15/10/2025
PART 1 — “قبرستان کی پہلی رات”
شام کے وقت شہر کی نئی روشنیوں نے جب اپنے پنجرے بند کیے تو پرانی گلیوں کی شرافت سامنے آ گئی۔ نئی سڑکوں سے چند گز کی دوری پر ایک ایسی بستی تھی جہاں خانہ بدوش کلیے، ٹوٹی ہوئی اینٹیں اور ایک چھوٹا قبرستان ایک دوسرے کے قریب تھے — لوگ وہاں کم آتے، اور جو آتے وہ بھی جلدی پیچھے ہٹ جاتے۔ وہ علاقہ لوگوں کی زبانی بدنام تھا: "رات کو وہاں نہ جانا"… مگر عالیہ کو یہ سارے ڈرانے والے جملے مزے کی طرح لگتے — وہ سچی بات پر یقین رکھتی تھی: حساب، منطق، حقیقت۔
عالیہ نے ہمیشہ کہا: "یہ سب بھوت، جن، جادو — وہم ہے۔"
وہ یونیورسٹی میں پڑھائی کر چکی، میڈیا میں کام کرنے کا شوق تھا، اور ہر چیز کا سائنسی جواب ڈھونڈتی تھی۔ شادی کے بعد سعد کے ساتھ یہ نیا گھر اسی علاقے کے قریب تھا — سکون بھی تھا مگر اس کے پیچھے ہلکی تیز سانس لینے والی گلیاں تھیں جن کے بارے میں لوگ سرگوشی کرتے تھے۔
پہلی رات جب وہ نئے گھر میں سوئی تو گھر کے باہر قبرستان کی ایک خوفناک سی حد بندی اس کی آنکھ میں آئی۔ درختوں کی شاخیں کھڑکی کے شیشے پر جیسے انگلیاں مارتی تھیں۔ عالیہ نے سوچا — کل پھر وہاں چلیں گے، کچھ دیکھ کر آئیں گے — سچائی سامنے آ جائے گی۔ مگر اگلی شام، تجسس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ دوسرے دن سہ پہر سعد کے ساتھ قبرستان کے قریب گئی — درخشاں دن میں وہاں سب کچھ سیریں محسوس ہوا مگر زمین کے اندر ایک سردی تھی جو سورج کی روشنی کو بھی چیر دیتی۔ درختوں کے سائے لمبے اور پتلے تھے، قبروں کے سرِ تختوں پر کمزور خطابات کندہ تھے، کسی کی پھٹی ہوئی چادر زمین پر لڑھک رہی تھی۔ ایک کونے میں، ایک چھوٹی سی حویلی نما عمارت تھی — وہاں کے دروازے پر پرانا لوہے کا رسّی بندھا تھا، اور دروازے کی جھِریوں سے دھوئیں جیسی خوشبو نکل رہی تھی — مرموز، مدھم، اور عجیب طور پر مسکِین۔
عالیہ نے ویسے ہی آنکھیں تیز کیں اور قدم بڑھائے — حقیقت جاننے کی لَل۔ مگر وہیں، مٹی کے اوپر ایک چھوٹا کالا ہاتھ، ایک ٹوٹا سا مُڑی ہوئی ڈبی (handi) پڑی تھی — اُس کے کنارے پر کچھ نام لکھے تھے اور اندر سے ایک پتلا سا دھاگہ باہر نکلا ہوا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ لوگ ایسی چیزیں (handi، کالا دھاگہ، چھوٹے مِسّان نما ٹوٹے ٹکڑے) قبروں کے پاس رکھ دیتے ہیں تاکہ "کسی کو باندھ دیا جائے" — عالیہ نے یہ ساری بات پہلے مذاق میں لیتے تھے، مگر اب ہاتھ نے کسی بے نام سی سردی پھونکی۔
اچانک، ایک بوڑھا آدمی خم کر کے وہاں سے گزرا — لباس پر مٹی، آنکھوں میں تیزگی، مگر بول میں خاموشی۔ وہ بوڑھا آدمی اسی حویلی کی طرف جا رہا تھا۔ بوڑھے نے عالیہ کی طرف دیکھا اور خاموشی سے سر ہلایا، مگر آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جیسے وہ کچھ دیکھ رہا ہو جو دوسروں کو دکھائی نہ دے۔ عالیہ نے وہ ڈبی اٹھا لی — ہلکے سے — اور اندر ایک پَلک دار چیز تھی: ایک باریک تختی، کچھ سوکھے پتے، اور ایک پتلا، سیاہ دھاگہ جو ٹھنڈا سا لگ رہا تھا۔
اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا — نہ ہوا تھی مگر کوئی سانس جیسے اُس ڈبی کے اندر سے نکلا۔ عالیہ کے بال ایک دم سیخ گئے۔ اس وقت اس کے اندر ایک حیرت بھی تھی اور ایک چھوٹا سا مزہ بھی — مگر اسی لمحے، ڈبی کے اندر سے ایک سرگوشی سی باہر نکلی — اتنی نرم مگر باوضوح، جیسے کسی نے کان کے پاس سرگوشی کی ہو: ایک لفظ — نام نہیں، بس ایک ٹھنڈی، کھردری آواز جو ہوا کے ساتھ اُبل کر آئی:
"نہیں… یہاں نہیں…"
