Fakhar Shahzad MFS

Fakhar Shahzad MFS Poetry + quotes
Motivational Line's

بچپن کی جھلک۔۔۔جون کی تپتی دوپہر اپنے پورے جوبن پر تھی، سورج جیسے آسمان سے آگ کے انگارے برسا رہا تھا۔ دور تک پھیلی پختہ ...
14/06/2026

بچپن کی جھلک۔۔۔
جون کی تپتی دوپہر اپنے پورے جوبن پر تھی، سورج جیسے آسمان سے آگ کے انگارے برسا رہا تھا۔ دور تک پھیلی پختہ سڑک سے گرمی کی لپٹیں اور تپش ابلتی ہوئی صاف دیکھی جا سکتی تھیں، جو نظروں کے سامنے منظر کو دھندلا رہی تھیں۔ افتخار، جو زندگی کی تگ و دو اور شہر کی بے رحم، مشینی بھاگم بھاگ سے چور ہو چکا تھا، اس وقت تھکن سے نڈھال تھا۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے موٹے موٹے قطرے چمک رہے تھے، اور گرمی کی شدت سے اس کا حلق کانٹے کی طرح سوکھ رہا تھا۔ وہ پناہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک سڑک کنارے ایک شریں کے درخت پر اس کی نظر پڑی۔ اس کی گھنی، پھیلتی ہری بھری ٹہنیاں کسی مہربان دل کے پھیلے ہوئے بازوؤں کی مانند لگ رہی تھیں۔
افتخار نے موٹر سائیکل کا رخ اس کی طرف کر دیا اس کے سائے تلے پناہ لی اور نم آلود زمین پر سستانے کے لیے بیٹھ گیا۔
ابھی اسے بیٹھے چند ہی لمحے ہوئے تھے کہ پتوں کی سرسراہٹ کے ساتھ ہوا کا ایک نرم، ریشمی اور یخ بستہ جھونکا اس کے چہرے کو چھو کر گزرا۔ افتخار کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئیں۔ وہ ہوا اتنی سحر انگیز اور قدرتی طور پر ٹھنڈی تھی کہ بڑے سے بڑے ائیر کنڈیشنر (AC) کی بناوٹی ہوا بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ درخت کی گھنی، گہری چھاؤں نے زمین پر مخمل کی چادر بچھا رکھی تھی، جہاں تپتی دھوپ کی ایک چٹکی بھی داخل ہونے کا راستہ نہیں پا رہی تھی۔ پتے آپس میں ٹکرا کر ایک مدہم سا راگ الاپ رہے تھے۔ افتخار نے ایک گہرا، پرسکون سانس لیا اور اس کے لبوں سے بے اختیار، دل کی گہرائیوں سے نکلا، "سبحان اللہ!" وہ قدرت کے اس انمول کرشمے اور کمال پر سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے اس لمحاتی جنت سے لطف اندوز ہونے لگا۔
کچھ دیر بعد جب اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں، تو اس کی نظر سامنے بہتی ایک بل کھاتی، پتلی سی ندی پر پڑی۔ ندی کا شفاف، نیلا پانی دوپہر کی دھوپ میں پگھلی ہوئی چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کرسٹل جیسے پانی میں چار پانچ بچے، چہروں پر دنیا جہاں سے بے نیازی سجائے، شور مچاتے ہوئے نہا رہے تھے۔ کوئی ندی کے کنارے مٹی کے مینڈھے پر چڑھ کر پانی میں چھلانگ لگا رہا تھا، تو کوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے دوسرے پر پانی اچھال کر قہقہے لگا رہا تھا۔ پانی کی بوندیں جب ان کے دھوپ سے جھلسے چہروں پر گرتیں، تو ان کی معصوم مسکراہٹیں فضا میں جادو سا بکھیر دیتیں۔ ان کی کھلکھلاہٹیں ندی کے بہاؤ کے ساتھ مل کر ایک مسحور کن موسیقی پیدا کر رہی تھیں۔
بچوں کو اس طرح بے فکری کی انتہا پر کھیلتے دیکھ کر افتخار کے دل میں جیسے ایک دم سے وقت کا پہیہ الٹا گھوم گیا۔ وہ ایک ٹک، بنا پلک جھپکائے انہیں دیکھتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے موجودہ دنیا، زمان و مکان کے سارے بندھنوں کو توڑ کر اپنے ماضی کے نہاں خانوں میں اتر گیا۔
وہ اپنے بچپن کی وادی میں ڈوب گیا۔
اسے صاف یاد آیا کہ وہ بھی کبھی یوں ہی، ننگے پاؤں اور پھٹی ہوئی آستینوں کے ساتھ، کڑکتی دوپہروں میں ماں کی نظروں سے بچ بچا کر گھر کی دہلیز پار کر جایا کرتا تھا۔ ندی کا وہ ہڈیوں کو چھوتا ہوا ٹھنڈا پانی، دوستوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بے ساختہ ہنسنا، برسات کے پانی میں تیرتی کاغذ کی وہ کشتیاں، اور کنارے پر بنائے جانے والے وہ مٹی کے کچے گھروندے جنہیں لہریں مٹا دیتیں پر دل نہیں دکھتا تھا... سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ابلتے ہوئے رنگوں کی طرح زندہ ہو گیا۔ افتخار کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ایک گہری، دھیمی اور انتہائی خوبصورت مسکراہٹ تیر گئی۔ وہ سوچوں کے نیلے سمندر میں غوطہ زن تھا، پرسکون ہوا کے جھونکے اس کے بکھرے بالوں کو سہلا رہے تھے اور وہ اس پرفسون ماحول میں گم، اپنے بیتے ہوئے سنہری دنوں کو دوبارہ جی رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا، جس نے زندگی کے اس خشک صحرا میں اسے چند لمحوں کے لیے ہی سہی، اس پاکیزہ اور سچے سکون کا گھونٹ پلایا تھا۔
وہ ابھی بچپن کی اسی مخملی ریت پر ٹہل ہی رہا تھا کہ اچانک پسِ منظر سے ایک بھاری آواز گونجی
افتخار بھائی اٹھو یار، چلو... دیر ہو رہی ہے، آگے دفتر بھی پہنچنا ہے اور کلائنٹ بھی انتظار کر رہا ہوگا۔۔
وہ آواز کسی وزنی پتھر کی طرح اس کے خوابوں کے نازک شیش محل پر لگی۔ ایک زوردار، تکلیف دہ جھٹکے کے ساتھ وہ سارے حسین خواب، وہ چاندی جیسی ندی، وہ بچپن کے قہقہے لمحوں میں ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ وہ ایک دم سے چونک کر ہوش کی تلخ دنیا میں واپس پلٹ آیا۔
اس نے سامنے دیکھا جہاں اب ندی تو تھی، مگر اس کے ماتھے پر پسینہ پھر سے نمودار ہو چکا تھا۔ اس نے گرد و غبار سے اٹی سڑک کو دیکھا، اپنے لیدر کے بیگ اور اس میں دبی فائلوں پر نظر ڈالی، اور ایک لمبی، سرد آہ بھری۔ اسے شدت سے احساس ہوا کہ وہ معصومیت، وہ بے فکری اور وہ ہنستا ہوا بچپن تو وہ کہیں دور، ہزاروں سال پیچھے ماضی کے کسی موڑ پر چھوڑ کر آ چکا ہے۔ اب تو وہ زندگی کی اس اندھی ریس، پیٹ کی دوزخ اور وقت کی تیز رفتار بھاگم بھاگ کا قیدی ہے، جہاں ایک لمحے کو رکنے کا مطلب کچل دیا جانا ہے۔
اس نے ایک حسرت بھری آخری نظر ندی میں غوطے کھاتے بچوں پر ڈالی، اپنے کوٹ کو سیدھا کیا، مٹی جھاڑی اور تیز قدموں سے اپنے موٹر سائیکل کی طرح چل دیا دوبارہ شہر کے اسی اژدھام کا حصہ بننے کے لیے آگے بڑھ گیا... مگر اس کی روح، اس کا دل، اب بھی اسی شریں کی ٹھنڈی چھاؤں میں، ندی کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔

