Chaudhary Umer-Real Crime Cases

Chaudhary Umer-Real Crime Cases Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Chaudhary Umer-Real Crime Cases, Lahore.

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والی ایک حالیہ ویڈیو نے عالمی سطح پر شکوک و شبہات کی لہر پ...
13/03/2026

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والی ایک حالیہ ویڈیو نے عالمی سطح پر شکوک و شبہات کی لہر پیدا کر دی ہے۔
ویڈیو میں نیتن یاہو کے دائیں ہاتھ میں چھ انگلیاں نظر آ رہی ہیں جبکہ ان کے دانتوں کی بناوٹ بھی غیر معمولی اور مصنوعی دکھائی دیتی ہے، جو کہ عام طور پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز میں تکنیکی خرابی کے طور پر سامنے آتی ہے۔
انٹرنیٹ صارفین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے مصنوعی ذہانت کے نظام ‘گروک’ سے منسوب رپورٹوں میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ویڈیو میں ڈیجیٹل ہیرا پھیری کے واضح آثار موجود ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ایسی کیا ہنگامی صورتحال پیش آئی کہ اسرائیلی وزیراعظم کو اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے مصنوعی ویڈیو کا سہارا لینا پڑا۔

والسلام
صاحبزادہ ابوبکر المشرقی
۔
۔
۔


#ادب



#ابوبکرالمشرقی
#سحرایمان #لیزاچوہدری

English Translation:The United States has placed a bounty on Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Ali Khamenei and Ali Larij...
13/03/2026

English Translation:
The United States has placed a bounty on Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Ali Khamenei and Ali Larijani. The U.S. Department of State has announced a reward of 10 million dollars for anyone who provides information about the location of these leaders, whether alive or dead.

18/01/2026

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا قابل تعریف اقدام : بے گناہ شہری کو پکڑ کر تھانے لے جانے اور پیسے لے کر چھوڑنے والے لاہور کے ایک تھانے کے 4 شیر جوانوں کی اسی تھانے میں کپڑے اتروا کر لتر پریڈ ، تھانے کے ایس ایچ او کے عہدے میں تنزلی کرکے پولیس لائن کے گیٹ پر کھڑا کر دیا ، پنجاب پولیس کی کالی بھیڑیں منہ چھپانے لگیں ۔۔۔۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل لاہور میں ایک تھانے کی پٹرولنگ پارٹی نے ایک بے گناہ شہری کو دھر لیا اور دیہاڑی لگانے کے چکر میں تھانے لے آئے ، تھانے میں اس نوجوان سے کچھ پیسے بطور رشوت طلب کیے اور پھر اسے جانے دیا ، اس شہری نے کسی طریقے سے ڈی آئی جی کو شکایت کردی تو شکایت درست ثابت ہونے پر ڈی آئی جی فیصل کامران نے نہ صرف چاروں جوانوں کو اسی تھانے میں لتر پریڈ کے مرحلے سے گزارا بلکہ تھانے کے ایس ایچ او کو فوری سزا دے کر سب انسپکٹربنا دیا یہی نہیں اسے سزا کے طور پر پولیس لائن کے گیٹ پر آنے جانے والوں کو چیک کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ۔ ڈی آئی جی صاحب اسی پر نہیں رکے بلکہ ایک خصوصی آڈیو میسج پورے پنجاب کی پولیس کو واٹس ایپ پر جاری کیا جس میں خبردار کیا کہ ان جوانوں کا حال دیکھ لو ، اپنے بیوی بچوں پر ترس کھاؤ ، اگر کسی نے عام آدمی کو بے گناہ تنگ کیا تو اس کا انجام بہت برا ہو گا ۔۔۔۔۔

30/12/2025

Rajab But Target In Karachi Court

عدالت کا حکم نہیں مانو گے تو جیل بھیج دیے جاؤ گے ، عدالت کی سی سی ڈی افسران کو وارننگ ۔۔۔ ساہیوال کے ایک ہی خاندان کے 5 ...
27/12/2025

