Luqman Badar

Luqman Badar Poet | Writer | Digital creator

»»  تازہ غزل  ««موضوع : بشیر بدر وہ ایک شخص جو لفظوں کو روشنی دے گیاغمِ حیات کو ہنسنے کی آگہی دے گیاہمیں تو یاد ہے اب تک...
02/06/2026

»» تازہ غزل ««
موضوع : بشیر بدر

وہ ایک شخص جو لفظوں کو روشنی دے گیا
غمِ حیات کو ہنسنے کی آگہی دے گیا

ہمیں تو یاد ہے اب تک اس کا نرم سا لہجہ
وہ جیسے درد کو بھی کتنی سادگی دے گیا

وہ جب بھی بولا، محبت کا ذکر ساتھ آیا
وہ نفرتوں کو مٹانے کی آگہی دے گیا

وہ اپنے عہد کی آواز تھا، غزل کا بدن
ہر ایک دل کو محبت کی تازگی دے گیا

کئی چراغ جلے اس کے ایک ہی مصرعے سے
وہ اپنے فن کو عجب تابندگی دے گیا

چراغ بجھ بھی گیا تو اندھیرا کیا ہوگا
وہ اپنے لفظوں میں سورج کی روشنی دے گیا

اب اس کے بعد بھی محفل سجی رہے گی مگر
ہر ایک شعر میں اک درد دائمی دے گیا

غزل کے شہر میں اب خامشی سی رہتی ہے
وہ جاتے جاتے عجب سی کمی دے گیا

لقمانؔ ہم اہلِ درد اسے کیسے بُھلا سکیں گے
وہ دل کے زخم کو لفظوں کی دلکشی دے گیا

از -- لقمان بدؔر

😭91 برس کی عمر میں اردو کے عظیم شاعر میرے مرشد بشیر بدر کا انتقال، غزل کی دنیا سوگوار اردو دنیا ایک عہد ساز شاعر سے محرو...
28/05/2026

😭91 برس کی عمر میں اردو کے عظیم شاعر میرے مرشد بشیر بدر کا انتقال، غزل کی دنیا سوگوار اردو دنیا ایک عہد ساز شاعر سے محروم😭

معروف اردو شاعر، غزل نگار، دانشور اور پدم شری اعزاز یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر کا آج بھوپال میں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وہ 91 برس کے تھے ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی پورے ملک کے ادبی حلقوں، شاعروں، دانشوروں اور اردو ادب کے چاہنے والوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا سے لے کر ادبی انجمنوں تک ہر طرف ان کے اشعار گونجتے رہے اور لوگ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے ڈاکٹر بشیر بدر کو جدید اردو غزل کی سب سے مقبول اور عوامی آوازوں میں شمار کیا جاتا تھا انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو غزل کو صرف مشاعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ عام لوگوں کے دلوں تک پہنچایا ان کی غزلیں محبت کرنے والوں کی زبان پر بھی رہیں اور زندگی کی تلخیوں سے گزرنے والوں کے دل کی آواز بھی بنیں آپ 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے اور آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہوگیا
جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہوگیا

»» غزل ««عنوان: عیدسب نے ہنستے ہوئے سینے سے لگایا مجھےاک تیرے ہی نہ ملنے نے رلایا مجھےمیں نے چاہا تھا بہت کہ بھول جاؤں ت...
27/05/2026

»» غزل ««
عنوان: عید

سب نے ہنستے ہوئے سینے سے لگایا مجھے
اک تیرے ہی نہ ملنے نے رلایا مجھے

میں نے چاہا تھا بہت کہ بھول جاؤں تمہیں
تیری آواز کے لہجے نے ستایا مجھے

ہر طرف شہر میں خوشیوں کی ضیاء پھیلی تھی
اپنے درد کے اندھیروں نے ڈرایا مجھے

چاند نکلا تو کئی زخم بھی تازہ ہوگئے
پھر تیرے ہجر نے بہت ستایا مجھے

اک تو تیرا ہجر اوپر سے یہ عید کا روز
تیری یادوں نے مگر بہت رلایا مجھے

عید کے روز بھی میرے دل پہ اداسی طاری رہی
کوئی لمحہ بھی نہ خوشیوں کا میسر آیا مجھے