از قلم فخرشہزاد ایم ایف ایس

غزلتو بھی یارا سمجھ نہ پایا۔میرا مسئلہ سمجھ نہ پایا۔پوری دنیا میں ایک بھی شخصمیرا رتبہ سمجھ نہ پایا۔لوگ سمجھے مجھے حرفِ ...
10/06/2026

غزل

تو بھی یارا سمجھ نہ پایا۔
میرا مسئلہ سمجھ نہ پایا۔

پوری دنیا میں ایک بھی شخص
میرا رتبہ سمجھ نہ پایا۔

لوگ سمجھے مجھے حرفِ غلط
کوئی قصہ سمجھ نہ پایا

دشتِ تنہائی میں بھٹکا ہوں میں
کوئی رستہ سمجھ نہ پایا

زندگی خواب تھی اک رات کی
کوئی دھوکہ سمجھ نہ پایا

میں نے دنیا کو بہت جانا ہے
پر وہ نکتہ سمجھ نہ پایا

دل کے دردوں کو جو سمجھ لیتا
وہ بھی وعدہ سمجھ نہ پایا

میں نے اپنوں سے کیا تھا گلہ
کوئی شکوه سمجھ نہ پایا

فخرشہزاد ایم ایف ایس

الحمدللہ رب العالمین 🥰 500 موضوعات پر مشتمل کتاب کی مقبولیت آپ کے سامنے ہےپس۔۔۔بات جو میری بنی ہے سب یہ تیری بات ہےورنہ ...
08/06/2026

الحمدللہ رب العالمین 🥰 500 موضوعات پر مشتمل کتاب کی مقبولیت آپ کے سامنے ہے
پس۔۔۔
بات جو میری بنی ہے سب یہ تیری بات ہے
ورنہ میری کیا حقیقت میری کیا اوقات ہے

کتاب کن فیکون (حقیقت سے ملاقات)
مصنف فخرشہزاد ایم ایف ایس

23/05/2026

مٹ گیا نقشِ دو جہاں جب سے
دھوپ چادر ہے، لا مکاں سایہ

فخرشہزاد ایم ایف ایس

زیرِ قلم کتاب "کن فیکون" کے متعدد موضوعات میں سے ایک موضوع اہلِ ذوق کی خدمت میں پیش ہے۔واضح رہے کہ اس کتاب میں تصوف، شعو...
22/05/2026

زیرِ قلم کتاب "کن فیکون" کے متعدد موضوعات میں سے ایک موضوع اہلِ ذوق کی خدمت میں پیش ہے۔
واضح رہے کہ اس کتاب میں تصوف، شعور، فکر ، زمانہ اور روحانیت سے جڑے تقریباً 500 موضوعات کو قلم بند کیا جا رہا ہے۔
مصنف فخرشہزاد ایم ایف ایس

ناول: نگاہِ عشقمصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایسآخری قسطمنظر 1چھ ماہ بعد۔۔۔(سٹی تھانے کے تشویشی کمرے میں مدھم روشنی ہے، سگریٹ ...
19/05/2026