عدالت کا حکم نہیں مانو گے تو جیل بھیج دیے جاؤ گے ، عدالت کی سی سی ڈی افسران کو وارننگ ۔۔۔ ساہیوال کے ایک ہی خاندان کے 5 نوجوانوں کو مبینہ طور پر پار کرنے کا کیس سی سی ڈی کے گلے پڑ گیا ۔۔۔ تفصیلات کے مطابق سی سی ڈی لاہور نے ستمبر میں ساہیوال سے ایک ہی خاندان کے 5 نوجوان جن میں 3 سگے بھائی اور 2 ان کے کزن شامل تھے ان کو گرفتار کرکے لاہور لائی اور پھر انہیں ایک ایک کرکے پنجاب کے مختلف اضلاع کی سی سی ڈیز کے حوالے کردیا گیا جنہوں نے انہیں مبینہ جعلی مقابلوں میں پار کردیا، ان نوجوانوں کے والدین لاہور میں شیر پاؤ پل اور ریگل چوک کے قریب سی سی ڈی اور ایف آئی اے کے دفاتر میں چکر لگاتے رہے مگر انکی کسی نے بات نہ سنی ، پھر ان لواحقین کو اطلاع ملی کہ انکے بیٹے اور داماد پولیس مقابلے میں پار ہو گئے ہیں ، جب سی سی ڈی سے ان نوجوانوں کی لا۔شیں حوالے کرنے کو کہا گیا تو لا۔شیں بھی حوالے نہ کی گئیں، جب کہیں شنوائی نہ ہوئی تو لواحقین نے ایک وکیل آفتاب احمد باجوہ کے ذریعہ عدالت سے رجوع کیا ،آفتاب باجوہ نے یہ کیس اس وجہ سے لیا کہ پانچوں نوجوان پولیس کو کسی سنگین کیس میں مطلوب نہ تھے بلکہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا جج صاحب نے سی سی ڈی افسران کو طلب کیا اور ان نوجوانوں کی لا۔شوں کا پوچھا تو افسران پولیس نے ٹال مٹول کی جسکے بعد جج صاحب نے کہا کہ جب تک ان نوجوانوں کی لا۔شیں نہیں ملیں گی آپ کو عدالت سے جانے نہیں دیا جائے گا اگر لا۔شیں نہیں ملتیں تو آپ سب جیل جائیں گے ، اس کیس میں سی سی ڈی لاہور ، گوجرانوالہ، چنیوٹ ، کامونکی سمیت 5 اضلاع کی سی سی ڈی انوالو تھی ، چنانچہ عدالت کے حکم پر لاوارثوں کی طرح دفنائی گئی 2 ماہ پرانی لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں ، اب پانچ اضلاع کی سی سی ڈی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ان 5 جوانوں کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے کا کیس چل رہا ہے ،۔۔۔یاد رہے کہ ان پانچ نوجوانوں کے 22 بچے تھے جو اپنے اپنے والد کی موت کے بعد یتیم ہو گئے ہیں ۔۔۔۔سٹوری سورس:اردو پوائنٹ

اُس روز زیارت بی بی اور انور بی بی بہت خوش تھیں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ 30 ستمبر 2024 کا دن تھا اور یہ دونوں بزرگ خواتین ع...
26/12/2025

اُس روز زیارت بی بی اور انور بی بی بہت خوش تھیں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ 30 ستمبر 2024 کا دن تھا اور یہ دونوں بزرگ خواتین عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے والی تھیں۔
پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے ایک قریبی رشتہ دار نیئر عباس کے ہمراہ قریب کے ایک اور گاؤں پہنچیں، جہاں کے امام مسجد محمد ریاض بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سفر میں اُن کے ساتھ شریک ہونے والے تھے۔
اِن پانچوں افراد کے عمرے کا بندوبست مبینہ طور پر مقامی زمیندار صدام حسین نے کروایا تھا جنھوں نے نہ صرف عمرے کے اخراجات ادا کیے بلکہ پانچوں افراد کو اسلام آباد ایئر پورٹ بھی اپنے خرچے پر بھیجا۔
پھر ائرپورٹ پر انکو ایک بندے کے زریعے منشیات دی گئی گفٹ کی شکل میں ۔۔۔

