Milay Jo Kahkashaan Mein

Milay Jo Kahkashaan Mein The book "Milay Jo Kahkashaan Mein" contains interviews of pakistani and indian film & music legends.

درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ جناب عثمان چشتی پھُلروان ضلع فیصل آباد میں دریائے راوی کے کنارے آباد گاؤں کُر (Kur) وٹوواں...
08/06/2026

درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ جناب عثمان چشتی پھُلروان ضلع فیصل آباد میں دریائے راوی کے کنارے آباد گاؤں کُر (Kur) وٹوواں کے رہائشی ہیں، اردو اور پنجابی کے قلمکار ہیں، متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور اُن کے لکھے ہوئے کالم مختلف اخبارات و جرائد کی زینت بنتے ہیں۔ ”ملے جو کہکشاں میں” پر اُن کا تحریر کردہ یہ تبصرہ بھی مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے۔

05/06/2026

Mr. Amjad Ali, a Pakistani-German Broadcaster, working with the DW, presented his latest book titled as "Milay Jo Kahkashaan Mein" to the University of Okara's Vice Chancellor, Prof. Dr. Sajjad Mubin. This book contains the interviews of Pakistani and Indian film and music legends.

A MEMORABLE DAY WITH A LIVING LEGENDThese two pictures capture my meeting with the great Punjabi poet Rai Muhammad Khan ...
09/02/2026

A MEMORABLE DAY WITH A LIVING LEGEND

These two pictures capture my meeting with the great Punjabi poet Rai Muhammad Khan Nasir during his visit to my village Thatta Ghulamka Dhiroka on February 7, 2026.

In the first picture, I am presenting him my book “Milay Jo Kahkashaan Mein”, a collection of interviews with legendary figures from Indian and Pakistani film, music, and literature. All these interviews were conducted for my weekly radio programme “Kahkashaan” at the DW (Deutsche Welle) Urdu Service.

In the second picture, I am presenting him my book “Schimmel Kahani”, which narrates the life story of the renowned German Orientalist Annemarie Schimmel, based on my long and in-depth interviews with her.

An honour to share my work with a poet whose words and wisdom have enriched Punjabi literature for generations.

02/10/2025

A voice that echoed through hearts across the globe...

In 1990, I had the unforgettable honour of interviewing the legendary Ustad Nusrat Fateh Ali Khan. His humility, wisdom, and passion for music left a deep mark on me — and this conversation remains one of the highlights of my journey as a cultural journalist.

This rare clip is part of a series of interviews I conducted with iconic personalities from the worlds of film, music, and literature — many of which are now preserved in my book „Milay Jo KAHKASHAAN Mein“.

Sharing this precious moment with all those who still carry his voice in their soul.

04/09/2025

ایک نظم ۰۰۰ موسمِ خزاں کے نام (امجدعلی)

کاش ...

کاش کہ مَیں
خزاں کے افسردہ موسم میں
شاخ سے ٹوٹا
بچھڑا
کوئی اِک پتہ ہوتا
اور کسی کے پاؤں کے نیچے آ کر
مَیں مَسلا جاتا
اور پھر لاتعداد
بے رنگ، بے حقیقت ذرّوں میں بٹ جاتا
تیز ہوا اُن ذرّوں کو پھر دُور اُڑا لے جاتی
اور وہ ذرّے اُڑتے پھرتے
کوچہ کوچہ، قریہ قریہ
اِس بستی میں، اُس بستی میں
کبھی کسی کے پاؤں سے لِپٹے
کبھی کسی کے پاؤں کے نیچے
مِٹتے، بگڑتے، بنتے، بکھرتے
وہ ننھے ذرّے بھی لیکن
میرے وجود کا حصہ ہوتے
میرے وجود کو ثابت کرتے
یعنی مَیں پھر بھی کچھ ہوتا
کاش کہ مَیں کچھ بھی نہ ہوتا

Here are some photos from the Book Corner Show Room in Jhelum featuring the book MJKM (Milay Jo Kahkashaan Mein).Accordi...
23/09/2024

Here are some photos from the Book Corner Show Room in Jhelum featuring the book MJKM (Milay Jo Kahkashaan Mein).According to Mr. Gagan Shahid, Managing Director of the publishing house Book Corner (shown below with author Mr. Amjad Ali at a book festival in Lahore), the book was well-received by those who visited the display room.

