Nemrah Ahmed Novels fans

Nemrah Ahmed Novels fans All Quotes from Nemrah Ahmed Novels

وہ ملاکہ کی سب سے خوبصورت شہزادی تھی ۔  اتنی سحر انگیز کہ اس کے سامنے چاندسورج شرما جائیں۔وہ جب محل کی بارہ دریوں میں چل...
22/11/2024

وہ ملاکہ کی سب سے خوبصورت شہزادی تھی ۔
اتنی سحر انگیز کہ اس کے سامنے چاندسورج شرما جائیں۔
وہ جب محل کی بارہ دریوں میں چلتی تھی تو لوگوں کی گردنیں جھک جاتی تھیں۔
جب دربار میں آتی تو درباری، وزرا اور غیر ملکی سفیر بے اختیار کھڑے ہو جاتے تھے۔۔۔
وہ بولتی تھی تو سلطان بھی دم سادھے اس کو سنا کرتا تھا
وہ بہت سی زبانیں بول سکتی تھی ۔
تیر اندازی ‘ تلوار زنی ‘ گھڑ سواری ۔۔نیزہ بازی۔۔ وہ سب جانتی تھی ۔
وہ لکھ پڑھ بھی سکتی تھی ۔ رقص اور دوسرے فنونِ لطیفہ سے واقف تھی ۔
چین اور ملاکہ کا کوئی ایسا کھانا نہ تھا جو شہزادی تاشہ پکا نہ سکے ۔ کوئی ایسا ٹانکا نہ تھا جس کو وہ کاڑھ نہ سکے۔
وہ حرم کی نگران تھی ۔۔۔ بندہارا کی سب سے قابل اعتماد مشیر ۔ وہ سیاست کے داؤ پیچ سے بھی واقف تھی‘ غرض کیا تھا جو راجہ کی بیٹی کو نہیں آتا تھا؟
اسی لئے اس کو تاشہ پَسونا کہا جاتا تھا ۔
پَسونا یعنی enchantress۔
ساحرہ ....جادوگرنی

10/11/2024
تم اب سلام بھیجتی ہو...الله کے نبی ؐ پہ...اور تم ان کو گویا مخاطب کر کے کہتی ہو...سلام ہو آپ پہ یا نبیؐ...کیونکہ یہ وہی ...
02/11/2024

تم اب سلام بھیجتی ہو...الله کے نبی ؐ پہ...اور تم ان کو گویا مخاطب کر کے کہتی ہو...سلام ہو آپ پہ یا نبیؐ...کیونکہ یہ وہی نبی ﷺ ہی ہیں جنہوں نے تمہیں نماز سکھائی ہے۔ یہ وہی ہیں جو تمہارے لئے معراج پہ بار بار واپس گئے تھے اور نمازوں کی تعداد کم کروائی تھی۔ یہ وہی ہیں جو اپنی آخری سانس تک فرماتے رہے تھے ‘ نماز نماز نماز۔ یہ وہی ہیں جو تئیس سال تمہارے لئے ہر کسی سے لڑے تھے ‘ تمہارے لئے انہوں نے اسٹینڈ لیا‘ تمہارے لئے وہ روئے ‘ اور روزِ قیامت بھی تمہارے لئے...تمہاری امت کے لئے آواز بلند کریں گے...اور ہم لوگ کہتے ہیں‘ فلاں چیز صرف سنت ہی تو ہے‘ فرض تھوڑی ہے ‘ اور حدیث کا کیا ہے‘ پتہ نہیں سچ ہو یا نہ ہو۔

01/11/2024

تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ
(عربی سے ترجمہ شدہ)
یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ھے- وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها- اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی- شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے- مہینہ ختم ہونے سے پہلے ھی اس کی تنخواہ ختم ھو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا- یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارھا تها اور اس کا یقین بنتا جا رھا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ھی گزرے گی- باوجودیکہ اس کی بیوی اسکے مادی حالت کا خیال کرتی لیکن قرضوں کے بوجھ تلے تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ھے- وہ کہتا ھے،
"ایک دن میں اپنے دوستوں کی مجلس میں گیا جہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها- کہنے لگا میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشکلات اس کے سامنے رکهیں- اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ھے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو- اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا :
"جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے کے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رھے ہیں؟"
خیر اس نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی :
"تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ھو سکتا ھے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے-
کہتا ھے میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا-
سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ھی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشنوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ھو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ،قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں.
پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں نے حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجه سے میری جان چهوٹ جائے گی.
پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لا کر دیتا اور اس پر م