اس نے ہمارا ایک مارا ہے ہمیں انکے چار مار کر بھی سکون نہ ملے گا ۔۔۔ ولیمے والے دن دولہا بنا بیٹا کھونے والی ماں اور خالہ...
21/12/2025

اس نے ہمارا ایک مارا ہے ہمیں انکے چار مار کر بھی سکون نہ ملے گا ۔۔۔ ولیمے والے دن دولہا بنا بیٹا کھونے والی ماں اور خالہ کی دہائیاں ، کچھ ماہ قبل سیالکوٹ میں پیش آیا واقعہ ۔۔۔ زبردستی کی شادی نے ایک حسینہ کو کیسے مجرم بنایا ؟ سچی کہانی : تصویر میں نظر آنیوالی دلہن کی زبردستی شادی کی گئی جبکہ وہ ایک نوجوان سے جنون کی حد تک محبت کرتی تھی ، رشتہ کرانے والوں اور لڑکی کے گھر والوں نے نہ جانے کیا چکر چلایا ، لڑکی بیاہ کر گھر آگئی ، مگر لڑکی اس نے دولہا کو سہاگ رات کو پاس نہ پھٹکنے دیا ، لڑکا ساری رات کمرے کے اندر اور باہر پریشانی کی حالت میں چکر کاٹتا رہا ، ماں اور خالہ نے بہت پوچھا مگر بدقسمت نوجوان نے کچھ نہ بتایا دوسرے روز ولیمہ تھا ، دلہن بھی سیریس رہی دولہا بھی پریشان رہا مگر فیملی ولیمے کی تیاریوں میں لگی رہی ، شام ہوئی دونوں فیملیاں ولیمے کے لیے ہال میں پہنچیں جہاں مختلف رسومات کے بعد دولہا کے کہنے کے باوجود دلہن ایک علیحدہ گاڑی میں اپنے میکے روانہ ہوئی جبکہ دولہا اپنے عزیزوں کے ساتھ اپنی گاڑی میں دلہن کے گھر پہنچے ، میکے گھر کے دروازے پر جونہی دلہا اپنی گاڑی سے اترا ، قریب موجود ایک شخص نے اس پر فائیر۔نگ کردی اور وہ شدید زخمی ہو کر گر گیا اور ملزم اس کی سلامیاں سونے کی انگوٹھی لے کر فرار ہو گیا ۔۔۔ بعد میں دولہا ہسپتال میں چل بسا تھا ۔۔۔۔ اوپر بیان کردہ تمام تفصیلات دولہے کی خالہ نے بیان کیے تھے ۔۔۔ پولیس نے ملزم کو چند روز میں گرفتار کر لیا جس نے بعد میں ساری کہانی اور اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا ۔

راولپنڈی کی تاریخ کے ایک انتہائی دلخراش اور انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ٹینچ بھاٹہ کے محلہ ...
21/12/2025

راولپنڈی کی تاریخ کے ایک انتہائی دلخراش اور انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ٹینچ بھاٹہ کے محلہ نورانی میں اپنی ہی دو کمسن بیٹیوں کو بے دردی سے قتل اور اہلیہ کو شدید زخمی کرنے والے ملزم عثمان انور کو عدالت نے دو بار سزائے موت سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق 15 جولائی 2024 کو صبح 8 سے 9 بجے کے درمیان عثمان انور نے تیز دھار خنجر سے اپنی تین سالہ بیٹی لاریب، نو سالہ بیٹی انوش اور اہلیہ عائشہ پر حملہ کیا۔ اس سفاکانہ واقعے میں دونوں کمسن بچیاں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں جبکہ اہلیہ شدید زخمی حالت میں معجزانہ طور پر جان بچانے میں کامیاب رہیں۔