ناول: نگاہِ عشق
مصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایس
آخری قسط
منظر 1
چھ ماہ بعد۔۔۔
(سٹی تھانے کے تشویشی کمرے میں مدھم روشنی ہے، سگریٹ کا دھواں فضا میں معلق ہے۔ میز کے ایک طرف انسپیکٹر جہانگیر اور ایس ایچ او خاور سنجیدہ چہروں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف فیضان جبار، جس کے چہرے پر تھکن اور خوف کے آثار ہیں، ہتھکڑیوں میں جکڑا بیٹھا ہے۔)
(ایک لیپ ٹاپ کی سکرین خاور کی طرف گھماتے ہوئے) "سر! ویڈیو آپ دیکھ رہے ہیں۔ مجھے اس لڑکے پر پہلے دن سے شک تھا۔ میں نے اپنا ایک خاص مخبر اس کے پیچھے لگایا ہوا تھا۔"
جہانگیر نے اپنی کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہوئے دبی آواز میں کہا۔
"ویڈیو پر نظریں جمائے ہوئے ہوں۔۔۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ ندی کے کنارے لاش ٹھکانے لگا رہا ہے۔"
خاور نے ویڈیو کے مناظر میں کھوئے ہوئے، انتہائی سنجیدگی سے تبصرہ کیا۔
"جی سر! اس واقعے کے فوراً بعد یہ غائب ہو گیا تھا۔ چھ ماہ تک ہم نے خاک چھانی ہے، تب جا کر آج یہ ہتھے چڑھا ہے۔"
جہانگیر نے اپنی انتھک محنت کا حوالہ دیتے ہوئے اطمینان سے بتایا۔
"سیٹھ جبار کا اکلوتا لاڈلا۔۔۔ اب بولے گا۔ جہانگیر! کیمرہ آن کرو، اس کا اعترافی بیان ریکارڈ کرنا ہے۔"
خاور نے فیضان پر ایک سرد اور شکاری نظر ڈالتے ہوئے حکم دیا۔
(جہانگیر کیمرہ آن کرتا ہے۔ ریڈ لائٹ جلتی ہے۔ فیضان کی آنکھوں میں خوف کی جھلک ابھرتی ہے۔)
"ہاں بھئی فیضان جبار! اب سچ سچ بتاؤ، اس رات کیا ہوا تھا؟"
خاور نے کرخت اور رعب دار لہجے میں سوال داغا۔
منظر 2 (فلیش بیک - 6 ماہ قبل)
(کمرہ بکھرا ہوا ہے۔ بیڈ پر مہوش اور فیضان بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ ماحول میں بظاہر سکون ہے مگر تناؤ کی لہریں موجود ہیں۔)
(فیضان کا ہاتھ تھامتے ہوئے) "فیضان! آخر کب تک ہم یوں چھپ چھپ کر ملتے رہیں گے؟ اب بہت وقت گزر گیا ہے، ہمیں شادی کر لینی چاہیے۔"
مہوش نے مستقبل کی امید لیے، ملتجیانہ انداز میں کہا۔
(ایک دم ہاتھ چھڑاتے ہوئے، قہقہہ لگا کر) "شادی؟ اور تم سے؟ پاگل ہو گئی ہو کیا؟ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ فیضان جبار تم جیسی لڑکی کو اپنے گھر کی عزت بنائے گا؟"
فیضان نے تمسخر اڑاتے ہوئے انتہائی بے رحمی سے اسے جھڑکا۔
"یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم تو مجھ سے محبت کے دعوے کرتے تھے، زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھاتے تھے۔"
مہوش کی آواز صدمے اور ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی وجہ سے تھرتھرانے لگی۔
"دیکھو مہوش! وقت گزاری کو محبت کا نام مت دو۔ میں نے تمہیں تمہارے ایک ایک پل کا معاوضہ دیا ہے۔ جو مانگا، وہ تمہارے قدموں میں ڈھیر کیا۔ اب یہ 'عشق' والا ڈرامہ بند کرو۔"
فیضان نے سفاکی سے حقیقت بیان کرتے ہوئے اسے جتایا۔
"ٹھیک کہتی تھیں میری دوستیں۔۔۔ کہ تم جیسے لوگ صرف جسموں سے کھیلتے ہیں، جذبات سے نہیں۔ تم ایک درندے ہو۔"
مہوش نے نفرت اور حقارت سے بھرے لہجے میں اسے کوسا۔
"زبان سنبھال کر بات کرو! اور ہاں، یہ شادی کے خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ اگر چاہو تو عمر بھر میرے ساتھ اسی 'تعلق' میں رہ سکتی ہو، لیکن بیوی بننے کی اوقات تمہاری نہیں ہے۔"
فیضان نے غصے سے دانت پیستے ہوئے اپنی اوقات دکھائی۔
"تم نیچ ہو فیضان! میں ابھی تمہارے باپ کے پاس جاؤں گی، سب کو بتاؤں گی کہ تم کتنے گرے ہوئے انسان ہو۔"
مہوش نے تڑپ کر آخری ہتھیار کے طور پر دھمکی دی۔
(جھگڑا بڑھ جاتا ہے۔ مہوش، فیضان کا گریبان پکڑتی ہے اور اسے دھکا دیتی ہے۔ فیضان غصے میں اندھا ہو کر مہوش کا گلا دبوچ لیتا ہے اور اسے دیوار سے دے مارتا ہے۔ مہوش کا سر زور سے الماری کے کونے سے ٹکراتا ہے اور وہ زمین پر گر جاتی ہے۔ تھوری دیر تڑپنے کے بعد وہ ساکت ہو جاتی ہے۔)
"مہوش۔۔۔ مہوش اٹھو! یہ کیا ڈرامہ ہے؟"
فیضان نے بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ میں اسے پکارا۔
منظر 3 (ندی کا کنارہ)
(سنسان سڑک، دور دور تک کوئی نہیں ہے۔ فیضان کی گاڑی ندی کے پاس آ کر رکتی ہے۔ وہ ڈگی کھولتا ہے، لاش نکالتا ہے اور بوجھل قدموں سے ندی کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ ایک گہرے سانس کے ساتھ لاش کو پانی میں دھکا دیتا ہے۔ پانی کی چھپاک کی آواز سنائی دیتی ہے۔)
منظر 4 (واپس حال - انویسٹی گیشن روم)
(فیضان کا بیان ختم ہوتا ہے۔ وہ سر جھکائے سسکیاں لے رہا ہے۔)
"جہانگیر! اس کا یہ لائیو بیان بہت سنبھال کر رکھنا۔ یہ ہمارا سب سے بڑا ثبوت ہے۔"
خاور نے کسی بڑی کامیابی کے احساس کے ساتھ تاکید کی۔
(دونوں کمرے سے باہر نکل کر ایس ایچ او کے دفتر میں آ جاتے ہیں۔)
منظر 5 (ایس ایچ او کا دفتر)
(جہانگیر دروازہ بند کرتا ہے اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔)
"سر! ہم جانتے ہیں کہ فیضان جبار کس کا بیٹا ہے۔ سیٹھ جبار کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ اس کے لیے کیس ختم کرنا، گواہ خریدنا یا ضمانت کروانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ کل صبح تک بڑے بڑے لوگوں کے فون آ جائیں گے اور یہ آزاد ہوگا۔"
جہانگیر نے تلخ حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی۔
"تو تم کیا چاہتے ہو؟ کیا ہم ایک قاتل کو یوں ہی چھوڑ دیں؟"
خاور نے مصلحت اور غصے کے ملے جلے تاثر سے پوچھا۔
"سر! میری سمجھ میں تو ایک ہی راستہ آتا ہے۔ اس جیسے درندے کو قانون کے چنگل سے نکلنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ اس کا انکاؤنٹر کرنا ہوگا۔"
جہانگیر نے دو ٹوک اور خطرناک لہجے میں تجویز پیش کی۔
"انکاؤنٹر؟ جہانگیر، یہ بہت بڑا رسک ہے۔"
خاور نے ہچکچاہٹ اور خوف کے زیر اثر دبی آواز میں کہا۔
"سر! معاشرے کو ایسے ناسوروں سے بچانے کا یہی طریقہ ہے۔ ہم ایک پلان بناتے ہیں۔ کل صبح جب اسے عدالت لے جانے کے لیے جیپ میں بٹھائیں گے، تو راستے میں 'سنسان موڑ' پر یہ ڈرامہ رچائیں گے کہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی، پولیس پر حملہ کیا اور جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔"
جہانگیر نے عزم مصمم کے ساتھ پورا نقشہ کھینچا۔
"ٹھیک ہے۔۔۔ انسانیت کے ناطے یہی انصاف ہے۔ صبح پانچ بجے ٹیم تیار ہونی چاہیے۔ فائل میں لکھ دینا کہ ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی۔"
