Sketches_With JS

Sketches_With JS Hi,
This page is an online display of my sketches and other content. This page is for my art and sketches and text posts with photos.

This page contains a lot of artwork starting from pencil sketches to real sketches(with photoshop).

Here’s a clear step-by-step guide to creating sketches, from basic warm-ups to finished studies. Follow these steps and ...
19/07/2026

Here’s a clear step-by-step guide to creating sketches, from basic warm-ups to finished studies. Follow these steps and practice regularly.

1.Gather basic materials
Pencils: HB, 2B, 4B (or a pencil set).
Eraser: kneaded and a regular white eraser.
Sharpener.
Paper: sketchbook or loose drawing paper (mid-weight).
Optional: blending stump, ruler, charcoal, ink pens.

2.Warm up (5–10 minutes)
Do gesture lines: quick, loose lines to loosen your hand.
Practice simple shapes: circles, ovals, cubes, cylinders, and straight lines.
Do quick 30–60 second thumbnail sketches of simple objects to get into flow.

3.Observe and choose a subject
Start with simple subjects: fruit, cups, chairs, hands, or quick figure poses.
Look for overall shapes, proportions, and relationships rather than details.

4.Block in basic shapes (construction)
Lightly sketch large shapes first (ovals, rectangles, cones).
Use simple geometric forms to represent the subject.
Focus on placement, scale, and proportion. Use light lines so you can adjust.

5.Establish proportions and perspective
Measure relationships visually (compare widths and heights).
Use sighting: hold pencil at arm’s length to compare angles and proportions.
Add horizon line and vanishing points if the subject requires perspective.

6.Refine outlines and contours
Gradually refine edges and contours from your construction shapes.
Work from big shapes to small details.
Keep lines varied; use lighter strokes for uncertain areas, darker for confirmed edges.

7.Add value and shading
Identify light source(s).
Block in mid-tones first, then darker shadows and highlights.
Use hatching, cross-hatching, or smooth shading depending on style.
Blend carefully if needed, but avoid over-blending which kills texture.

8.Add texture and detail
Observe surface qualities (rough, smooth, reflective) and use marks to suggest them.
Keep details selective—don’t detail every area; prioritize focal points.

9.Check and correct
Step back or flip the sketch to spot proportional errors.
Use eraser to lift highlights or correct shapes.
Re-measure as necessary and refine.

10.Finalize and sign
Strengthen the most important lines/values.
Clean smudges, add finishing touches.
Sign and date the sketch.

Practice exercises (daily/weekly)
1-minute gestures: 5–10 poses to capture movement.
10-minute studies: one object focusing on value.
30–60 minute focused sketch: full composition with perspective and lighting.
Copy masters: study sketches by artists you admire to learn their approach.

Tips to improve faster
Draw from life as much as possible—photographs are fine but life builds observation.
Keep a sketchbook and sketch daily, even small quick studies.
Limit erasing during initial stages to build confidence in marks.
Experiment with different tools and paper textures.
Seek feedback and compare older sketches to track progress.

Troubleshooting common issues
Stiff drawings: warm up more, do gesture practice.
Proportions off: measure relationships and use construction lines.
Flat shading: increase contrast and observe reflected light.
Lack of progress: set small focused goals (e.g., improve hands, perspective)

کیسے کیسے لوگ رہتے ھیں اس ملک میں مہمان خصوصی مرحوم ھیں تو والی بال بھی روحوں کے درمیان ہونا ہوگا #پاکستان  #والی بال
15/07/2026

کیسے کیسے لوگ رہتے ھیں اس ملک میں
مہمان خصوصی مرحوم ھیں تو والی بال بھی روحوں کے درمیان ہونا ہوگا
#پاکستان
#والی بال

