Muhammad Zubair Tahir

Call Website Contact the establishment

Muhammad Zubair Tahir Tax Consultant
(1)

12/10/2026
KPK ایمرجنسی/ گورنر راج
11/10/2026

KPK
ایمرجنسی/ گورنر راج

لاہور کے رضوان کے ہاں شادی کے 13 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا، جو ابھی صرف تین ماہ کا تھا۔ 18 جولائی 2024ء کی رات رضوان اپن...
08/10/2026

لاہور کے رضوان کے ہاں شادی کے 13 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا، جو ابھی صرف تین ماہ کا تھا۔ 18 جولائی 2024ء کی رات رضوان اپنے بھائی مبین کے ہمراہ قصور فیروز پور روڈ سے لاہور آرہے تھے کہ تھانہ مصطفیٰ آباد (للیانی) کی پولیس نے انہیں ناکے پر روکا۔ پولیس سے انکی کچھ تلخ کلامی ہوئی تو پولیس ان دونوں بھائیوں کو تھانے لے آئی۔ یہ رات دس بجے کی بات ہے۔ تھانے لا کر پولیس نے رضوان پر پہلی FIR دس بجکر تیس منٹ پر ڈکیتی کی دی۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد ایک اور FIR رضوان پر دیدی گئی۔

ٹھیک تین گھنٹے بعد پولیس نے ایک اور سائنس لڑائی۔ اپنے ایک ٹاؤٹ سے ایک فیک 15 پر کال کروائی گئی کہ اسکے ساتھ ڈکیتی ہورہی ہے۔ بعد میں FIA انکوائری میں ثابت ہوا کہ اس کالر کی لوکیشن تھانے کے آس پاس ہی پائی گئی اور یہ اپنے دوسرے نمبر سے پولیس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ چنانچہ رات گئے ایک تیسری FIR بھی دیدی گئی۔ اس FIR کے سلسلے میں پولیس رضوان کو تھانے سے باہر لے کر گئی اور اسکی پنڈلی پر گولی ماری۔ جس کو یہ نام دیا گیا کہ رضوان ڈکیتی کررہا تھا۔ پولیس 15 کال کے ریسپانس میں وہاں پہنچی تو رضوان اپنے ایک صابر نامی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا پڑا تھا (حالانکہ رضوان رات دس بجے کا پولیس حراست میں تھا)۔ پولیس کئی گھنٹے زخمی رضوان کو ٹانگ سے شدید بہتے خون کے ساتھ ادھر ادھر گھماتی رہی اور بالآخر وہ انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

دونوں بھائیوں کے اہلخانہ کو ان کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ اگلے روز پولیس نے انکے ایک بھائی عرفان کو کال کی کہ آپ کے بھائی کا انکاؤنٹر ہوگیا ہے۔ دوسرا بھائی زیرِ حراست ہے، اسے تب چھوڑیں گے جب آپ لکھ کردیں کہ پولیس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ رضوان کے بھائی عرفان نے فی الوقت لاش لینے سے انکار کردیا اور مقامی مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ اسے سیف سٹی، تھانے اور ہسپتال کے کیمروں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، جو لے لیا گیا۔

مقتول رضوان کا بھائی عرفان قانونی کارروائی کیلئے کافی عرصہ عدالتوں اور پولیس افسران کے دفاتر میں چکر کاٹتا رہا۔ بالآخر اس
نے "انسدادِ ٹارچر و قتل زیرِ حراست ملزمان قانون" کے تحت FIA کو درخواست دی کہ اسکے بھائی رضوان کا پولیس نے حراست کے دوران جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا ہے، FIR درج کی جائے۔ FIA نے پھر ٹال مٹول سے کام لیا۔ جس پر معاملہ ایک بار پھر سیشن کورٹ پہنچا تو عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا کہ ایک شہری جسکا سابقہ کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، اس پر چند گھنٹوں میں تین تین FIR دے کر اسے ریکارڈ یافتہ ملزم بنا کر اسکا مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کردیا گیا۔ ایف آئی اے نے FIR درج کرلی۔

