27/10/2025
غزل
کمال ہے کہ لوگ تھے جِنہیں جفا عزیز تھی
ہَمیں تو خیر ہِجر کی مِلی سزا عَزیز تھی
ہماری ذات پہ کِسی نے کَر رکھے تعویز تھے
جو نفرتوں کے دور میں ہمیں وفا عزیز تھی
طبیب تھا طبیب نے دوا بھی دی تو چِھین لی
مَریض تھا مَریض کو وہی دوا عَزیز تھی
وہ دِل لگی کا کھیل تھا جو دیر تک نہ ٹِک سکا
ہمیں وفا عزیز تھی اُسے انا عزیز تھی
مَگر وہ بات اَب تلک کِسی کے عِلم میں نہیں
کوئی تو بات تھی جو اُس کو بے وفا عزیز تھی
وہ دِل فریب عادتوں میں دِل فریب رہ گیا
ہَمیں تو اُس کی دِل فریب ہَر ادا عزیز تھی
شاعر: Kawish Khan Kawish Official Kawish Aslam