04/09/2026
حال ہی میں سرزد ہوئے چند اشعار:
اکیلے پن میں جو دوئی بھی شور کرتی ہے
ہمارے کانوں میں روئی بھی شور کرتی ہے
جو ایک سوزن پنہاں درون باطن ہے
نظر کے تیر سی سوئی بھی شور کرتی ہے
بدن کی خیر حرارت سوا ہے سورج سے
یہ کیا نہ ہونی سی ہوئی بھی شور کرتی ہے
وہ دور گاؤں میں چلتی ہے کوئی پن چکی
جو اس کے ساتھ ہے کھوئی بھی شور کرتی ہے
یہ کون خواب گریزاں سا آنکھ میں آیا
کسی پیام کی اوئی بھی شور کرتی ہے
جو فرش گل پہ یے شورش بپا کی بھنوروں نے
چھوئی موئی ہے مگر موئی بھی شور کرتی ہے
( علی اصغر عباس)