ZaKir HusSain-ذاکر حسین

ZaKir HusSain-ذاکر حسین اک ادنا سا شاعر، اپنے جذبات و احساسات کو لفظوں کا رنگ دی Enigma

15/04/2023

کسی عاشق اور کسی متعصب سے بحث نہ کرو کیونکہ عاشق کے پاس ایک اندھا دل اور متعصب شخص کے پاس بند دماغ ہوتا ہے۔

جارج برنرڈ شا

خزاں رسیدہ چمن میں بہار کرتے ہوئےزمانہ ہوگیا پتھر سے پیار کرتے ہوئےسجا کے محفلیں تنہائیوں میں روتے ہیںفضائے دل کو کبھی س...
20/03/2023

خزاں رسیدہ چمن میں بہار کرتے ہوئے
زمانہ ہوگیا پتھر سے پیار کرتے ہوئے

سجا کے محفلیں تنہائیوں میں روتے ہیں
فضائے دل کو کبھی سوگوار کرتے ہوئے

بدن سے روح نکلتی ہے آنکھ روتی ہے
تمہارے گاؤں کی سرحد کو پار کرتے ہوئے

کفن نما سا لبادہ دیا پہنے کو
ودا کے وقت مجھے شہسوار کرتے ہوئے

سنا ہے جان کی خیرات دینی پڑتی ہے
وفا کے تیر کو سینے سے پار کرتے ہوئے

ذاکر حسین

اِک عجب سا درد سينے میں چُھپا رہتا ہے دوستموسُمِ قربت میں بھی یہ دل خفا رہتا ہے دوستاِک حیا کے سامنے اس کے ستم مانند پڑے...
24/01/2023

اِک عجب سا درد سينے میں چُھپا رہتا ہے دوست
موسُمِ قربت میں بھی یہ دل خفا رہتا ہے دوست

اِک حیا کے سامنے اس کے ستم مانند پڑے
اُس کی آنکھوں میں خدا جانے خُدا رہتا ہے دوست

میرے سجدوں میں کوئی تاثیر اب باقی نہیں
اب خدا سے رابطہ ہر پل کٹا رہتا ہے دوست

دوستی کا ایک رشتا بن گیا ہے قیس سے
دشت میں ہر روز اب میلا لگا رہتا ہے دوست

قہقہوں کی بارشیں مایوس کرتی ہیں مجھے
مسخروں کے سامنے بھی منہ بنا رہتا ہے دوست

اِس طرح گزری ہے اپنی زندگی پردیس میں
جس طرح بچہ کوئی ماں سے جدا رہتا ہے دوست

ہاں خدا نے بادشاہت دی ہے ایسے شخص کو
جسم جس کا کٹ چکا پر سر ڈٹا رہتا ہے دوست

ذاکر حسین

یوں تو ہر جانب زمانے  میں بٹا رہتا ہوں میں  گھر کی اک تصویر میں لیکن بسا رہتا ہوں میںاک الگ دنیا بسا رکھی ہے اپنے واسطےم...
20/01/2023

یوں تو ہر جانب زمانے میں بٹا رہتا ہوں میں
گھر کی اک تصویر میں لیکن بسا رہتا ہوں میں

اک الگ دنیا بسا رکھی ہے اپنے واسطے
ملنا چاہو تو اُسی میں گھومتا رہتا ہوں میں

جس جگہ مجھ کو اکیلا چھوڑ کر جاتی ہے وہ
اس جگہ اک عمر تک تنہا کھڑا رہتا ہوں میں

بڑھ رہا ہے یار کمرے میں کتابوں کا ہجوم
پڑھ نہیں پاتا کوئی بس دیکھتا رہتا ہوں میں

زندگی سے بھی بڑا پتھر بٹھا کر زہن پر
سر جھکائے زانؤں پر سوچتا رہتا ہوں میں

جب تمھاری یاد میں مہلول ہوجاتا ہے دل
اک نشہ آور فضا میں جھومتا رہتا ہوں میں

اب اکیلے پن کی ذاکر انتہا کو پہنچ کر
سامنے دنیا کو رکھ کر بولتا رہتا ہوں میں

سوچنے کی کس کو فرصت ہے یہاں پر دوستوں
بس روانی دیکھتا ہوں، بھاگتا رہتا ہوں میں

اس جہاں کے موسموں میں زرد پڑ جاتا ہوں میں
اور اک موسم انوکھی میں کھلا رہتا ہوں میں

