01/09/2025
ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم
تحریر/10
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! یا علی ؐ مدد
ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری دسویں اور آخری تحریر ہے۔یقینا اس پر لکھنے کو بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن عقل والوں کے لیے ایک ہی جملہ کافی ہوتا ہے اور جہل والوں کے لیے قرآن بھی کافی نہیں ہے۔
اس لیے میں اس سلسلے کو یہاں پر ہی روک رہا ہوں، یقینا بہت سارے مومنین ہوں گے جو ہماری تائید کررہے ہوں گے حالانکہ وہ کمنٹس نہیں کرتے اور بہت کم ایسے ہوں گے جو ابھی تک انکار پر ہی اڑے ہوں گے۔ اس لیے کیونکہ ان کے پاس بھی جھٹلانے کے لیے دلائل نہیں ہوں گے۔ ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہےکیونکہ اللہ نے بھی اپنے رسول ؐ سے یہی فرمایا تھا کہ
" آپ ؐ انہیں ولایت علی ؐ پہنچا دیں، ان کے شر کی فکر نہ کریں، میں آپ کی حفاظت کروں گےاور اللہ ولایت علی ؐ کا انکار کرنےو الوں کو ہدایت نہیں دیتا"
ہم نے اس موضوع میں ہادی اور ہدایت پر بات کی، ہادی بھی وہی ہے اور ہدایت بھی وہی ہے اور صراط بھی وہی ہے۔ ہادی کو چھوڑ کر نہ تو ہدایت ملے گی اور صراط ملے گی۔
جس کا انکار کرکے آج وسیم بلوچ صاحب اللہ کو ہادی مان رہے ہیں اور پھر اس ہادی کو اسی کے قرآن سے ثابت کرنے کی ابلیسانہ کوشش کررہے ہیں۔ وہ زرا بتائیں کہ اللہ کو کس بناء پر مانا گیا ہے؟
کیا اللہ نے تمہارے سامنے آکر کہا ہے کہ میں تمہارا اللہ ہو ں مجھ پر ایمان لاؤ، یا پھر اس نے تمہارے دماغ میں ڈالا ہے کہ میں اللہ ہوں ، مجھ پر ایمان لاؤ، یا اس نے تم پر وحی کی ہے اور فرشتے نے بتایا ہو کہ اللہ کہہ رہا ہے کہ اس پر ایمان لاؤ، یا تم پر اللہ نے الہام کیا ہے کہ میں اللہ ہوں مجھ پر ایمان لاؤ؟
اگر اس میں سے کوئی بھی اللہ پر ایمان کا ذریعہ نہیں بنا کہ جس کی بناء پر تم اللہ پرایمان لاسکو۔۔۔تو پھر کس حیثیت سے تم کہہ رہے ہو کہ اللہ ہادی ہے؟
اللہ کو ہادی ثابت کرنے سے پہلے تمہیں اللہ پر ایمان لانا پڑے گااور اللہ پر ایمان نہیں لایا جاسکتا جب تک اس کا رسولؐ اس کی طرف ہدایت نہ کرے۔
تو یاد رکھنا کہ ! جو اللہ رسول ؐ کے بغیر اللہ ثابت نہیں ہوسکتا وہ اللہ رسول ؐ کے بغیر ہادی کیسے ثابت ہوگا؟
اگر میری بات پر یقین نہیں تو آؤ تمہیں دلیل دیتا چلوں۔
فرمایا ابوعبداللہ علیہ السلام نے کہ
"اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلق کیا اور بہترین صورت دی اور ہم کو اپنے بندوں میں اپنی آنکھ قرار دیا (یعنی محمدوآل محمدؐ اللہ کی آنکھ ہیں )اور اپنی مخلوق پر لسان ناطق بنایا (لسان اللہ )اور بندوں پر ہم کو دست کشادہ قرار دیا (یداللہ)، مہربانی اور رحمت کے لیے اپنا وجہہ بنایا (وجہہ اللہ)، جس سے اس کی طرف توجہ کی جاتی ہے(یعنی یہی اللہ کا قبلہ ہیں) اور ہمیں اپنا دروازہ قرار دیا جس سے اس کی طرف پہنچنا ہوتا ہے (باب اللہ )، ہم زمین و آسمان میں اس کے خزانہ ہیں(خزائنہ اللہ)، ہماری وجہ سے درخت پھل دیتے ہیں ، ہماری وجہ سے پھل پکتے ہیں اور انہارجاری ہوتے ہیں اور ہماری وجہ سے بادل برستے ہیں اور مین پر گھاس اگتی ہے۔ ہماری عبادت کی وجہ سے خدا کی عبادت کی جاتی ہے اگر ہم نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت نہ ہوتی۔ ( یعنی اگر محمدوآل محمد (ص) نہ ہوتے تو وہ معبود نہ ہوتا)" ( الشافی اصول کافی جلد اول ص 273)
