Khoof Ki Duniya

Khoof Ki Duniya Khoof Ki Duniya . Dekho or mazy kro.

لاہور کالج کی طالبہ کا ماں باپ سے چھپ کر بس ڈرائیور سے شادی، ماں کو جب معلوم ہوا تو تب تک وہ اپنی..See mor
28/04/2026

لاہور کالج کی طالبہ کا ماں باپ سے چھپ کر بس ڈرائیور سے شادی، ماں کو جب معلوم ہوا تو تب تک وہ اپنی..See mor

Oldest Quran Teacher At Al-Masjid an-Nabawi Dies After 50 Years Of Teaching
28/04/2026

Oldest Quran Teacher At Al-Masjid an-Nabawi Dies After 50 Years Of Teaching

  😭😭😭A family of Dead 18 years old girl from Dara Gingle A demands a fair probe about the causes and reasons of her deat...
28/04/2026

😭😭😭
A family of Dead 18 years old girl from Dara Gingle A demands a fair probe about the causes and reasons of her death.

سن 1992 میں پاکستان ٹیم جب آسٹریلیا کے ٹور پر تھی ، تو میچ سے ایک روز قبل وسیم اکرم...See more
28/04/2026

سن 1992 میں پاکستان ٹیم جب آسٹریلیا کے ٹور پر تھی ، تو میچ سے ایک روز قبل وسیم اکرم...See more

گاجي کھاوڙ: ڳوٺ ڳڙھي ماڪوڙ ۾ ناري مبينا ڪارنھن الزام ھيٺ قتل، جوابدار حنيف بندوق جو فائر ڪري نائلا ڀٽي کي قتل ڪري ڇڏيو: ...
28/04/2026

گاجي کھاوڙ: ڳوٺ ڳڙھي ماڪوڙ ۾ ناري مبينا ڪارنھن الزام ھيٺ قتل، جوابدار حنيف بندوق جو فائر ڪري نائلا ڀٽي کي قتل ڪري ڇڏيو: پوليس

اسے کہتے ہیں چھپرپھاڑ کر ملنا ایک چینی شخص کو تاریخ کا سب سے عجیب و غریب ورثہ اپنے والد سے ملا۔ اس کے والد نےبیٹے کے لیے...
19/04/2026

اسے کہتے ہیں چھپرپھاڑ کر ملنا
ایک چینی شخص کو تاریخ کا سب سے عجیب و غریب ورثہ اپنے والد سے ملا۔ اس کے والد نےبیٹے کے لیے ایک پیچیدہ سیف چھوڑ دیا،اس کو کھولنے میں 6ماہ کا عرصہ لگا مگر اس کے بعد اس میں سونے کی اینٹیں نکل آئیں ،

‏ایک شامی شخص 2015 میں بیروت کی سڑکوں پر قلم بیچ رہا تھا، اس کی جوان بیٹی اس کے کندھے پر سو رہی تھی، سخت حالات کے درمیان...
19/04/2026

‏ایک شامی شخص 2015 میں بیروت کی سڑکوں پر قلم بیچ رہا تھا، اس کی جوان بیٹی اس کے کندھے پر سو رہی تھی، سخت حالات کے درمیان اسے فراہم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
ان کی ایک پُرجوش تصویر وائرل ہوئی، جو امید اور لچک کی علامت بن گئی۔ ایک آئس لینڈ کے پروگرامر نے اسے دیکھا اور ایک کراؤڈ فنڈنگ مہم شروع کی جس کا مقصد $5,000 تھا، جس نے فوری طور پر $190,000 سے زیادہ اکٹھا کیا۔

اس مدد کی بدولت، اس کا خاندان بہتر رہائش کی طرف چلا گیا، اس کے بچے اسکول واپس آئے، اور اس نے یہ رقم چھوٹے کاروباروں میں لگائی، جس سے پناہ گزینوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ اس نے شام میں اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی امداد بھیجی۔

ایک تصویر ایک اہم موڑ بن گئی، جس نے اس کی زندگی بدل دی اور وسیع پیمانے پر انسانی یکجہتی کو متاثر کیا۔

حالیہ دنوں میں سندھ کے علاقے خیرپور سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی روبینہ چانڈیو کا کیس سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوا ہ...
18/04/2026

حالیہ دنوں میں سندھ کے علاقے خیرپور سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی روبینہ چانڈیو کا کیس سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روبینہ کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جسے مقامی زبان میں “کاروکاری” کہا جاتا ہے۔ اس واقعے نے لوگوں کو شدید صدمہ پہنچایا کیونکہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں مقامی جرگہ سسٹم کا بھی کردار تھا، جو پہلے ہی ایک متنازع طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ عینی شاہدین اور مختلف ذرائع کے مطابق روبینہ کو انصاف دینے کے بجائے ایک ظالمانہ فیصلہ سنایا گیا جس کے نتیجے میں اس کی جان لے لی گئی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام نے سخت ردعمل دیا، جہاں لوگوں نے نہ صرف اس ظلم کی مذمت کی بلکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے بھی اس کیس کو اجاگر کیا اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور کچھ مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشرے میں اب بھی ایسے مسائل موجود ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی اور کو ایسی ناانصافی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

لودھراں میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ، جس نے ایک خوشیوں سے بھرے گھر کو پل بھر میں سوگ میں بدل دیا۔ایک محن...
18/04/2026