آصف فرخی کی یاد میں (جس کی آج یکم جون کو چوتھی برسی ہے) انسان سوچتا ہے کہ اُس کے پاس بہت وقت ہے۔ کسی پیارے انسان سے آج ن...
01/06/2024

آصف فرخی کی یاد میں (جس کی آج یکم جون کو چوتھی برسی ہے)
انسان سوچتا ہے کہ اُس کے پاس بہت وقت ہے۔ کسی پیارے انسان سے آج نہیں ملا جا سکا تو کیا ہوا، کل مل ملیں گے۔ اکثر ہوتا لیکن یہ ہے کہ وہ کل آتا ہی نہیں اور جس انسان سے آپ ملنا چاہتے تھے، وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ پھر آپ چاہ کر بھی اُس سے نہیں مل سکتے۔ ادیب، نقاد اور مترجم اور میرا ایک اچھا دوست ڈاکٹر آصف اسلم فرخی تو پھر اتنا متحرک انسان تھا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اتنی جلدی داغِ مفارقت دے جائے گا۔
آصف سے میری پہلی ملاقات 1987 کے موسمِ گرما میں عید الفطر کے موقع پر مغربی برلن کی عمر مسجد میں ہوئی۔ جرمنی تب ابھی دو حصوں میں منقسم تھا۔ برلن سے چھ سو کلومیٹر دور واقع چھوٹا سا شہر بون وفاقی جمہوریہ جرمنی کا دارالحکومت تھا جب کہ کمیونسٹ جرمن ڈیموکریٹک ری پبلک یا مشرقی جرمنی کا دارالحکومت منقسم شہر برلن کا مشرقی حصہ تھا۔ اُس روز مئی کی 28 تاریخ تھی اور عید کے اجتماع کے بعد لوگ گھروں کو جانے سے پہلے مسجد کے باہر ایک دوسرے سے ہلکی پھلکی گپ شپ کر رہے تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ شکل و صورت سے انتہائی ذہین نظر آنے والا ایک نوجوان اُس سارے ہجوم کا حصہ ہوتے ہوئے بھی الگ تھلگ ہے۔ وہ مختلف باتوں کے جواب میں مروت میں سر ہلاتے ہوئے مسکرا تو رہا تھا لیکن صاف لگ رہا تھا کہ اُسے اُن ساری باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ باتوں باتوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ اُس کا تعلق کراچی سے ہے، وہ محض دو ماہ کے لیے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی دعوت پر برلن آیا ہوا ہے اور اُس کا ادب اور کتاب سے بھی کوئی گہرا رشتہ ہے۔ تب مجھے بھی اُس کی شخصیت میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوئی اور ہم آپس میں فون نمبرز کا تبادلہ کرنے کے بعد وہاں سے رخصت ہو گئے۔
مَیں اُن دنوں اپنے امتحانات کے بعد فارغ ہی تھا چنانچہ ہمارا جلد ہی دوبارہ رابطہ ہوا، یہاں تک کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اِس دوران ہم نے گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اُس نے باتیں کیں اور مَیں نے سُنیں۔ وہ عمر میں تو مجھ سے دو ہی سال بڑا تھا لیکن اپنے علم اور تجربے کے اعتبار سے بہت ہی بڑا تھا۔ وہ کسی بھی موضوع پر بے تکان گفتگو کر سکتا تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ اُس کے ساتھ گزرنے والے لمحات بہت قیمتی ہیں چنانچہ میرے سوالات تھے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتے تھے۔ اُس کا پسندیدہ ترین موضوع ادب تھا اور مَیں ادب کا ایک ادنیٰ سا طالب علم۔ پاکستان کے تمام اہم ادبا اور شعرا کے ساتھ اُس کا اٹھنا بیٹھنا تھا اور مجھے آصف کی وساطت سے جہاں اُن کی ادبی تخلیقات کے بارے میں بیش بہا معلومات حاصل ہوئیں، وہیں اُن کی ذاتی زندگیوں کے بارے میں بھی دلچسپ اور حیران کن حقائق سننے کو ملے۔
برلن میں اُسے جس اپارٹمنٹ میں ٹھہرایا گیا تھا، اُس کے مختلف حصوں میں دو نوجوان جرمن لڑکیاں بھی مقیم تھیں اور اُسے اُن کے ساتھ کچھ دلحسپ تجربات بھی ہوئے۔ اِس حوالے سے جرمنی اور یہاں کے باشندے بھی ہماری گفتگو کا موضوع رہتے تھے لیکن ہم نے اُن چند ہفتوں کے دوران برلن کی سیر بھی بہت کی اور کئی خوب صورت سڑکیں، گلیاں، باغ اور پارک دیکھ ڈالے۔ ایک دن آصف نے بتایا کہ ہائیڈل برگ میں اقبال چیئر پر پاکستان سے آئے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک برلن میں ہیں تو ہم دونوں اُن سے بھی ملنے اُن کے ہوٹل میں جا پہنچے۔ اُس روز ادب سے زیادہ پاکستان کے مختلف اہم ادیب اور اُن کی باہمی رنجشیں اور رقابتیں اُن دونوں کی گفتگو کا محور و مرکز تھیں جب کہ میں ایک بار پھر صرف ایک سامع تھا۔ وہ اردگرد سے بے خبر بالکل ویسے ہی مزے لے لے کر ایک دوسرے کو ادیبوں کے جھوٹے سچے قصے سنا رہے تھے، جیسے بڑی بوڑھیاں محلّے کے گھروں کے اندرونی حالات کو اپنی گپ شپ کا موضوع بناتی ہیں۔ ملک صاحب اپنے اُس تازہ مضمون کی بھی تفصیلات بتاتے رہے، جو وہ فیض احمد فیض پر لکھ رہے تھے۔ وہ ساری شام ہم تینوں نے اکٹھے گزاری، پھر مہارانی نامی ایک ریستوراں میں کھانا کھایا، جس کے بعد ہم فتح محمد ملک صاحب کو اُن کے ہوٹل تک چھوڑ کر آئے۔ اِس دوران آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا اور طے یہی ہوا تھا کہ ہم اب ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جائیں گے لیکن کچھ ہی دیر کے بعد ہم برلن کی مشہور ڈِسکو تھیک میٹروپول کے سامنے کھڑے تھے۔
دراصل چند ہی روز پہلے آصف کو گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اِس ڈِسکو تھیک کے دو پاس ملے تھے۔ تب اُس نے کہا تھا کہ یہ تو بے کار ہیں، وہ بھلا وہاں جا کر کیا کرے گا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ پہلے کبھی بھی کسی ڈِسکو تھیک میں نہیں گیا تو مجھے لگا کہ اب تو یہ لازمی ہو گیا ہے کہ بطور ایک ادیب کے وہ اِس تجربے سے بھی ضرور گزرے۔ اگرچہ خود مجھے بھی ایسی کسی جگہ پر جانے کا زیادہ اتفاق نہیں ہوا تھا لیکن چونکہ مجھے جرمنی میں رہتے ہوئے کئی سال ہو گئے تھے، اِس لیے اب ضروری تھا کہ مَیں اپنی ہمت مجتمع کروں اور اُسے ڈِسکو میں ضرور لے کر جاؤں۔ اندر سے میں ڈر بھی رہا تھا کہ کچھ ایسا نہ ہو جائے کہ یہ اُس کے لیے کوئی منفی تجربہ بن جائے لیکن اپنی یہ کیفیت مَیں نے آصف پر ظاہر نہیں ہونے دی۔ ڈِسکو میں داخل ہوتے ہی کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی موسیقی نے ہمارا خیر مقدم کیا۔ نوجوانوں کا ایک ہجوم رنگوں، روشنیوں اور مصنوعی دھوئیں کے بادلوں میں تیز دھُنوں پر دیوانہ وار رقص کر رہا تھا۔ جہاں جرمن لڑکیاں اور لڑکے قسم قسم کی شراب سے لطف اندوز ہو رہے تھے، وہاں ہم دونوں اپنا اپنا اورنج جُوس لے کر اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیلری میں پہنچ گئے، جہاں سے نیچے فلور کا سارا منظر زیادہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ آصف کی حیرت دیدنی تھی، اُس کے لیے یہ ایک انوکھا تجربہ تھا اور اُسے خوشی تھی کہ وہ میری بات مان کر یہاں چلا آیا تھا۔ جب ہم وہاں سے رخصت ہوئے تو رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔
1987میں علامہ اقبال کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال کی جرمن گورننس مسز ڈورس احمد ابھی حیات تھیں اور برلن ہی میں رہ رہی تھیں۔ ایک روز آصف نے اُن کے ساتھ ملاقات کا وقت طے کیا اور ہم دونوں اُن سے ملنے کے لیے جا پہنچے۔ مجھے ساتھ لے جانے میں آصف کو یہ بھی سہولت تھی کہ پھر اُسے راستہ تلاش کرنے کا تردد نہیں کرنا پڑنا تھا۔ دوسری سہولت بلاشبہ یہ تھی کہ جب وہ مسز ڈورس احمد کے ساتھ انٹرویو کرے گا تو میں کچھ تصاویر اتار لوں گا، جو بعد میں انٹرویو کے متن کے ساتھ شائع کی جا سکیں گی۔ یہ بھی ایک یادگار ملاقات تھی۔ ہم ایک ایسی شخصیت سے مل رہے تھے، جس نے علامہ اقبال اور اُن کے پورے گھرانے کو بہت ہی قریب رہ کر دیکھا ہوا تھا اور جانے کتنی ہی خوب صورت اور اہم یادیں تھیں، جو اُس روز مسز احمد نے اپنے انٹرویو میں آصف کو بتائیں۔ ساری باتیں انگریزی میں ہوئیں لیکن کبھی کبھی کوئی چیز وضاحت طلب رہ جاتی تھی تو میری جرمن کام آ جاتی تھی۔ جب ہم وہاں سے رخصت ہوئے تو آصف کے چہرے پر ایک بار پھر بے پایاں خوشی اور اطمینان نظر آ رہا تھا۔ اِس انٹرویو پر مبنی آصف کی تحریر پہلے انگریزی میں اور بعد میں اردو میں شائع ہوئی۔
