جسمانی اعضا کی درست حرکات(Motor skills)، جسمانی اور ذہنی چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی سیکھ رہا ہوتا ہے۔

ان سب سے بڑھ کر والدین کا 'کھیل کے لیے وقت' نکالنا دراصل بچوں کے لیے ایک بہت قیمتی اور جذباتی لمحہ ہوتا ہے، یہ بچوں میں خود اعتمادی کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے، بچوں میں یہ اعتماد پیدا ہو رہا ہوتا ہے کہ ان کے والدین ان کے تخیل اور تخلیقیت (Imagination & Creativity) کو قبول کر رہے ہیں اور ان کا کھیل آپ کے لیے بھی ایک فن اور اہمیت کا حامل ہے۔

*بچوں کے ساتھ کا کھیل کا اہم اصول*
والدین کے لیے یقینا اپنے بچوں کے پیچھے چلنا ایک مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے ہر کام کا بہت تیز ہوجانا یا بہت سست یا پھر ایک ہی کام کو 20 مرتبہ کرنا، لیکن بچوں کی ذہنی تربیت و کمیونیکیشن اسکلز بہتر کرنے کے لیے بار بار کیے جانے والے کھیل بہت اہم ہوتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ 'صحیح' انداز میں کھیلنے کا اہم ترین اصول یہ ہے کہ انہیں بہت ہدایات دی جائیں نہ ہی ان کے ساتھ جلدی مچائی جائے، بچوں کو اپنی عمر اور اہلیت کے لحاظ سے فیصلہ لینے دیا جائے، جیسے کسی خاص کتاب کو پڑھنا، یا ڈاکٹر-ڈاکٹر کھیلتے ہوئے دوائیوں کا انتخاب، کسی مخصوص رنگ سے ڈرائنگ کرنا یا بلاکس سے کھیلنے کا فیصلہ خود بچوں کو لینے دیں۔

والدین اپنے لیے ایک اہم ہدف یہ طے کر سکتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ کھیل کے دوران وہ بہتر طریقے سے اپنے بچے کی شخصیت کو جان سکتے ہیں کہ کن چیزوں سے انہیں خوشی ہوتی ہے اور دنیا ان کی نظروں سے کیسی دکھائی دیتی ہے، وہ یہ سب اور بہت کچھ جان سکتے ہیں۔

*بچوں کے ساتھ کھیل کا پہلا مگر ضروری قدم*
بچوں کے ساتھ کھیل کے لیے سب سے ضروری قدم وقت اور توجہ کو پوری طرح مختص کرنا ہے، طے شدہ وقت میں صرف 'بچہ اور اس کا کھیل' ہی ہونا چاہیے، نہ کہ ساتھ میں دیگر کام اور ڈیوائس کا استعمال بھی ہو رہا ہو، بچے کی عمر کے لحاظ سے اس سے گفتگو کریں کہ وہ کیا کھیلنا پسند کرے گا، بچے کو لیڈرشپ پوزیشن دینے سے جہاں ایک طرف وہ اعتماد حاصل کرے گا وہیں دوسری طرف اس کی نگاہ میں آپ کا کردار مثبت اور ساتھ دینے والا ہو جائے گا۔

مختلف عمر کے بچوں کے لیے چند ابتدائی کھیل یہ ہو سکتے ہیں تاہم آپ اور بچے مل کر کچھ نئے، دلچسپ اور منفرد کھیل سوچ سکتے ہیں۔

*نوزائیدہ بے بیز(Infants) کے کھیل*
1- پی کا بو (Peek-a-boo) یا جیسے مقامی زبان میں آئی تا کہتے ہیں کھیلیں۔

2 - بے بی کو کسی جھنجھنے تک پہنچنے میں مدد دیں تاکہ وہ اسے ہلا کر بجا سکے۔

3 - گیند کو آگے پیچھے کریں یا اسے بڑی سائز کی گیند پر سیر کروائیں۔

4 - 'چھونے اور محسوس' کروانے کا کھیل، ۔جس میں مختلف چیزوں کو چھونا اور اس کا نام بتانا جیسے 'یہ میز ہے' کھیلیں۔

5 - آئینے میں دیکھنا اور مختلف جسمانی اعضا کا بتانا۔

*چلنا شروع کرنے والے بچوں(Toddlers) کے لیے*
1 - گھٹنوں چلتے ہوئے اس کی پیروی کرنا اور ساتھ میں مختلف چیزوں کی کمنٹری کرتے رہنا۔

2 - مختلف طرح کے کھلونے یا گھریلو اشیا دینا جو شور مچا سکیں، جو بچے کو دلچسپ لگے گا۔

3 - کتاب پڑھ کر سنائیں اور اسے اپنی پسند کی کتاب اٹھا کر دینے دیں۔

4 - اس کے ساتھ جسمانی کھیل مثلا بھاگ کر اسے پکڑنا کھیلیں۔

5 - بچے سے اس کے جسمانی اعضا کا پوچھنا کہ ناک کہاں ہے؟ آنکھیں کہاں ہیں؟ وغیرہ۔

6 - ٹب یا بالٹی کے پاس بیٹھوا کر پانی سے کھلوانا۔

7 - اس کے ساتھ مل کر کلرنگ کرنا کیونکہ اس عمر میں بچے یہ بات پسند کرتے ہیں کہ جیسا وہ کر رہے ہیں بڑے بھی ویسا ہی کریں۔

*اسکول جانے والے بچوں کے لیے*
1- اسے اپنی پسند کا بورڈ گیم لانے کا کہیں جسے پوری فیملی کھیلے۔

2 - مختلف کھلونوں، گڑیا گھروں، بلاکس سے کھیلیں اور بچوں کو ان پر کمنٹری اور اپنا تخیل بیان کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔

3 - باہر جائیں، پارک جائیں اور جو وہ کھیلنا چاہے اس میں ان کا ساتھ دیں۔

4 - گھر یا آفس کے ایسے کام جس میں بچہ کوئی مدد کر سکتا ہو، اس میں شریک کریں جیسے کوئی چیز لکھنا، صفائی، کھانا بنانا، برتن دھونا وغیرہ۔**

*8 سے 12 سالہ بچوں اور ٹین ایجرز کے لیے کھیل*
1- بچے کو کسی بھی ٹرپ - جیسے پارک، سی سائیڈ یا میوزیم وغیرہ کی پلاننگ کرنے کا کہیں جس میں آپ کے مشورے بھی شامل ہوں۔
2 - اس کی پسند کا کوئی پروگرام مل کر دیکھیں۔
3 - گھر میں بک کلب بنائیں، اسے اپنی مرضی کی کتابیں چننے اور اس سے متعلق سوالات کا کہیں۔
4 - گھر کی مرمت سے متعلق کوئی کام ایک ٹیم کی صورت کریں جس میں وہ اپنی مرضی کا کام کرنے کے لیے آزاد ہو۔
5 - جسمانی گیمز جیسے ریسنگ، جوگنگ وغیرہ کھیلیں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