لودھراں میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ، جس نے ایک خوشیوں سے بھرے گھر کو پل بھر میں سوگ میں بدل دیا۔
ایک محنت کش باپ، جس کی دو بیٹیاں تھیں، اپنی بڑی بیٹی صدف (21 سال) کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ محدود وسائل کے باوجود وہ پوری لگن کے ساتھ بیٹی کے خواب پورے کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور گھر میں ہر طرف خوشی اور جوش کا ماحول تھا۔
صدف کا رشتہ قریبی گاؤں کے رہائشی اور رشتہ دار نعیم (27 سال) سے طے پایا تھا۔ جیسے جیسے شادی کا دن قریب آ رہا تھا، گھر میں تقریبات اور تیاریوں کا سلسلہ تیز ہو گیا تھا۔
اسی خاندان میں ایک نوجوان مدثر (19 سال) بھی شامل تھا، جو قریبی رشتہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ اس گھر کا فرد سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ باپ کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے وہ مدثر کو اپنے بیٹے کی طرح عزیز رکھتا تھا۔ مدثر بھی ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا اور بظاہر خوشیوں میں شریک نظر آتا تھا۔
لیکن بعض افراد کے مطابق، جب اسے صدف کی شادی کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کے رویے میں کچھ تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ اس کے باوجود وہ شادی کی تقریبات میں شامل رہا اور بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا رہا۔
شادی کے دن صدف اپنی خالہ کے ساتھ بیوٹی پارلر گئی۔ روانگی سے پہلے اس نے گھر والوں کو آگاہ کیا اور ایک قریبی رشتہ دار کا موبائل ساتھ لے لیا۔
اسی دوران صدف کے والد کو شہر سے پھول لینے جانا تھا، تو مدثر نے انہیں لے جانے کی پیشکش کی۔ دونوں شہر روانہ ہوئے، مگر وہاں پہنچ کر مدثر نے کچھ دیر کے لیے الگ ہونے کا کہا۔
اطلاعات کے مطابق، وہ وہاں سے سیدھا اسی بیوٹی پارلر پہنچ گیا جہاں صدف موجود تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے وہاں موجود ہر شخص کو سکتے میں ڈال دیا۔
پارلر میں موجود خواتین کے شور پر صورتحال واضح ہوئی اور فوری طور پر ریسکیو اداروں کو اطلاع دی گئی۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور صدف کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔ مدثر کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔
اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف اور غم کی فضا قائم کر دی۔ اہلِ خانہ کے مطابق، انہیں کبھی اندازہ نہیں تھا کہ مدثر کے ذہن میں ایسے خیالات ہو سکتے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ صدف کو پسند کرتا تھا، لیکن اس نے کبھی کھل کر اس بات کا اظہار نہیں کیا۔
پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مزید حقائق سامنے لانے کی کوشش جاری ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کو حقیقت میں کتنا جانتے ہیں۔

ماں کی 16 سال تک سیمنٹ بوریاں اٹھا کر مشقت سے بچوں کو پالنے کی کہانی سامنے آگئی۔چین میں ایک سنگل ماں کی جدوجہد بھری کہا...
17/04/2026

ماں کی 16 سال تک سیمنٹ بوریاں اٹھا کر مشقت سے بچوں کو پالنے کی کہانی سامنے آگئی۔

چین میں ایک سنگل ماں کی جدوجہد بھری کہانی سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کو جذباتی کر گئی، جس نے گزشتہ 16 برس سے تعمیراتی مقامات پر سیمنٹ کی بھاری بوریاں اٹھا کر اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم کا خرچ اٹھایا۔

40 سالہ وی گوئی یون جو چین کے صوبہ ہونان سے تعلق رکھتی ہیں، نے 2010 میں صرف 24 برس کی عمر میں یہ مشقت بھرا کام شروع کیا۔ اُس وقت ان کی بیٹی دو سال جبکہ بیٹا چند ماہ کا تھا۔
وی گوئی یون کے مطابق بچوں کے اخراجات بہت زیادہ تھے جبکہ ان کے شوہر غیر ذمہ دار تھے اور خاندان کی کفالت میں مدد نہیں کرتے تھے، جس کے باعث انہیں خود روزگار اختیار کرنا پڑا۔

خاتون روزانہ 25 کلو وزنی سیمنٹ کی بوریاں سیڑھیوں پر اٹھا کر اوپر لے جاتی ہیں اور ہر بوری فی منزل تین یوآن اجرت حاصل کرتی ہیں،
انہوں نے بتایا کہ ایک وقت میں وہ 150 کلو تک وزن اٹھا لیتی تھیں اور شدید جسمانی تھکن کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری۔ گزشتہ 16 سال میں ان کی ماہانہ آمدنی 2 ہزار یوآن سے بڑھ کر 9 ہزار یوآن تک پہنچ گئی۔خاتون نے اپنی محنت سے آبائی علاقے میں گھر بھی تعمیر کیا جبکہ مارچ 2025 سے وہ سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کی ویڈیوز شیئر کر رہی ہیں، جہاں ان کے تقریباً ساڑھے 4 لاکھ فالوورز ہو چکے ہیں۔

Address

Lahore, Punjab
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khoof Ki Duniya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category