مَیں چاروں جانب سے ایک بلند و بالا دیوار میں گھرے ہوئے مغربی برلن میں برسوں رہا لیکن تعلیمی مصروفیات اور غمِ روزگار نے اُسے غور اور توجہ سے دیکھنے کا موقع ہی نہ دیا۔ اِس کے برعکس آصف نے کم وقت ہی میں اِس شہر کو پوری طرح سے کھنگال ڈالا اور پھر اپنے قیام کے دنوں کے مشاہدات و تاثرات کو ایک کتاب کی شکل بھی دے دی۔ یہ کتاب ‘‘شہرِ علامات’’ تھی، جس کی اشاعت چند سال بعد ہی ممکن ہو سکی۔ اِس کتاب کے بارے میں میرے نام اپنے ایک خط میں آصف نے لکھا:‘‘خیال تھا کہ یہ سفر نامہ 1990 کے اوائل میں چھَپ جائے گا، مگر ناشر عین وقت پر دغا دے گیا اور کتاب جوں کی توں پڑی ہے۔ اِس کے چند ایک حصے مختلف رسالوں میں چھَپے ہیں۔ اِس کتاب کے کتنے ہی صفحے ہیں جو تمہاری رفاقت اور اُجلی مسکراہٹ سے روشن ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ گزرا ہوا وقت مُردہ ماضی نہیں ہوتا بلکہ کتاب کے صفحوں میں محفوظ ہو جاتا ہے، تو پھر ان صفحوں میں ہم اور تم دائمی طور پر ‘‘برلن نوردی’’ کر رہے ہیں!’’
آصف برلن میں اپنے دو مہینے گزار کر واپس پاکستان چلا گیا۔ گاہے گاہے ہمارے درمیان خطوط کا بھی تبادلہ ہوتا رہا۔ کوئی دو برس بعد اُس کا ایک خط آیا، جس میں لکھا تھا:‘‘مَیں امریکا میں سال بھر رہنے اور ماسٹرز کا کورس مکمل کرنے کے بعد کراچی واپس آ گیا ہوں۔ آغا خان یونیورسٹی میں بطور سینیئر انسٹرکٹر کام کر رہا ہوں۔ گرچہ مصروفیت جان لیوا ہے مگر کام اچھا ہے اور میرے ڈھب کا ہے۔ لکھنا پڑھنا وقت کی کمی کی وجہ سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ مَیں ان دنوں Newsline میں ادبی موضوعات پر لکھتا ہوں۔ یہ انگریزی کا ماہ نامہ ہے، جو کراچی سے نکلتا ہے۔ میرے انٹرویوز کا مجموعہ چھَپ چکا ہے۔ جرمنی کا سفر نامہ ‘‘شہرِ علامات’’ ابھی تک کسی باہمّت ناشر کا منتظر ہے۔’’
آصف فرخی کے ساتھ دوسری ملاقات ٹھیک دس سال بعد برلن ہی میں ہوئی۔ اِس دوران اِدھر بھی بہت کچھ بدل چکا تھا اور مَیں برلن چھوڑ کر چھ سو کلومیٹر دور کولون میں جرمنی کے بیرونی نشریات کے ادارے ڈوئچے ویلے کی اردو سروس سے وابستہ ہو چکا تھا۔ آصف کی رہنمائی میں پاکستانی ادیبوں کا ایک وفد 1997 میں برلن کے دورے پر آیا۔ اِس وفد میں خالدہ حسین، عطیہ داؤد اور احمد فراز کے ساتھ ساتھ انتظار حسین بھی شامل تھے۔ میں اپنے ہفتہ وار ادبی و ثقافتی پروگرام کہکشاں کے پروڈیوسر کی حیثیت سے ان ادیبوں کے انٹرویوز ریکارڈ کرنے کے لیے کولون سے برلن جا پہنچا۔ تب دیگر ادیبوں کے ساتھ ساتھ میں نے خود آصف فرخی کے ساتھ بھی اُس کی شخصیت اور ادبی تخلیقات کے حوالے سے ایک مفصل گفتگو ریکارڈ کی تھی۔
زندگی کی بھیڑ میں ہماری راہیں پھر سے جدا ہو گئیں لیکن خطوط کی وساطت سے رابطہ پھر بھی رہا۔ اگلے دو تین برسوں کے دوران اُس نے شہر زاد پریس کے ساتھ ساتھ ادبی جریدے دنیا زاد کی بھی بنیاد رکھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے ادبی منظر نامے میں اُس کی اہمیت بڑھتی چلی گئی، جس میں تب اور بھی اضافہ ہو گیا، جب اُس نے ہم خیال شخصیات کے ساتھ مل کر کراچی ادبی میلہ منظم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔
وہ امریکا جاتے ہوئے کئی بار جرمنی سے ہو کر گزرا۔ اِس دوران وہ ٹرانزٹ کے لیے فرینکفرٹ میں رکتا تھا۔ لیکن ہر بار ہی وہ اتنی عجلت میں ہوتا تھا کہ اُس سے ملاقات ممکن ہی نہیں ہو پاتی تھی۔ یہی عجلت اُس نے دنیا سے جانے میں بھی دکھائی۔ اِس کے بعد ہم کبھی نہ مل سکے۔ یہی سوچتا تھا کہ چلو آصف سے اس بار نہیں تو اگلی بار ملاقات ہو جائے گی۔ شاید صرف سوچتے ہی نہیں رہ جانا چاہیے، اولین فرصت میں مل لینا چاہیے، ملتے رہنا چاہیے۔ ڈاکٹر آصف اسلم فرخی کے چاہنے والوں کے لیے اُس کے انتقال کی خبر چار سال بعد بھی ناقابلِ یقین سی لگتی ہے لیکن زندگی بھر وہ اِس قدر سرگرم اور متحرک رہا کہ اُس کی خدمات، اُس کی تحریریں اور یادیں اُسے ایک زمانے تک زندہ رکھیں گی۔
تحریر: امجد علی، کولون، جرمنی