خاور نے بھاری دل مگر پختہ ارادے سے منظوری دی۔
(سلیوٹ کرتے ہوئے) "یس سر! کل کا سورج فیضان جبار کی زندگی کی آخری صبح ہوگی۔"
جہانگیر نے پرجوش اور حتمی لہجے میں عزم دہرایا۔
منظر 6
(منصور کمرے میں ایک سادہ سے بیڈ پر لیٹا ہوا ہے۔ اس کی حالت کچھ ناقص ہے، اچانک دروازہ کھلتا ہے۔)
"السلام علیکم۔ میں آ جاؤں؟"
لاریب نے انتہائی ادب اور فکر مندی سے اجازت چاہی۔
(منصور آہستہ سے آنکھیں کھولتا ہے اور لاریب کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سا اطمینان ہے۔)
"وعلیکم السلام۔ آ جاؤ لاریب، تمہارا ہی انتظار تھا۔"
منصور نے نحیف مگر پرسکون آواز میں اسے پکارا۔
(لاریب بیڈ کے پاس آتی ہے اور منصور کی حالت دیکھ کر اس کا دل پسیج جاتا ہے۔)
"سر، آپ کی طبیعت کا پتا چلا۔ میں تو بہت پریشان تھی۔"
لاریب نے نمناک آنکھوں سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
"کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ سب اللہ کی رضا ہے۔ آؤ بیٹھو، تمہیں ایک بات بتانی ہے۔ ذرا۔"
منصور نے ایک درویشانہ بے نیازی سے مسکراتے ہوئے اسے قریب بلایا۔
(لاریب ایک کرسی کھینچ کر بیڈ کے پاس بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں سوال ہے۔)
"جی، کیا بات؟"
لاریب نے پوری توجہ سے دریافت کیا۔
(منصور اپنے پاس بیڈ پر پڑے ایک چھوٹے سے، لیکن نفیس اور قدیمی نظر آنے والے تحفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ تحفہ ایک پرانی نقش و نگار والی لکڑی کی ڈبیا ہے، جس پر کوئی خاص دعا یا نام کندہ ہے)
(تحفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) "یہ دیکھ رہی ہو؟"
منصور نے معنی خیزی سے پوچھا۔
"جی، دیکھ رہی ہوں۔"
لاریب نے غور سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
"سنو۔"
منصور نے سنجیدگی سے مخاطب کیا اور اس کی آنکھیں دور خلا میں دیکھنے لگیں، جیسے ماضی کی پرتیں کھل رہی ہوں۔
منظر 7 (فلیش بیک)
(پیر عنایت اللہ شاہ کا آستانہ ایک پرسکون اور روحانی جگہ ہے۔)
"شاہ صاحب! بچپن میں بھی یہ آپ کے تعویذ سے ٹھیک ہوا تھا۔ اب بھی آپ کے پاس لائی ہوں۔ یہ جو بھی کام کرتا ہے، جب کامیاب ہونے لگتا ہے تو کہتا ہے، 'یہ میرا کام نہیں ہے، یہ میرا راستہ نہیں ہے'۔ چھوڑ دیتا ہے۔ اب اس کی شادی کی ہے، تو یہ کہتا ہے، مجھے کہیں تنہا رہنا ہے۔"
منصور کی ماں ہاجرہ نے پریشانی اور بے بسی سے پیر صاحب کو حال سنایا۔
(پیر عنایت اللہ شاہ منصور کی طرف دیکھتے ہیں، ان کی آنکھوں میں دانائی اور شفقت ہے۔)
"بی بی، میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ اس کے راستے الگ ہیں۔ اس نے کوئی اور کام کرنا ہے۔ اسے ہر طرح سے اجازت دے دو۔ باقی میں اسے سمجھا دیتا ہوں۔ تم ذرا باہر جاؤ۔"
پیر صاحب نے ایک روحانی پیشوا کے رعب اور مٹھاس سے اسے تسلی دی۔
(منصور کی ماں کچھ ہچکچاتی ہے، لیکن پھر پیر صاحب کا احترام کرتے ہوئے باہر چلی جاتی ہے۔ پیر عنایت اللہ شاہ اب منصور کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔)
"تم نے بہت امتحان پاس کیے ہیں، منصور۔ اب تم نے خدا کے کام کرنے ہیں۔ لوگوں کی اصلاح کرنی ہے۔ مجھے پتا ہے تم تنہا ہونے کی کیوں اجازت چاہتے ہو۔ تنہا رہو تم۔ لیکن ایک بات کا خیال رکھنا۔ گھر کے خرچ کی ذمہ داری کبھی نہ بھولنا۔ اور اپنے بیوی بچوں کی ازواجی زندگی کی ضرورت پوری کرنا۔"
شاہ صاحب نے ایک مرشد کے انداز میں اسے زندگی کا مقصد اور ذمہ داریاں سمجھائیں۔
(منصور سر جھکا کر سنتا ہے، اس کے چہرے پر فرمانبرداری ہے۔)
"جی، جو حکم۔"
منصور نے عاجزی سے سر تسلیم خم کیا۔
(پیر عنایت اللہ شاہ ایک پرانی، نقش و نگار والی لکڑی کی ڈبیا—وہی تحفہ جو لاریب کو دکھایا گیا تھا—منصور کو دیتے ہیں۔)
"یہ تیری امانت تھی۔ لے جا۔"
شاہ صاحب نے ایک گہری روحانی نسبت کے ساتھ وہ ڈبیا اس کے حوالے کی۔
منظر 8 (فلیش بیک)
(منصور کے گھر کا صحن۔ منصور اپنے گھر پہنچتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے پیر عنایت اللہ شاہ کے کچھ ملنگ آتے ہیں، ان میں سے ایک، پیر صاحب کا بیٹا غصے میں ہے۔)
"یہ ہمارے آباؤ اجداد کی وراثت ہے! یہ ہمارے حصے میں آنی چاہیے! تم کیسے یہ لے سکتے ہو؟"
عنایت اللہ شاہ کے بیٹے نے حسد اور غصے میں چکھتے ہوئے مطالبہ کیا۔
(پیر صاحب کا بیٹا منصور کی طرف بڑھتا ہے اور اس کے ہاتھ سے وہ تحفہ چھین لیتا ہے۔ منصور خاموشی سے دیکھتا رہتا ہے، کوئی مقاومت نہیں کرتا۔ اس کی ماں پریشان ہو جاتی ہے۔)
"یہ کیا کر رہے ہو تم لوگ؟"
ہاجرہ نے بدحواسی میں دہائی دی۔
منظر 9 (حال)
(منصور کا کمرہ۔ لاریب ابھی تک حیران ہے اور منصور کی طرف دیکھ رہی ہے۔)
"تو سر، اگر انہوں نے وہ چھین لیا تھا، تو یہ کیا ہے؟"
لاریب نے حیرت اور تجسس سے پوچھا۔
(منصور کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آتی ہے۔ وہ تحفہ اٹھاتا ہے اور لاریب کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔)
"جو انہوں نے چھینا، وہ ان کا وہم تھا۔ اور جو میرے پاس ہے، یہ میری امانت تھی۔"
منصور نے کسی عظیم سچائی سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
(لاریب تحفے کو دیکھتی ہے، جیسے اسے اب اس کی اصل قیمت کا اندازہ ہو رہا ہو۔)
"اب یہ تمہاری امانت ہے۔ تم لے جاؤ اسے۔ اور یاد رکھنا، دنیا سے دور رہنا ہے۔"
منصور نے اسے وصیت کرتے ہوئے بڑے بوجھل مگر پر اثر لہجے میں ہدایت کی۔
منظر 10 (اختتامی منظر)
(کچھ دن بعد، دن کا وقت۔ ایک پختہ قبر ہے، جس کے ارد گرد عقیدت مند کھڑے ہیں۔ لوگ قبر پر چادریں چڑھا رہے ہیں، پھول ڈال رہے ہیں، اور دعائیں مانگ رہے ہیں۔ یہاں پرسکون ماحول ہے، اور لوگ منصور کی یاد میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ فضا میں درود و سلام کی دھیمی آوازیں گونج رہی ہیں۔ لوگ عقیدت سے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ لاریب دور کھڑی وہی 'امانت' سینے سے لگائے آنکھوں میں آنسو لیے مسکرا رہی ہے، جیسے اسے اب زندگی کا مقصد مل گیا ہو۔)
(سیاہ اسکرین پر سنہری حروف میں یہ جملہ نمودار ہوتا ہے:)
"جس نے مخلوق کی چھین جھپٹ میں خاموشی اختیار کی، خالق نے اسے اپنی خاص امانت کا امین بنا دیا؛ کیونکہ دنیا صدف ہے اور معرفتِ الٰہی وہ موتی جو صرف ٹوٹے ہوئے دلوں میں ملتا ہے۔"
سین کٹ۔۔۔۔۔
Novel :: Nigaah e ishq
Writer :: Fakhar Shahzad MFS
Last Episode
نوٹ برائے قارئین
اختتام پر اپنی خصوصی تنقیدی رائے ضرور دیں شکریہ!