10/09/2021

*جوڑوں کے درد میں کمی لانے والے 16 عام طریقے*

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

کیا آپ جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں ؟ اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں درحقیقت عمر کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اکثر افراد اس تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں۔

درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے تاہم اس میں کمی لانا یا بچنا اتنا بھی مشکل کام نہیں۔

*ادرک سے بنی چائے سے لطف لینا*
متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ادرک کے اندر ایسی خاصیت ہوتی ہے جو جوڑوں کے درد کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کا اثر بڑھا دیتی ہے۔ مگر ادویات کے بغیر بھی یہ کافی مفید ثابت ہوتی ہے، اس کے لیے ادرک کو پیس کر سفوف کی شکل میں استعمال کریں یا اس کے باریک ٹکڑے کرکے اسے چائے کے لیے ابالے جانے والے پانی میں 15 منٹ تک ڈبو کر رکھیں، اس کا مستقل استعمال جوڑوں کے درد میں کمی لانے کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔

*سوجن کی روک تھام کرنے والی غذاﺅں کا استعمال*
اگر جوڑوں کے شکار ہیں تو فاسٹ ، جنک اور تلی ہوئی غذاﺅں کو ترک کردیں۔ جوڑوں کے مرض کے شکار مریضوں پر کی جانے والی ایک سوئیڈش تحقیق کے مطابق جن لوگون نے مچھلی، تازہ پھلوں و سبزیوں، گندم یا دیگر اجناس، زیون کے تیل، نٹس، ادرک لہسن وغیرہ پر مشتمل خوراک کو اپنی عادت بنالیا، انہیں جوڑوں کی سوجن کا کم سامنا ہوا اور ان کی جسمانی صحت میں کافی حد تک بہتری آئی۔

*خوشبو دار مصالحوں کو سونگھنا*
ایک کورین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کی تکلیف میں اس وقت کمی آگئی جب انہیں مختلف اقسام کے مصالحوں کی خوشبو سونگھائی گئی جن میں کالی مرچ، گرم مصالحہ اور دیگر شامل تھے۔

*برتنوں کو ہاتھ سے دھونا*
اگر تو کسی کے ہاتھوں کے جوڑوں میں تکلیف ہے تو یہ سننے میں تو عجیب لگے گا مگر ہر باورچی خانے میں کیے جانے والا یہ عام سا کام درحقیقت اس تکلیف میں کمی لانے کا باعث بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو اپنے ہاتھ گرم پانی میں کچھ دیر کے لیے ڈبو دیں تاکہ پٹھوں اور جوڑوں کو سکون ملے اور ان کی اکڑن کم ہو۔ اس کے بعد برتن دھولیں۔

*جوڑوں کو گرم ٹھنڈے کا ٹریٹمنٹ دینا*
آپ کو اس کے لیے دو پلاسٹک کے ڈبوں کی ضرورت ہوگی، ایک میں ٹھنڈا پانی اور کچھ آئس کیوبس بھردیں جبکہ دوسرے میں ایسا گرم پانی ہو جس کا درجہ حرارت آپ چھونے پر برداشت کرسکیں۔ پہلے اپنے تکلیف دہ جوڑوں ٹھنڈے پانی والے ڈبے میں ایک منٹ کے لیے ڈبو دیں اور اس کے بعد 30 سیکنڈ تک گرم پانی والے ڈبے میں متاثرہ جگہ کو ڈبو دیں۔ اسی طرح ڈبوں کو پندرہ منٹ تک بدلتے رہیں، مگر ہر ڈبے میں تیس سیکنڈ تک ہی متاثرہ جگہ کو ڈبوئیں تاہم آخر میں اس کا اختتام ایک منٹ تک ٹھنڈے پانی والے ڈبے میں تکلیف میں مبتلا جگہ کو ڈبو کر کریں۔

*روزانہ سبز چائے کے چار کپوں کا استعمال*
امریکا کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق روزانہ چار کپ سبز چائے کا استعمال سے جسم میں ایسے کیمیکلز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو جوڑوں کے درد میں مبتلا ہونے کا امکان کم کردیتے ہیں۔ ایک اور تحقیق کے مطابق سبز چائے میں موجود پولی فینول نامی اینٹی آکسائیڈنٹس سوجن میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے پٹھوں میں آنے والی توڑ پھوڑ اور درد میں نمایاں کمی آتی ہے۔

*ہلدی بھی بہترین*
یہ زرد مصالحہ اپنے اندر درد کش خوبیاں رکھتا ہے۔ متعدد طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی کا استعمال جوڑوں کے مریضوں کی تکلیف اور سوجن میں کمی لاتا ہے۔ ایک تحقیق میں گھٹوں کے جوڑوں کے درد کے شکار مریضوں کو روزانہ 2 گرام یا ایک چائے کا چمچ ہلدی استعمال کرائی گئی جس کے نتیجے میں ان کی تکلیف میں کمی آئی اور جسمانی سرگرمیوں میں اتنا اضافہ ہوا جو اس مرض کے لیے ادویات کے استعمال پر ہوتا ہے۔ ہلدی کا آدھا چائے کا چمچ چاول یا سبزیوں پر روزانہ چھڑک دیں یا ایسے ہی پانی کے ساتھ نگل لیں۔

*وٹامن سی کی مناسب مقدار جسم کا حصہ بنائیں*
وٹامن سی نہ صرف کولیگن نامی جز کی مقدار بڑھاتا ہے جو جوڑوں کا ایک اہم عنصر ہے بلکہ یہ جسم کے اندر موجود ایسے نقصان دہ اجزاءکا بھی صفایا کرتا ہے جو جوڑوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ وٹامن سی کی زیادہ مقدار کا استعمال کرتے ہیں ان میں جوڑوں کے درد میں شدت آنے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔ دن بھر وٹامن سی سے بھرپور اشیاءکا استعمال کریں کیونکہ ہمارا جسم اس وٹامن کا ذکیرہ نہیں کرتا بلکہ دوران خون کے ذریعے مطلوبہ مقامات پر پہنچا کر کچھ دیر بعد خارج کردیتا ہے۔ تو صبح اس کی زیادہ مقدار کا استعمال اتنا بھی بہتر نہیں جتنا ااپ خیال کرتے ہیں ویسے بھی وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیوں کا استعمال کسے ناپسند ہوسکتا ہے۔