دورانِ تفتیش جب ایف آئی اے لاہور کی جانبداری سامنے آئے تو عرفان نے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست دی۔ عدالت کے حکم پر تفتیش ایف آئی اے گوجرانوالہ کو سپرد کردی گئی۔ FIA نے تیسری FIR کو تفتیش کا محور بنایا، جس میں پولیس کے مطابق وقوعہ ساڑھے چار بجے کا ہے۔ جبکہ عرفان کی حاصل کردہ ہسپتال کی CCTV فوٹیجز میں نظر آرہا ہے کہ پولیس ساڑھے تین بجے سے پہلے ہی رضوان کو مردہ حالت میں ہسپتال لاچکی تھی۔ FIA نے ایس ایچ او حسن عمران سمیت 7 پولیس اہلکاران کو گناہگار ٹھہرایا۔

ان ملزمان نے قصور سیشن کورٹ سے گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت قبل حاصل کررکھی تھی، جسے انہوں نے 9 ماہ لٹکائے رکھا۔ جب وہاں سے ضمانت خارج ہوئی تو ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت لے لی، جسے مزید کئی ماہ کھینچ کر گرفتاری سے بچتے رہے۔ بالآخر پچھلے ہفتے لاہور ہائیکورٹ نے انکی ضمانت خارج کی تو انہوں نے اپنے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے فرار ہونا چاہا۔ لیکن وکلاء نے مداخلت سے یہ کوشش ناکام کرنا چاہی تو اس سے کچھ ہاتھا پائی کی افسوسناک صورتحال بھی پیدا ہوئی۔

خیر، FIA نے ان تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ اگلے دن گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے انکو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر FIA کے حوالے کردیا اور آج ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عرفان کہتے ہیں کہ میرا بھائی تو واپس نہیں آسکتا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کسی اور کا بھائی یوں بیگناہ نہ مارا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ ایس ایچ او حسن عمران کو شاید اسی "کارکردگی" کی بنا پر بعد میں CCD میں بھی تعینات کیا گیا۔ مقتول رضوان کے بھائی عرفان ایک وکیل ہیں، وہ یہ تنِ تنہا دو سال سے زائد جدوجہد کرنے کے بعد آج ملزمان کو جیل بھجوا سکے ہیں۔ اندازہ کرلیں کہ اس طرح کتنے ہی بے گناہ رضوان جعلی مقابلوں کی بھینٹ چڑھ کر پولیس افسران کی شاباشی اور ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ایک عام آدمی کے لیے اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کتنا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔

☆ تمام حقائق مقتول کے بھائی کے ایک انٹرویو سے ماخوذ ہیں۔

از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

CCD SHO
02/10/2026

CCD SHO

19/08/2026

مائنس عمران خان فارمولا کوئی قبول نہیں کرے گا یہ بات تو طے ہے۔ محمود خان اچکزئی

18/08/2026

کروڑوں دلوں کی دھڑکن
کروڑوں عوام کی جان
کپتان عمران خان

18/08/2026

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں.

18/08/2026

سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم الحمدللہ

18/08/2026

کوئی آرہا ہے
Imran Khan ❤️

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرہاد علی شاہ کا فریز بنک اکاؤنٹ کا چیک دینے سے متعلق  بڑا فیصلہ فریز بنک اکاونٹ کا  چیک دینا فرا...
13/08/2026

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرہاد علی شاہ کا فریز بنک اکاؤنٹ کا چیک دینے سے متعلق بڑا فیصلہ

فریز بنک اکاونٹ کا چیک دینا فراڈ قرار، جسٹس سید فرہاد علی شاہ

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے فریز بنک اکاؤنٹ کا چیک دینے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ درست قرار دیا

سیشن عدالت نے فریز اکاؤنٹ کا چیک دینے والے شہری کے خلاف درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا

درخواست گزار نے شہباز نواز نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا

Address

Modal Town Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Zubair Tahir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Muhammad Zubair Tahir:

Shortcuts

Share