کتاب دنیا میں اور خدا
کتاب چراغِ فہم
کتاب روح کی غذا
کتاب دنیاوی چکی
ناول میں سے من تک
ناول نگاہِ عِشق
مکمل حاصل کر سکتے ہیں شکریہ!

ناول: نگاہِ عشقمصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایسقسط نمبر: 8منظر 1(کینٹین میں ہلکا شور ہے، طلباء ادھر ادھر بیٹھے ہیں۔ ایک کونے ...
12/05/2026

ناول: نگاہِ عشق
مصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایس
قسط نمبر: 8
منظر 1
(کینٹین میں ہلکا شور ہے، طلباء ادھر ادھر بیٹھے ہیں۔ ایک کونے میں باسط اور ماریہ بیٹھے ہیں، ان کے سامنے چائے کے کپ پڑے ہیں۔ باسط تھوڑا پرجوش اور تھوڑا فکرمند دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ماریہ کے لہجے میں ایک خاص پراعتمادی ہے۔)
"باسط، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس چھپن چھپائی کو ختم کریں۔ تم اپنے گھر والوں کو میرے گھر بھیج دو... میرا رشتہ لینے کے لیے۔"
ماریہ نے حتمی اور پر اعتماد لہجے میں تجویز پیش کی۔
"واہ یار! ماریہ، یہ تو تم نے زندگی کی سب سے بہترین خبر سنائی ہے! مطلب... تم واقعی تیار ہو؟"
باسط نے بے یقینی اور شدید مسرت کے ملے جلے جذبات سے پوچھا۔
"بالکل تیار ہوں۔"
ماریہ نے مسکراتے ہوئے تصدیق کی۔
"میں تو آج ہی امی سے بات کروں گا، بلکہ ابھی فون کر دوں! لیکن..."
باسط نے جوش میں کہتے کہتے اچانک رک کر تذبذب کا اظہار کیا۔
"...کیا تمہارے گھر والے مان جائیں گے؟ تمہارے پاپا بہت سخت مزاج ہیں، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تمہیں کوئی مشکل پیش آئے۔"
باسط کے لہجے میں اب فکر مندی نمایاں تھی۔
"تم میرے گھر والوں کی فکر بالکل نہ کرو عامر۔ انہیں کیسے منانا ہے، کب بات کرنی ہے، یہ سب میں دیکھ لوں گی۔ یہ محاذ مجھ پر چھوڑ دو۔"
ماریہ نے دلاسا دیتے ہوئے چٹان جیسے حوصلے کے ساتھ کہا۔
"تمہارا یہی کانفیڈنس تو مجھے تمہارا دیوانہ بناتا ہے۔ چلو، اگر تم کہتی ہو تو میں اپنے گھر والوں کو 'گرین سگنل' دے دیتا ہوں۔"
باسط نے اس کی ہمت کی داد دیتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
"صرف سگنل نہیں، انہیں پوری تیاری کے ساتھ بھیجنا۔ میں انتظار کروں گی۔"
ماریہ نے معنی خیزی سے جتاتے ہوئے کہا۔
(باسط کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ وہ چائے کا سپ لیتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگتے ہیں، جیسے مستقبل کے خواب بن رہے ہوں کہ اچانک باسط دوبارہ بول پڑتا ہے۔)
"اچھا سنو، اگر تمہارے پاپا نے مجھ سے میری جاب اور فیوچر پلانز کے بارے میں پوچھا تو؟"
باسط نے ایک نئے وہم کا شکار ہوتے ہوئے پوچھا۔
"اوہو باسط! اب تم نے انٹرویو کی تیاری ابھی سے شروع کر دی؟ ریلیکس! میں ہوں نا سب سنبھالنے کے لیے۔"
ماریہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے اسے چھیڑا اور اطمینان دلایا۔
منظر 2
(دفتر میں مکمل خاموشی ہے۔ منصور بیٹھا ایک پرانی کتاب کے مطالعے میں غرق ہے۔ دھوپ کی ایک سنہری لکیر اس کے ہاتھ پر پڑ رہی ہے۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے۔ لاریب آہستہ سے دروازہ کھولتی ہے، اس کا ایک پاؤں اندر ہے اور ایک باہر۔)
"السلام علیکم سر! کیا... کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟"
لاریب نے جھجکتے ہوئے دبی آواز میں اجازت چاہی۔
(منصور کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر، لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے۔)
"وعلیکم السلام... آؤ لاریب۔"
منصور نے انتہائی شفقت سے پکارا۔
(وہ آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی میز کے قریب آتی ہے، اس کے ہاتھ تھوڑے لرز رہے ہیں۔)
"سر! میں... میں آپ کو پہچان چکی ہوں۔ آپ وہ نہیں ہیں جو نظر آتے ہیں۔ آپ اللہ والے ہیں۔ آپ کو اس کا قرب نصیب ہے۔ آپ کی خاموشی بہت کچھ بولتی ہے سر!"
لاریب نے کسی انکشاف کے سحر میں ڈوبے ہوئے لہجے میں اعتراف کیا۔
(منصور ایک دم رک جاتا ہے۔ وہ اپنی گردن جھکاتا ہے اور ایک گہرا سانس لیتا ہے جیسے کسی بوجھ تلے دب گیا ہو۔ وہ اپنی ہتھیلیوں کو دیکھتا ہے۔)
"میں؟... میں کون ہوں؟ میں تو کچھ بھی نہیں۔ بس ایک مٹی کا ڈھیر، سراپا گناہ، خاکِ راہ..."
منصور نے عاجزی اور انکساری کی انتہا کو چھوتے ہوئے خود کلامی کی۔
(وہ اپنی کرسی سے تھوڑا پیچھے ہوتا ہے اور وجدانی کیفیت میں ایک شعر گنگناتا ہے:)
"بات جو میری بنی ہے، سب یہ تیری بات ہے
ورنہ میری کیا حقیقت، میری کیا اوقات ہے"
منصور کی آواز میں ایک کیف آور گداز تھا۔
(کمرے میں ایک لمحے کے لیے سکوت چھا جاتا ہے۔ لاریب کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں۔)
"سر! مجھے بھی وہی راستہ چاہیے۔ میں بھی اللہ کا قرب چاہتی ہوں۔ تڑپ رہی ہوں میں۔ بتائیے نا، وہ کہاں ملے گا؟ میں اسے کہاں ڈھونڈوں؟"
لاریب نے ہچکیاں روکتے ہوئے پیاسے کی مانند سوال کیا۔
(منصور آہستہ سے اٹھتا ہے اور کھڑکی کی طرف چلنے لگتا ہے جہاں سے روشنی چھن کر آ رہی ہے۔)
"(مسکراتے ہوئے) اسے ڈھونڈنا کیسا لاریب؟ وہ تو پہلے سے تیرے اندر موجود ہے۔ تیری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب۔ بس رکاوٹ تیری طرف سے ہے، اور تو باہر ڈھونڈ رہی ہے۔"
منصور نے ایک رہبر کی طرح نہایت پیار سے اسے سمجھایا۔
"کیا مطلب سر؟ اگر وہ اندر ہے تو مجھے محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ مجھے یہ اندھیرا کیوں دکھائی دیتا ہے؟"
لاریب نے الجھن اور معصومیت سے پوچھا۔
(منصور مڑتا ہے، اس کا چہرہ اب سورج کی روشنی میں چمک رہا ہے۔)
"تم نے سنا نہیں؟ خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ اپنے من کو اس دنیا کی گرد سے پاک کر لو۔ جب برتن صاف ہوتا ہے، تبھی اس میں لذیذ مشروب ڈالا جاتا ہے۔ جب تمہارا من صاف ہوگا، تو وہ نور خود بخود تمہاری روح میں اتر جائے گا۔"
منصور نے معرفت بھرے جلال کے ساتھ وضاحت کی۔
"وہ کیسے سر؟ میں اس من کو کیسے صاف کروں؟"
لاریب نے تڑپ کر طریقہ پوچھا۔
(منصور اشارے سے لاریب کو کھڑکی کے پاس بلاتا ہے۔ وہ کھڑکی کے شیشے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔)
"دیکھو اس شیشے کو۔ یہ صاف ہے، شفاف ہے۔ اسی لیے سورج کی روشنی اسے چیرتی ہوئی اندر آ رہی ہے۔ اب دیکھو..."
منصور نے اسے مثال دیتے ہوئے متوجہ کیا۔
(منصور اچانک کھڑکی کا بھاری پردہ کھینچ دیتا ہے۔ کمرے میں یکدم اندھیرا چھا جاتا ہے، صرف ایک مدہم سی روشنی باقی رہ جاتی ہے۔)
"یہ ہے دنیا کا پردہ۔ لالچ، حسد، انا اور خواہشات کا پردہ۔ اس نے روشنی کو ڈھانپ لیا۔ روشنی اب بھی باہر موجود ہے، ختم نہیں ہوئی، لیکن کمرے کے اندر نہیں آ رہی۔ جب تک من میں دنیا بسی ہے، یہ پردہ رہے گا اور تمہاری روح اندھیرے میں رہے گی۔"
منصور نے بھاری اور پُر اثر آواز میں حقیقت سے پردہ اٹھایا۔
(لاریب خاموشی سے اس اندھیرے کو دیکھتی ہے، جیسے اسے اپنی زندگی کی حقیقت نظر آ گئی ہو۔)
"جی سر... سمجھ گئی۔ لیکن سر، یہ روشنی اصل میں آتی کہاں سے ہے؟ اس کا منبع کیا ہے؟"
لاریب نے مرعوب ہو کر دھیمے لہجے میں سوال کیا۔
"یہ روشنی آسمانوں کو چیرتی ہوئی سیدھی روح میں بستی ہے۔ اور یہ روشنی اسی 'چراغ' سے آتی ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآنِ پاک کے اٹھارہویں پارے، سورۃ النور کی آیت نمبر 35 میں کیا ہے۔ وہ چراغ جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی، جس کا تیل خود بخود روشن ہونے کو ہے چاہے اسے آگ نہ بھی چھوئے۔ وہی نور ہے جو نور پر نور ہے۔"
منصور نے وجدانی کیفیت میں ڈوب کر بیان کیا۔
(لاریب جذبات سے مغلوب ہو کر منصور کے سامنے بیٹھ جاتی ہے۔)
"سر! میرا ہاتھ پکڑ لیں۔ مجھے راستہ دکھا دیں۔ مجھے اکیلا مت چھوڑیے گا، میں بھٹک جاؤں گی۔ آپ مجھے اس راستے پر لے چلیں۔"
لاریب نے روہانسی ہو کر بیچارگی سے التجا کی۔
(منصور کی آنکھوں میں شفقت آتی ہے، مگر وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے۔)
نہ لاریب! چلنا بھی تم نے ہے، فیصلہ بھی تمہارا ہے۔ میرا فرض صرف بتانا تھا۔ یاد رکھنا، اس راستے پر اکیلے ہی چلنا ہوتا ہے۔ جیسے وہ 'وحدہ لاشریک' ہے، وہ اپنی محبت میں بھی کسی دوسرے کا شریک پسند نہیں کرتا۔ جب تم اس کی طرف چلو گی، تو وہ خود تمہارا ہاتھ تھام لے گا۔"
منصور نے درویشانہ سختی اور حقیقت پسندی سے اسے باور کرایا۔
(منصور واپس اپنی میز کی طرف مڑ جاتا ہے اور دوبارہ وہی کتاب کھول لیتا ہے، جیسے اس کا کام مکمل ہو گیا ہو۔)
"چلو اب جاؤ۔ اپنے من کو دنیا سے پاک کرو اور اپنی روح کو اس کے نور سے روشن کرو۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔"
منصور نے دعا دیتے ہوئے اسے رخصت ہونے کا اشارہ کیا۔
(لاریب سر جھکا کر، بوجھل قدموں مگر روشن دل کے ساتھ باہر کی طرف بڑھتی ہے۔ منصور کا چہرہ اب دوبارہ کتاب کے الفاظ میں گم ہو چکا ہے، مگر اس کے لبوں پر وہی ابدی مسکراہٹ ہے۔)
منظر 3
