02/06/2026
»» تازہ غزل ««
موضوع : بشیر بدر
وہ ایک شخص جو لفظوں کو روشنی دے گیا
غمِ حیات کو ہنسنے کی آگہی دے گیا
ہمیں تو یاد ہے اب تک اس کا نرم سا لہجہ
وہ جیسے درد کو بھی کتنی سادگی دے گیا
وہ جب بھی بولا، محبت کا ذکر ساتھ آیا
وہ نفرتوں کو مٹانے کی آگہی دے گیا
وہ اپنے عہد کی آواز تھا، غزل کا بدن
ہر ایک دل کو محبت کی تازگی دے گیا
کئی چراغ جلے اس کے ایک ہی مصرعے سے
وہ اپنے فن کو عجب تابندگی دے گیا
چراغ بجھ بھی گیا تو اندھیرا کیا ہوگا
وہ اپنے لفظوں میں سورج کی روشنی دے گیا
اب اس کے بعد بھی محفل سجی رہے گی مگر
ہر ایک شعر میں اک درد دائمی دے گیا
غزل کے شہر میں اب خامشی سی رہتی ہے
وہ جاتے جاتے عجب سی کمی دے گیا
لقمانؔ ہم اہلِ درد اسے کیسے بُھلا سکیں گے
وہ دل کے زخم کو لفظوں کی دلکشی دے گیا
از -- لقمان بدؔر