واقعے کی ایف آئی آر تھانہ آر اے بازار میں درج کی گئی، جبکہ مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹر HIU سہیل بھٹی نے کی۔ ابتدائی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عرفان اکرم کی عدالت میں ہوئی جسکا ٹرائل لگ بھگ ایک سال تین ماہ ہوا بعد ازاں کیس ماڈل کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج محترمہ افشاں اعجاز صوفی کے روبرو زیرِ سماعت رہا۔
دورانِ سماعت ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب کیس کا ایک چشم دید گواہ منحرف ہو کر ملزم کے حق میں بیان ریکارڈ کروا بیٹھا، جس کے باعث مقدمہ ملزم کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم نامزد پراسکیوٹر عقیل اعوان نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت، ٹھوس شواہد اور مضبوط دلائل کے ذریعے کیس کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا۔
تمام شواہد، گواہوں کے بیانات اور پراسیکیوشن کی مضبوط پیروی کی بنیاد پر معزز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عثمان انور کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت دو بار سزائے موت اور دس، دس لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دفعہ 324 کے تحت پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج محترمہ افشاں اعجاز صوفی نے اس ہائی پرفائل مقدمہ کو اپنی قابلیت ثابت کرتے ہوئے عرصہ دو ماہ کے اندر اندر نمٹا دیا۔
آج بروز جمعرات، 18 دسمبر کو سنائے گئے اس فیصلے پر لواحقین نے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ شہری حلقوں نے عدالتی نظام کی بروقت اور شفاف کارروائی کو سراہا۔ یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی تکمیل ہے بلکہ معاشرے میں جرائم کے خلاف ایک مضبوط اور واضح پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایبٹ آباد میں لاپتہ ڈاکٹر وردہ مشتاق کا کیس سنگین رخ اختیار کر گیاجنگلات سے لاش ملنے کی اطلاعات، مرکزی ملزمان گرفتار، پو...
09/12/2025

ایبٹ آباد میں لاپتہ ڈاکٹر وردہ مشتاق کا کیس سنگین رخ اختیار کر گیا

جنگلات سے لاش ملنے کی اطلاعات، مرکزی ملزمان گرفتار، پولیس کی ابتدائی کارروائی پر سنگین سوالات

ایبٹ آباد کی ڈی ایچ کیو ہسپتال سے لاپتہ ہونے والی لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کا معمہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی لاش تھنڈیانی روڈ پر واقع لڑی بنوٹہ کے جنگلات سے برآمد ہونے کی خبر سامنے آئی ہے جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ سرکاری طور پر شناخت اور فرانزک تصدیق کا عمل جاری ہے۔

واقعے نے پورے ضلع میں تشویش، غم اور شدید بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔

ڈاکٹر وردہ چند روز قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں سامنے آنے والے شواہد نے اس کیس کو ایک سنگین اغوا میں تبدیل کر دیا۔

پولیس نے ابتدائی طور پر ڈاکٹر وردہ کی قریبی سہیلی ردا اور اس کے شوہر وحید بلا کو حراست میں لیا لیکن تھانہ کینٹ کے سابق ایس ایچ او نے انہیں چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا اور اہل خانہ کو گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔

اہم حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ ایس ایچ او نے دو دن تک ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون الرشید کو اس سنگین کیس سے لاعلم رکھا۔

یہی وہ پہلو ہے جس نے پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور کردار پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ڈی پی او کے نوٹس میں کیس آنے کے بعد ردا اور اس کے شوہر وحید کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔تحقیقات کے دوران ردا نے اعتراف کیا کہ وہ ڈاکٹر وردہ کو اپنی گاڑی میں ڈی ایچ کیو سے نکال کر جدون پلازہ میں واقع ایک گھر تک لے گئی جہاں خطرناک ڈکیت اور منشیات فروش گینگ کے اہم کارندے موجود تھے۔

