Kalam-e-Safia

Kalam-e-Safia Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kalam-e-Safia, 316B Shershah, Lahore.

20/04/2023
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔( جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی)پہلا حصہ،،،،،، قسط7 #ناجی نے سلطان صلاح الد...
20/04/2023

داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
( جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی)
پہلا حصہ،،،،،، قسط7 #

ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس آکر کہا " امیر مصر کا اقبال ھوں ۔۔۔ اس لڑکی کا نام زکوئ ھے اسے میں نے آپکی خاطر اسکندریہ سے بلوایا ھے ، یہ پیشہ ور رقاصہ نھی یہ طوائف بھی نھی اسکو رقص سے پیار ھے شوقیہ ناچتی ھے کسی محفل میں نھی جاتی میں اسکے باپ کو جانتا ھوں ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ھے ۔ یہ لڑکی آپکی عقیدت مند ھے آپکو پیغمبر مانتی ھے میں اتفاق سے اسکے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استدعا کی کہ سنا ھے سلطان صلاح الدین ایوبی امیر مصر بن کر آے ھیں اللہ کے نام پر مجھے اس سے ملوا دو۔میرے پاس اپنی جان اور رقص کے سوا کچھ بھی نھی جو میں اس عظیم ھستی کے پاؤں میں پیش کرسکوں۔۔قابل صد احترام امیر میں نے آپ سے رقص اور ناچ کی اجازت اس لیے مانگی تھی کہ میں اس لڑکی کو آپکے حضور پیش کرنا چاھتا تھا "

" کیا آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کسی لڑکی کو رقص یا عریانی کی حالت میں اپنے سامنے نھی دیکھ سکتا یہ لڑکیاں جسے آپ ملبوس لاے ھیں بلکل ننگی ھے" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔۔ " عالی مقام میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر رقص کو ناپسند کرتے ھیں لیکن یہ کہتی تھی کہ امیر مصر میرا رقص پسند کرینگے کیونکہ اس میں گناہ کی دعوت نھی یہ ایک باعصمت لڑکی کا رقص ھوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جسم نھی اپنا رقص پیش کرونگی اگر میں مرد ھوتی تو سلطان کی جان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے میں شامل ھو جاتی" ناجی نے کھسیانہ ھوکر کہا

" آپ کیا کہنا چاھتے ھے اس لڑکی کو اپنے پاس بلا کر خراج تحسین پیش کرو کہ تم ھزاروں لوگو ں کے سامنے اپنا جسم ننگا کر کہ بھت اچھا ناچتی ھو ؟ اسے اس پر شاباش دو کہ تم نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں خوب مہارت حاصل کی ھے۔۔؟ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا ۔۔۔

" نھی امیر مصر میں اسے اس واعدے پر یہاں لایا ھوں کہ آپ ا سے شرف بازیابی بخشیں گے یہ بڑی دور سے اسی امید پر آی ھے ، زرا دیکھیئے اسے۔۔ اسکی رقص میں پیشہ وارنہ تاثر نھی خود سپردگی ھے۔۔۔۔ دیکھیئے وہ آپکو کیسی نظروں سے دیکھ رھی ھے بیشک عبادت صرف اللہ کی کیجاتی ھے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے آپکی عبادت کر رھی ھے ، آپ اسے اپنے خیمے میں اندر آنے کی اجازت دیں ، تھوڑی سی دیر کے لیے ۔ اسے مستقبل کی وہ ماں سمجھیں جس کی کوکھ سے اسلام کے جانباز پیدا ھونگے یہ اپنے بچوں کو فخر سے بتایا کرے گی کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے تنہائی میں باتیں کرنے کا شرف حاصل کیا تھا" ناجی نے نہایت پر اثر اور خوشامدی لہجے میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے منوالیا کہ یہ لڑکی جسے ناجی نے ایک بردہ فروش سے خریدا تھا شریف باپ کی باعصمت بیٹی ھے ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ " اچھا اسے میرے خیمے میں بھیج دینا " زکوئ نہایت آھستہ آھستہ جسم کو بل دیتی اور بار بار سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکرا رھی تھی ، باقی لڑکیاں تتلیوں کی طرح جسے اسکے آس پاس اڑ رھی تھیں ، یہ اچھل کود والا رقص نھی تھا ،شغلوں کی روشنی میں کھبی تو یوں لگتا تھا جیسے ھلکے نیلے شفاف پانی میں جل پریاں تیر رھی ھوں

چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کے مطعلق کوئ نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ بیٹھ کر کیا سوچ رھا تھا ناجی کے سپاھی جو شراب پی کر ھنگامہ کر رھے تھے وہ بھی جیسے مر گیے تھے ، زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا ناجی اپنی کامیابی پر بہت مسرور تھا اور رات گزرتی جا رھی تھی۔۔۔۔٭٭٭٭٭٭

٭٭٭٭

نصف شب کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خیمے میں داخل ھوا جو ناجی نے نصب کیا تھا اندر اس نے کالین بچھا دیئے تھے پلنگ پر چیتے کی کال کی مانند پلنگ پوش تھا فانوس جو رکھوایا تھا اسکی ہلکی نیلی روشنی صحر کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی خیمے کے اندر ریشمی پردے آویزاں تھے ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ خیمے میں اندر گیا اور کہا " اسے زرا سی دیر کے لیے بیھج دو

میں وعدہ خلافی سے بہت ڈرتا ھوں،،،،، " بھیج دو " سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے باھر گیا ، تھوڑا ھی وقت گزرا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رقاصہ کو اسکے خیمے کی طرف آتے دیکھا

خیمے کی ھر طرف مشعلیں روشن تھیں روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا کہ رات کے وقت محافظ گرد وپیش میں اچھی طرح سے دیکھ سکے رقاصہ قریب آی تو انھوں نے اسے پہچان لیا انھوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ وھی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوی تھی وہ رقص میں لباس میں تھی یہ لباس توبہ شکن تھا ، محافظوں کے کمانڈروں نے اسے روک لیا زکوئ نے بتایا کہ اسے امیر مصر نے بلوایا ھے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے نھی کہ یہ تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزاریں " آپ ان سے پوچھ لیں میں بن بلاے آنے کی جرات نہیں کر سکتی "

" انکا بلاوا تم کو کس نے دیا " کمانڈر نے پوچھا

" سالار ناجی نے کہا کہ تمھیں امیر مصر بلا رھے ھیں آپ کہتے ھو تو میں چلی جاتی ھوں امیر نے جواب طلبی کی تو تم خود بھگت لینا " زکوی نے کہا کمانڈر تسلیم نھیں کر سکتا تھا کہ امیر مصر نے ایک رقاصہ کو اپنے خیمے میں بلوایا ھے وہ ایوبی کے کردار سے واقف تھا وہ اسکے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو 100 درے بھی مارے جائیں گے ، کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ سوچ سوچ کر اس نے ھمت کی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں اندر چلا گیا ایوبی اندر ٹہل رھا تھا کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا " باھر ایک رقاصہ کھڑی ھے کہتی ھے کہ حضور نے اسے بلوایا ھے " اسے اندر بھیج دو" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔ کمانڈر باھر نکلا اور زکوئ کو اندر بھیج دیا ۔۔۔ سپاھیوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور سالار اس لڑکی کو باھر نکال دے گا وہ سب سلطان صلاح الدین ایوبی کی گرجدار آواز سننے کے لیے تیار ھوے تھے لیکن ایسا کچھ نھی ھوا رات گزرتی جارھی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں آرھی تھی ، محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے انداز میں ٹہل رھا تو ایک سپاھی نے کہا" کیا یہ حکم صرف ھمارے لیے ھے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ھے "

" ھاں حکم صرف ماتحتوں اور قانون صرف رعایا کے لیے ھوتا ھے " کمانڈر نے کہا

امیر مصر کو درے نھی لگائے جاسکتے۔۔؟'"

" بادشاھوں کا کوئ کردار نھیں ھوتا سلطان صلاح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ھوگا ھم پر جھوٹی پارسائ کا رعب جمایا جاتا ھے" کمانڈر نے کہا

