علی ؐ حق

علی ؐ حق تبلیغ ولایت علی و عزاداری امام حسین (ص)

ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیمتحریر/10بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! یا علی ؐ مددہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہما...
01/09/2025

ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم
تحریر/10
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! یا علی ؐ مدد
ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری دسویں اور آخری تحریر ہے۔یقینا اس پر لکھنے کو بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن عقل والوں کے لیے ایک ہی جملہ کافی ہوتا ہے اور جہل والوں کے لیے قرآن بھی کافی نہیں ہے۔
اس لیے میں اس سلسلے کو یہاں پر ہی روک رہا ہوں، یقینا بہت سارے مومنین ہوں گے جو ہماری تائید کررہے ہوں گے حالانکہ وہ کمنٹس نہیں کرتے اور بہت کم ایسے ہوں گے جو ابھی تک انکار پر ہی اڑے ہوں گے۔ اس لیے کیونکہ ان کے پاس بھی جھٹلانے کے لیے دلائل نہیں ہوں گے۔ ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہےکیونکہ اللہ نے بھی اپنے رسول ؐ سے یہی فرمایا تھا کہ
" آپ ؐ انہیں ولایت علی ؐ پہنچا دیں، ان کے شر کی فکر نہ کریں، میں آپ کی حفاظت کروں گےاور اللہ ولایت علی ؐ کا انکار کرنےو الوں کو ہدایت نہیں دیتا"
ہم نے اس موضوع میں ہادی اور ہدایت پر بات کی، ہادی بھی وہی ہے اور ہدایت بھی وہی ہے اور صراط بھی وہی ہے۔ ہادی کو چھوڑ کر نہ تو ہدایت ملے گی اور صراط ملے گی۔
جس کا انکار کرکے آج وسیم بلوچ صاحب اللہ کو ہادی مان رہے ہیں اور پھر اس ہادی کو اسی کے قرآن سے ثابت کرنے کی ابلیسانہ کوشش کررہے ہیں۔ وہ زرا بتائیں کہ اللہ کو کس بناء پر مانا گیا ہے؟
کیا اللہ نے تمہارے سامنے آکر کہا ہے کہ میں تمہارا اللہ ہو ں مجھ پر ایمان لاؤ، یا پھر اس نے تمہارے دماغ میں ڈالا ہے کہ میں اللہ ہوں ، مجھ پر ایمان لاؤ، یا اس نے تم پر وحی کی ہے اور فرشتے نے بتایا ہو کہ اللہ کہہ رہا ہے کہ اس پر ایمان لاؤ، یا تم پر اللہ نے الہام کیا ہے کہ میں اللہ ہوں مجھ پر ایمان لاؤ؟
اگر اس میں سے کوئی بھی اللہ پر ایمان کا ذریعہ نہیں بنا کہ جس کی بناء پر تم اللہ پرایمان لاسکو۔۔۔تو پھر کس حیثیت سے تم کہہ رہے ہو کہ اللہ ہادی ہے؟
اللہ کو ہادی ثابت کرنے سے پہلے تمہیں اللہ پر ایمان لانا پڑے گااور اللہ پر ایمان نہیں لایا جاسکتا جب تک اس کا رسولؐ اس کی طرف ہدایت نہ کرے۔
تو یاد رکھنا کہ ! جو اللہ رسول ؐ کے بغیر اللہ ثابت نہیں ہوسکتا وہ اللہ رسول ؐ کے بغیر ہادی کیسے ثابت ہوگا؟
اگر میری بات پر یقین نہیں تو آؤ تمہیں دلیل دیتا چلوں۔
فرمایا ابوعبداللہ علیہ السلام نے کہ
"اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلق کیا اور بہترین صورت دی اور ہم کو اپنے بندوں میں اپنی آنکھ قرار دیا (یعنی محمدوآل محمدؐ اللہ کی آنکھ ہیں )اور اپنی مخلوق پر لسان ناطق بنایا (لسان اللہ )اور بندوں پر ہم کو دست کشادہ قرار دیا (یداللہ)، مہربانی اور رحمت کے لیے اپنا وجہہ بنایا (وجہہ اللہ)، جس سے اس کی طرف توجہ کی جاتی ہے(یعنی یہی اللہ کا قبلہ ہیں) اور ہمیں اپنا دروازہ قرار دیا جس سے اس کی طرف پہنچنا ہوتا ہے (باب اللہ )، ہم زمین و آسمان میں اس کے خزانہ ہیں(خزائنہ اللہ)، ہماری وجہ سے درخت پھل دیتے ہیں ، ہماری وجہ سے پھل پکتے ہیں اور انہارجاری ہوتے ہیں اور ہماری وجہ سے بادل برستے ہیں اور مین پر گھاس اگتی ہے۔ ہماری عبادت کی وجہ سے خدا کی عبادت کی جاتی ہے اگر ہم نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت نہ ہوتی۔ ( یعنی اگر محمدوآل محمد (ص) نہ ہوتے تو وہ معبود نہ ہوتا)" ( الشافی اصول کافی جلد اول ص 273)
وسیم بلوچ صاحب! جن کی وجہ سے اللہ پہچاناگیا، تم انہی کو پیچھے کرکے اللہ سے بلافصل ہونا چاہتے ہو۔
تھو۔۔۔۔ہے تمہاری اس تحقیق پر جس میں اللہ تو اکبر ہو اور اس کا رسول ؐ اصغر ہو اور مولا علی ؐ کو تو پھر تم لوگوں نے رسول اللہ (ص) کے قدموں میں بٹھایا ہوا ہے۔
کہاں سے گھڑ لی تم نے یہ ابلیسانہ تفریق اور اس کو توحید کا نام دے کر منبروں سے واہ واہ کروا رہے ہو اور جب کوئی تمہارے خلاف کھڑا ہوجائےتو تمہیں اپنے عقائد کی صفائی دینا پڑے اور ان عقائد میں بھی ابلیس کو ہی تم نے اپنا ولی مانا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ اور اس کے پیغمبر میں تفریق ابلیس نے ہی کی تھی یہ کہہ کر کہ میں اس کو نہیں مانتا جسے تم نے مٹی سے بنایا ہے۔
ارے بدبخت ابلیس! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مٹی (تراب) کا باب (ابوتراب ؐ ) کون ہے۔ وہی تو تمہیں حکم دے رہا ہے کہ اسے سجدہ کر۔
خیر جو اللہ کے نائب کو چھوڑ کر اللہ سے بلافصل ہونا چاہے، اس کا انجام جو ہوا تھا وہی انجام بلوچ صاحب تمہارا نظر آرہا ہے۔
اب آتے ہیں صراط مستقیم کی طرف۔
اللہ کو ہادی مان بھی لیا جائے تو بھی وہ تمہیں مولا علی ؐ کی طرف ہی ہدایت کرتا ہے، یعنی اللہ تمہیں مولا علی ؐ کی طرف ہی بھیجتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ جب میں نے تمہیں علی ؐ دے دیا تو اب میرے پاس کیا کرنے آتے ہو۔ علی ؐ کے پاس جاؤ اسی کے پاس آنا ہی تو میرے پاس آنا ہے۔ اس سے کلام کرنا ہی تو مجھ سے کلام کرنا ہے، اس کی اطاعت میں ہی تو میری اطاعت ہے، اس کی اتباع ہی تو صراط مستقیم ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيْـمٌ (41)
" فرمایا: یہی علی ؐ صراط مستقیم ہے" سورہ الحجر 41
اب اس آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
( قل ھٰذا صراط علی مستقیم )
" کہہ دو کہ یہ علی ؑ ہی توصراط مستقیم ہیں"(اصول کافی جلد 2 باب 107)
یعنی صراط مستقیم مولا علی ؐ کی راہ گزر کو کہتے ہیں۔ مولا علی ؐ کے نقش قدم پر یقین کا سجدہ کرنا ہی عبدیت کی معراج ہے۔
شاید اسی لیے کسی شاعر نے کہا تھا کہ
" خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتےہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا"
اسی کے ساتھ ہی مجھے اجازت دیں او رہاں کمنٹ کرنا نہ بھولیے گا کہ آپ کو یہ موضوع کیسا لگا۔
مولا قائم آل محمد (ص) اللہ کے بارہویں روپ(ص) سے دعا ہے کہ ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ قدوسیت میں قبول و منظور فرمائیں اور ہمیں اس کا بہترین اجر معرفت و مودت کی صورت میں عطا فرمائیں۔ ہمارے علم کو یقین میں بدل دیں اور یقین کو اپنی نعلین مطہرو قدوسیت و صمدیت پر سجدے میں پڑا رہنے دیں۔ سب الٰہی آمین کہہ کر اس دعا میں شامل ہوجائیں۔
کمنٹ کرنا نہ بھولیے گاکیونکہ آپ کے کمنٹس سے ہی پتہ چلےگاکہ آپ اس موضوع میں دلچسپی لے رہے تھےیا نہیں۔
شکریہ فی امان اللہ علی ؐ وارث۔
تحریر: حق علی

ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیمتحریر/9بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! یا علی ؐ مددہادی، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری...
30/08/2025

ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم
تحریر/9
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! یا علی ؐ مدد
ہادی، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری نویں تحریر ہے۔ ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ہدایت اللہ دیتا ہے مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اس کے رسول ؐ کے ہادی ہونے کا انکار کردیا جائے۔یقینا اللہ نے اپنے رسولوں کو ہادی بناکر بھیجا تھا۔ بس جو ان سے طلب ہدایت کرے گا اسے ہی اللہ ہدایت دے گا، بلکہ رسول خدا (ص) کا ہدایت دینا ہی دراصل اللہ کا ہدایت دینا ہے۔
جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ " وہ کتاب جس میں کوئی ریب نہیں ہے وہ ہدایت ہے متقین کے لیے"
اب اگر کتاب ہادی ہے تو پھر جس سے کتاب لی جارہی ہے یا جس پر کتاب نازل ہورہی ہے وہ ہادی کیوں نہیں ہوگا۔ یعنی سوچنے کی بات ہے کہ کتاب تو ہادی ہوسکتی ہے لیکن جو صاحب کتاب ہے وارث کتاب ہے معلم کتاب ہےوہ ہادی نہیں ہوسکتا۔
ایک نعرہ رسول اللہ (ص) کے سامنے بھی بلند کیا گیاجب رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ
" مجھے کاغذ قلم دو ، میں تمہارے لیے ایسی چیز لکھ دوں تاکہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہوجانا"
یعنی رسول اللہ (ص) امت کو ہدایت کا سامان دے رہے تھے اور آگے سے نعرہ بلند کیا گیا کہ " حسنا کتاب اللہ " ہمارے لیے کتاب کافی ہے۔یعنی رسول اللہ (ص) کو چھوڑ کر کتاب کو ہادی مانا گیا، نعرہ ایک طرف سے وہ بھی ٹھیک تھا لیکن رسول اللہ (ص) کےخلاف لگایا گیا۔ یہی نعرہ ایک بار پھر بلند کیا گیا مگر اس بار یہی کتاب نیزے پر بلند تھی اور ایک آیت کو حجت خدا کے خلاف استعمال کیا گیا ۔" ان الحکم الاللہ" نعرہ یہ بھی کتابی ہی تھا۔مگر چونکہ اللہ کی حجت کے خلاف استعمال کیا گیا تو باطل ہوگیا۔ یعنی کبھی یہ رسول اللہ (ص) کے خلاف کتاب کا کافی سمجھتےہیں اور کبھی نفس رسول ؐ کے خلاف ایک آیت کو کافی سمجھ سمجھتے ہیں۔ تو یہ ہے وہ دین اور ہدایت جو کتاب سے لی گئی اور اسی کا پرچار آج کل وسیم بلوچ صاحب آپ کررہے ہیں۔
وسیم بلوچ صاحب! کبھی آپ نے قرآن میں غورکیا بھی ہے یا نہیں۔یا وہ آیتیں جن میں اللہ قرآن میں غوروفکر و تدبر کی تلقین کرتا ہے وہ آپ نے پڑھی نہیں ہیں۔ یا پڑھی تو ہیں لیکن چونکہ تمہارے دل پر قفل لگ چکا ہے اس لیے سمجھنے سے قاصر ہو۔
اللہ کی ہدایت ہم تک کیسے پہنچے گی؟
قرآن کے ذریعے ہی ناں۔ا س کے علاوہ اگر کوئی اور ذریعہ آپ کے پاس ہے تو بتادیں، یا پھر آپ کہیں یہ دعویٰ نہ کردیں کہ میرے پاس بھی فرشتہ آتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دے کر میری طرف بھیجا ہے اور میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ہدایت دی۔
کیا ایسا ہی ہے؟
نہیں ناں۔۔۔۔کیونکہ تم بھی جانتے ہو کہ قرآن جو ہدایت کا ذریعہ ہے دراصل اطاعت خداوندی ہے۔ جس کو پڑھ کر ہم اللہ کی طرف سے ہدایت لیتے ہیں۔
تو اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا بس او ربس اللہ نے اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے؟
نہیں ناں۔۔۔کیونکہ اللہ کی اطاعت ممکن ہی نہیں جب تک رسول اللہ (ص) نطق نہ کریں۔ اگر رسول اللہ (ص) خاموش ہوجائیں اور تمہیں کچھ نہ بتائیں تو تمہیں کتاب کہاں سے ملے گی۔ یہ جو تمہارے پاس قرآن ہے یہ رسول اللہ (ص) کا ہی تو قول ہے کیونکہ رسول اللہ (ص) بس وحی کی زبان بولتے ہیں۔ان کی زبان سے کلام الٰہی جاری ہوتا ہے، کیونکہ وہ خود اللہ کی زبان ہیں۔تو وسیم صاحب حیرت کی بات ہے کہ جس رسول ؐ کی زبان سے جاری ہونے والا کلام تو ہادی ہے اور رسول خدا (ص) خود ہادی نہیں ہیں۔
تھو ۔۔۔ہے وسیم بلوچ صاحب آپ کی تحقیق پرجس میں کلام تو ہادی ہے اور متکلم ہادی نہیں ہے۔
اب آئیے چلتے ہیں قرآن کی طرف یا تمہارے اس خدا کی طرف جسے تم ہادی مان کر اس کے رسول ؐ کے ہادی ہونے کا انکا رکررہے ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