15/07/2026

شیخوپورہ کی 16 سالہ علیشا نے فیس بک پر 'ندیم' نامی شخص کے جھوٹے خوابوں پر اعتبار کر لیا۔ محبت میں اندھی ہو کر اس نے ایک صبح خاموشی سے گھر چھوڑ دیا اور ٹریس ہونے کے ڈر سے اپنا موبائل بھی وہیں چھوڑ گئی۔
وہ خوبصورت مستقبل کے خواب سجا کر لاہور (داتا دربار) پہنچی، لیکن وہاں کوئی ندیم نہیں تھا۔ گھنٹوں کے انتظار کے بعد ایک 'ہمدرد' عورت اس کے پاس آئی، اور یہیں سے علیشا کی زندگی کا وہ بھیانک ترین باب شروع ہوا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی!
وہ عورت دراصل لڑکیوں کو بیچنے والے ایک خطرناک گینگ کی کارندہ تھی۔ علیشا کو اغوا کر کے سندھ لے جایا گیا، راستے میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر گینگ کی سرغنہ 'لطیفاں بی بی' نے اس معصوم بچی کو محض 20 ہزار روپے میں خرید لیا! اس کے بعد اس یتیم و بے بس لڑکی کو سندھ کے مختلف علاقوں میں 8 مرتبہ بیچا گیا۔
دوسری طرف جب ماں کو 25 لاکھ تاوان کی کال آئی تو شیخوپورہ پولیس حرکت میں آئی۔ ڈی پی او زاہد مروت نے ایک بہادر 'لیڈی کانسٹیبل' کو انڈر کور (عام لڑکی بنا کر) گینگ کے پاس بھیجا۔ اس خفیہ کارروائی نے پورے گینگ کا صفایا کر دیا اور علیشا سمیت کئی بچیاں بازیاب کروا لی گئیں۔
مہینوں کی اذیت کے بعد جب علیشا اپنی ماں کے گلے لگی تو دونوں زار و قطار رو پڑیں۔
یاد رکھیں! سوشل میڈیا پر محبت کے دعوے کرنے والا ہر شخص مخلص نہیں ہوتا۔ آپ کا اندھا اعتماد آپ کی بیٹی کی زندگی کو جہنم بنا سکتا ہے۔

مستقبل میں انٹرنیٹ کی بیماریاں آنے والی ہیںآنے والے وقت میں نئی نئی بیماریوں کے نام سننے کو ملیں گےجو انٹرنیٹ سے جڑی ہوں...
13/07/2026

مستقبل میں انٹرنیٹ کی بیماریاں آنے والی ہیں
آنے والے وقت میں نئی نئی بیماریوں کے نام سننے کو ملیں گے
جو انٹرنیٹ سے جڑی ہوں گی
ایسی بیماریاں جو نئی نسل کو جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور بنا دیں گی
حرکت نہ کرنے، کھیل کود چھوڑنے
اور دن رات موبائل یا اسکرین پر رہنے سے
جسم کمزور ہو جائے گا
دماغ کی صلاحیت کم ہو جائے گی
اور انسان کا ذہن ترقی کی بجائے پیچھے ہٹنے لگے گا
بہت سے لوگ انٹرنیٹ ڈپریشن
اور سوشل میڈیا کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی بیماریوں کا شکار ہوں گے
لوگ حقیقت اور خیالی دنیا میں فرق کرنا بھول جائیں گے
کئی لوگ صرف انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے
دماغی ہسپتال پہنچ جائیں گے
اگلی نسلوں کے ذہن دور سے کنٹرول ہوں گے
جیسے ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہوں
بس ایک ہی حل ہے
استعمال کا وقت کم کریں
اور سوچیں کہ انٹرنیٹ سے ہمیں کیا لینا ہے
یہ کوئی کھیل یا تماشہ نہیں
جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں

جیلہ فوڈ پوائنٹ کے بعد لاہور کا  مشہور فوڈ پوائنٹ جیدا لسی والا  مشکل کا شکار ۔۔ بڑے ریستوران سے پیسہ پکڑ کر پیڈ پرموشن ...
13/07/2026

جیلہ فوڈ پوائنٹ کے بعد لاہور کا مشہور فوڈ پوائنٹ جیدا لسی والا مشکل کا شکار ۔۔

بڑے ریستوران سے پیسہ پکڑ کر پیڈ پرموشن کرنے والے پاکستان کے مشہور فوڈ ولاگر وکی پانڈا جیلے کی اٹھارہ سالہ دوکان بند کروانے کے بعد اب لاہور کی مشہور دوکان جیدا لسی والے کے پیچھے پڑ گیا ۔

