08/09/2024
**عنوان: "محبت کی ناکامی"**
رات کا سکوت گہرا ہو رہا تھا۔ چاند کی مدھم روشنی میں، فائزہ اپنے کمرے میں کھڑی تھی، دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں، لیکن دل میں ایک خالی پن تھا۔ یہ خالی پن اس کے محبوب علی کی محبت کے ختم ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔
علی اور فائزہ کی محبت کی کہانی کچھ عرصے پہلے تک خوابوں جیسی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے، لیکن اچانک علی نے فائزہ کی زندگی سے چپکے سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اس رات آخری بار ملاقات کے لیے آیا تھا۔
فائزہ نے علی سے آخری بار بات کرنے کے لیے اسے بلایا تھا، لیکن علی کے چہرے پر جو اطمینان تھا، وہ فائزہ کے دل کو ہلا دینے والا تھا۔ علی نے بہت نرمی سے کہا، "فائزہ، ہمارے راستے الگ ہو گئے ہیں۔ ہم اب ایک دوسرے کے لیے نہیں ہیں۔"
فائزہ نے علی کے جانے کے بعد ایک عجیب سی ٹھنڈک محسوس کی، جیسے کمرے میں ایک سرسراہٹ سی ہو۔ رات کی تاریکی میں، اس نے محسوس کیا کہ کمرے کے کونے میں ایک سایہ سا حرکت کر رہا ہے۔ وہ سایہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
فائزہ کا دل تیز دھڑک رہا تھا۔ اس نے اپنے کمرے کی لائٹ آن کی، لیکن سایہ غائب ہو چکا تھا۔ مگر دل کی دھڑکنیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ اگلے لمحے، اس نے سنا کہ اس کے کمرے میں ایک سرگوشی سی ہو رہی ہے، جیسے کوئی اسے بلانے کی کوشش کر رہا ہو۔
جب فائزہ نے آواز کی طرف مڑ کر دیکھا، تو اس نے علی کو پایا، مگر یہ علی کا حقیقی چہرہ نہیں تھا۔ یہ علی کا خونی چہرہ تھا، جس پر گہرے زخم اور خون کی جھلک تھی۔
علی نے اپنے خون آلود ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، "تمہیں میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا، فائزہ۔ محبت کی ناکامی کا بدلہ میں لوں گا۔"
فائزہ کی چیخیں کمرے کے دیواروں سے ٹکرا کر بکھر گئیں۔ علی کا سایہ کمرے کے کونے کونے میں پھیلتا گیا اور فائزہ کے جسم کی گرمی کو ہر لمحے کم کرتا گیا۔
رات ختم ہوئی، لیکن فائزہ کا خوف کبھی ختم نہ ہوا۔ اس کی محبت کی ناکامی نے اسے نہ صرف علی سے، بلکہ اپنی امن و سکون سے بھی محروم کر دیا۔