01/02/2024
"وہ کھڑکی جو 1400 سال سے بند نہیں ہوئی!"
اگر آپ مواجہہ شریف پہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے کھڑے ہوں اور اپنے پیچھے نظر ڈالیں تو آپ کو ایک بڑی کھڑکی نظر آئے گی، یہ کھڑکی 1400 سال سے بند نہیں ہوئی. کیونکہ ایک عظیم صحابی نے اپنی بیٹی سے وعدہ کر رکھا ہے کہ یہ کھڑکی ہمیشہ کھلی رہے گی، اور یہ آج بھی کھلی ہے. یہ اب تک کا سب سے بڑا اور طویل وعدہ ہے۔
سنہ 17 ہجری میں اسلامی فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے خلیفہ دوم سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کا حکم دیا لیکن حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ایک بڑی مشکل درپیش تھی. وہ یہ کہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کا حجرہ جنوبی جانب اس جگہ واقع تھا، جہاں اب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صلوۃ و سلام کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا. اور اگر ہم یہ دیکھیں کہ یہ کمرہ جنوب کی طرف اکیلا ہے اور مسجد کے لیے اسی جانب توسیع کرنا پڑ رہی تھی، اس لیے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے حجرے کا ہٹانا ضروری تھا.
لیکن سوال یہ تھا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس حجرے کے خالی کرنے پہ کیسے آمادہ کیا جائے، جس میں ان کے شوہر صلی اللہ علیہ وسلم سویا کرتے تھے؟
سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی کے پاس آتے ہیں کہ انہیں اس بات پر آمادہ کیا جائے لیکن ام المؤمنين یہ سن کر پھوٹ کر رو پڑیں اور اپنے اس شرف و عزت بھرے حجرے سے نکلنے سے انکار کر دیا جس میں ان کے محبوب شوہر صلّی اللہ علیہ وسلم آرام فرمایا کرتے تھے.، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے واپس لوٹ آئے اور دو دن بعد دوبارہ یہی کوشش کی یہ لیکن معاملہ جوں کا توں تھا، ام المومنین دو ٹوک انکار کرتی جا رہی تھیں اور کوئی بھی انہیں اس بات پہ آمادہ کرنے کی کامیاب کوشش نہیں کر پا رہا تھا.
اب دیگر اصحاب رسول بھی ام المؤمنين کو راضی کرنے کے لیے کوشاں ہوئے، لیکن ام المومنین نے مختلف طریقوں سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ ایک شرف و عزت والے حجرے میں رہ رہی تھیں جہاں فقط ایک دیوار کے پار ان کے محبوب شوہر کی قبر مبارک تھی. وہ کیسے مطمئن ہو سکتی تھیں کہ انہیں اس سے دور کر دیا جائے؟ اب کے بار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر عمر بڑی خواتین ساتھیوں نے مداخلت کی، لیکن سیدہ حفصہ نے ایک بڑی شرط کے علاوہ اپنا فیصلہ ترک کرنے سے انکار کر دیا، اور وہ شرط یہی تھی کہ ان کے لیے ایک کھڑکی کھول دی جائے جہاں سے وہ اپنے محبوب شوہر صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو دیکھتی رہیں اور وہ کبھی بند بھی نہیں ہوگی۔ چنانچہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ شرط مان لی اور یہ وعدہ بھی کرلیا اور یہ وعدہ آج تک قائم ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے 1400 سال بعد بھی یہ کھڑکی کھلی ہوئی ہے.
اس کھڑکی کے متعدد نام "خوخہ حفصہ" اور "خوخہ عمر" ہیں جنہیں امام سیوطی اور ابن کثیر نے ذکر کیا ہے۔
آج تک جو بھی مسجد نبوی کا متولی بنا ہے، اس نے اس کھڑکی کی دیکھ بھال کی اور اس وقت سے لے کر آج تک حضرت فاروق عمر رضی اللہ عنہ کا وعدہ پورا کیا کہ یہ کبھی بند نہیں ہوئی۔
(یہ ابراہیم الجریری صاحب کی عربی پوسٹ کا ترجمہ کیا گیا ہے!) مترجم محمد اسماعیل
صل اللہ علیہ وآلہ وسلم
Translated from Urdu by
"The window that hasn't closed in 1400 years!"
If you stand to greet the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on Mujaha Sharif and look behind you, you will see a big window, this window has not been closed for 1400 years. Because a great companion has promised his daughter that this window will always remain open, and it is still open today. This is the biggest and longest promise ever.
Due to the large number of Muslims as a result of the Islamic conquests in the year 17 Hijri, the second Caliph Syedna Umar bin Al-Khattab (RA) ordered the expansion of the Prophet's Mosque, but Hazrat Farooq (RA) faced a big problem. That is, the room of Umm al-Mu'minin Sayyida Hafsa bint Umar (RA) was located on the southern side of the place, where people now stand for Salat and Salam for the Messenger of Allah (PBUH). This is the same place where Sayyida Hafsa's chamber was. And if we see that this room is alone on the south side and the mosque had to be extended on that side, then it was necessary to remove the room of Sayyida Hafsa bint Umar.
But the question was, how to persuade Sayyida Hafsa (RA) to vacate the room in which her husband (PBUH) used to sleep?
So Sayyiduna Umar (R.A.) came to his daughter to persuade her to do this, but Umm al-Mo'minin burst into tears after hearing this and refused to leave her honorable room in which her beloved husband lived. Peace and blessings of Allah be upon him used to rest. So Umar returned and after two days tried the same thing again. I was not able to successfully try to persuade him.
Now the other Companions of the Messenger also tried to convince Umm al-Mu'minin, but Umm al-Mu'minin refused in different ways, because she was living in an honorable room where only across one wall was the grave of her beloved husband. was happy How could she be content to be taken away from him? This time Sayyida Aisha and other older women companions intervened, but Sayyida Hafsa refused to give up her decision except on one major condition, and that was to open a window for her. From where she keeps looking at the blessed grave of her beloved husband and it will never be closed. So, Sayyiduna Umar bin Al-Khattab (RA) agreed to this condition and made this promise, and this promise is still valid today, and this window is still open 1400 years after the death of Sayyida Hafsa (RA).
The multiple names of this window are "Khukha Hafsa" and "Khukha Umar" mentioned by Imam Suyuti and Ibn Kathir.
To this day whoever became the guardian of Masjid Nabawi took care of this window and fulfilled the promise of Hazrat Farooq Umar (RA) that it was never closed from that time till today.
(This is a translation of the Arabic post of Ibrahim Al-Jariri Sahib!) Translated by Muhammad Ismail
Peace be upon him
Time of Hazara (ٹائم آف ھزارہ)
socialcam.site سوشل کیم
@