وسیم بلوچ صاحب! جن کی وجہ سے اللہ پہچاناگیا، تم انہی کو پیچھے کرکے اللہ سے بلافصل ہونا چاہتے ہو۔
تھو۔۔۔۔ہے تمہاری اس تحقیق پر جس میں اللہ تو اکبر ہو اور اس کا رسول ؐ اصغر ہو اور مولا علی ؐ کو تو پھر تم لوگوں نے رسول اللہ (ص) کے قدموں میں بٹھایا ہوا ہے۔
کہاں سے گھڑ لی تم نے یہ ابلیسانہ تفریق اور اس کو توحید کا نام دے کر منبروں سے واہ واہ کروا رہے ہو اور جب کوئی تمہارے خلاف کھڑا ہوجائےتو تمہیں اپنے عقائد کی صفائی دینا پڑے اور ان عقائد میں بھی ابلیس کو ہی تم نے اپنا ولی مانا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ اور اس کے پیغمبر میں تفریق ابلیس نے ہی کی تھی یہ کہہ کر کہ میں اس کو نہیں مانتا جسے تم نے مٹی سے بنایا ہے۔
ارے بدبخت ابلیس! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مٹی (تراب) کا باب (ابوتراب ؐ ) کون ہے۔ وہی تو تمہیں حکم دے رہا ہے کہ اسے سجدہ کر۔
خیر جو اللہ کے نائب کو چھوڑ کر اللہ سے بلافصل ہونا چاہے، اس کا انجام جو ہوا تھا وہی انجام بلوچ صاحب تمہارا نظر آرہا ہے۔
اب آتے ہیں صراط مستقیم کی طرف۔
اللہ کو ہادی مان بھی لیا جائے تو بھی وہ تمہیں مولا علی ؐ کی طرف ہی ہدایت کرتا ہے، یعنی اللہ تمہیں مولا علی ؐ کی طرف ہی بھیجتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ جب میں نے تمہیں علی ؐ دے دیا تو اب میرے پاس کیا کرنے آتے ہو۔ علی ؐ کے پاس جاؤ اسی کے پاس آنا ہی تو میرے پاس آنا ہے۔ اس سے کلام کرنا ہی تو مجھ سے کلام کرنا ہے، اس کی اطاعت میں ہی تو میری اطاعت ہے، اس کی اتباع ہی تو صراط مستقیم ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيْـمٌ (41)
" فرمایا: یہی علی ؐ صراط مستقیم ہے" سورہ الحجر 41
اب اس آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
( قل ھٰذا صراط علی مستقیم )
" کہہ دو کہ یہ علی ؑ ہی توصراط مستقیم ہیں"(اصول کافی جلد 2 باب 107)
یعنی صراط مستقیم مولا علی ؐ کی راہ گزر کو کہتے ہیں۔ مولا علی ؐ کے نقش قدم پر یقین کا سجدہ کرنا ہی عبدیت کی معراج ہے۔
شاید اسی لیے کسی شاعر نے کہا تھا کہ
" خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتےہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا"
اسی کے ساتھ ہی مجھے اجازت دیں او رہاں کمنٹ کرنا نہ بھولیے گا کہ آپ کو یہ موضوع کیسا لگا۔
مولا قائم آل محمد (ص) اللہ کے بارہویں روپ(ص) سے دعا ہے کہ ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ قدوسیت میں قبول و منظور فرمائیں اور ہمیں اس کا بہترین اجر معرفت و مودت کی صورت میں عطا فرمائیں۔ ہمارے علم کو یقین میں بدل دیں اور یقین کو اپنی نعلین مطہرو قدوسیت و صمدیت پر سجدے میں پڑا رہنے دیں۔ سب الٰہی آمین کہہ کر اس دعا میں شامل ہوجائیں۔
کمنٹ کرنا نہ بھولیے گاکیونکہ آپ کے کمنٹس سے ہی پتہ چلےگاکہ آپ اس موضوع میں دلچسپی لے رہے تھےیا نہیں۔
شکریہ فی امان اللہ علی ؐ وارث۔
تحریر: حق علی