عید کی شب میرے تکیے پہ پڑے اشکوں نے
بڑی دیر تک تیرے جانے کا قصہ سنایا مجھے

میں نے ہر بار زمانے سے چھپایا اپنے درد کو
تیری یادوں نے مگر سرِ عام رلایا مجھے

اک تیری یاد ہے جو سلامت ہوں اب تلک
ورنہ دنیا نے تو کئی بار مٹایا مجھے

لقمان عید کی شب بھی درد میں ڈوبی ہی گزری
کسی بے نام سی حسرت نے جگایا مجھے

لقمان بدر

»» تازہ غزل ««کبھی جو ہوا ذکرِ محبت تو لہجہ بدل گیاتمہارا جب نام آیا تو سارا قصہ بدل گیاپہلے وفاؤں پر تھا ہمیں بھی یقین ...
24/05/2026

»» تازہ غزل ««

کبھی جو ہوا ذکرِ محبت تو لہجہ بدل گیا
تمہارا جب نام آیا تو سارا قصہ بدل گیا

پہلے وفاؤں پر تھا ہمیں بھی یقین بہت
تجربہ جب ہوا تو میرا عقیدہ بدل گیا

ہم نے تو ایک شخص پہ لٹا دی تھی دنیا
لیکن وہ اک لمحے میں کتنا بدل گیا

وہ شخص جس کی بات پہ جاں نثار تھی
جو روٹھا تو میری زندگی کا نقشہ بدل گیا

تجھ سے ملے تو درد بھی اچھا سا لگنے لگا
تجھ سے بچھڑے تو درد کا معنیٰ بدل گیا

کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں عشق میں
جب آئینہ دیکھا تو میرا چہرہ بدل گیا

ہر شخص پوچھتا ہے میری خامشی کا سبب
کیا بتاؤں کہ کس طرح میرا لہجہ بدل گیا

جو لوگ میرے حال پہ ہنستے تھے کل تلک
سنا جو میرا درد تو ان کا نظریہ بدل گیا

کچھ اس طرح اتارا اس نے اپنے دل سے میرا نام
جیسے کسی کتاب کا صفحہ بدل گیا

لقمانؔ اس کے بعد کوئی اپنا نہ رہ سکا
اک شخص کیا گیا کہ زمانہ بدل گیا

لقمان بدر

»» غزل ««کسی کی یاد کے صحرا میں گھر بنا کے رہےہر ایک درد کو سینے میں ہم چھپا کے رہےکبھی تو دل نے بہت چاہا بھول جائیں اسے...
21/05/2026

»» غزل ««

کسی کی یاد کے صحرا میں گھر بنا کے رہے
ہر ایک درد کو سینے میں ہم چھپا کے رہے

کبھی تو دل نے بہت چاہا بھول جائیں اسے
مگر خیال تھے جو لَوٹ لَوٹ کر آ کے رہے

وہ جس کی بات پہ دنیا بھی چھوڑ سکتے تھے ہم
اسی کی یاد میں دنیا سے منہ چھپا کے رہے

ہمیں خبر تھی کہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا وہ
پھر بھی اس کے نام کا ہر دروازہ کھٹکھٹا کے رہے

کسی کے ہجر میں یہ حال ہو گیا اپنا
کہ آئینے سے بھی نظریں چرا کے رہے

ہمارے دل پہ اترتی رہیں اداسیاں
مگر لبوں پہ تبسم سجا کے رہے

ہمیں بھی شوق تھا دریا کی تیز موجوں کا
مگر سکوت کے ساحل پہ سر جھکا کے رہے

ہر موڑ پہ اک حادثہ تھا منتظر
ہم اپنے پاؤں مگر پھر بھی آزما کے رہے

وہ اک شخص جو لفظوں میں ڈھل نہیں پایا
اسی کے غم میں کئی شعر گُنگُنا کے رہے

ہماری خاک سے خوشبو ضرور آئے گی لقمان
ہم اپنے درد کو سینے میں گُل بنا کے رہے

شاعر : لقمان بدر

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Luqman Badar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category