08/03/2025
((((((((میری اپنا شاعر)))))))))۔۔
گھوٹ کر اپنے بچوں کا گلا۔۔ اپنی غیرتیں بچائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
ان کی مرضی کا گلا گھوٹ کر۔۔
گھر کی عزتیں بڑھائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
ایک طرف اٹھا کر جنازہ ان کی سوچ کا۔۔
اپنوں سے دشمنی نبھائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
نہیں ملتا یہاں کسی زلیخا کو یوسف۔۔
یہاں بس گوٹ کر گلا اپنی عزتیں بڑھائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
اپنی اولاد کو کر کے زمانے میں رسوا۔۔
سر پر غیرت کی پگڑی سجائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
یہاں ڈالی جاتی ہے اولاد کنوں میں۔۔
یہاں اولاد کو مرضی کی سولی چڑھائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
یہاں بچے گھونٹ دیے جاتے ہیں جوانی میں۔۔
پھر تاعمر ان کی اہ سے پگڑی سجائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
کرتے ہیں اپنی اولاد کو سرعام بےعزت یہ۔۔
ادھر ان کی اواز سلاںٔی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀
خوشی کیا ہوگی اس کے چہرے پر جو تم دیکھو۔۔ بس سر محفل ان پر بدنامی چڑھائی جاتی ہے۔۔۔۔🫀
ہمیں ازادی کیا ملی ازادی کے بعد۔۔
یہاں تو غیرت کے نام پر بچیاں جلائی جاتی ہیں۔۔۔۔🫀