(سٹی تھانے میں معمول کا شور شرابہ ہے۔ ٹائپ رائٹر کی آوازیں، حوالداروں کی گونجتی بولیاں اور سائلین کا رش۔ اصغر، جو پریشان حال اور میلے کچیلے کپڑوں میں ہے، تیزی سے انسپیکٹر کے کمرے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔)
"(راستہ روکتے ہوئے) اوئے اوئے! کہاں گھسے جا رہے ہو؟ لائن میں آؤ۔"
حوالدار نے کرخت آواز میں اسے دھکا دے کر روکا۔
"(ہانپتے ہوئے) جناب، مجھے صاحب سے ملنا ہے، بہت ضروری کام ہے۔"
اصغر نے بے بسی سے التجائیہ انداز میں کہا۔
"سب کو ضروری کام ہی ہوتا ہے یہاں۔ مسئلہ کیا ہے تمہارا؟ پہلے مجھے بتاؤ۔"
حوالدار نے روکھے پن سے سوال کیا۔
"میری بیٹی... میری بیٹی دو دن سے غائب ہے۔ کہیں پتا نہیں چل رہا اس کا۔"
اصغر نے لرزتی آواز میں اپنا دکھ بیان کیا۔
"تو میاں جا کر وہاں محرر کے پاس رپٹ لکھواؤ۔ ہم تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ صاحب کے پاس جانے سے کیا وہ جادو سے برآمد ہو جائے گی؟"
حوالدار نے بیزاری سے اسے مشورہ دیا۔
نہیں جناب، مجھے انسپیکٹر صاحب سے ہی ملنا ہے۔ مجھے رپٹ نہیں لکھوانی، مجھے مدد چاہیے۔"
اصغر نے ضد اور امید کے ملے جلے تاثر سے کہا۔
(انسپیکٹر کا دفتر)
(شور سن کر کمرے کا دروازہ کھلتا ہے۔ انسپیکٹر جہانگیر، جو ایک رعب دار شخصیت ہے، باہر آتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی تیزی ہے۔)
یہ کیا مچھلی منڈی بنا رکھی ہے تم لوگوں نے؟ حوالدار! یہ کیا شور ہے؟"
جہانگیر نے دھاڑتے ہوئے سب کو خاموش کرایا۔
"(سلوٹ مارتے ہوئے) سر، معذرت۔ یہ بندہ ضد کر رہا ہے کہ آپ سے ملنا ہے۔ کہہ رہا ہے بیٹی دو دن سے لاپتہ ہے، رپورٹ لکھوانے کی بجائے آپ سے ملنے پر بضد ہے۔"
حوالدار نے گھبراتے ہوئے وضاحت پیش کی۔
(جہانگیر کی نظر اصغر کے آنسوؤں سے بھرے چہرے پر پڑتی ہے۔ اس کا لہجہ اچانک نرم ہو جاتا ہے۔)
"جی چاچا جی، بتائیں کیا مسئلہ ہے؟ میرے کمرے میں آئیے۔"
جہانگیر نے ہمدردانہ لہجے میں اسے اندر بلایا۔
(انسپیکٹر کا دفتر - اندرونی)
(جہانگیر اپنی کرسی پر بیٹھتا ہے اور اصغر کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔)
جناب انسپیکٹر صاحب، میری بیٹی دو دن سے لاپتہ ہے۔ ہم نے ہر جگہ ڈھونڈ لیا، رشتہ داروں، پڑوسیوں سب سے پوچھ لیا۔ مہربانی کریں صاحب، میری بچی ڈھونڈ دیں۔"
اصغر نے ہاتھ جوڑ کر گریہ وزاری کی۔
چاچا، آپ پریشان نہ ہوں، پولیس اپنا کام کرے گی۔ لیکن سچ بتائیے گا... آپ کو کسی پر شک ہے؟ یا کسی سے کوئی پرانی دشمنی یا جھگڑا؟
جہانگیر نے پیشہ ورانہ لیکن نرم لہجے میں تفتیش کا آغاز کیا۔
نہیں صاحب، میں تو ایک معمولی سا غریب آدمی ہوں۔ میرا کسی سے کیا جھگڑا ہونا ہے؟ میں نے تو زندگی بھر کسی کا دل نہیں دکھایا۔ مجھے کسی پر کوئی شک نہیں۔
اصغر نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
بیٹی کی کوئی سہیلی؟ یا کوئی ایسا بندہ جس سے اس کا ملنا جلنا ہو؟ کسی نے اسے پریشان کیا ہو؟
جہانگیر نے کریدتے ہوئے پوچھا۔
(اصغر تھوڑی دیر ہچکچاتا ہے، پھر ہمت جمع کر کے بولتا ہے۔)
"صاحب... وہ اکثر سیٹھ جبار کے بیٹے، فیضان جبار سے ملتی جلتی رہتی تھی۔ لوگ باتیں کرتے تھے، پر میں نے کبھی غور نہیں کیا تھا۔"
اصغر نے دبے لفظوں میں ایک اہم انکشاف کیا۔
(جہانگیر کے ہاتھ میں موجود قلم رک جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں پھیل جاتی ہیں اور چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ اور حیرت کا امتزاج ابھرتا ہے۔)
"فیضان جبار؟ سیٹھ جبار کا اکلوتا لاڈلا؟"
جہانگیر نے جیسے اپنے آپ سے سوال کیا ہو۔
"جی صاحب۔ کیا کچھ ہو سکتا ہے؟"
اصغر نے معصومیت اور خوف سے پوچھا۔
"(فوری سنبھلتے ہوئے) چاچا، اب آپ جائیے اور سکون سے گھر بیٹھیے۔ آپ کا کام ہو گیا۔ اب آپ کی بیٹی کو ڈھونڈنا میری ذمہ داری ہے۔"
جہانگیر نے اسے پر اعتماد طریقے سے رخصت کیا۔
(اصغر دعائیں دیتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔ جہانگیر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر گہرا سانس لیتا ہے، جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔ وہ فوراً فون اٹھاتا ہے اور نمبر ڈائل کرتا ہے۔)
"ہیلو... ساجد؟ میرے یار، مبارک ہو۔ تیرے اس 'مقدس' مجرم کے خلاف ایک کیس تو ہاتھ آیا ہے۔ ابھی صرف شک کی بنا پر ہے، لیکن اگر میں نے ڈور صحیح کھینچی... تو بہت جلد وہ میرے شکنجے میں ہوگا۔ بس اب تماشہ دیکھ!"
جہانگیر نے فون پر فاتحانہ اور مکارانہ لہجے میں اپنے ساتھی کو اطلاع دی۔
منظر 4
(کمرے کی فضا میں عود یا صندل کی ہلکی سی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ پسِ منظر میں تسبیح کے دانوں کے گرنے کی ایک دھیمی اور مسحور کن آواز سنائی دیتی ہے۔ منصور جائے نماز پر بیٹھا ہے۔ اس کی آنکھیں نیم وا ہیں اور لب خاموشی سے ہل رہے ہیں۔ وہ یہاں موجود ہو کر بھی جیسے کہیں اور ہے۔)
(اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے۔ باسط داخل ہوتا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی چمک اور مسکراہٹ ہے جو چھپائے نہیں چھپتی۔ وہ جوتوں کی آواز دبانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کا جوش نمایاں ہے۔)
(منصور تسبیح ہاتھ میں روکے بغیر، سر اٹھائے بغیر ہی مسکراتا ہے۔ جیسے اسے قدموں کی چاپ سے ہی باسط کے دل کا حال معلوم ہو گیا ہو۔)
"آؤ باسط میاں۔۔۔ آج تو تمہارے ماتھے کی تحریر ہی بدلی ہوئی ہے۔ بہت خوش نظر آ رہے ہو؟"
منصور نے بن دیکھے ہی اس کے خوشگوار موڈ کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔
(باسط تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا مصلے کے قریب فرش پر بیٹھ جاتا ہے۔)
"جی۔۔۔ بہت خوش! شاید زندگی میں پہلی بار اتنا پرسکون اور خوش ہوں۔"
باسط نے دل سے نکلتی ہوئی سچائی کے ساتھ جواب دیا۔
(منصور آہستہ سے تسبیح مکمل کر کے جائے نماز کی ایک نوک پلٹتا ہے اور پوری توجہ باسط کی طرف کرتا ہے۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سی گہرائی ہے۔)
"خیریت؟ یہ خوشی کی لہر کہاں سے اٹھی ہے؟ کوئی خاص وجہ؟"
منصور نے بڑی دلجمعی سے دریافت کیا۔
"آپ پوچھ رہے ہیں؟ آپ تو بخوبی جانتے ہیں کہ میں کیوں خوش ہوں۔ آپ سے کیا چھپا ہے؟"
باسط نے لاڈ اور عقیدت سے منصور کی طرف دیکھا۔
(منصور اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہے اور تھوڑا پیچھے ہو کر تکیے سے ٹیک لگاتا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک درویشانہ بے نیازی ہے۔)
"میں تو صرف ایک انسان ہوں باسط، جو دیوار کے اس پار بھی نہیں دیکھ سکتا۔ تم کیا کہنا چاہتے ہو، صاف کہو۔"
منصور نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے نرمی سے کہا۔
"یہ سب آپ کی صحبت کا اثر ہے منصور صاحب۔ آپ کی وہ باتیں، وہ راتوں کو مانگی گئی دعائیں۔۔۔ آج مجھے لگتا ہے میری بکھری ہوئی زندگی سمٹ گئی ہے۔ یہ سب آپ کا صلہ ہے۔"
باسط نے اپنی کامیابی کا سہرا منصور کے سر باندھتے ہوئے کہا۔
(منصور کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک جلال آمیز سنجیدگی لے لیتی ہے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے باسط کو ٹوکتا ہے۔)
"نہ کر دیوانے! ایسی بات پھر کبھی زبان پر نہ لانا۔ میں کون ہوتا ہوں؟ میری اوقات تو ایک خاک کے ذرے سے بھی کم ہے۔"
منصور نے سختی سے ٹوکتے ہوئے اپنی حقیقت واضح کی۔
(وہ انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کرتا ہے:)
"وہ 'وحدہ لا شریک' ہے۔ جو ہوتا ہے، اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ دینے والا وہ، دعا سننے والا وہ اور اسے قبول کرنے والا بھی وہی۔ میں اور تم تو بس اس کے در کے منگتے ہیں۔ شکر اس کا ادا کرو جس نے تمہارے دل کو یہ اطمینان بخشا ہے۔"
منصور نے توحید کے رنگ میں ڈوب کر باسط کی اصلاح کی۔
(باسط کچھ دیر خاموش رہتا ہے، جیسے منصور کی بات کی گہرائی کو اپنے اندر اتار رہا ہو۔ پھر وہ فضا کو ہلکا کرنے کے لیے مسکراتا ہے۔)
"چلیں، آپ کی بات سر آنکھوں پر۔ وہ تو شاکر ہے ہی، لیکن اس خوشی کے موقع پر کیا اس درویش کے ہاتھ کی چائے نہیں ملے گی؟"
باسط نے شرارت اور اپنائیت سے فرمائش کی۔
(منصور کی سنجیدگی دوبارہ نرمی میں بدل جاتی ہے۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔)
"جی جی، بے شک! کیوں نہیں؟ اگر تمہاری خوشی کا راستہ میری چائے کی پیالی سے گزرتا ہے، تو ابھی بنا کر لاتا ہوں۔ تم بیٹھو، میں بس ابھی آیا۔"
منصور نے ہنستے ہوئے اٹھ کر کچن کی راہ لی۔
(منصور اٹھ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ جاتا ہے، جبکہ باسط اسے عقیدت بھری نظروں سے دیکھتا رہتا ہے۔)
سین کٹ۔۔۔۔۔
Novel :: Nigaah e ishq
Writer :: Fakhar Shahzad MFS
Episode No :: 08
نوٹ برائے قارئین
کتاب دنیا میں اور خدا
کتاب چراغِ فہم
کتاب روح کی غذا
کتاب دنیاوی چکی
ناول میں سے من تک
ناول نگاہِ عِشق
مکمل حاصل کر سکتے ہیں شکریہ!