ذاکر حسین

غزل//اب سفر کا رخ جہانِ بیکراں سے موڑ بھیاے خدایا کاٹ لے تو زندگی کی ڈور بھی ڈھیم ہوتی جا رہی ہیں بتیاں اس شہر کیاور بڑھ...
05/12/2022

غزل//

اب سفر کا رخ جہانِ بیکراں سے موڑ بھی
اے خدایا کاٹ لے تو زندگی کی ڈور بھی

ڈھیم ہوتی جا رہی ہیں بتیاں اس شہر کی
اور بڑھتا جا رہا ہے ٹنشنوں کا زور بھی

اب بھی کیوں پیچھے پڑا ہے وہ جنازہ خواب کا
اب تو میں نے چھوڑ دی ہے دیکھ لو لاہور بھی

میں شکست تسلیم کر کے سر بکف ہوں زندگی
اب مری سانسوں کی بسمل سلسلے کو توڑ بھی

میں کسی ویران رستے پر اکیلا ہوں کھڑا
سن نہیں پاتا یہاں میں زندگی کا شور بھی

ذاکر حسین

کسی سے کُچھ نہیں ہوگا دعائیں پھر دوا ہوں گییہی دنیا رہی تو پھر وبائیں ہی سزا ہوں گیہمارے بعد خوشبو بھی نہیں آئےگی پھولوں...
27/11/2022

کسی سے کُچھ نہیں ہوگا دعائیں پھر دوا ہوں گی
یہی دنیا رہی تو پھر وبائیں ہی سزا ہوں گی

ہمارے بعد خوشبو بھی نہیں آئےگی پھولوں سے
ہمارے بعد ساری خوشنما کلیاں خفا ہوں گی

ذاکر حسین

24/11/2022

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی
کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی

اچانک مصرعِ جاں سے برامد ہونے والے
کہاں ہوتا تھا تُو جب شاعری ہوتی نہیں تھی

ہم ایسی روشنی میں رہ چکے ہیں جو سراسر
تمہاری ہوتی تھی پر تم نے کی ہوتی نہیں تھی

بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو
بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی

پڑے ہوتے تھے جب ہم اپنے اپنے پہلوؤں پر
ہمیں کیا ایک دوجے کی پڑی ہوتی نہیں تھی!
۔
بغل میں شہر کا نقشہ تھا اور نقشے پہ نظریں
میں چل کر دیکھتا تھا جو ، گلی ہوتی نہیں تھی
۔
یونہی ہم آتے جاتے تیرا نقشہ کھینچ لاتے
ترے غُرفوں کی غیبت کس گلی ہوتی نہیں تھی!
۔
نظر اُٹھتی تو اِک تیری کمی سے بھر کے جُھکتی
خبر اُڑتی تو بات ایسی کوئی ہوتی نہیں تھی
۔
تُجھے محسوس کرنے کی وہ کیا گھڑیاں تھیں جِن میں
تُجھے معلوم کرنے کی گھڑی ہوتی نہیں تھی
۔
کتابِ خواب کی ترتیب ، جب تک تُو نہیں تھا
غلط ترتیب تھی اور ٹھیک بھی ہوتی نہیں تھی
۔
جہاں زینہ اُترتا ، ہم بھی پیچھے جا اُترتے
یہ کُچھ بھی کہنے سُننے کی گھڑی ہوتی نہیں تھی
۔
مَیں تُم سے بات کرنے کو کہا کرتا تھا جب بھی
پتا تھا کب سے تُم نے بات کی ہوتی نہیں تھی؟
۔
اور اَب سامان پُورا کیجیے یا دھیان پُورا
گِرہ جو کھول دیتے ، کھولنی ہوتی نہیں تھی
۔
دِلوں میں جھانکا اور پِھر ہم نے دُنیا بھر میں جھانکا
مَحبّت تُجھ سے پہلے واقعی ہوتی نہیں تھی
۔
چُرانے والے ہم تیرے ، چُرانے میں رہے پر
برآمد ہم سے یہ چوری کبھی ہوتی نہیں تھی
۔
وہ پانی عارضی ہوتا تھا تیری اُوک والا
مگر اُس کی روانی عارضی ہوتی نہیں تھی
۔
سبھی دِل اِک جگہ ، اِک جِسم میں ٹانکے گئے تھے
یہ دھڑکن دِل بہ دِل ایسے گڑی ہوتی نہیں تھی
۔
ہم اپنی گُم شُدہ اِک چیز تُم میں ڈُھونڈتے تھے
اور ایسی گُم شُدہ جو یاد بھی ہوتی نہیں تھی

ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیا
محبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی

دیا پہنچا نہیں تھا آگ پہنچی تھی گھروں تک
پھر ایسی آگ جس سے روشنی ہوتی نہیں تھی

نکل جاتے تھے سر پر بے سر و سامانی لادے
بھری لگتی تھی گٹھری اور بھری ہوتی نہیں تھی

ہمیں یہ عشق تب سے ہے کہ جب دن بن رہا تھا
شبِ ہجراں جب اتنی سرسری ہوتی نہیں تھی

ہمیں جا جا کے کہنا پڑتا تھا ہم ہیں یہیں ہیں
کہ جب موجودگی موجودگی ہوتی نہیں تھی

بہت تکرار رہتی تھی بھرے گھر میں کسی سے
جو شے درکار ہوتی تھی وہی ہوتی نہیں تھی

کہو تو گفتگو سنوائوں تم کو اُن دنوں کی
ہمارے درمیاں جب بات بھی ہوتی نہیں تھی

تمہی کو ہم بسر کرتے تھے اور دن ماپتے تھے
ہمارا وقت اچھا تھا گھڑی ہوتی نہیں تھی

شاہین عباس ❤️

کیا کسی دام کا نہیں رہتا؟جو ترے کام کا نہیں رہتااِک خماری ہے اس کی آنکھوں میںلطف پھر جام کا نہیں رہتامیں ستارہ ھوں آسمان...
02/11/2022

کیا کسی دام کا نہیں رہتا؟
جو ترے کام کا نہیں رہتا

اِک خماری ہے اس کی آنکھوں میں
لطف پھر جام کا نہیں رہتا

میں ستارہ ھوں آسمان کا جو
منتظر، شام کا نہیں رہتا

یہ جوانی الگ مصیبت ہے
خوف انجام کا نہیں رہتا

اچھا بننا عذاب ہے ذاکر !!
بندہ پھر کام کا نہیں رہتا

ذاکر حسین

دنیا و کائنات نہیں اختیار میں ورنہ سمیٹ دیتا انہیں ایک وار میںہم نے تو اسکو دیکھنا ہے اور اس کے بعدواپس پلٹ کے آنا ہے اپ...
20/10/2022

دنیا و کائنات نہیں اختیار میں
ورنہ سمیٹ دیتا انہیں ایک وار میں

ہم نے تو اسکو دیکھنا ہے اور اس کے بعد
واپس پلٹ کے آنا ہے اپنے مزار میں

آنکھوں کی تازی جھیل میں سپنے لیے ہوے
اک جل پری ہے آگئی اب کی بہار میں

تم آگئی تھی دیر سے لیکن اس وقت تک
عمرِ رواں گزر گئی تھی انتظار میں

اتنا بڑا تھا سانحہ اس شخص کا فِراق
اتنا بڑا کہ وقت ٹھہرتا خمار میں

ذاکر حسین

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZaKir HusSain-ذاکر حسین posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to ZaKir HusSain-ذاکر حسین:

Share

Category