27/07/2026
رايةُ العُقاب (رايت العُقاب) اسلامی تاریخ کا وہ تاریخی اور مقدس پرچم (علم/Banner) ہے جو رسول اللہ ﷺ کا مرکزی اور سرکاری جنگی پرچم تھا، اور بعد میں حضرت خالد بن ولیدؓ اور دیگر صحابہ کرام کی قیادت میں اسلامی فتوحات کا نشان بنا۔
1. "عقاب" نام کیوں رکھا گیا؟
عربوں میں ہر پرچم کا ایک نام ہوتا تھا۔ اس پرچم کا نام "العُقاب" (شاہین یا عقاب - Eagle) رکھا گیا، کیونکہ شاہین اونچی اڑان، بیدار مغزی، طاقت اور حاکمیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
2. راية العقاب کی شکل اور رنگ
رنگ: راية العقاب سیاہ (کالے) رنگ کا پرچم ہوتا تھا۔ (روایات میں آتا ہے کہ یہ حضرت عائشہؓ کی ایک اوڑھنی/چادر سے تیار کیا گیا تھا)۔
اللوائے اور الراية کا فرق:
اللوائے (Al-Liwa): یہ سفید رنگ کا پرچم ہوتا تھا جو سپہ سالار/امیر کے ہیڈکوارٹر کا نشان ہوتا تھا۔
الراية (Ar-Rayah): یہ سیاہ رنگ کا پرچم (راية العقاب) ہوتا تھا جو میدانِ جنگ میں فوج کا مرکزی علمبردار اٹھاتا تھا تاکہ فوج متحد رہے۔
3. حضرت خالد بن ولیدؓ اور راية العقاب
حضرت خالد بن ولیدؓ کو رسول اللہ ﷺ کے دور اور بعد میں دورِ خلافتِ راشدہ (حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ) میں جتنے بھی معرکوں (مثلاً جنگِ یرموک، دمشق، عراق اور شام کی فتوحات) کی قیادت دی گئی، ان میں راية العقاب ہی اسلامی لشکر کے بالکل سامنے لہراتی تھی۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں یہ پرچم جہاں جاتا، فتح اس کا مقدر بنتی، اسی لیے دشمن کی افواج پر اس سیاہ پرچم کا بے پناہ رعب اور خوف طاری رہتا تھا۔
4. اسلامی قانون میں اس کی اہمیت
یہ پرچم صرف جنگی نشان نہیں تھا بلکہ یہ توحید، اسلامی ریاست کی وحدت، اور فتح و نصرت کی علامت تھا، جسے میدانِ جنگ میں کبھی نیچے گرنے نہیں دیا جاتا تھا۔
اگر آپ کو اسلامی تاریخ اور شجاعت کے یہ ایمان افروز واقعات پسند آتے ہیں، تو مزید ایسے ہی واقعات کے لیے ہمارے پیج کو فالو (Follow) ضرور کریں! 🔔"
#تاریخ کی زبان