الحمدللہ رب العالمین 🥰 کشف و وجدان کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔ میری نئی تصنیف "کن فیکون (حقیقت سے ملاقات)" پر کام ...
06/05/2026

الحمدللہ رب العالمین 🥰
کشف و وجدان کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔ میری نئی تصنیف "کن فیکون (حقیقت سے ملاقات)" پر کام جاری ہے، جو جلد آپ قارئین کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔
یہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ تصوف، روحانیت اور عشق کے ان پہلوؤں کی تلاش ہے جہاں عقل خاموش اور روح کلام کرتی ہے۔ اس میں مجاز سے حقیقت تک کے اس پل کا ذکر ہے جسے عبور کیے بغیر منزل ناممکن ہے۔
دعا کا طالب
فخرشہزاد ایم ایف ایس

پنجابی کلامگھنگھرو لاہ تے نچ نئیں ہونڑاہر ہک جاہ تے نچ نئیں ہونڑا             نچن آلیا بھکھا ای نچ لے             کجھ وی...
05/05/2026

پنجابی کلام
گھنگھرو لاہ تے نچ نئیں ہونڑا
ہر ہک جاہ تے نچ نئیں ہونڑا
نچن آلیا بھکھا ای نچ لے
کجھ وی کھا تے نچ نئیں ہونڑا
ویکھن آلے لکھاں ہوسن بابو
ویکھ وکھا کے نچ نئیں ہونڑا
نچنا ای تے کھل کے نچ نی
پھیر لکا کے نچ نئیں ہونڑا
انج دا نچ کے بلا تک تک جاوے
مٹی اوتے مٹی پاکے نچ نئیں ہونڑا

فخرشہزاد ایم ایف ایس

ناول: نگاہِ عشقمصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایسقسط نمبر: 7منظر 1مریم جو فائلز ہاتھ میں پکڑے تیزی سے کوریڈور میں چل رہی ہے۔ اچ...
04/05/2026