A review of the book "Milay Jo Kahkashan Mein" by the Novelist, Translator and Publisher Dr. Irfan Ahmad Khan.
15/04/2023

A review of the book "Milay Jo Kahkashan Mein" by the Novelist, Translator and Publisher Dr. Irfan Ahmad Khan.

“ملے جو کہکشاں میں”: ایک درجن سے زائد موسیقاروں، گلوکاروں اور نغمہ نگاروں کے انٹرویوز پر مشتمل اس کتاب کے آغاز پر ملکہء ...
08/02/2022

“ملے جو کہکشاں میں”: ایک درجن سے زائد موسیقاروں، گلوکاروں اور نغمہ نگاروں کے انٹرویوز پر مشتمل اس کتاب کے آغاز پر ملکہء ترنم نور جہاں کے تذکرے کے بعد دوسراانٹرویو سُروں کی ملکہ لتا منگیشکر کا ہے۔ کتاب اور لتا جی کے انتقال پر روزنامہ “دُنیا” میں عمار چوہدری صاحب کا کالم:

عمار چودھری کا کالمـ - لتا منگیشکر کا سحر 2022-02-08 کو روزنامہ دنیا میں شائع ہوا۔ پڑھنے کے لیے کلک کریں

چھ فروری کو ممبئی میں انتقال کر جانے والی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر نے ڈی ڈبلیو ریڈیو کے طویل ترین عرصے تک جاری رہنے وال...
06/02/2022

چھ فروری کو ممبئی میں انتقال کر جانے والی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر نے ڈی ڈبلیو ریڈیو کے طویل ترین عرصے تک جاری رہنے والے میگزین پروگرام کہکشاں کے لیے سن 2000ء میں ایک خصوصی انٹرویو دیا تھا۔ پروگرام کے میزبان امجد علی کے ساتھ ان کا یہ یادگار انٹرویو دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ہم اپنی سروس کو بہتر بنانے کے لیے کوکیز استعمال کرتے ہیں۔ اس بارے میں مزید تفصیلات ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق حصے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

Address

Ahmad Publications, 2-A, Syed Plaza, Chatterjee Road
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Milay Jo Kahkashaan Mein posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Milay Jo Kahkashaan Mein:

Share