*خوراک میں لونگ کو شامل کریں*
لونگ میں سوجن پر قابو پانے والے کیمیکل یوجینول موجود ہوتا ہے جو کہ اس جسمانی عمل پر اثرانداز ہوتا ہے جو جوڑوں کے درد کو بڑھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق لونگ کا استعمال ایسے پروٹین کو جسم میں خارج ہونے سے روکتا ہے جو سوجن کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ لونگوں میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو کمزور ہونے کا عمل سست کردیتے ہیں۔ اس کا آدھے سے ایک چائے کا چمچ روزانہ استعمال جوڑوں کے درد میں کمی کے لیے بہترین ہوتا ہے۔

*اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا استعمال*
اومیگا تھری فیٹی ایسڈز تکلیف دہ جوڑ کو راحت پہنچانے کے لیے بہترین ہوتے ہیں اور ٹھنڈے پانیوں کی مچھلیوں میں اس کیمیکل کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ تاہم اس کیمیکل کے سپلیمنٹ بھی دستیاب ہین جو ڈاکٹروں کے مشورے سے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانا کنولا آئل میں بنانے کو ترجیح دیں کیونکہ اس میں بھی اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں۔

*ادرک کا مرہم بنانا*
پسی ہوئی ادرک کو اس جوڑ پر لگائیں جس پر تکلیف ہو رہی ہو تو اس سے جسم میں ایک دماغی جز کی کمی ہوتی ہے جو درد کی لہر آپ کے مرکزی اعصابی نظام تک پہنچاتی ہے۔ ادرک کے مرہم کو بنانے کے لیے تازہ ادرک کے تین انچ کے ٹکڑے کو پیس لیں جس میں کچھ مقدار میں زیتون کا تیل شامل کرکے اسے پیسٹ کی شکل دے دیں اور پھر تکلیف دہ جوڑ پر لگائیں۔ اس کے بعد اس جگہ کو کسی پٹی سے دس سے پندرہ منٹ تک ڈھکا رہنے دیں۔

*ننگے پاﺅں چہل قدمی*
کسی گھاس والے مقام پر ننگے پاﺅں چہل قدمی میں گھٹوں کے درد میں بارہ فیصد تک کمی ہوتی ہے۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق کھلی فضاءمیں کچھ دیر تک ننگے پاﺅں گھومنا تکلیف میں کمی کا باعث بنتا ہے مگر اپنی ایڑیوں کو اوپر اٹھا کر یا پنجوں کے بل چلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے جوڑوں پر دباﺅ مزید بڑھ جاتا ہے۔

*مصالحے دار غذا کا استعمال*
لال مرچ، ادرک اور ہلدی میں سوجن میں کمی لانے والے اجزاءموجود ہوتے ہیں اور وہ ایسے دماغی سگنلز کو بھی بلاک کرتے ہیں جو درد کی لہریں ٹرانسمٹ کرتے ہیں۔ تو مناسب حد تک مرچ مصالحے والی غذائیں بھی اس تکلیف کے لیے بہترین ہیں یا مرچوں سے کوئی چٹنی یا ساس تیار کرلیں جو آپ کی میز پر ہر وقت موجود ہو۔

*کیلشیئم کا زیادہ استعمال*
بہت کم مقدار میں کیلشیئم کا استعمال ہڈیوں کا بھربھرا پن یا کمزوری کا خطرہ بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں جوڑوں کے درد کی جانب سفر بھی تیز رفتار ہوجاتا ہے۔ پچاس سال کی عمر کے بعد تمام خواتین کو روزانہ 1200 ملی گرام کیلشیئم کا استعمال یقینی بنانا چاہئے، دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کیلشیئم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں مگر دودھ سے بنی غذائیں بھی اس کا انتہائی بہترین ذریعہ ہیں۔ گوبھی اور سبز پتوں والی سبزیوں میں بھی کیلشیئم پایا جاتا ہے جو مقدار کے لحاظ سے دودھ سے کم ہوتا ہے مگر یہ جسم میں زیادہ آسانی سے جذب ہوجاتا ہے۔

*سورج کی روشنی میں کچھ دیر رہنا*
متعدد افراد میں جوڑوں کا درد وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ بھی ہوتا ہے۔ طبی رپورٹس کے مطابق جسم میں وٹامن ڈی کی سطح معمول پر رکھنا ہڈیوں کو نقصان سے بچاتا ہے جس کے نتیجے میں جوڑوں کا مرض آپ کو شکار نہیں کرتا۔ اپنے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح کو بڑھانے کے لیے روزانہ 10 سے 15 منٹ سورج کی روشنی میں رہنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ یا اس سے بنی دیگر مصنوعات بھی وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

*مچھلی کے تیل سے بنے کیپسول*
ایک برطانوی تحقیق کے مطابق مچھلی کے تیل سے بنے کیپسول بھی جوروں میں ہونے والی تکلیف کا باعث بننے والے عمل کو سست کردیتا ہے جس سے شدت میں کمی آتی ہے۔ مچھلی کے عام تیل سے بنے کیسپول کا استعمال بھی اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جو درد کا باعث بننے والے اینزائمز کی مقدار کو کم کردیتے ہیں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

10/09/2021

*تخم بالنگا اور چیا سیڈز میں کیا فرق ہے؟*

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

غذائی ماہرین کی جانب سے چیا سیڈز یعنی تخم داؤدی اور تخم بالنگا کو سپر فوڈ قرار دیا جاتا ہے جبکہ ان دونوں کا استعمال فوائد میں یکساں ہے، جب بات وزن کم کرنے کی آتی ہے تو ماہرین غذائیت اسے ڈائیٹ میں ضرور شامل کرنے کو کہتے ہیں، دونوں ہی کیلشم اور فائبر حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ بھی ہیں۔

*تخم بالنگا کیا ہے؟*
اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات، فائبر، آئرن اور کیلشیم اور دیگر معدنیات سے بھر پور تخم بالنگا قدرت کی جانب سے انسان کے لیے صحت کا ایک خزانہ ہے۔

غذائی ماہرین اسے انسانی جسم کو مطلوب غذائیت کا ایک ہی غذا میں چھپا خزانہ قرار دیتے ہیں جس کے استعمال سے مجموعی جسمانی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور صحت پر جادوئی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین غذائیت کے مطابق چھوٹے چھوٹے کالے دانوں پر مشتمل تخم بالنگا وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھرپور غذا ہے، اس میں دودھ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ کیلشیم اورسیٹریس پھلوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ وٹامن سی پایا جاتا ہے، یہ تاثیر میں ٹھنڈا اور فوائد میں بے مثال ہے۔

تخم بالنگا کے استعمال سے پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین، فائبر اور کیلشیم کی بھر پور مقدار حاصل ہوتی ہے جس کے سبب ہڈیاں مضبوط، جوڑوں کے درد سے نجات ملتی ہے، پر سکون نیند میں بہتری آتی ہے، آنتوں کی صفائی عمل میں آتی ہے اور نظام ہاضمہ درست اور متحرک ہوتا ہے، جسمانی قوت میں اضافہ ہونے سمیت روزانہ کی بنیاد پر استعمال سے اضافی وزن میں بھی واضح کمی واقع ہوتی ہے۔

