30/12/2025
پوٹن کے گھر پر حملے کے بعد روس یوکرین امن مزاکرات خطرے میں
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات کو اس وقت شدید دھچکا لگا، جب روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی افواج نے صدر ولادیمیر پوٹن کی ایک رہائش گاہ پر ڈرون سے حملہ کیا ہے۔
روس نے پیر کے روز کہا کہ صدر ولادیمیر پوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد ماسکو جنگ سے متعلق امن مذاکرات پر اپنے موقف میں نظرثانی کرنے پر غور کر رہا ہے۔ روس نے پوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کی ذمہ داری یوکرین پر عائد کی ہے۔ البتہ ماسکو نے اپنے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔
ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے "مکمل من گھڑت" قرار دیا اور روس پر الزام لگایا کہ وہ کییف میں سرکاری عمارتوں پر حملے کے لیے زمین تیار کر رہا ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ کییف نے روس کے شمال مغربی نوگوروڈ علاقے میں واقع پوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر طویل فاصلے تک مار کرنے والی بغیر پائلٹ والی تقریبا 90 فضائی گاڑيوں کا استعمال کرتے ہوئے رات کے دوران حملہ کیا۔
اس دوران روس کے اپنے علاقائی عزائم پر ثابت قدم رہنے کے ارادے کی نشاندہی کرتے ہوئے، صدر پوٹن نے کہا کہ ان کے جرنیلوں کو زاپوریژیا کے تمام خطے کو محفوظ بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔ واضح رہے اس خطے پر ماسکو کو پہلے ہی سے تقریباً 75 فیصد کنٹرول حاصل ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے لنک پہلے کمنٹ میں!