مَّنْ يُّطِــعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّـٰهَ ۖ وَمَنْ تَوَلّـٰى فَمَآ اَرْسَلْنَاكَ عَلَيْـهِـمْ حَفِيْظًا (80)
پس جس نے رسول اللہ (ص) کی اطاعت کی،پس اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔( سورہ نساء)
وہ خدا جس کی اطاعت کو آپ ہدایت مان رہے تھے اسی خدا نے اطاعت کا رخ اپنے رسول ؐ کی طرف موڑ دیا اور خود اس کے حجاب میں چھپ گیا۔ یعنی اللہ کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے رسول ؐ سے ہدایت لی یا جس کو میرے رسول ؐ نے ہدایت دی، وہی ہدایت میری طرف سے ہے۔ اور جس نے اس بات کو جھٹلایا یعنی رسول اللہ (ص) کی اطاعت یا ان کو ہادی ماننے سے انکار کیا تو رسول ؐ کا کام تو صرف پہنچا دینا ہے اور انکار کرنے والوں کو لعنت کے سوا اور کیا ملے گا۔
اب اس کو اور آسان کرکے سمجھا دیتا ہوں کہ قرآن میں اکثر مقامات پر اللہ نے خود کو آگے رکھا اور اپنے رسول ؐ کو پیچھے، یعنی " اطیعو اللہ واطیعو الرسول" اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرو۔
اب اللہ کی اطاعت یعنی قرآن تو ہادی کی صورت میں مل گیا ، اطیعو الرسول ؐ کا کیا کروگے؟
اللہ کی اطاعت تو بصورت قرآن کرلو گے تو کیا اطیعو الرسولؐ یعنی قول رسول ؐ کا انکار کردوگے؟
یعنی کلام الٰہی (قرآن) تو ہدایت کے لیے کافی ہے اور کلام رسول ؐ (کلام رسول ؐ ) ہدایت کے لیے کافی نہیں۔ اگر رسول اللہ (ص) کا کلام ہدایت کے لیے کافی نہیں تھا تو اللہ نے ان کی اطاعت کرنے کا حکم کیوں دیا؟
اور اس سے بڑھ کر کہ اللہ نے اپنی اطاعت کو اپنے رسول ؐ کی اطاعت کے ساتھ مشروط کردیا اور رسول ؐ کو آگے کرکے فرمایا کہ جس نے میرے رسول ؐ کی اطاعت کی بس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ یعنی اپنی اطاعت پر اپنے رسول ؐ کو مقدم کردیا کہ میرے محبوبؐ! جو تجھے مان کر مجھے مانے گا بس اسی کا ایمان قبول ہوگا ۔ یہاں تک تو سبھی مسلمان متفق ہیں کہ اگر رسول ؐ کا انکار کروگے تو توحید کا اقرار فائدہ نہیں دے گا۔ یعنی اقرار رسالت اقرار توحید پر مقدم ہےاور پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہی خدا اپنے محبوب ؐ سے فرمارہا ہے کہ
" اگر مولا علی ؐ کی ولایت کا اعلان نہ کیا تو میری رسالت کا کوئی کام نہیں کیا"
یعنی اقرار ولایت علی ؐ کو مقدم کردیا اقرار رسالت پر اور اقرار رسالت کو مقدم کیا اقرار توحید پر۔
تو وسیم بلوچ صاحب! جسے علی ؐ نہ ملے اسے رسول ؐ نہیں ملیں گے اور جسے رسول ؐ نہ ملیں اسے خدا نہیں ملے گا اور تم ان دونوں کا اقرار کرکے ڈائریکٹ خدا تک پہنچنا چاہتے ہو۔ تھو۔۔۔ہے تیری ابلیسانہ تحقیق پر۔
کیا تم مولا علی ؐ کا خطبہ غدیر بھول گئے ہو یا تم نے آج تک پڑھا ہی نہیں کہ جس میں مولا امیرکائنات (ص) فرماتے ہیں:
"پس آج کے بعد اس کی توحید، رسولؐ کی نبوت قبول نہیں کی جائے گی جب تک میری ولایت کی گواہی نہ دی جائے اور نہ ہی آج کے بعد کسی کا دین مکمل ہوگا اور نہ آج کے بعد کسی کا دین میری ولایت کے بغیر قبول کیا جائے گا"
وسیم بلوچ صاحب! مولا علی ؐ کے بغیر جب اللہ اور اس کا رسول ؐ کافی نہیں تو ہدایت کیسے کافی ہوگی؟
وسیم بلوچ صاحب !اب سن لیں! مولا علی ؐ کبریائی کا وہ روپ ہیں۔ جس کو اگر رسالت ؐ کی نگاہ سے دیکھیں تو ان جیسے نظر آتے ہیں ( نفس رسول ؐ )نظر آئیں گے اور نگاہ خداوندی سے دیکھوگے تو اس جیسے نظر آئیں گے (نفس اللہ) ۔ مولا علی ؐ کا کمال یہ ہے کہ وہ اللہ کی بھی ضرورت ہے اور رسول اللہ (ص) کی بھی ضرورت ہے۔ دونوں اپنی اپنی ضرورت کے پیش نظر مولا علی ؐ کو ہی پکارتے ہیں۔عرش پر اللہ کو ضرورت پڑے تب بھی علی ؐ اور فرش پر شب ہجرت رسول اللہ (ص) کو ضرورت پڑےتب بھی علی ؐ ۔ دونوں کے کام مولا علی ؐ ہی آتے ہیں۔
اب جملہ سن لو اگر معدہ ہضم کرسکے اور اگر نہ بھی کرے تو ہم سے رجوع کرنا، اس کی دوائی بھی ہمارے پاس ہی ہے۔
" اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے۔۔۔۔۔۔۔رسولؐ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے حاجت روا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو۔۔۔۔۔۔۔۔علی ؐ ۔۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں۔
اسی کے ساتھ اجازت دی ، فی امان اللہ علی ؐ وارث۔
تحریر: حق علی