تخم بالنگا کے 100 گرام میں 22 کیلوریز، 4 ملی گرام سوڈیم، 295 ملی گرام پوٹاشیم، 0.6 گرام فیٹ، 2.7 گرام کاربوہائیڈریٹس، 1.6 گرام ڈائیٹری فائبر، 3.2 گرام پروٹین اور صفر گرام شو پائی جاتی ہے، معدنیات اور وٹامنز کے لحاظ سے 105 فیصد وٹامن اے، 17 فیصد کیلشیم، 30 فیصد وٹامن سی، 17 فیصد آئرن، 10 فیصد وٹامن بی 6 اور 16 فیصد میگنیشیم پایا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے تخم بالنگا کے استعمال سے ڈپریشن جیسے مرض کا علاج ممکن ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق تخم بالنگا اومیگا 3سے مالا مال ہے اس لیے انسان کے مزاج کو مثبت اور اسے خوشگوار بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

تخم بالنگا کے صرف ایک اونس میں 14 گرام فائبر پایا جاتا ہے جو کہ نشاستہ کی روزانہ کی مطلوبہ مقدار کا نصف سے زیادہ حصہ بنتا ہے۔

*تخم بالنگا کے نقصانات*
غذائی ماہرین کی جانب سے تخم بالنگا کا طویل عرصے تک استعمال منع کیا جاتا ہے، تخم بالنگا کا روزانہ کی بنیاد پر مہینوں استعمال کرنے کے نتیجے میں جوڑوں کا درد اُٹھ سکتا ہے اور پٹھوں میں بھی کھنچاؤ کی شکایت ہو سکتی ہے ۔

ٹھنڈی تاثیر ہونے کے سبب تخم بالنگا کا استعمال زیادہ کیے جانے سے منع کیا جاتا ہے۔

تخم بالنگا کا استعمال بچوں کو نہیں کروانا چاہیے۔

*چیا سیڈز اور اُس کے فوائد*
تخم بالنگا کی طرح چیا سیڈ بھی ایک مکمل غذائی پیکیج ہے، اس کے فوائد بے شمار ہیں ، وزن کم کرنے کے سفر میں اسے تخم بالنگا سے بہتر قرار دیا جاتا ہے، چیا سیڈز میں بھی تخم بالنگا جیسی بھرپور غذائیت پائی جاتی ہے۔

چیا سیڈ میں وٹامن اے، بی 1، بی 3، ای، ڈی، سلفر، کیلشیم، آئرن، آؤڈین، کوپر، زنک، میگنیشیم، مینگنیز اور بہت سے معدنیات پائے جاتے ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق چیا سیڈز کے 100 گرام مقدار میں 486 کیلوریز، 31 گرام فیٹ، 16 ملی گرام سوڈیم ، 11 فیصد پوٹاشیم ، 14 فیصد کاربوہائیڈریٹس، 136 فیصد ڈائٹری فائبر، اور 34 فیصد پروٹین پایا جاتا ہے۔

اسی طرح 2 فیصد وٹامن سی، 63 فیصد کیلشیم، 42 فیصد آئرن اور 83 فیصد میگنیز بھی پایا جاتا ہے۔

غذائی ماہرین کی جانب سے چِیا سیڈز کو فنکشنل فوڈ ( جسم کو فعال کرنے والی غذا) قرار دیا جاتا ہے، فنکشنل فوڈ اُسے کہا جاتا ہے جو جسم کو بنیادی غذائی اجزاء فراہم کرنے کے ساتھ خطرناک بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے ۔

چیا سیڈز یعنی کے تخم داؤدی میں دوسری غذائی اجناس سے کہیں زیادہ اومیگا3، کیلشیم، اینٹی آکسیڈنٹس جبکہ آئرن اور پروٹین کی مقدار پائی جاتی ہے، اِس کے علاوہ یہ مکمل طور پر گلوٹن سے پاک ہے۔

چیا سیڈز، تخم داؤدی اپنے وزن سے کئی گُنا زیادہ پانی جذب کرلیتے ہیں جوکہ انسان کو ڈی ہائیڈریشن سے بچاتے ہیں، یہ خون میں شوگر کی مقدار کو مستحکم رکھتے ہیں اس وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

چیا سیڈز خون کی ایک خطرناک بیماری انیمیا کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

اس میں موجود وٹامنز اور منرلز کی وافر مقدار ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اور عمر رسیدہ عورتوں میں گھٹنوں اور پٹھوں کے امراض میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

*چیا سیڈز کے استعمال سے صحت پر آنے والے منفی اثرات*
غذائی ماہرین کی جانب سے اس کے استعمال کے نتیجے میں کوئی نقصانات نہیں بتائے جاتے ہیں، ان بیجوں کا روزانہ کی بنیاد پر استعمال کیا جا سکتا ہے، چیا سیڈز کا باقاعدگی سے استعمال وزن میں تیزی سے کمی اور صحت کی بہتری کا سبب بنتا ہے۔

*تخم بالنگا اور چیا سیڈز کا استعمال کیسے کیا جائے؟*
تخم بالنگا اور تخم داؤدی کے بیجوں کو ہمیشہ پانی میں بھگو کر استعمال کرنا چاہیے۔

استعمال سے قبل ان بیجوں کو 1 سے 3 گھنٹے بھیگا رہنے دیں۔

استعمال سے قبل رات بھر بھی بھگو کر رکھا جا سکتا ہے۔

تخم بالنگا اور چیا سیڈز کا استعمال سادے پانی، مشروبات، دودھ، تازہ پھلوں کے جوس، دہی میں بھی ملا کر کیا جا سکتا ہے۔

تخم بالنگا اور چیا سیڈز اپنے وزن سے 27 سے 30 فیصد تک زیادہ پانی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں بغیر بھگوئے نگلنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّد

10/09/2021

*کم عمری میں سفید بال کالے رکھنے کا قدرتی طریقہ مل گیا، آزماکر دیکھئے*

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

ال قدرت کا ایسا حسین تحفہ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ،لیکن جب یہ ہی بال سفید ہونا شروع ہو تے ہیں تو بہت زیادہ پریشانی کا باعث بنتے ہیں لیکن اب پریشانی کی کوئی بات نہیں یہ قدرتی نسخہ اپنائیں ۔

بالوں کا سفید ہونا بڑھا پے کی نشانی ہے لیکن آج کل کم عمری میں بھی بال سفید ہو رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ آج کے نو جوانوں کا لائف اسٹائل ہے ،مو بائل اور کمپیو ٹر کا حد سے زیادہ استعمال، ذہنی پریشانی، غذا میں بے احتیاطی یہ تمام چیزیں بالوں کے قدرتی کا لے رنگ کو سفید کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