وکی پانڈا نے حال ہی میں کہا کہ لاہور کی سب سے مشہور لسی جیدے کی ہے مگر وہ کمیکل والا دودھ استعمال کرتا ہے ۔ میرا گھر اسی گلی میں تھا ہم بچپن سے دیکھتے آئے ہیں ۔۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر عوام نے خوب آڑے ہاتھوں لیا وکی پانڈا پر تنقید کی ہے ۔ جبکہ حاجی جاوید المعروف جیدا لسی والے نے کہا اگر میرا دودھ اصلی نہ ہو میری دہی لسی اصلی نہ ہو ثابت ہو میں عوام کا مجرم ہونگا ۔

کوی بھی لیب ٹیسٹ کراسکتا ہے ۔ اور وکی پانڈا کو ہرجانے کیلے دس کڑور کا نوٹس بھجوا دیا کہ وہ ثابت کرے ہمارا دودھ نقلی ہے ۔یا پھر دس کڑور دے ۔

پچاس سال سے بیٹھا ہوں لاہور کی عوام جانتی ہے مجھے ۔ مائیک کیمرا لیکر سستی شہرت کیلے کسی کی روزی برباد کرنا یہ درست طریقہ نہی ہے رزق رب کے ہاتھ میں ہے ۔۔

ویسے تو وکی پانڈا نے جیلے کے ساتھ بھی ایسا کیا تھا ۔ جب سے مہنگے ریسٹوران کے ریویو کرنے شروع کیے ہیں تب سے یہ پرانی مشہور فوڈز پر اس طرح کے بیان دے کر انکی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔

یہ انتہای گھٹیا حرکت ہے یا تو اپ کیمرا لگا کر عوام کے سامنے ایکسپوز کریں پھر تو عوام آپکی تعریف کرے ۔

باقی میں نے کبھی جیدے کی لسی ٹرائی نہی کی لاہوری عوام ہی بہتر بتاسکتی ہے ۔

13/07/2026

کسی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھائے۔ (مفہوم )حدیثِ نبوی ﷺ

آج سے 11 دن پہلے میں نے تحریک انصاف جماعت کے اندرونی سیاسی معاملات اور حلقوں کی سیاست کے حوالہ سے ایک ٹویٹ کی تھی جس میں اس ناچیز نے عمران خان صاحب کی نظریاتی سیاست کی بنیادی اکائی پہ بات کی تھی کہ :

”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں“

اسلئے تمام ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی و وزرائے کرام کو اپنے خاندان کو سیاست میں آگے لانے کے بجائے خان صاحب کی طرح صرف سیاسی کارکنان و نوجوان قیادت کو سپورٹ کرنا چاہئے۔ اس ٹویٹ کا آج کے کسی ایونٹ یا صوبے کی کسی سیاسی شخصیت یا خان صاحب کے کسی فیملی ممبر سے کیا تعلق۔
اس حوالہ سے آج میں نے 11 دن پہلے والے اسی بیان کے حوالہ سے بات کی۔ مجھے 11 دن پہلے تو پتہ نہیں تھا کہ آج کون کیا کرے گا۔

آج سارا دن سفر میں گزرا۔ شام کو گھر واپس آیا تو دیکھا کہ چند لوگوں نے آسمان سر پہ اُٹھایا ہوا ہے اور طوفانِ بدتمیزی مچایا ہوا ہے۔ مجھے پہلے تو سمجھ نہیں آئی کہ اپنے لیڈر عمران خان صاحب کی گئی ایک بات کی اتنی تکلیف کیوں ہوگئی۔پہلے یہ تو دیکھ لیتے کہ یہ بات آج کی گئی ہے یا 11 دن پہلے کی گئی اک بات کا حوالہ ہے۔
پھر اس سے بڑی زیادتی یہ کہ اس بات کو خان صاحب کی قابل احترام فیملی سے جوڑا گیا جو نہ تو سیاست میں ہے اور نہ ان کو خان صاحب نے ایسا کوئی سیاسی رول دیا ہے۔ ان کو خان صاحب کیلئے آواز اُٹھانے اور جدوجہد کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ انہوں نے نہ تو کوئی سیاسی عہدہ لیا ہے نہ کوئی سیاسی پوزیشن ۔ تو پھر ایسی بات کر کے ان کو غیر ضروری متنازعہ کرنے کی ناکام کوشش کیوں کی گئی ؟
آپ کو شرم آنی چاہئے !

