01/03/2026
مجھے دینیات نہیں آتی تھی۔ جب پڑھنے بیٹھتا تو چیزیں اور واقعات آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے اور میں کتاب بند کر دیتا۔ مگر شکریہ اس چھیاسی سالہ معذور بوڑھے ایرانی شخص کا جس نے جاتے جاتے ایک ہی رات میں مجھ ناقص العقل فرحان ملک کو پورا دین اور ساری دینیات سکھا دی۔
یہ شیعہ سنی کون ہیں؟ سادات کسے کہتے ہیں؟ نسلی اور نقلی سادات میں کیا فرق ہے؟ کربلا کیسی تھی؟ حسینؑ کون تھا؟ یزید کون تھا؟ بیعت کس چیز کا نام ہے؟ بغاوت کسے کہتے ہیں؟ فرات پر پہرے کیوں تھے؟ پابندیاں کون لگاتا ہے؟ ہجرت کسے کہتے ہیں؟ پیاس کس چیز کا نام ہے؟ خیمہ کیا ہوتا ہے اور خیمہ بدلنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں؟ شمر کون تھا؟ حبیب بن مظاہر کون تھا؟ اور عباسؑ اور علم کس شے کی علامت ہیں؟ یہ سب کچھ اس بوڑھے شخص اور اس کے ساتھیوں نے ایک ہی رات میں بغیر دیا بجھائے مجھے دکھا دیا۔
میری طرح دینیات کے طلبا کے ساتھ ساتھ امام خامنائی شہید نے تاریخ کے طلبہ کے لیے بھی سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بہت کچھ چھوڑا ہے۔ یہ حکومتیں کہاں بنتی ہیں؟ کہاں بدلتی ہیں؟ اقتدار کون دلاتا ہے؟ غدار کیسے ہوتے ہیں؟ تخت کیوں الٹتے ہیں؟ زندان کیوں سجتے ہیں؟ عدالتیں کون کھولتا ہے؟ اور ایجنٹ اور ان کے اصل یار کیسے ہوتے ہیں؟ اپنی شہادت سے امام خامنائی شہید یہ سارے عقدے ہی نہیں بلکہ ان کی شکلیں تک دکھا گیا ہے۔
یہ چھیاسی سالہ بوڑھا مزید کتنا جی لیتا؟ اور کیا ایسے شخص کو شہادت کے سوا کوئی اور موت جچتی بھی تھی؟ حسینؑ تو صرف ستاون برس کی عمر میں تین دن کی پیاس اور چند ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے تھے۔ مگر رسمِ شبیری اور عشقِ حسینؑ اور حبِ علیؑ میں یہ بوڑھا اپنا سارا کنبہ چھیاسی برس کی عمر میں، پچاس سال کی پابندیوں اور صدیوں کی پیاس کے ساتھ لاکھوں جانثاروں سمیت لٹا گیا۔
سو اس صدیوں کے بے آرام بوڑھے کو اب آرام کرنے دو۔ اگلی سحری وہ اپنے نانا کے ہاتھوں کوثر سے کرے گا۔ اور ہاں شکریہ امام کہ تم نے ایک ہی صفحے پر پورا دین لکھ دیا۔
لہٰذا اگر میں اپنا مسلک نہ بھی بدلوں تو آج سے حر بن یزید ریاحی کی طرح آخری رات ہی سہی، لشکر ضرور بدلوں گا۔ الحمدللہ میں بھی آج سے مولائی ہوں، حسینی ہوں اور کربلائی ہوں۔
یہ دیکھو دستار بچ گئی کہ نہیں؟
گلے کا کیا ہے، گلے تو ہم کٹاتے رہتے ہیں۔
تحریر: فرحان ملک
#مولائی
#حسینی
#کربلائی
#بیعت