ہادی، ہدایت اور صراط مستقیمتحریر/8ہادی، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری آٹھویں تحریر ہے۔پچھلی تحریر میں ہم نے...
29/08/2025

ہادی، ہدایت اور صراط مستقیم
تحریر/8
ہادی، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری آٹھویں تحریر ہے۔پچھلی تحریر میں ہم نے بتایا کہ اگر ہم محمدوآل محمد (ص) کو چھوڑ کر اللہ کا تصور بھی کریں گے ناں تو جو تصویر ہمارے زہن میں آئے گی وہ اللہ نہیں ہوگا۔ یہ جو ہم کثرت سے اللہ اللہ پکارتے ہیں ناں، یہ بھی اس کا اسم ہےاور جب تک ہم اس اسم " اللہ " کے معنی کو نہیں جان لیتے تب تک اللہ کی عبادت نہیں بلکہ اس کے اسم کی پوجا ہوگی، جو کہ کثرت سے کی جارہی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت کررہے ہیں۔ جبکہ وہ اللہ کی نہیں بلکہ اس کے اسم کی پوجا کررہے ہیں۔
سب سے پہلے اللہ کے اسم میں جو معنی چھپے ہوئے ہیں اسے جان لیتے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام " اسم اللہ " کی تفسیر میں بتاتے ہیں۔
(الف) سے مراد " آلاء " نعمتیں ہیں جو اللہ نے اپنی مخلوقات پر ہماری ولایت کے ذریعے نازل فرمائیں ہیں۔
(لام ) سے مراد اللہ کی جانب سے اپنی مخلوق پر ہماری ولایت کو لازم کردینا ہے۔
(ھ) سے مراد پستی و رسوائی یعنی لعنت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے محمدوآل محمد (ص) کی مخالفت کی۔ ( معانی الاخبار جلد اول ص 43)
پتہ چلا کہ اللہ کامعنی ہے ولایت اور چونکہ اللہ ولی ہے اور اس کی ولایت کا اظہار بھی ولی سے ہوگا اس لیے اس نے فرمایا کہ
" اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوا الَّـذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكَاةَ وَهُـمْ رَاكِعُوْنَ (55)
بس اور بس تمہارا ولی صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ مومنین ہیں جو الصلوٰۃ قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ (سورہ مائدہ)
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے کسی نے اللہ کے معنی کے متعلق سوال کیاتو آپ نے فرمایا: اللہ کا معنی یہ ہے کہ وہ غالب ہے ہر دقیق و جلیل چیز پر۔ ( اصول کافی جلد اول صفحہ 220)
ہر شئے پر غلبہ اس کی قدرت و حاکمیت کو ہی ظاہر کرتا ہے اسی اور کو ولایت کہتے ہیں۔
تو اب میں کہہ سکتا ہے کہ ولایت کا ایک نام اللہ ہے، ایک نام محمد ؐ ہے اور ایک نام علی ؐ ہے۔ نام الگ الگ ہیں مگر حقیقت ایک ہی ہے۔ اسی لیے تو جب محمدوآل محمد (ص) ظاہر ہوں تو اللہ ان کا باطن ہوتا ہے اور اللہ جب کلام کرے تو اس کے باطن میں محمدوآل محمد (ص) ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کا ظاہروباطن ہیں۔
مومنو! انہیں دیکھ کر یہ تصور بھی نہ کرنا کہ یہ ہماری طرح کے بشر ہیں کیونکہ ان کی حقیقت نورانیت تو دور کی بات ہے اس کا بشری حجات بھی اللہ کی طرف ہے۔ اسی لیے ان کی زیارت اللہ کی زیارت، ان کا چہرہ، اللہ کا چہرہ، یہ بولیں تو سمجھو کہ اللہ بول رہا ہے، یہ عطا کریں تو سمجھو کہ اللہ عطا کررہا ہے، یہ دیکھیں تو سمجھو کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ یہ اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے، اللہ کا تعارف ہیں۔یہ عالمین میں اللہ کا معانی ہیں۔
اب کوئی بدبخت ہی ہوگا وسیم بلوچ جیسا جو اپنی مجلس میں اللہ کو تو ہادی مانے اور اللہ کے معانی (مولا محمدؐ) کو ہادی ماننے سے انکار کردے۔ تو ایسی توحید بلوچ صاحب تمہیں ہی مبارک، جس میں " اسم " پرستی کی دعوت دی جائے۔ ہم تو معانی کی پرستش کرنے والے ہیں اور وہ معانی ہیں محمدوآل محمد (علیہم الصلوٰۃ والسلام)۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کے ہے کہ مولا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
اے جابر! بیان اور معانی سے وابستہ رہو۔
جابر نے عرض کی ۔ مولا ؑ بیان کیا ہے اور معانی کیا ہے؟
مولا ؑ نے فرمایا: بیان یہ ہے کہ تم جان لو اللہ کی مثال کسی چیز سے نہیں دی جاسکتی لہٰذا اس کو مثل و مثال سے دور رکھو اور اس کے ساتھ شریک نہ بناؤ۔ جبکہ معانی کے معنی یہ ہیں کہ ہم ہی اللہ کے معنی ہیں۔ اللہ کے جنب ہیں یعنی پہلو ہیں، اللہ کا امر ہیں ، اللہ کا حکم ہیں، اللہ کا کلمہ ہیں، اللہ کا علم ہیں ، اللہ کا حق ہیں اور جو ہم چاہتے ہیں وہی اللہ چاہتا ہے ۔ جو ہم ارادہ کرتے ہیں اللہ بھی وہی ارادہ کرتا ہے ۔ ہم وہ مثانی ہیں جو اللہ نے اپنی نبی ؑ کو عطافرمائی ہے ۔ ہم وہ وجہہ اللہ ہیں جو زمین پر تمہارے امور کی جانچ پرتال کرتا ہے پس جو ہمیں جان گیا اس کے سامنے یقین ہے اور جو ہم کو نہیں جانتا اس کے سامنے سجین ہے اور اگر ہم چاہیں تو زمین کی فضاؤں کو چیر کر آسمان پر صعود کرجائیں ، تمام مخلوق کی بازگشت ہماری طرف ہے پھر ہم ہی ان کا حساب لینے والے ہیں ۔( مشارق انوارالیقین صفحہ 316)