ردا کے مطابق گھر کے اندرندیم نامی ڈکیت، گینگ کا سرغنہ شمریز اور دیگر نامعلوم ساتھی موجود تھے۔

ردا ڈاکٹر کو ان کے حوالے کر کے اپنی گاڑی کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔بعد ازاں شمریز اور ندیم نے ڈاکٹر وردہ کو ایک سوزوکی میں منتقل کیا اور انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔

ردا کی نشاندہی پر نواں شہر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گینگ کے سہولت کار ندیم کو گرفتار کیا۔
ندیم نے جو انکشافات کیے ان کی روشنی میں پولیس نے ٹھنڈیانی کے جنگلات، ندی نالوں اور دشوار گزار علاقوں میں ڈاکٹر وردہ کی تلاش کے لیے بڑا آپریشن شروع کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر وردہ کو ق ت ل کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

صبح کے وقت یہ اطلاع ملی کہ تھنڈیانی روڈ کے قریب لڑی بنوٹہ گاؤں کے جنگلات سے ایک لاش ملی ہے۔
پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے لیا۔ خاتون کی شناخت اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے تک پولیس نے سرکاری طور پر ڈاکٹر وردہ ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم دستیاب شواہد اور مقام کی نشاندہی کیس کے مرکزی ملزموں کے اعترافات سے میل کھاتی ہے۔

ڈاکٹر وردہ کے والد اور قریبی رشتہ دار انتہائی صدمے اور اضطراب کی کیفیت میں ہیں۔گھر کے باہر عوام، سماجی کارکنان اور ڈاکٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو مسلسل انصاف کی اپیل کر رہی ہے۔

عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے ابتدائی پولیس کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھانہ کینٹ کا ایس ایچ او بروقت قدم اٹھاتا تو ڈاکٹر وردہ کی جان بچ سکتی تھی۔اس تاخیر کو مجرمانہ غفلت قرار دیا جا رہا ہے اور مختلف حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ متعلقہ افسر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔

ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ایبٹ آباد کے صدر معظم خان نے واقعے کو شدید انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ
“چار دن گزرنے کے باوجود ڈاکٹر وردہ کی بازیابی نہ ہونا اداروں کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔”

ڈاکٹرز برادری نے اعلان کیا ہے کہ
آج بروز سوموار بینظیر بھٹو شہید ہسپتال میں تمام الیکٹو سروسز کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر وردہ کی محفوظ بازیابی کے سوا کوئی بات قابل قبول نہیں ہے۔

پولیس کی جانب سے آئندہ چند گھنٹوں میں اہم پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔تاہم علاقے میں چلنے والی افواہوں، جنگلات میں جاری مسلسل تلاش اور لاش ملنے کی اطلاعات نے عوام میں خوف، بے چینی اور افسردگی کی فضا مزید بڑھا دی ہے۔