اس کے علاوہ کم عمری میں بالوں کے سفید ہونے کی ایک بڑی وجہ بچوں میں وٹامن بی 12 اور زنک کی کمی ہے جس کے باعث بال تیزی سے سفید ہورہے ہیں۔

آئیے ڈاکٹر بتول کی زبانی آپ کو بال کالے کرنے کا قدرتی اور آسان طریقہ بتاتے ہیں جس کے کوئی سائیڈ ایفکٹس بھی نہیں ہیں۔

*سفید بال کالے کرنے کا آسان اور مجرب نسخہ*
سفید بالوں کیلئے سب سے بہترین چیز وٹامن بی 12 ور زنک ہے، اس کے علاوہ سرسوں کا تیل، انجیکشن بی 1 بی 6 نیروبین، زیرہ اور دیسی لہسن کا پانی

*تیل یا محلول بنانے کی ترکیب*
دیسی لہسن کا پانی 1 بڑا چمچ، زیرہ 1 چمچ، زنک سیرپ 3 چمچ، انجیکشن بی 1 بی 6 نیروبین، آدھا چمچ سرسوں کا تیل اور 1 وٹامن ای کی کیپسول کو ملا کر تیل یا محلول بنالیں اور پھر اسے رات بھر بالوں میں لگاکر رکھیں اور صبح کو شیمپو سے سر دھولیں۔

جسم کے جس حصّے پر بھی سفید بال وہاں ہاتھ سے اس تیل یا محلول کو لگائیں یا جڑوں میں اسپرے کریں آپ دیکھیں گے کہ 30 سے 90 روز کے اندر سفید بال گر جائیں اور جن بالوں پر سفیدی آنا شروع ہوئی ہے وہ واپس کالے ہوں جائیں گے۔

ڈاکٹر بتول کا کہنا تھا کہ بچوں میں زنک کے ساتھ ساتھ وٹامن بی 12 کی بہت زیادہ کمی ہوتی ہے لہذا بچوں کے جسم میں وٹامن بی 12 کو پورا کرنا بہت ضروری ہے جس کےلیے والدین کو چاہیے بچوں کو لال پھل زیادہ سے زیادہ کھلائیں جس میں وٹامن بی 12 بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔
اگر بچے پھل نہیں کھا رہے تو انہیں سیرپ یا ٹیبلٹ (گولی) کی صورت میں وٹامن بی 12 کھلائیں کیونکہ اس کی کمی بچوں کے بالوں میں سفیدی کا باعث بنتی ہے۔۔

سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ ذہنی تناﺅ واقعی لوگوں کے بال قبل از وقت سفید کرسکتا ہے۔
سائنسدانوں نے حیاتیاتی وجہ دریافت کی جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ تناﺅ سے آخر بالوں کی سیاہ رنگت کیوں ختم ہوجاتی ہے۔
جریدے جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عمل سیمپیتھک اعصابی نظام سے شروع ہوتا ہے جو اہم جسمانی افعال جیسے دل کی دھڑکن، سانس، غذا کو ہضم کرنے اور جراثیموں سے لڑنے وغیرہ میں مدد دیتا ہے۔

یہ اعصابی نظام تناﺅ کے ردعمل سے بھی منسلک ہے اور اس لیے یہ زیادہ حیران کن نہیں کہ وہ بالوں کو سفید کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

تاہم تناﺅ پر یہ اعصابی نظام اس وقت ہی متحرک ہوتا ہے جب دیگر جسمانی نظام سست یا ناکام ہوجاتے ہیں یعنی جسم کے آخری ہتھیاروں میں سے ایک سمجھ لیں اور انتہائی ایمرجنسی میں ہی جسم اسے متحرک کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محققین نے اس پر سب سے پہلے توجہ مرکوز کی، ان کا خیال تھا کہ اگر تناﺅ بالوں کو سفید کرتا ہے تو یہ کام ممکنہ طور پر مدافعتی نظام سے ہوتا ہوگا جو ایسے خلیات خارج کرسکتا ہے جو بالوں کی جڑوں میں رنگ بنانے والے خلیات پر حملہ آور ہوتے ہیں یا ہارمونز جیسے کورٹیسول کا اخراج ایڈرینل گلینڈز میں کرتا ہوگا جسے اسٹریس ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔

مگر سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایسا ہوتا ہی نہیں۔

انہوں نے چوہوں میں ایسے مرکب کو جسم میں داخل کیا جو تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح میں اضافہ کرتا ہے اور انہوں نے دریافت کیا کہ مدافعتی خلیات سے محروم اور ایڈرینل گلینڈز سے محروم چوہوں کے بال بھی قبل از وقت سفید ہوگئے۔

اس کے بعد سائنسدانوں نے سیمپیتھک اعصابی نظام پر توجہ دی اور دریافت کیا کہ اس سے ایسے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے جو بالوں کی رنگت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ جان کر حقیقی معنوں میں حیران رہ گئے، کیونکہ ہم بالوں کی قبل از سفیدی بننے والی وجہوات میں سیمپیتھک اعصابی نظام کو سب سے آخر میں سمجھتے تھے، ہم جانتے تھے کہ یہ تناﺅ کے نتیجے میں متحرک ہوتا ہے مگر ہم اسے ایمرجنسی نظام سمجھتے تھے، اور مسئلے کے حل کے بعد ریورس ایبل سمجھا جاتا تھا، مگر ہم نے دریافت کیا کہ اس کے نتیجے میں خلیات کی آبادی کو ہمیشہ کے لیے نقصان پہنچ جاتا ہے۔

درحقیقت تحقیق میں سائنسدان یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ اعصابی نظام عام ذہنی تناﺅ کی صورت میں بھی متحرک ہوکر norepinephrine کیمیکل بناتا ہے جو مسلز کے کھچاﺅ کا باعث بنتا ہے۔

اس کیمیکل کے ردعمل میں بالوں کی جڑوں میں موجود خلیات پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جو نئے بالوں کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں اور بتدریج بالوں کی رنگت خشک ہونے لگتی ہے اور خلیات نیا رنگ بنانا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے بعد بالوں کی رنگت سفید ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

محققین کو توقع ہے کہ تحقیق کے نتائج سے مستقبل قریب میں بالوں کے ان خلیات کے تحفظ یا اعصابی نظام کے ردعمل کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار تشکیل دیا جاسکے گا، تاہم فی الحال ایسا کوئی علاج موجود نہیں جو یہ کام کرسکے۔

تاہم ایک آسان حل ذہنی تناؤ کو کنٹرول میں رکھنا ہوسکتا ہے جس کے لیے آپ ڈاکٹر سے مدد لے سکتے ہیں یا طرز زندگی میں چند تبدیلیوں سے بھی ایسا ممکن ہے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