وسیم بلوچ صاحب! آپ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ جوانو! اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ میں جب توحید پڑھتا ہوں تو تم خاموش ہوجاتے ہو اور توجہ نہیں کرتے اور جب علی ؐ پڑھتا ہوں تو واہ واہ کی صدائیں بلند ہوجاتی ہیں۔
جوانو! اگر اللہ نوں چھڈ کے علی ؐ نوں منو دے۔ تے علی ؐ تہاڈی ہدایت کوئی نئی کرنی۔ اللہ جس نوں چاہندا اے اوس نوں ہدایت کردا اے۔اس دا رسول ؐ کسے نوں چاہ کر وی ہدایت نئی دے سکدا۔
اس واسطے جوانو! اللہ دی طرف آؤ، جیہڑا تمام جہاناں دا رب اے۔
وسیم بلوچ صاحب! آپ کی بھی مت ماری گئی ہے۔ یہ جو توحید آپ بیان کررہے ہیں یہ بت پرستی کے سوا کچھ نہیں ہے، کیونکہ اللہ کو منہ دکھانے کے لیے اللہ کا چہرہ بھی تو ہونا چاہیے ناں، تاکہ ہم اسے دیکھیں اور وہ ہمیں دیکھے۔ ہاں اس کے بعد بھی اگر وہ ناراض ہوتا ہے تو وہ بادشاہ ہے ناراض ہوجائے۔ لیکن جس اللہ کی آپ بات کررہے ہیں اس کا تو چہرہ ہی نہیں۔ تو جب چہرہ نہیں تو آنکھیں بھی تو نہیں ہوں گی ناں، جس سے دیکھ سکے، اور اگر آنکھیں نہیں تو زبان بھی نہیں ہوگی کہ جس سے بول سکے۔ تو جس اللہ کا وجودہی نہیں اس کی مشیت بھی تو نہیں ہوگی اور اگر مشیت نہ ہوئی تو پھر چاہت بھی نہیں ہوگی اور اگر چاہت نہیں ہوگی تو پھر کس کو چاہ کر ہدایت کرے گا۔
وسیم بلوچ صاحب! مولا علی ؐ اللہ کے اس وجود کا نام ہے جس سے اللہ کی مشیت ظاہر ہوتی ہے، اس کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے ، اس کا امر ظاہر ہوتا ہے۔
مولا علی ؐ فرماتے ہیں!
" انا دلیل اللہ، انا برھان اللہ "
اسی لیے اللہ نے فرمایا:
۔ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
" اے حبیبؐ! ان سے کہہ دیں اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو دلیل لاؤ۔ سورہ نمل 64"
برھان کہتےایسی واضح /روشن دلیل کوکہ جس کے بعد ابہام یا شک کی گنجائش بھی باقی نہ رہے۔
مولا علی ؐ ہیں اللہ کی برھان، یعنی ذات خداوندی کی ایسی دلیل جس کے بعد شکوک و ابہام ختم جائیں۔ علی ؐ کے بغیر اللہ صرف ابہام ہے۔ اسی لیے تو مسلمانوں کی اکثریت اللہ پر ایمان لانے کے باوجود مشرک ہے۔
جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے:
وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُـمْ بِاللّـٰهِ اِلَّا وَهُـمْ مُّشْرِكُـوْنَ (106)
اور ان میں اکثر ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ مشرک ہیں۔ ( سورہ یوسف)
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِيْنَ (6) اَلَّـذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكَاةَ وَهُـمْ بِالْاٰخِرَةِ هُـمْ كَافِرُوْنَ (7)
مشرکین کے لیے ہلاکت ہے کہ وہ زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں ( سورہ فصلت)
ابان بن تغلب نے امام جعفر صادق (ص) سے پوچھا کہ مشرکین تو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں وہ زکوٰۃ کیسے دیں گے؟
امام جعفر صادق (ص) نے فرمایا:
" اے ابان! مشرکین وہ ہیں جو امام کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ زکوٰۃ سے مراد یہ ہے وہ پاکیزہ عمل یعنی ہماری ولایت کا اقرار نہیں کرتے اور پہلے امام کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور اسی طرح آخری امام (ص) کے بھی منکر ہیں" ( تاویل الآیات جلد دوم ص 75)
یہ لیں وسیم بلوچ صاحب! آپ کی توحید کا پروگرام تو۔۔۔۔۔۔۔۔گیا۔ کیونکہ
وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُـمْ بِاللّـٰهِ اِلَّا وَهُـمْ مُّشْرِكُـوْنَ (106)
اور ان میں اکثر ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ مشرک ہیں۔ ( سورہ یوسف)
اللہ پر ایمان لانے کے باوجود وہ مشرک اسی لیے ہیں کیونکہ انہوں نے مولا علی ؐ کو چھوڑ دیا اور غیر کے پیچھے چل پڑے۔
تو وسیم بلوچ صاحب! جب مولا علی ؐ کو چھوڑ کر اللہ نہیں ملتا تو ہدایت کہاں سے ملے گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ اپنی مشرکانہ حرکتوں سے باز آجائیں۔ ورنہ شیطان کے پاس تو اتنی طاقت ہے ہی کہ وہ تمہاری ان حرکات کو خوبصورت بنا کر تمہارے سامنے پیش کرتاپھرے اور تم سمجھو کہ میں تو توحید کا پرچار کررہا ہوں حالانکہ شرک کا پرچار کررہے ہوگے۔
اجازت دیں ، ان شاء اللہ جلد ہی نئی تحریر کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ فی امان اللہ علی ؐ وارث۔
تحریر: حق علی