ایبٹ آباد پولیس کی بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی سے لیڈی ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ مورخہ 04 دسمبر رات 08:45 پر ڈاکٹر وردہ کی گمشدگی کی رپورٹ ان کے والد نے تھانہ کینٹ میں درج کروائی، جس پر پولیس نے فوری تفتیش شروع کی ابتدائی حقائق کے مطابق سال 2023 میں ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اپنی سہیلی ردہ کے پاس بطور امانت رکھا تھا، جس کی واپسی کے تنازعے پر دونوں کے درمیان تلخی اور جرگہ بھی ہوا مورخہ 04 دسمبر 2025 کو ملزمہ ردہ نے سونا واپس کرنے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو ڈی ایچ کیو سے اپنی گاڑی میں لے جا کر رحمن اسٹریٹ جدون پلازہ میں اپنے زیر تعمیر گھر میں چھوڑا، جہاں شمعریز، پرویز اور ایک نامعلوم شخص پہلے سے موجود تھے ردہ، ندیم زیب ولد اورنگزیب کی منصوبہ بندی کے مطابق ڈاکٹر وردہ کو ملزمان کے حوالے کرکے واپس اپنے گھر چلی گئی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر کی مدد سے اصل حقائق تک رسائی حاصل کی اور کارروائی کرتے ہوئے ملزمان ندیم زیب، ردہ جدون اور پرویز کو گرفتار کرلیا، جبکہ مرکزی ملزم شمعریز کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا کہ ڈاکٹر وردہ کو اغواء اور قتل کرکے لڑی بنوٹہ جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کیا گیا۔ ملزم پرویز کی نشاندہی پر ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز کی قیادت میں نعش برآمد کرلی گئی، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا پولیس نے اب تک 100 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے، 35 سے زائد مشتبہ افراد کو انٹروگیٹ کیا، وقوعہ میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، طلائی زیورات سے متعلق اسٹامپ پیپر اور چیک قبضہ میں لے لیے گئے۔ کیس کو جدید خطوط، تکنیکی معاونت اور ٹیم ورک کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
گرفتار ملزمان میں ردہ زوجہ وحید، ندیم ولد اورنگزیب اور پرویز ولد ایوب شامل ہیں، جبکہ شمعریز کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں پشاور اور ایک ایبٹ آباد سے کوششوں میں مصروف ہیں۔
ڈی پی او ایبٹ آباد نے کہا کہ ظلم کرنے والے قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے، اور مظلوم کو ہر صورت مکمل انصاف فراہم کیا جائے
crime cases

باپ بچی کے قتل کے منصوبے بنا رہا تھا ۔اتنی پیاری معصوم بچی کو کیا پتہ میرا باپ میرے سانس چھین لے گا۔وہ گاڑی کے فرنٹ پہ س...
09/12/2025

باپ بچی کے قتل کے منصوبے بنا رہا تھا ۔اتنی پیاری معصوم بچی کو کیا پتہ میرا باپ میرے سانس چھین لے گا۔وہ گاڑی کے فرنٹ پہ سکون سے بیٹھی لالی پاپ کھارہی تھی۔
افففففففففففف
مجھے نہیں بھول رہا وہ منظر۔۔
یہ اچھا ٹرینڈ ہے کہ بچوں سمیت نہر میں کود جاؤ۔۔مجھ پہ ہر روز نئے مسائل آتے ہیں۔۔نجانے کتنی ذہنی اذیتوں سے گزرتی ہوں۔۔
آج بھی مسئلے میں پھنسی ہوں۔۔
اس کے باوجود صبح بچوں کو ناشتہ بناکر دیا ۔۔سکول روانہ کیا ۔۔پھر گھر میں جھاڑو لگائی برتن دھوئے ۔دوپہر کا کھانا بنایا ۔۔
پھر برتن دھوئے۔۔اب شام کا کھانا بنانے لگی ہوں۔۔
اور بیچ میں کئی لوگوں کو نمٹایا ۔کبھی پلمبر آیا۔ کبھی کوئی۔
زندگی کے مسائل چلتے رہتے ہیں۔۔اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میں بچوں کو نقصان پہنچاؤں
ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
لاکھ مسائل ہوں بچوں کو خود سے چمٹائے رکھتی ہوں۔۔
مجھے اس بچی کا چہرہ نہیں بھولتا ۔۔وہ معصوم لالی پاپ کھارہی تھی۔۔
ہنستی مسکراتی صحت مند خوبصورت بچی منوں مٹی نیچے دفنا دی گئی۔۔
عدالت جب فیصلہ دے تو فوری ایسے وحشیوں سے بچے لے لیا کرے۔۔
Umer

Watch The Full Story Of Ducky Bhai On My Youtube ChannelSubscribe My YouTube  ChannelWatch My Crime Cases & Share My Vid...
09/12/2025

Watch The Full Story Of Ducky Bhai On My Youtube Channel
Subscribe My YouTube Channel
Watch My Crime Cases & Share My Videos

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chaudhary Umer-Real Crime Cases posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Chaudhary Umer-Real Crime Cases:

Share