اللہ نے آدم اور حوا کو جب زمین پہ اتارا تو مختلف جگہوں پہ اتارا۔ان دونوں کو ایک دوسرے کو تلاش کرنے میں کئی برس لگے تھے۔ا...
31/10/2024

اللہ نے آدم اور حوا کو جب زمین پہ اتارا تو مختلف جگہوں پہ اتارا۔ان دونوں کو ایک دوسرے کو تلاش کرنے میں کئی برس لگے تھے۔اللہ نے ہر انسان کا جوڑ اس دنیا میں اتارا ہے۔کسی کو مل جاتا ہے اور کسی کو نہیں۔مگر وہ ہوتا ضرور ہے۔اور ہر انسان ساری زندگی اسی جوڑ کو تلاش کر تا رہتا ہے۔دوستی کے نام پہ بھی مرد اور عورت دوسرے شخص میں اسی جوڑ کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔

”ایک بات پوچھوں آپ سے؟“کار اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا۔وہ کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اسے سنے گئی۔”آپ کے پاس کوئی فیوچر پلان تو ہ...
31/10/2024

”ایک بات پوچھوں آپ سے؟“کار اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا۔وہ کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اسے سنے گئی۔
”آپ کے پاس کوئی فیوچر پلان تو ہوگا۔دوبارہ سے اپنا کام سیٹ کرنے کا پلان۔“
”تمہارا مطلب ہے کامیابی کا نیا پلان۔“وہ باہر دیکھتے ہوئے تلخی سے مسکرائی۔”اسکول سے یونیورسٹی تک‘کتابوں سے انٹرنیٹ تک‘سب یہی سکھاتے آئے ہیں کہ کامیاب کیسے ہونا ہے۔کوئی یہ کیوں نہیں سکھاتا کہ ناکام کیسے ہونا ہے؟جاب چلی جائے گی تو کیا کرو گے؟ کام میں نقصان ہوگا تو کیا کرو گے؟ صفر سے دوبارہ کیسے شروع کرو گے؟ سب ہمیں کامیابی کے لیے تیار کرتے ہیں۔کوئی ہمیں ناکام ہونے کے لیے تیار کیوں نہیں کرتا؟“
”میرے خیال میں انسان کا ایکسیڈنٹ ایک دم سے نہیں ہوتا۔ پہلے near misses ہوتے ہیں تاکہ ہم سنبھل جائیں۔ ریڈ فلیگز نظر آتے ہیں۔ ظہیر کے بارے میں بھی آپ کو نظر آئے ہوں گے۔“وہ ڈرائیو کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔

27/10/2024

کسی جنگل میں ایک بکری بہت بے فکری سے ادھر ادھر گھوم رہی تھی ۔
ایک کوے کو بہت حیرت ھوئی اور وہ بکری سے پوچھنے لگا کہ تمہیں کسی سے خوف کیوں نہیں ھے؟

بکری نے کہا ۔ بھائی میری بے فکری کا سبب یہ ھے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی اپنے دو چھوٹے بچے چھوڑ کر مر گئی تھی ۔

میں نے ان پہ ترس کھا کر اپنے دودھ پہ پال کر انہیں پروان چڑھایا۔اب وہ جوان ھیں اور انہوں نے جنگل میں اعلان کر رکھا ھے کہ ھماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔سو اب کسی بڑے خوںخوار جانور میں بھی یہ ہمت نہیں کہ مجھ پہ ہاتھ ڈالے کسی چھوٹے موٹے جانور کا ذکر ہی کیا۔
کوے نے سوچا کاش مجھے بھی ایسی نیکی کرنے کا موقع ملے اور پرندوں کی دنیا میں مجھے بھی احترام حاصل ھو جائے۔وہ یہی سوچتا ھوا اڑتا جا رہا تھا کہ اس نے نیچے دریا میں ایک چوہے کو ڈبکیاں کھاتے دیکھا ۔