خان صاحب کی فیملی ہم سب کیلئے قابل احترام ہے اور جب انہوں نے خود ہمشیہ یہ کہا ہے کہ وہ غیر سیاسی ہیں تو پھر غیر ضروری طور پہ ان کو متنازعہ بنانے کی ہر کوشش کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔

دوسرا چند ساتھیوں نے اس بیان کو پختونخواہ کے وزیراعلی صاحب سے غلط طور پہ منسوب کیا۔ او بھائی 11 دن پہلے کی گئی بات کس طرح آپ آج وزیراعلی صاحب کے ساتھ کیسے جوڑ سکتے ہیں ؟
بس جتنے منہ اتنی باتیں۔
پہلے تصدیق تو کر لیتے کہ میں نے اگر یہ کہا کہ :

”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں“

تو یہ بات میں نے آج کی ہے یا 11 دن پہلے کی گئی ٹویٹ کو کوٹ کیا اور اسکا حوالہ دیا۔

کچھ پڑھ لکھ لو بھائی۔ لیکن خان صاحب نے صحیح کہاہے کہ ایک تو پڑھے لکھے نہیں اور اوپر سے کوشش بھی نہیں کرتے۔
یہ تو پارٹی کے حوالہ سے ایک عمومی بات تھی جو میرے لیڈر نے ہمیشہ کی ہے جس کا آج کی تاریخ میں کسی خاص سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں نہ جوڑنا چاہئے۔

پارٹی کی صوبائی و مرکزی قیادت کو اپنے لیڈر کی ایک بنیادی سیاسی نظریہ کی یاد دہانی ہے بس۔ ابھی بھی اس ٹویٹ کے نیچے 1 جولائی کی وہ ٹویٹ موجود ہے جسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
جنہوں نے بغیر پڑھے اور بغیر تحقیق کیئے جھوٹ پھیلایا انکو اللّٰہ ھدایت دے لیکن یاد رکھئیے 7 بار گرفتار کرکے اور پاکستان بھر کی جیلوں میں پھراکر زمینی خدا الحمدللٰہ مجھے نہ جھکا سکے تو آپ کس کھیت کی مولی ہو۔

نہ پریشر لیتا ہوں اور نہ گھبراتا ہوں۔ کیونکہ میرا لیڈر کہتا ہے کہ

گھبرانا نہیں !

اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ

لیڈر ہمیشہ بڑا سٹینڈ لیکر بنتا ہے۔
اسلئے حق بات کہنے سے نہ کبھی ڈرا اور نہ کبھی ہچکچایا !

یاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ (70)
سورت احزاب
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہاکرو۔

یاد رکھنا کسی مائنس ون ٹیم کا حصہ نہیں اور نہ ہی تحریک انصاف میں میرا کوئی دھڑا ہے نہ گروپ ہے۔
میرا ایک ہی گروپ ہے عمران خان گروپ۔
بس یہی میرا گناہ ہے کہ میں عمران خان کے علاوہ کسی اور کو لیڈر نہیں مانتا!

پورے ملک میں ایک شخص بھی عمران خان کسیاتھ رہا تو وہ علی محمد ہوگا۔ انشاءاللّٰہ
اس بات کا میرے لیڈر کو پتہ ہے۔ میرے لئے صرف میرا لیڈر عمران خان اہم ہے باقی سب وہم ہے۔

اور ہاں جاتے جاتے یاد آیا تمہیں میرے لیڈر کی اس بات سے اتنی تکلیف پہنچتی ہے تو ایک بار پھر کان کھول کر سن لو:

” تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں “

پاکستان 🇵🇰 زندہ باد

13/07/2026

کوٹ مٹھن میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ
" عید کڈاں"؟؟
(عید کب ہو گی)
کچھ لوگ اس مجذوب کی بات سنی اَن سُنی کر دیتے
اور کچھ سُن کر
مذاق اُڑاتے گُزر جاتے
ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرے تو اُس مجذوب نے
اپنا وہی سوال دہرایا،

عید کڈاں؟؟
(عید کب ھو گی)
آپ صاحبِ حال بزرگ تھے،
اُس کا سوال سُن کر
مسکرائےاور کہا،
یار ملے جڈاں
(جب محبوب ملے وہی دن عید کا دن ہو گا)
یہ الفاظ سُنتے ہی مجذوب کی آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسو جاری ہو گئے
اور وہ مزید ترستی آنکھوں سے گویا ہوا
"سرکار یار ملے کڈاں"؟
(محبوب کب ملے گا ؟)