ہادی ہدایت اور صراط مستقیمتحریر/7بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! یا علی ؐ مددہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری ...
28/08/2025

ہادی ہدایت اور صراط مستقیم
تحریر/7
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! یا علی ؐ مدد
ہادی ، ہدایت اور صراط مستقیم کے سلسلے کی آج ہماری ساتویں تحریر ہے۔ ہر انسان طالب ہدایت ہے کیونکہ جب وہ دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو جاہل ہوتا ہے اور وہ اپنی جہالت کو علم سے دور کرتا ہے۔حصول علم کے لیے وہ مدارس، سکول ، کالجز، یونیورسٹیوں میں جاتا ہےمگر اللہ کے انبیاء ایسے نہیں ہوتے۔ وہ دنیا میں آنے کے بعد حصول علم کے لیے کسی مدرسے میں نہیں جاتے کیونکہ وہ اللہ سے علم لے کر آتے ہیں۔
اسی لیے اللہ نے آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجنے سے پہلے علم عطا کیاتاکہ وہ اپنے بعد آنے والوں کا ہادی بنے۔ اسی طرح اللہ نے عالم ارواح میں ہی انبیاء علیہم السلام کا چناؤ کرلیا اور ان سے کہا کہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَاِذْ اَخَذَ اللّـٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتَابٍ وَّحِكْمَةٍ ثُـمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٝ ۚ قَالَ ءَاَقْرَرْتُـمْ وَاَخَذْتُـمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِىْ ۖ قَالُوْا اَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشَّاهِدِيْنَ (81)
اور جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب اور حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس پیغمبر آئے جو اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر میرا عہد قبول کیا، انہوں نے کہا ہم نے اقرار کیا، اللہ نے فرمایا تو اب تم گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ (سورہ آل عمران)
یعنی انبیاء معلم بھی ہیں اور حکیم بھی۔ وہ اپنے علم سے انسان کی جہالت کو دور کرنے آئے ہیں اور ان کا علم اللہ کا ہی علم ہے یعنی ہدایت نبی ؐ کرے یا خدا۔ ایک ہی بات ہے۔
چلیں جیسا کہ وسیم بلوچ نے کہا کہ ہدایت صرف اللہ دیتا ہے اس کا رسول ؐ ہدایت نہیں دیتا۔ تو آئیے چلتےہیں اللہ کے پاس اور اسی سے پوچھتے ہیں کہ
بارالٰہا! تو ہی بتا کہ تو ہمیں ہدایت کیسے دیتا ہے؟
تو اللہ کی طرف سے جواب آیا کہ
ۗ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّـٰهِ فَقَدْ هُدِىَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِـيْمٍ (101
" اور جو شخص اللہ کو مظبوط پکڑے گا پس اسے ہی صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی جائے گی۔ سورہ آل عمران 101)
اس آیت میں اللہ فرما رہا ہے کہ اگر اسے مظبوطی سے پکڑوگے تو وہ تمہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے گا۔
دوسری آیت میں فرمارہا ہے کہ اگر تم اسے مظبوطی سے پکڑو گے تو وہ تمہیں اپنی طرف ہدایت دے گا۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فَاَمَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا بِاللّـٰهِ وَاعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَيُدْخِلُـهُـمْ فِىْ رَحْـمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَّيَـهْدِيْـهِـمْ اِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا (175)
سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انھوں نے اسے مضبوط پکڑا تو انہیں وہ اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا اور اپنے تک ان کو سیدھا راستہ دکھائے گا۔ (سورہ نساء)
یعنی اللہ نے کبھی ہدایت کا رخ صراط مستقیم کی طرف موڑا اور کبھی اپنی طرف۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اللہ کو کیسے پکڑیں۔ پکڑا تو اسے جاتا ہے جو ہماری پہنچ میں ہواور جو حواس میں ہی نہیں آسکتا اسے پکڑنا محال ہے ۔ تو اب غورکرنا ہے ہر انسان کو کہ اگر صراط مستقیم چاہیے تو انہیں اللہ کو مظبوطی سے پکڑنا ہوگا۔ اگر اللہ کو نہیں پکڑیں گے تو صراط مستقیم نہیں ملے گا اور جب صراط مستقیم نہیں ملے گا تو تمہاری کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی۔
تو آئیے یہ مسئلہ بھی میں حل کیے دیتا ہوں۔ اللہ نے قرآن میں ایک رسی کا ذکر کیا ہے جو اس تک پہنچاتی ہے یعنی اگر ہم اس رسی کو تھام لیں گے تو اللہ تک بھی پہنچ جائیں گے اگر رسی کو ہی نہیں تھامیں گے اللہ نہیں ملے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۚ
" اور اللہ کی رسی کو مظبوطی سے پکڑلو اور فرقوں میں مت بٹو۔ سورہ آل عمران 103"
کتاب التوحید میں روایت ہے کہ حضرت امیرالمومنین علی ؑ نے فرمایا:
" میں حبل اللہ المتین ہوں اور میں عروۃ الوثقیٰ ہوں "
رسول اللہ ص کا فرمان ہے :
" جو شخص چاہے کہ وہ کشتی نجات میں سوار ہو اور عروۃ الوثقیٰ سے متمسک ہو اور حبل اللہ المتین خدا کو پکڑے تو اس کو چاہیے کہ میرے بعد علی ؑ سے محبت کرے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھےاور اس کی اولاد میں سے ہدایت کرنے والے اماموں کی پیروی کرے"
امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ
" رسول اللہ ص نے فرمایا: جو شخص عروۃ الوثقیٰ کو پکڑنا چاہیے اس کو چاہے کہ ولایت علی ؑ سے متمسک ہو۔ بلاشبہ وہ ہلاک نہ ہوگا جو اس کو دوست رکھے اور اس کی امامت کا اعتقاد رکھے اور نجات نہیں پائے گا وہ جو اس سے دشمنی رکھے " حوالہ: اثبات امامت باقرمجلسی صفحہ 288.9
اب وسیم بلوچ صاحب! بتائیں کہ کیا آپ اللہ کو پکڑ سکتے ہیں؟ اگر نہیں پکڑ سکتے اور یقینا نہیں پکڑ سکوگے تو صراط مستقیم کی طرف ہدایت بھی نہیں ملے گی۔
تو اب ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ دامن علی ؐ تھام لو، نعلین مطہرپر یقین کا سجدہ کرکے ہدایت کی بھیک مانگو تب ہی ہدایت ملے گی اور یاد رکھنا کہ دامن مولا علی ؐ چھوڑ کر کسی اور خدا کا دامن پکڑوگے تو وہ تمہارا زہنی خدا تو ہو سکتا ہے، محمدوآل محمد (ص) کا بتایا ہوا خدا نہیں کیونکہ محمدوآل محمد (ص) کا باطن ہی خدا ہے اور یہ خدا کا ظاہر ہیں۔
اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ
اِنَّ الَّـذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللَّهَۖ يَدُ اللّـٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِـمْ ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللّـٰهَ فَسَيُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا (10)
بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کر رہے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، پس جو اس عہد کو توڑ دے گا سو توڑنے کا وبال خود اسی پر ہوگا، اور جو وہ عہد پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے سو عنقریب وہ اسے بہت بڑا اجر دے گا۔ (سورہ فتح)
بیعت وہ رسول ؐ کی کررہے ہیں مگر اللہ کہہ رہا ہے کہ میری بیعت کررہے ہیں اور میرا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔
اب اس آیت پر ایمان نہیں لایا جاسکتا جب تک ہم رسول ؐ کو اللہ کا ظاہر نہ مان لیں اور رسول ؐ کے ہاتھ کو یداللہ نہ مان لیں۔ یعنی رسول ؐ کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے۔
ایک جگہ اللہ نے فرمایاکہ میرے رسول ؐ کا بولنا بھی تو میرا ہی بولنا ہے۔
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْـهَـوٰى (3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوحٰى (4)
"وہ تو اپنی خواہش سے نطق بھی نہیں کرتا۔ بس وہ جو بھی کہتا ہے وہ وحی ہے" (سورہ نجم)
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے طائف کی لڑائی کے موقع پر مولا علی (ص) کو بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی کی۔
لوگ کہنے لگے آج آپ (ص) نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ کافی دیر تک سرگوشی کی۔
فرمایا: میں نے نہیں بلکہ اللہ نے خود ان سے سرگوشی کی ہے ۔ ( ترمذی شریف جلد دوم ص 560)
یعنی رسول اللہ (ص) کا مولا علی ؐ سے سرگوشیاں کرنا ، اللہ کا سرگوشیاں کرنا ہے۔
اب صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ (ص) آپ ہمارے ساتھ بھی سرگوشیاں کیا کریں، جس پر اللہ نے فرمایا:
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا نَاجَيْتُـمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذٰلِكَ خَيْـرٌ لَّكُمْ وَاَطْهَرُ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ (12)
اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دے لیا کرو، یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ بات ہے، پس اگر نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ (سورہ المجادلہ)
جب یہ آیت نازل ہوئی تو تین دن تک کوئی بھی رسول اللہ (ص) کے پاس نہ آیا۔ اس کے برعکس مولا علی ؐ فرماتے ہیں کہ سوائے میرے اس آیت پر کسی نے عمل نہیں کیا۔ ان دنوں میں نے صدقہ دے کر رسول اللہ (ص) سے سرگوشیاں کیں۔
اس کے بعد اللہ نے ان سے یہ حکم اٹھا لیا اور فرمایا:
اَاَشْفَقْتُـمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّـٰهُ عَلَيْكُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهُ ۚ وَاللّـٰهُ خَبِيْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (13)
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دینے سے ڈر گئے، پھر جب تم نے نہ کیا اور اللہ نے تمہیں معاف بھی کر دیا تو (بس) نماز ادا کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ (سورہ المجادلہ)
وسیم بلوچ صاحب! اگر آپ محمدوآل محمد (ص) کو اللہ کا الظاہر نہیں مانیں گے تو قرآن کی بہت ساری آیات ہیں جن سے آپ کو ہاتھ اٹھانا پڑے گا اور آپ اللہ سے ہدایت لینے کے چکروں میں کہیں ابلیس جیسی نہ کروالینا۔
اس لیے بہتر ہے اب بھی اپنے بیان سے رجوع کریں اور حق بیان کریں۔ورنہ جس توحید کا آپ پرچار کررہےہیں وہ ساری متشابہات پر مشتمل ہے اور کچھ نہیں۔
اجازت دیں، ان شاء اللہ جلد ہی نئی تحریر کے ساتھ حاضر خدمت ہوں گے، فی امان اللہ علی ؐ وارث۔
تحریر: حق علی