انکی نگاھوں میں صلاح الدین کا جو بت تھا وہ ٹوٹ گیا تھا اس بت میں سے ایک عربی شہزادہ نکلا جو عیاش تھا پارسائ کے پردے میں گناہ کا مرتکب ھو رھا تھا،، ناجی بھت خوش تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی کی خوشنودی کے لیے اس نے شراب سونگی بھی نھیں تھی وہ اپنے خیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رھا تھا اسکے سامنے اسکا نائب سالار اوروش بیٹھا ھوا تھا " اسے گئے بہت وقت ھو گیا ھے معلوم ھوتا ھے ھمارا تیر سلطان صلاح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ھے " اوروش نے کہا۔۔۔۔" ھمارا تیر خطا کب گیا تھا اگر خطا جاتا بھی تو اب تک ھمارے آجاتا" ناجی نے قہقہ لگا کر کہا ' تم ٹھیک کہتے ھو ۔ زکوئ انسان کے روپ میں ایک طلسم ھے معلوم ھوتا ھے یہ لڑکی حشیشن کے ساتھ رہی ھے ورنہ سلطان صلاح الدین ایوبی جیسا بت کھبی نھیں توڑ سکتی۔" اوروش نے کہا

" میں نے اسے جو سبق دیئے تھے وہ حشیشن کے کھبی وھم و گمان میں بھی نہ آے ھونگے اب سلطان صلاح الدین ایوبی کے حلق سے شراب اتروانی باقی رہ گیئ ھے " ناجی نے کہا ۔ ناجی کو باھر آھٹ سنائ دی ناجی نے دور سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف دیکھا ، پردے گرے ھوئے تھے اور سپاھی کھڑے تھے اس نے اندر جا کر اوروش سے کہا" اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ھوں کہ میری زکوئ نے بت توڑ ڈالا ھے"٭٭٭٭٭٭٭
رات کا آخری پہر تھا جب زکوئ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے باھر نکلی ناجی کے خیمے میں جانے کے بجاے وہ دوسری طرف چلی گئ راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک ایک ھی لبادے میں چھپا ھوا تھا اس نے دھیمی سی آواز میں زکوئ کو پکارا وہ اس آدمی کے پاس چلی گی وہ اسکو خیمے میں لیے گیا بھت دیر بعد وہ اس خیمے سے نکلی اور ناجی کے خیمے کا رخ کیا ناجی اس وقت تک جاگ رھا تھا اور کئ بار سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف باہر نکل کر دیکھ چکا تھا کہ زکوئ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو پھانس لیا ھے اور اسے آسمان کی بلندیوں سے گھسیٹ کر ناجی کی پست زھنیت میں لے آی ،،،" اوروش رات بہت ھوی ھے وہ ابھی تک واپس نھیں آی" ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔" وہ اب آے گی بھی نھیں ، ایسے ھیرے کو کوئ شہزادہ واپس نھیں کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لے جائے گا تم نے اس پر بھی غور کیا ھے۔۔؟" اوروش نے کہا

" نھی میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ھی نھیں تھا " ناجی نے کہا

کیا یہ نھی ھوسکتا کہ امیر مصر زکوئ کے ساتھ شادی کر لیں اس صورت میں لڑکی ھمارے کام کی نھیں رھے گی" اوروش نے کہا ۔" وہ ھے تو ھوشیار ۔۔۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ،، وہ رقاصہ کی بیٹی ھے اور تجربہ کار بھی۔۔۔۔ دھوکہ بھی دے سکتی ھے۔۔" ناجی نے کہا ،،، وہ گہرئ سوچ میں تھا کہ زکوئ خیمے میں داخل ھوی،اس نے ھنس کر کہا " اپنے امیر مصر کا وزن کرو لاؤ اتنا سونا آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا۔۔؟"


Add me....
Maaz Ahmad

مدینے سے بلاوا آ رہا ہےمیرا دل مجھ سے پہلے جا رہاالحمد اللہ❤️💖🤲
20/04/2023

مدینے سے بلاوا آ رہا ہے
میرا دل مجھ سے پہلے جا رہا
الحمد اللہ❤️💖🤲

Writing Service

Address

316B Shershah
Lahore
54500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kalam-e-Safia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share