وہ فوراً نیچے اترا اور چوہے کو دریا سے نکال لایا اور ایک بڑے پتھر پہ لٹا کر اپنے پروں سے ھوا دینے لگا تاکہ وہ خشک ھو جائے۔جونہی چوہے کے حواس بحال ھوئے اس نے کوے کے پر کترنے شروع کر دئیے۔کوا بیچارہ نیکی کی دھن میں مگن تھا اور چوہا اپنی کار گزاری میں مصروف۔اتنی دیر میں وہ خشک بھی ھو چکا تھا ۔

لہذا اس نے اپنے بل کی طرف دوڑ لگا دی ۔کوا نیکی کر کے بہت موج میں تھا۔اسی موج میں اس نے لمبی اڑان بھرنے کی کوشش کی مگر منہ کے بل زمین پہ آ پڑا اور اڑنے سے معذور ھو کر زمین پہ ہی اچھلنے اور گھسٹنے لگا ۔

اتفاقاً بکری ادھر سے گزری تو پوچھنے لگی ۔بھائی کوے تم پہ کیا افتاد آن پڑی؟وہ غصے سے بولا۔یہ سب تمہارا کیا دھرا ھے۔تمہاری باتوں سے متاثر ھو کر میں نےنیکی کمانے کی چاہ میں چوہے کی جان بچائی مگر وہ میرے پر ہی کتر بھاگا۔بکری ہنس پڑی اور کہنے لگی۔

بے وقوف اگر نیکی ہی کرنی تھی تو کسی شیر کے بچے کے ساتھ کرتے۔چوہے کا بچہ تو اپنا چوہا پن ہی دکھائے گا۔بد ذات اور بدنسل کے ساتھ نیکی کرنے والے کا وہی حال ھوتا ھے جو تمہارا ھوا ھے.....

کووں کے بچے موتی چگنے سے ہنس نہیں بن جاتے اور کھارے پانی کے کنویں میں میٹھا ڈالنے کے بعد بھی کھارے ہی رہتے ہیں۔

27/10/2024

آخری ڈیلیوری۔۔۔۔۔ایک پردیسی دوست کے قلم سے۔

وہ دسویں ڈیلیوری کرکے لوٹا تو تھکا ھوا اور پسینہ سے شرابور تھا۔ ھیلمٹ اتارا پسینہ پونچھا اور بالوں میں انگلیاں پھیرتے اندر داخل ھوا۔ سب یار دوست اے سی میں بیٹھے گپیں ھانک رھے تھے۔ لو فانی بھی آگیا چلو کھانا اب کھاتے ھیں۔۔۔
اسے بھوک کہاں لگتی ھے یہ سٹین اسٹیل کا بنا ھے۔۔۔۔
اتنا لالچی ھے کہ جب تک 20 پورے نہ کرلے یہ بیٹھے گا نہیں۔۔
ھاں بھئی اب ایک ڈیلیوری کا 9 تو بیس کے کتنے ھوئے؟
پورے ایک سو اسی اور پاکستانی کتنے ھوئے؟ اسے جلد سے جلد لکھپتی بننا ھے۔
او بھائی ھمیں بھول نہ جانا پھر۔۔۔
قہقہہ۔۔۔