10/09/2021

*100 بہترین ٹوٹکے*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ٹوٹکا ایسا آسان حربہ جس سے کسی مشکل، بیماری، تکلیف یا مسئلہ کا حل کیا جائے۔ گھروں میں استعمال ہونے والے ٹوٹکے گھریلو ٹوٹکے کہلاتے ہیں۔تہذیب براڈکاسٹنگ کی طرف سے آپ کی خدمت میں*بہترین 100ٹوٹکے* پیش خدمت ہیں۔

1۔ گھیکوار کا گودا صبح شام منہ پر لگانے سے چہرے کے داغ دھبے آہستہ آہستہ دور ہو جاتے ہیں۔

2۔ پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی زیادہ استعمال کیجیے۔

3۔ زیادہ پیاس لگے، تو ککڑیاں کھائیے۔ پیاس کسی صورت نہ بجھے، تو دودھ کی کچی لسی بنا کر دو تین گلاس پئیں، پیاس ختم ہو جائے گی۔

4۔ پائوں کے تلوے جلتے ہوں، تو صبح شام گھیکوار کے گودے سے تلوئوں کی مالش کریں۔

5۔ دل کی تیزدھڑکن اور پیٹ میں گیس بننے سے روکنے کی خاطر سونف اور خشک دھنیا ایک ایک چھٹانک صاف کر کے پیس لیں۔ اس آمیزے میں ڈیڑھ چھٹانک شکر ملائیں۔ صبح شام ایک ایک چمچ لیں۔

6۔ نظر بہتر بنانے کے لیے سات بادام پیس کر آدھا آدھا چمچ سونف و مصری کے ساتھ روزانہ لیں۔

7۔ گرمیوں میں آنکھ کی سرخی اور جلن دور کرنے کے لیے پانچ یا سات آملے مٹی کے پیالے میں رات کو بھگو دیں۔ صبح پانی چھان کر اس سے آنکھوں پر چھینٹے ماریں۔

8۔ بچوں میں پیٹ کے کیڑوں سے نجات کے لیے کمیلہ کا 3؍گرام سفوف صبح شام دیں۔

9۔ پائوں کی ایڑیاں پھٹنے اور جلن سے بچانے کے لیے ایک تولہ کچا سہاگا، ایک تولہ پھٹکری، ایک تولہ گندھک لے کر پیس لیں۔ اس میں پٹرولیم جیلی ملا کر رات کو سوتے وقت ایڑیوں پر لگائیں۔ چند دنوں میں افاقہ ہو جائے گا۔

10۔ موٹاپا کم کرنے کے لیے پسی کلونجی آدھا چمچ ایک پانی میں ابال کر صبح نہار منہ اور شام کو لیں۔ ایک گلاس پانی میں کلونجی تیل کے چار پانچ قطرے اور ایک لیموں کا رس ڈال کر صبح شام متواتر ایک ماہ استعمال کرنے سے موٹاپا کم جا سکتا ہے۔

11۔ زکام کے خاتمے کے لیے تھوڑی سی چینی دہکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال کر اس کا دھواں سونگھیں۔

12۔ ہرے دھنیے کا پانی نکال کر سونگھنے سے چھینکوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

13۔ نکسیر کا خون بند کرنے کے لیے بھی ہرے دھنیے کا پانی نکال کر سونگھیں۔

14۔ ناک کی بدبو دور کرنے کے لیے چٹکی بھر پھٹکری تھوڑے سے پانی میں حل کر کے ناک میں ڈالیں۔

15۔ چھوٹے بچوں میں پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی میں پیاز کچل کر 60گرام چینی ملا لیں۔ صبح شام دو سے تین چمچ یہ آمیزہ پلائیں۔

16۔ بدہضمی اور الٹیاں روکنے کے لیے 30گرام پیاز، پودینہ کے چند پتے اور سات عدد کالی مرچ اچھی طرح ملا کرکھائیے۔

17۔ صبح شام سلاد کے طور پر پیاز کا استعمال بدہضمی روکتا اور جسمانی طاقت بڑھاتا ہے۔

18۔ بھوک بڑھانے کی خاطر پھلوں کے سرکے میں پیاز اور ادرک کاٹ کر ملائیے۔ پھر پودینے کے پتے، لہسن کے دوچار ٹکڑے اور تھوڑی سی کشمش ملا کر کھانے میں بطور سلاد استعمال کریں۔

19۔ سر کے زخم اور خارش دور کرنے کے لیے نیم کی نمولیاں پیس، پانی میں ملا، گاڑھا لیپ بنا کر رات کو بالوں میں اچھی طرح لگائیں۔

20۔ سردیوں میں ہاتھ پائوں کی انگلیوں میں سوجن دور کرنے کے لیے گھیا (لوکی) کدوکش کر اسے ہاتھ پائوں پر اچھی طرح ملیں۔ ایک گھنٹے بعد ہاتھ پائوں دھولیں اور پھر پٹرولیم جیلی لگائیں۔

21۔ کھانسی روکنے کے لیے صبح، دوپہر شام ملٹھی منہ میں رکھ کر چوسیں۔

22۔ آنکھوں کی جلن دور کرنے کے لیے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اور برف سے ٹکور کریں۔

23۔ زخم کی سوجن دور کرنے کے لیے پیاز جلا اس میں ہلدی ملا کر لیپ بنائیے۔ اسے پھر زخم پر لگائیں۔

24۔ دائمی قبض دور کرنے کے لیے صبح شام زیتون کا تیل معتدل مقدار میں استعمال کریں۔

25۔ پیٹ کے جملہ امراض روکنے کے لیے اسپغول کا چھلکا بلاناغہ استعمال کریں۔

26۔ ہچکی روکنے کے لیے دیسی گھی میں سوجی کا حلوہ بنا کر کھائیے۔ یا منہ میں برف کی ڈلی رکھیں یا آہستہ آہستہ گنڈیریاں چوسیں۔

27۔ بچوں کو بخار زیادہ ہو جائے، تو فوراً نہلا دیں یا ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں۔

28۔ دست اور قے روکنے کے لیے سونف اور پودینہ کا قہوہ بنا کر پیجیے۔

29۔ پائوں نرم و ملائم کرنے کے لیے سونے سے دس منٹ پہلے پائوں تازہ پانی میں بھگوئیے۔ اس پانی میں چند قطرے روغن زیتون اور تھوڑا سا نمک ملا لیں۔ خشک کر کے پٹرولیم جیلی یا سرسوں کا تیل لگائیں۔ سردیوں میں نیم گرم پانی استعال کریں۔

30۔ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ایک ایک چمچ آملہ اور مصری ملا کر روزانہ صبح نہار منہ ایک گلاس پانی کے ساتھ لیں۔

31۔ زہریلا کیڑا کاٹ لینے کی صورت میں لہسن کا تیل اور شہد ملا کر زخم والی جگہ پر لگائیں۔