عالیہ نے ہنس کر سوچا کہ ہوا نے کچھ کہا ہوگا۔ مگر اس کے اندر دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ پھر اسی جگہ سے، زمین کے نیچے کسی چٹخنے سی آواز آئی — نہ کسی جانور کی، نہ پتھر کی۔ سعد نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، "چلو، بس— واپس گھر چلیں۔" مگر عالیہ نے ضد کر دی: "میں تو صرف دیکھ کر آتی ہوں۔"
رات کو جب وہ گھر لوٹے تو عالیہ نے ڈبی کو اپنے بیگ میں رکھ دیا — "صرف بہانہ"۔ رات کے اندھیرے میں، جب سب سو گئے، عالیہ نے بے ساختہ بیگ کھولا — اور ہاتھ کی کلائی پر وہی پتلا سیاہ دھاگہ چڑھ گیا — ایسے جیسے کسی نے خاموشی سے اُس کی کلائی پر لپیٹا ہو۔ عالیہ نے حیرت سے دیکھا، دھاگے کو کھینچ کر دور کیا تو وہ ایک لمحے کے لیے ٹھنڈا سا کمپن کرنے لگا، پھر جیسے مارا گیا کوئی چھوٹا سا ساون۔
رات میں خواب آیا: عالیہ ایک ویران راہ پر کھڑی تھی، اردگرد دھند تھی، اور کسی نے اس کا چہرہ چھوا — نہ ہاتھ محسوس ہوا، نہ کوئی شکل، صرف سردی — پھر کسی نے آہستہ لَبوں سے کہا: "اب تمہاری ہو…"۔ عالیہ جاگی، پھیپھڑے دھڑکتے، چہرہ پسینے میں — وہ خود سے بولی، "یہ سب وہم ہے… میں نے خود ہی لیا تھا…"
لیکن صبح جب اس نے آئنے میں دیکھا تو اُس کی گردن کے نیچے ایک نرم سا نشان تھا — نہ زخم، نہ خون — بس ایک سیاہ دائرہ، دھاگے کی نشیب جیسا — اور اسی دوسرے پہلو پر، دروازے کے نیچے ایک پتلا نازک چھاپ تھا — جیسے کسی نے آہستگی سے کوئی نشان چھوڑا ہو: چند باریک جوتوں کے نشان مگر غلط زاویہ میں — جیسے کوئی خراب سا چل رہا ہو۔
پہلا خوف وہ تھا جسے عالیہ نے تسلیم کیا نہیں۔ وہ خود کو قائل کرتی رہی کہ یہ سب اتفاق ہے، ذہنی دباؤ ہے، نئی جگہ کا اثر ہے۔ مگر رات کو جب اسے ایک آواز نے پھر ہلا کر اٹھایا — ایک گھِنی، اندر سے خراٹوں جیسی ہنسی — تو اسے یقین آ گیا کہ شاید اس نے جو دیکھا وہ محض حادثہ نہیں تھا۔
اگلے دن عالیہ نے اپنے موبائل پر تحقیق کی — اس علاقے کے حوالے سے کچھ نامعلوم کہانیاں ملیں: "وہاں ایک جادوگر آیا تھا"… "کسی نے مِسان کی رسم کی تھی"… "کچھ لڑکیوں نے وہاں سے واپس آ کر خود کو بدلتا پایا"… مگر سب ثبوت کم، افواہیں زیادہ۔ عالیہ نے سوچا کہ یہ ساری باتیں لوگوں نے بڑھا چڑھا کر بتائیں — پھر بھی، اس کے اندر ایک خفیہ سی لرزش رہ گئی — ایک احساس کہ اس نے کسی چیز کو گھر لایا ہے جو اس کی نہیں۔
اسی شام جب وہ بیڈ روم میں بیٹھی تھی تو دروازے کے قریب سے ایک سائے نے گزرا — اتنی تیز رفتار کہ آنکھ اس کی پیروی نہ کر سکی۔ سائے نے کھڑکی کے شیشے پر ہاتھ رکھا — اور شیشے پر کہیں بہتے ہوئے قطرے جمع ہو گئے، جیسے اندر سے کوئی سایہ سانس لے رہا ہو۔ عالیہ نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر دروازہ بند کیا، مگر اندر سے کسی نے آہستگی سے سرگوشی کی: "ہم نے تمہارا راستہ پکڑ لیا ہے…"
یہ پہلی بار تھا جب عالیہ کو محسوس ہوا کہ جو وہ پہلے جھٹلہاتی تھی، اس کے اردگرد آہستہ آہستہ حقیقت بننے لگا ہے۔ اور یہ حقیقت، نرم مگر ضدی، اس کے پیچھے لگ گئی تھی — خاموشی میں سانس لیتی، رات کی گہرائی میں پروان چڑھتی۔ — جیسے اندر سے کوئی حرکت کر رہا ہو۔
آخر میں، اسی حصہ کے آخر میں — جب ساعت آدھی رات کے قریب پہنچی — عالیہ نے ہاتھ کی کلائی پر وہی سیاہ دھاگہ دوبارہ دیکھا، مگر اس بار دھاگے کے کنارے سے ایک بہت باریک سی لکیر نکلی — بالکل ایسے جیسے کسی نے اُسے زور سے تھام کر اپنی انگلی کے نشان چھوڑ دئیے ہوں۔ اس پہلی رات کی خاموشی میں، ایک غیر انسانی، کھردری نے ایک بار پھر سرگوشی کی:
"اب ہم تمہارے قریب ہیں…"
عالیہ نے آنکھیں بند کیں، اور پہلی بار اس نے اپنے اندر ایک روشنی سی دیکھی — خوف کے ساتھ ایک غیر معمولی طور پر واضح احساس: اس جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔
#خوفناککہانیاں #مُشکل_رہائیش