Shaam E Ghazal

Shaam E Ghazal پیاری اردو شاعری

27/08/2025

دُنیا ہے کتنی ظالم ہنستی ہے دِل دُکھا کے
پھر بھی نہیں بُجھائے ہم نے دِیئے وفا کے
ہم نے سلوکِ یاراں دیکھا جو دُشمنوں سا
بھر آیا دِل ہمارا ، روئے ہیں منہ چُھپا کے
کیونکر نہ ہم بٹھائیں پلکوں پہ اِن غموں کو
شام و سحر یہی تو مِلتے ہیں ،،، مُسکرا کے
تاعُمر اِس ہنر سے اپنی نہ جان چُھوٹی
کھاتے رہیں ہیں پتّھر ہم آئینہ دِکھا کے
اُس زلفِ خم بہ خم کا سر سے گیا نہ سودا
دُنیا نے ہم کو دیکھا ،،، سو بار آزما کے
”جالبؔ“ ہُوا قفس میں یہ راز آشکارا
اہلِ جُنوں کے بھی تھے کیا حوصلے بلا کے
(شاعرِ انقلاب)
حبیب جالبؔ ¹⁹⁹

27/08/2025

دل بھی بجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں
آنکھوں کی سرخ لہر ہے موجِ سپردگی
یہ کیا ضرور ہے کہ اب انگڑائیاں بھی ہوں
!ہر حسنِ سادہ لوح نہ دل میں اتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں
دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سحن آرائیاں بھی ہوں
پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں
احمد فراز

29/07/2025

وہ عشق جو ھم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

اک ھجر جو ھم کو لاحق ھے، تا دیر اسے دھرائیں کیا
وہ زھر جو دل میں اتار لیا، پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا

اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ھی سارا جلتا ھو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا

پھر آنکھیں لہو سے خالی ھیں، یہ شمعیں بجھنے والی ھیں
ہم خود بھی کسی سے سوالی ھیں،اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

ھم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ھم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ھو تو بتائیں کیا

اطہر نفیس

29/07/2025

ممکن ہے کہ کھا جائے یہ ہجرت اُسے کہنا
ہم جھیل رہے ہیں تری قلت اُسے کہنا

ہاتھوں کی لکیروں میں ترا نام نہیں ہے
اور بڑھتی چلی جاتی ہے چاہت اُسے کہنا

اک بار پلٹ آئے سینے سے لگا لے
اب سانسوں میں ہونے لگی دقت اُسے کہنا

کسی شخص کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا
ہاں لہجوں میں آ جاتی ہے شدت اُسے کہنا

کہنا کہ زمانے تو گزر جائیں گے لیکن
مُجھ سے نہیں گزرے گا وہ لمحہ اُسے کہنا
(حسینہ معین)

21/07/2025

زلفیں ہیں جیسے کاندھے پہ بادل جھکے ہوئے
آنکھیں ہیں جیسے مئے کے پیالے بھرے ہوئے
مستی ہے جس میں پیار کی تم ، وہ شراب ہو
چودھویں کا چاند ہو، یا آفتاب ہو
جو بھی ہو تم خدا کی قسم، لاجواب ہو
چہرہ ہے جیسے جھیل میں کھلتا ہوا کنول
یا زندگی کے ساز پہ چھیڑی ہوئی غزل
جانِ بہار تم کسی شاعر کا خواب ہو
چودھویں کا چاند ہو، یا آفتاب ہو
جو بھی ہو تم خدا کی قسم، لاجواب ہو
ہونٹوں پہ کھیلتی ہیں تبسم کی بجلیاں
سجدے تمہاری راہ میں کرتی ہیں کہکشاں
دنیائے حسن و عشق کا تم ہی شباب ہو
چودھویں کا چاند ہو، یا آفتاب ہو
جو بھی ہو تم خدا کی قسم، لاجواب ہو

18/07/2025

جُستَجُو کھوئے ہوؤں کی عُمر بَھر کرتے رہے
چاند کے ہم رَاہ ہم ہر شَب سفر کرتے رہے

راستوں کا عِلم تھا ہم کو نہ سِمتوں کی خبر
شہر نا معلوم کی چاہت مگر کرتے رہے

ہم نے خُود سے بھی چُھپایا اور سارے شِہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و دَر کرتے رہے

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اُس شام بھی
اِنتظار اُس کا مگر کُچھ سُوچ کر کرتے رہے

آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اُڑانوں کا خیال
جِن کو تیرے زُعْم میں بے بال و پر کرتے رہے

16/07/2025

ذی حالِ مسکیں مکن بہ رنجش
بحا لِ ھجراں بے چارہ دل ھے

سنائی دیتی ہے جسکی دھڑکن
تمھارا دل یا ہمارا دل ہے

وہ آکے پہلو میں ایسے بیٹھے
کہ شام رنگین ھو گئی ہے

ذرا ذرا سی کھلی طبیعت
ذرا سی غمگین ہو گئ ہے

یہ شرم ہے یا حیا ہے کیا ہے؟؟؟
نظر اُٹھاتے ہی جھک گئی ہے

تمہاری آنکھوں پہ گر کے شبنم
ہماری پلکوں پہ رک گئی ہے

عجیب ہیں دل کے زخم یارو
نہ ہوں تو مشکل ہے جینا اس کا

جو ہو تو ہر درد ایک ہیرا
ہر ایک غم ہے نگینہ اس کا

سنائی دیتی ہے جسکی دھڑکن
تمھارا دل یا ہمارا دل ہے..

گلزار

30/06/2025

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا
مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں

وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہے
اس ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں

تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو
تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں

کیفی اعظمی

25/06/2025

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے
وہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے
جو کہی گئی ہے مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہے
کہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے
شب انتظار آخر کبھی ہوگی مختصر بھی
یہ چراغ بجھ رہے ہیں مرے ساتھ جلتے جلتے
کیفی اعظمی

25/06/2025

یوں تیری رہ گزر سے دیوانہ وار گزرے
کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے
بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
شاید اسی طرف سے اک دن بہار گزرے
دار و رسن سے دل تک سب راستے ادھورے
جو ایک بار گزرے وہ بار بار گزرے
بہتی ہوئی یہ ندیا گھلتے ہوئے کنارے
کوئی تو پار اترے کوئی تو پار گزرے
مسجد کے زیر سایہ بیٹھے تو تھک تھکا کر
بولا ہر اک منارہ تجھ سے ہزار گزرے
قربان اس نظر پہ مریم کی سادگی بھی
سائے سے جس نظر کے سو کردگار گزرے
تو نے بھی ہم کو دیکھا ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
تو دل ہی ہار گزرا ہم جان ہار گزرے
مینا کماری ناز

Address

Balyah
Kotli
25022

Telephone

00393477176933

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaam E Ghazal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share