32۔ بچوں میں پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کے لیے کلونجی پانی میں ابال اس کا پانی رات کو سونے سے پہلے پلائیں۔

33۔ جوڑوں کا درد روکنے کے لیے نیم کے پتوں کے تیل کی مالش کریں۔

34۔ کھانسی دور کرنے کے لیے ایک ایک چمچ شہد اور ادرک کا رس ملا کر روزانہ صبح، دوپہر، شام تین سے پانچ روز تک لیں۔

35۔ لہسن جلا سرکے اور شہد میں ملا کر لگانے سے پھوڑے پھنسیاں اور نشان دور ہو جاتے ہیں۔

36۔ ذیابیطس قابو کرنے کے لیے بغیر چھنے آٹے میں تازہ یا پسی میتھی ملا کر روٹی بنائیے اور روزانہ ناشتے میں کھائیں۔ دو سے تین ہفتوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔

37۔ دانت کا درد دور کرنے کے لیے لونگ استعمال کیجیے۔

38۔ بلڈپریشر قابو میں لانے کے لیے آڑو، پھلیاں، لوبیا، مٹر، ناشپاتی اور کیلا زیادہ استعمال کریں۔

39۔ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے کے لیے جئی کا آٹا اور گاجر زیادہ کھائیے۔

40۔ سونف کا زیادہ استعمال آنکھوں کی بینائی تیز کرتا ہے۔

41۔ شکر اور سونف ہم وزن لے کر اسے کوٹ لیں۔ سر کے چکر دور کرنے کے لیے صبح شام ایک چمچ پانی کے گلاس میں لے لیں۔

42۔ صبح نہار منہ روزانہ دو سے تین گلاس پانی پئیں، نظام انہضام درست ہو جائے گا۔

43۔ دانتوں کی چمک برقرار رکھنے کے لیے صبح و شام نیم کی مسواک استعمال کریں۔

44۔ برص کے داغ دور کرنے کے لیے خالص شہد ایک چمچ، عرق پیاز ایک چمچ اور نمک آدھا چمچ ملا کر داغوں پر لگائیں۔

45۔ حمل میں گرمی، قے اور سر درد دور کرنے کے لیے آلو بخارہ زیادہ استعمال کریں۔ آلو بخارہ کا شربت بنانے کے لیے پانچ چھ آلو بخارے رات کو پانی کے گلاس میں بھگو دیں۔ صبح تھوڑی سی چینی اور نمک ملا کر آلو بخارے مسل دیں۔ برف ڈال کر استعمال کیجیے۔

46۔ موٹاپا دور کرنے کے لیے اپنی خوراک سے ہر قسم کی چکنائی، مشروبات اور مٹھائیوں کا استعمال بالکل ترک کر دیں۔

47۔ تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ کھائیے۔

48۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے صبح و شام سیر کیجیے اور مرغن غذائوں سے پرہیز کریں۔

49۔ چھینکوں کی بھرمار سے بچنے کے لیے ایک چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں ابال لیں۔ ٹھنڈا کر اور چھان کے سونے سے پہلے دو تین ہفتے تک پئیں۔

50۔ ڈکار دور کرنے کے لیے کھانے کے بعد ادرک کے باریک ٹکڑوں پر نمک چھڑک کر آہستہ آہستہ چبا کر کھائیں۔ اس کے علاوہ سالن میں ادرک اور لہسن کا استعمال زیادہ کریں۔

51۔ خون کی کمی دور کرنے کے لیے انار کا رس زیادہ پئیں۔ چقندر کا استعمال بطور سلاد کریں اور سیب بھی خوب کھائیں۔

52۔ ہاتھ یا پائوں میں پسینا زیادہ آتا ہو، تو پانی میں لیموں کا رس یا سرکہ ملا کر دن میں تین بار اور سونے سے پہلے دھوئیں، افاقہ ہو گا۔

53۔ پیٹ میں ہر وقت گیس رہتی ہو، تو میتھی کے بیج کھائیں۔ گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے کے لیے روزانہ نہار منہ پانچ عدد انجیر کھائیں یا پتھر چٹ پودے کے پتے چبائیں۔

54۔ آنکھوں کے گرد حلقے دور کرنے کے لیے صبح سویرے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رگڑیں اور گرم گرم انگلی آنکھوں کے گرد حلقے پر پھیرئیے۔

55۔ جسم کی چربی پگھلانے کے لیے نہار منہ پانی میں شہد اور چند قطرے لیموں ڈال کر روزانہ لیں۔

56۔ مسوڑھوں سے خون بہتا ہو، تو جامن کے دو تین پتے دھو کر چبائیے اور آمیزے کو مسوڑھوں پر ملیں۔

57۔ بچوں میں ناک کی نکسیر روکنے کے لیے انھیں ککڑی اور کھیرا کھلائیے۔

58۔ ناخن مضبوط کرنے کے لیے روزانہ چند ہفتے تک ہلکے گرم زیتون کے تیل میں تھوڑی دیر ناخنوں کو ڈبو کر رکھیں۔

59۔ بدہضمی اور بھاری پن سے بچنے کے لیے کھانے کے بعد تھوڑا سا گڑ بطور ’’سویٹ ڈش‘‘ لیں۔

60۔ دانتوں میں خون آنے سے روکنے کے لیے ایک لیموں کا رس، ایک پیالی نیم گرم پانی اور آدھا چمچ نمک ملا کر صبح و شام غرارے کریں۔

61۔ پھنسیوں پر فالسے کے پتے باریک پیس کر لگانے سے وہ ختم ہو جاتی ہیں۔

62۔ قے روکنے کے لیے چھوٹی الائچی یا املی استعمال کریں۔

63۔ چھوٹے بچے نمکول کا پانی نہ پئیں، تو دو چمچ شہد، آدھا چمچ نمک، ایک چمچ چینی اور تین چار قطرے لیموں ڈال کر دو گلاس پانی میں حل کر گھریلو نمکول بنا لیں۔ اسہال اور قے کی صورت میں بچوں کو دیجیے۔

64۔ ہاتھ جلنے کی صورت میں متاثرہ جگہ گاجر پیس کر اس کا لیپ لگائیں۔

65۔ بھاپ سے ہاتھ جل جائے، تو متاثرہ جگہ آلو کے ٹکڑے کاٹ کر ملیں۔

66۔ آملہ کا مرباّ کھانے سے بار بار نکسیر آنا بند ہو جاتی ہے۔

67۔ پیٹ میں شدید درد ہو، تو بڑی الائچی، دارچینی، سونف، پودینہ کا قہوہ بنا کر پئیں۔

68۔ آواز بیٹھ جائے تو نیم گرم پانی میں ہلکا نمک ملا کر غرارے کریں یا ملٹھی چبائیں۔ ادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔

69۔ انجیر کھانے سے منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔

70۔ ٹیکے کی جگہ سوجنے کی صورت میں برف سے ٹکور کریں۔

71۔ آنکھوں کو طراوت دینے کے لیے کچی گاجروں کا استعمال زیادہ کریں۔

72۔ ہرے دھنیے کا عرق چھالوں پر لگانے سے وہ دور جاتے ہیں۔

73۔ دانتوں میں درد دور کرنے کے لیے لونگ پیس لیموں کے رس میں ملا کر درد والی جگہ پر لگائیں۔

74۔ خراب اور کٹے پھٹے ہونٹ ٹھیک کرنے کے لیے گلاب کا پھول آدھا پیس، اس میں ذرا سا مکھن لگا کر ایک ہفتہ تک ہونٹوں پر لیپ کریں۔

75۔ زخموں میں پیپ آنے سے روکنے کے لیے دو تا تین جاپانی پھل روزانہ کھائیں۔

76۔ جسمانی کمزوری دور کرنے اور وزن میں اضافے کی خاطر روزانہ دودھ کا ملک شیک لیں۔ رات کو گیارہ بادام اور ایک چمچ کشمش آدھی پیالی پانی میں بھگو لیجیے۔ صبح بادام اور کشمش کے دانے کھا کر بچا ہوا پانی پی لیں۔

77۔ لیکوریا اور ٹانگوں میں مستقل درد ختم کرنے کے لیے تین ہفتے تک روزانہ صبح کے وقت سات بادام کھائیے۔

78۔ آپریشن وغیرہ کے زخم اور نشان دور کرنے کے لیے گھیکوار کے گودے میں تھوڑا سا زیتون کا تیل ڈال گرم کر کے روزانہ لگائیں۔

79۔ ہاتھوں میں کھجلی اور خارش روکنے کے لیے گھیا (لوکی) کچل کر صبح شام اس کا رس ہاتھوں پر اچھی طرح ملیں۔

80۔ دل کی گھبراہٹ دور کرنے اور ہائی بلڈپریشر روکنے کے لیے ایک پیالی خالص شہد، پھلوں کا سرکہ ایک پیالی اور دیسی لہسن (آٹھ دانے) تینوں اچھی طرح پیس کر آمیزہ فریج میں رکھ دیں۔ ایک ہفتے بعد صبح و شام ایک چمچ لیں۔

81۔ سر کی خشکی دور کرنے کی خاطر چقندر کے پتے ابال کر روزانہ اس پانی سے سر دھوئیں۔

82۔ موسم گرما میں پیشاب کی جلن اور رکاوٹ دور کرنے کے لیے ’’گرما‘‘ استعمال کریں۔

83۔ جلنے کی صورت میں متاثرہ جگہ پر فوری طور پر کسٹر آئل لگائیں۔

84۔ خارش دور کرنے کے لیے ناریل کے تیل میں کافور ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں۔

85۔ شہد کی مکھی یا بھڑ کے کاٹنے کی صورت میں نمک سرکہ میں ملا متاثرہ جگہ پر لگا کر ڈنگ نکال دیں۔ درد اور سوجن کم ہو جائے گی۔

86۔ آدھے سر کا درد دور کرنے کے لیے لیموں کے چھلکے پیس، اس میں تیل زیتون کا ملا، سرپر لیپ کریں۔

87۔ نیند نہ آتی ہو، تو سونے سے پہلے پائوں کے تلوئوں پر خالص سرسوں کے تیل کی مالش کریں اور دو چمچ شہد کھا لیں۔

88۔ سخت ہاتھوں کو نرم و ملائم رکھنے کے لیے رات کو سونے سے پہلے لیموں کا عرق، گلیسرین میں ملا کر ہاتھوں میں ملیں۔

89۔ منہ کی بدبو دور کرنے کے لیے دن میں دو تین بار سونف چبائیے کر کھائیے۔

90۔ آواز بیٹھ جائے تو ایک گلاس پانی میں دو چمچ سونف ڈال کر ہلکی آنچ میں پکائیں۔ جب ایک ابال آ جائے، تو پانی ٹھنڈا کر کے پی لیجیے۔ چینی اور دار چینی بھی ڈال لیں۔ اس قہوے کو دن میں دو تین بار استعمال کریں۔

91۔ جسم میں کسی جگہ کانٹا چبھ جائے، تو تھوڑا سا گڑ لے اس میں پیاز کاٹ کر ملائیں اور متاثرہ جگہ باندھ دیں، کانٹا خودبخود نکل آئے گا۔

92۔ پائوں کے چھالے دور کرنے کے لیے رات سوتے وقت آبلے پر انڈے کی سفیدی لگا لیں۔

93۔ لو لگنے کی صورت میں پیازکا رس، لیموں اور تھوڑا سا نمک ڈال کر پیجیے۔

94۔ چھوٹے بچوں میں کھانسی ختم کرنے کے لیے تھوڑی سی کالی مرچ، الائچی پیس کر شہد کے آدھے چمچ میں ملا کر صبح و شام دیں۔

95۔ چہرے کی جھریاں دور کرنے کے لیے سو گرام عرق گلاب، 15گرام روغن بادام اور پندرہ گرام پھٹکری لے کر چار انڈوں کی سفیدی ملا ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب آمیزہ یک جان ہو جائے، تو اتار لیں۔ سوتے وقت اس سے چہرے کی مالش کریں۔

96۔ کیل مہاسے دور کرنے کے لیے انڈے کی سفیدی پھینٹ کر چہرے پر پندرہ بیس منٹ تک لگائیں۔ بعد میں صابن سے منہ دھو کر صاف کر لیں۔

97۔ زکام سے بچنے کے لیے قہوے میں ادرک اور دار چینی ملا کر استعمال کریں۔

98۔ دانتوں کے کیڑے ختم کرنے کے لیے، چنبیلی کے پتے پانی میں اُبال لیں۔ اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر غرارے کریں۔

99۔ صبح چاق چوبند اور تروتازہ رہنے کے لیے ایک پیالی گرم دودھ میں ایک چمچ شہد ڈال سونے سے پہلے روزانہ لیں۔

100۔ بار بار پیشاب آنے سے روکنے کے لیے سونے سے پہلے اخروٹ کھائیں۔ چھوٹے بچوں کا سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہو، تو انھیں سونے سے قبل تل کے لڈو یا باجرے کی کھچڑی کھلائیے۔

پھل و سبزیاں اپنے اپنے موسم میں بیماریوں کا بہترین علاج ہیں۔ ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ رات کو بھوک رکھ کر کھانا بھی بیماریوں سے بچنے کا گُر ہے۔ رات گئے شادی، بیاہ وغیرہ کے کھانے بھی بیماری بڑھنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے بے دریغ کھانے سے پرہیز کریں۔

التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ۔

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LE VAE HUN DAS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share