سب کے کسے فقرے وہ نظرانداز کرتا کاؤنٹر پہنچا۔
کوئی ڈیلیوری؟
ھاں ھے ایک ال برشا 3 کا، لوکیشن فارورڈ کردی ھے ۔ ٹائم آدھا گھنٹہ تھا بیس منٹ بچے ھیں۔ کاونٹر گرل نے اسے پیکٹ تھمایا۔۔
یہ لوگ نہیں گئے؟ اس نے لڑکی سے پوچھا۔
کہتے ھیں تھک گئے ھیں اور لنچ بریک بھی ھے لڑکی نے ان کی طرف سرسری نظر دوڑائی اور اپنے کام میں لگ گئی۔
پیکٹ اٹھاکر جب وہ نکلنے لگا تو ایک جملہ پھر کسا گیا۔۔ جنھیں لنچ پہنچا رھے ھو وہ پوچھیں گے نہیں کہ تم نے خود کچھ کھایا کہ نہیں آجا آجا کھا کے جا بھوک سے وہ مر نہیں جائیں گے ھاں تم مرجاؤگے۔۔

قہقہہ۔۔۔
وہ نکلا بائیک اسٹارٹ کی ھیلمٹ پہنا جی پی ایس اسٹارٹ کیا۔ موبائل سامنے مخصوص بنائے گئے پوائنٹ پہ فکس کیا نیوی گیشن پہ ٹائم دکھا 32 منٹس ۔۔ 33 کلومیٹر۔۔۔
افف۔۔۔۔ کافی دور ھے ۔۔وقت کم ھے مجھے شارٹ روٹ لینا پڑے گا۔۔
اس نے ھینڈل گھمایا ایکسیلیریٹر پہ گرپ مضبوط کی اور یہ جا وہ جا۔۔۔
بیٹا اگلے مہینے بہن کی شادی طے ھوئی ھے لوگ بھت اچھے ھیں لڑکا اپنا کاروبار کرتا ھے تمھاری بہن کو بھی کوئی اعتراض نہیں جیسا تم نے کہا تھا میں نے ویسا ھی اس سے پوچھا ھے وہ راضی ھے لیکن بیٹا وہ لوگ شادی میں بھت جلدی کر رھے ھیں۔۔

ماں کے میسجسز اسے لفظ بہ لفظ یاد تھے ۔۔ اس نے میں روڈ سے نکل کر گلی میں بائیک گھمالی۔۔۔
شادی میں وقت کم ھے بیٹا یہ سب بندوبست کیسے ھوگا۔ فرنیچر بنوانا ھے کپڑے بنوانے ھیں سونا کتنا مہنگا ھے۔۔
اس نے اسپیڈ اور بڑھا دی دوسری گلی میں مڑگیا آگے جاکر یہ گلی سیدھا آخری روڈ پہ نکل جائے گی اور پھر سامنے منزل۔۔۔ اس نے نیوگیشن پہ نظر دوڑائی 10 منٹ۔
بیٹا میں نے اپنے زیورات پالش کرانے بھیج دئیے سونا کی فکر نہ کرنا اچھا۔۔۔ بس فرنیچر اور

13/10/2024

Who is waiting for maala last episode??

10/10/2024

کر کے نکال دیں گے۔"

بلقیس نے جب یہ پیغام پڑھا تو اسے معلوم ہو گیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام دنیاوی بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کے نبی ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی مجلس میں بیٹھ کر پوچھا:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
قَالَ عِفْريتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آَتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ
قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آَتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ
(سورہ نمل: 38-40)

ترجمہ:
"سلیمان نے کہا: اے درباریو! تم میں سے کون ہے جو بلقیس کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے، قبل اس کے کہ وہ میرے پاس فرمانبردار ہو کر آئیں؟
ایک زور آور جن نے کہا: میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں، اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں، اور میں اس پر طاقتور اور امانت دار ہوں۔
جس کے پاس کتاب کا علم تھا، اس نے کہا: میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں، اس سے پہلے کہ آپ کی پلک جھپکے۔"

اور جب تخت بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے آ گیا، تو انہوں نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَلَمَّا رَآَهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ
(سورہ نمل: 40)

ترجمہ:
"اور جب سلیمان نے اسے اپنے سامنے مستقر دیکھا تو کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں۔"

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے بعد بلقیس کے تخت کی شکل کو کچھ تبدیل کروا دیا۔۔

Address

Lahore

Telephone

+923024436046

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nemrah Ahmed Novels fans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Nemrah Ahmed Novels fans:

Share