خواجہ غلام فرید
رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
"میں مرے جڈاں"
(جب" میں " مرے گی)
بس یہ فرمانا تھا
کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ہوئے عرض کیا کہ

"حضور میں مرےِ کڈاں"
(میں کب مرے گی)

سرکار رحمتہ اللہ علیہ مسکرائے اُسے پیار سے تھپکی دیتے
ہوئے یہ کہتے چل دئیے
"یار تکے جڈاں"
(جب محبوب دیکھے گا)

سارا عالم" ہو "کا ہے!
جھگڑا" میں" اور" تو" کا ہے

پُھلاں دا تو عطر بنا
عطراں دا فیر کڈھ دریا
دریا وِچ فیر رج کے نہا
مچھلیاں وانگوں تاریاں لا
فیر وی تیری بو نئیں مکنی
پہلے اپنی "میں" مُکا

13/07/2026

پاکستانی مدینہ میں جاکر بھی جھوٹ، دھوکہ و فراڈ سے باز نہیں آتے۔۔۔۔۔

ایک شہری کا میسج من و عن

یہ پوسٹ صرف آگاہی کے مقصد سے شیئر کر رہا ہوں تاکہ دوسرے لوگ محتاط رہیں۔

مدینہ میں قیام کے دوران ہم نے ایک پاکستانی چائے اور اسنیکس کے اسٹال سے کچھ لینے کا فیصلہ کیا۔ دکاندار نے خود ہمیں آواز دے کر اپنی طرف بلایا اور مینو دکھایا، جس پر کڑک چائے 3 ریال اور سموسہ 3 ریال درج تھا۔

آرڈر دینے سے پہلے میں نے خاص طور پر پوچھا کہ کیا سموسے تازہ ہیں؟ اس نے پورے اعتماد سے کہا کہ بالکل تازہ ہیں۔ اس کے بعد ہم نے دو کڑک چائے اور ایک سموسہ آرڈر کیا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ ہمارے بعد آنے والے گاہکوں کو پہلے سروس دی گئی۔ کچھ دیر بعد ہمیں چائے ملی اور پھر چند منٹ بعد سموسہ آیا، جو مائیکروویو میں گرم کیا گیا تھا، بالکل دبا ہوا اور کافی زیادہ تیل والا تھا۔

اصل مسئلہ بل ادا کرتے وقت پیش آیا۔ دکاندار نے 11 ریال مانگے۔ جب میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ اب چائے کی قیمت 4 ریال ہے اور مینو پر درج قیمت پرانی ہے۔

میں نے اسے بتایا کہ اگر مینو پر 3 ریال لکھا ہوا ہے تو گاہک سے اس سے زیادہ وصول کرنا درست نہیں۔ کچھ بحث کے بعد اس نے آخرکار وہی قیمت وصول کی جو مینو پر لکھی ہوئی تھی۔

بدقسمتی سے نہ چائے کا ذائقہ خاص تھا اور نہ ہی سموسہ معیار کے مطابق۔ مجموعی طور پر یہ تجربہ انتہائی مایوس کن رہا اور پیسے ضائع ہونے کا احساس ہوا۔

یہ پوسٹ صرف اس لیے کر رہا ہوں کہ اگر آپ وہاں جائیں تو آرڈر دینے سے پہلے قیمت دوبارہ ضرور کنفرم کر لیں، چاہے وہ مینو پر لکھی ہوئی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ بعض اوقات دکھائی گئی قیمت اور وصول کی جانے والی رقم مختلف ہوتی ہے۔

قریب ہی ایک اور پاکستانی ریسٹورنٹ ہے جہاں ہمارا پہلے کا تجربہ ہمیشہ اچھا رہا ہے۔ اس بار کچھ نیا آزمانے کا سوچا، لیکن افسوس کہ فیصلہ درست ثابت نہ ہوا۔

ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوت...
13/07/2026

ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!

کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوتے ہی پولیس اہلکار نے روکا، موبائل اندر نہیں لے جا سکتے، ٹھیک ہے، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اگلا جملہ سمجھ میں نہیں آیا۔ موبائل ادھر بھی جمع نہیں ہوگا، باہر والے کھوکھے پر رکھوائیں اور ٹوکن لے لیں!
باہر گیا، کھوکھے والے نے موبائل لیا، ٹوکن دیا، اور ساتھ مانگے پچاس روپے!
میں نے حیرانی سے سوال کیا کس چیز کے؟ بولا موبائل رکھنے کے!
میں نے کہا واپسی پر دیتا ہوں!
اندر گیا، کام نمٹایا، انفارمیشن کاؤنٹر پر بیٹھے آفیسر سے پوچھا کہ یہ پچاس روپے کس اتھارٹی کے تحت لیے جا رہے ہیں،گول مول جواب آیا، وہ پرائیویٹ دکان ہے، مجھے نہیں پتہ!
واپسی پر موبائل لیا، پچاس روپے دیے اور رسید مانگی!
اس نے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی انوکھی زبان بول دی ہو، حیرانی سے کہتا کس چیز کی رسید؟
میں نے کہا تم عوام سے فیس وصول کر رہے ہو، نہ بلدیہ کا لیبل ہے، نہ کوئی منظوری، تو یہ پیسے کہاں جا رہے ہیں؟
کھسیانا ہو کر بولا، میں تو ملازم ہوں، مالکوں سے بات کریں، اور کھسک گیا!
اب ذرا حساب لگائیں۔
ڈی پی او آفس جس کے انڈر پورے ضلع کے ستائیس تھانے کام کرتے اور اس کو رپورٹنگ کرتے ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، اس کے دروازے پر کھڑے اس کھوکھے پر اگر ایک دن میں صرف ایک ہزار لوگ آئیں، تو پچاس ہزار روپے روزانہ،مہینے کے پندرہ لاکھ، سال کے؟
جی ہاں کروڑوں!
بغیر کسی لائسنس کے، بغیر کسی رسید کے، بغیر کسی منظوری کے!
اب سوال یہ ہے کہ یہ کھوکھا وہاں کیسے لگا؟ کس نے اجازت دی؟ کس کی سرپرستی میں چل رہا ہے؟ اور یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
جو آفیسر اندر بیٹھا تھا اسے پتہ ہے، جو پولیس اہلکار باہر کھڑا تھا اسے بھی پتہ ہے، جس نے یہ کھوکھا لگوایا اسے پتہ ہے، اور ڈی پی او آفس کی چھت کو بھی پتہ ہے۔ صرف عوام کو نہیں پتہ، اور عوام کو پتہ نہ چلے، یہی اس کھیل کی کامیابی ہے۔
یہ پاکستان میں کرپشن کا وہ چہرہ ہے جو بڑے بڑے اسکینڈلز میں نہیں ملتا، یہ چھوٹے چھوٹے ڈاکوں میں ملتا ہے۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کوئی نہ کوئی کھوکھا ہے، ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی غیر سرکاری فیس ہے، ہر عام آدمی کو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے اور یہی چھوٹے چھوٹے ڈاکے مل کر اربوں کا وہ کالا دھن بناتے ہیں جو نہ کسی ٹیکس ریٹرن میں ہے، نہ کسی رجسٹر میں، نہ کسی حساب میں!
اور سب سے تکلیف دہ بات کیا ہے؟
یہ کہ ہم سب جانتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے مگر پچاس روپے کے لیے لڑنا اس ملک میں بہادری نہیں بلکہ پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔
آدمی سوچتا ہے کہ چھوڑو جھگڑا، کام نکالو اور نکل چلو، اور یہی سوچ اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے!

مگر میں آج کہتا ہوں کہ یہ پچاس روپے چھوڑنے والا معاملہ نہیں۔ جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، جب تک ہم رسید نہیں مانگیں گے، جب تک ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کس کی اجازت سے ہے، یہ کھوکھے پھیلتے رہیں گے، یہ ڈاکے چلتے رہیں گے، اور یہ نظام عوام کو لوٹتا رہے گا!
ڈی پی او رحیم یار خان سے سوال ہے کہ آپ کے آفس کے دروازے پر یہ کھوکھا کس کی اجازت سے ہے، اس کی کمائی کہاں جا رہی ہے، اور کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ؟
عوام جانتی ہے۔ اور اب عوام پوچھے گی بھی!

13/07/2026

Address

Chungi Amar Sadhu
Lahore
54760

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sketches_With JS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category