https://www.youtube.com/watch?v=2qVrZ8G6MlQ
17/10/2024

https://www.youtube.com/watch?v=2qVrZ8G6MlQ

اسلام علیکم یا علی ص مددقرآن اور اہلبیت ع کے سلسلے کی آج ہماری دوسری ویڈیو ہے۔ جس طرح قرآن لاریب کتاب ہے اس لیے جو مفسر قرآن ہوں گے انہیں بھی لاریب ہونا چاہی...

https://www.youtube.com/watch?v=NynWdB1YsBA
30/09/2024

https://www.youtube.com/watch?v=NynWdB1YsBA

اسلام علیکم یا علی ص مددآج اتوار ہے اور ہم اتوار والے دن اپنے عزاخانہ میں بیٹھ کر محمدوآل محمد (ص) کا ذکر کرتے ہیں۔Thanks for wathingmasooma vlogplz subscrib...

https://www.youtube.com/watch?v=IegXgAbucBE&pp=wgIGCgQQAhgB
24/09/2024

https://www.youtube.com/watch?v=IegXgAbucBE&pp=wgIGCgQQAhgB

اسلام علیکم یا علی ص مددسب مومنین کو حضرت محمد مصطفیٰ ص اور مولا امام جعفر صادق علیہ السلام کا ظہور بہت بہت مبارک ہو۔Thanks for watching masooma vlog

https://youtu.be/DDgq-NjGI4s
23/09/2024

https://youtu.be/DDgq-NjGI4s

اسلام علیکم یا علی ص مددآج سترہ ربیع الاول ہے اور ہمارے مطابق آج حضرت محمد ص اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم ظہور ہے تو سب مومنین کو میری طرف سے ب...

https://youtu.be/aGNGuY1GeqQ
18/09/2024

https://youtu.be/aGNGuY1GeqQ

اسلام علیکم یا علی ص مددہم شیعہ کیوں ہیں، وہابی کیوں نہیں ، سنی کیوں نہیں، دیوبندی کیوں نہیں؟یہ سوال ہر کسی کو اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ وہ جو بھی ہے آخر کیوں...

https://youtu.be/35I2KXTL1Ac
16/09/2024

https://youtu.be/35I2KXTL1Ac

اسلام علیکم یا علی ؐ مددبہت زیادہ سوال کیا جاتا ہے کہ شیعہ کلمہ میں علی ولی اللہ کیوں پڑھتے ہیں۔ میں کوشش کروں گی کہ اس پر قرآن و حدیث سے مفصل گفتگو کرسکوں۔ ...

https://youtu.be/yYLLZuvYEtU
14/09/2024

https://youtu.be/yYLLZuvYEtU

اسلام علیکم یا علی ؐ مددسب مومنین کو میری طرف سے عید زہرا سلام اللہ علیھا بہت بہت مبارک ہو۔ ساری ویڈیو کو لازمی دیکھیں سنیں اور کمنٹس کریں اپنی رائے سے آگاہ ...

Address

Modal Town
Lahore
51000

Telephone

+923246064572

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علی ؐ حق posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to علی ؐ حق:

Share

Category