ناول: نگاہِ عشق
مصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایس
قسط نمبر: 7
منظر 1
مریم جو فائلز ہاتھ میں پکڑے تیزی سے کوریڈور میں چل رہی ہے۔ اچانک فیضان جبار سامنے سے آکر اس کا راستہ روکتا ہے۔ وہ ڈیزائنر سوٹ میں ملبوس ہے اور اس کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی ہے جسے وہ انگلی پر گھما رہا ہے۔
"اتنی جلدی میں کہاں جا رہی ہو مریم؟ ویسے ماننا پڑے گا... یہ سفید یونیفارم تم پر جچتا بہت ہے۔" فیضان نے ایک شرارت آمیز مسکراہٹ اور طنزیہ لہجے میں اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا۔
"شکریہ۔ مجھے وارڈ پہنچنا ہے، لیٹ ہو رہی ہوں۔ راستہ دیجیے۔" مریم نے روکھے پن اور مختصر انداز میں جواب دیتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
"دیکھو، یہ بھاگ دوڑ، یہ بارہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی... یہ تمہارے لیے نہیں ہے۔ میرے ڈیڈ کا ہسپتال ہے، میں چاہوں تو ایک منٹ میں تمہاری یہ مشقت ختم کروا سکتا ہوں۔ بس ذرا 'سمجھدار' بننا پڑے گا تمہیں!" فیضان نے اپنے باپ کی دولت کا رعب جھاڑتے ہوئے اسے لالچ دینے کی کوشش کی۔
(فیضان ہاتھ بڑھا کر مریم کے دوپٹے کے کونے کو چھونے کی کوشش کرتا ہے۔ مریم بجلی کی تیزی سے پیچھے ہٹتی ہے)
"اپنی حد میں رہیے فیضان صاحب! یہ ہسپتال آپ کے باپ کی جاگیر سہی، لیکن میں یہاں نرسنگ سیکھنے آئی ہوں، آپ کا دل بہلانے نہیں۔" مریم نے غصے سے تلملاتے ہوئے اور تیکھی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے ڈانٹا۔
"ارے واہ! غصہ؟ تمہیں اندازہ بھی ہے تم کس سے بات کر رہی ہو؟ تمہارا کیریئر، میری جیب میں ہے۔ ایک اشارہ کروں گا تو کل سے کسی کلینک میں بھی نوکری نہیں ملے گی۔ کیوں اپنی زندگی مشکل بنا رہی ہو؟ میرے ساتھ دوستی کر لو، خواب حقیقت بننے میں دیر نہیں لگے گی۔" فیضان نے اپنی اوقات بتاتے ہوئے دھمکی آمیز اور گھٹیا لہجے میں بات کی۔
"فیضان صاحب، آپ جیسے 'بڑے' لوگوں کو لگتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز پر قیمت درج ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھیے گا..." مریم نے ایک قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے حوصلے سے کہا۔
"آپ جیسے لوگ دوسروں کی زندگیوں سے صرف اس لیے کھیلتے ہیں کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ سامنے والا یا تو بکاؤ ہے یا مجبور۔ جن کے ساتھ آپ وقت گزاری کرتے ہیں، ان میں سے اکثر کی اپنی کوئی 'خواہش' ہوتی ہے یا پھر وہ اتنے 'مجبور' ہوتے ہیں کہ آپ کے شر کو قسمت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔" مریم نے اس کی ذہنیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا۔
"لیکن سن لیں! میں ان دونوں میں سے نہیں ہوں۔ نہ تو مجھے ایسی کوئی گھناونی خواہش ہے کہ میں اپنا وقار بیچ کر کامیاب بنوں، اور نہ ہی میں اتنی مجبور ہوں کہ آپ کے سامنے سر جھکا دوں۔" مریم نے اپنے کردار کی مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فخر سے کہا۔
"زبان کو لگام دو ورنہ..." فیضان نے غصے سے دانت پیستے ہوئے اسے وارننگ دی۔
"ورنہ کیا؟ میرا کیریئر برباد کر دیں گے؟ کر کے دیکھ لیں۔ میں محنت کرنا جانتی ہوں، اور جس رب نے مجھے عزت دی ہے وہ راستہ بھی نکالے گا۔ میں اپنا کیریئر بھی بناؤں گی اور آپ جیسے گرے ہوئے ذہنیت کے لوگوں کا مقابلہ بھی کروں گی۔ یاد رکھیے گا، وردی سفید ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر کوئی بھی داغ لگا کر چلا جائے... یہ سفید رنگ میری پاکیزہ نیت کی علامت ہے، آپ کی سیاہ سوچ کی نہیں۔" مریم نے ایک بار پھر اپنی بلند کردار کی دھاک بٹھاتے ہوئے حقارت سے اسے دیکھا اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
منظر 2
بازار میں معمول کی گہما گہمی ہے۔ منصور نہایت آہستگی سے قدم اٹھاتا ہوا بھیڑ میں سے گزر رہا ہے۔ اچانک ایک پرانی کیسٹ والی دکان سے قوالی گونجتی ہے: "ہردم خیالِ جاناں آنکھوں کے روبرو ہے..."
منصور کے قدم یک لخت رک جاتے ہیں۔ تسبیح کا دانہ اس کی انگلیوں میں تھم جاتا ہے۔
"حق... حق..." منصور نے اپنے ہاتھ فضا میں بلند کر کے سرگوشی کے انداز میں وجدانی کیفیت میں پکارا۔
وہ وہیں گلی کے بیچوں بیچ گھومنا شروع کر دیتا ہے۔ پہلے آہستہ، پھر اس کی رفتار میں ایک غیر مرئی توانائی آ جاتی ہے۔ وہ رقص کرتے کرتے چیختا ہے: "تُو ہی تُو! صرف تُو"۔ شدتِ وجد سے وہ نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑتا ہے۔
"دیکھو بھائی، ایک اور ملنگ آ گیا۔ آج کل تو بازار میں یہی تماشا رہ گیا ہے۔" ایک راہگیر نے تماشائی بنتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
"چھوڑو یار، نشے میں ہو گا بیچارہ۔" دوسرے راہگیر نے بے حسی سے تبصرہ کیا۔
"اٹھاؤ اسے، یہ تو بے ہوش ہو گیا ہے۔ کوئی جانتا ہے اسے؟ کہاں رہتا ہے یہ؟" کچھ ہمدرد لوگ آگے بڑھ کر اسے سنبھالنے کی کوشش کرنے لگے۔
"جی، میں جانتا ہوں، یہ آگے والی گلی میں رہتا ہے۔ اسے گھر چھوڑ آتے ہیں۔" ایک نوجوان نے مجمعے میں سے نکل کر مدد کی پیشکش کی۔
اسی دوران عباس دکان کی اوٹ سے باہر نکلتا ہے اور مجمعے کو چیرتا ہوا سامنے آتا ہے۔
"ارے میاں! کسے اٹھا رہے ہو؟ اس پاگل کو؟ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ اس کے دماغ کا کوئی پیچ ڈھیلا ہے۔" عباس نے چہرے پر نفرت اور طنز سجا کر بلند آواز میں مجمعے کو مخاطب کیا۔
"یہ وہی شخص تو ہے، جو اسکول میں ہمارے معصوم بچوں کے ذہن خراب کر رہا تھا۔ کہتا تھا 'کتابوں کی دنیا سے نکل کر عشق کی دنیا دیکھو'۔ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا تھا کہ یہ بچوں کو غلط تربیت دے رہا ہے۔" عباس نے منصور کی کردار کشی کرتے ہوئے اشتعال انگیز انداز اپنایا۔
"آج دیکھ لو اس کا انجام! جو بچوں کو دین کی آڑ میں اوٹ پٹانگ باتیں سکھا رہا تھا وہ آج بازاروں میں خوار ہو رہا۔ اس جیسے مکار اور پکا پاگل لوگ خود کو درویش سمجھتے ہیں۔" عباس نے زہر خندہ لہجے میں اپنی نفرت کا اظہار کیا۔
منصور کے لبوں پر ایک مبہم سی مسکراہٹ آ جاتی ہے اور وہ آسمان کی طرف دیکھ کر ایسے مسکراتا ہے جیسے اسے عباس کی ملامت میں بھی رب کی رضا مل گئی ہو۔
منظر 3
سیٹھ جبار آرام دہ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ دھرے بیٹھا ہے۔ اصغر بھاگتا ہوا آتا ہے، اس کی سانسیں پھولی ہوئی ہیں۔
"سیٹھ صاحب میری بیٹی... میری بیٹی کل سے گھر نہیں آئی۔" اصغر نے روہانسی آواز اور لرزتے ہوئے لہجے میں اپنی دہائی دی۔
"تو میں کیا کروں اصغر؟ تمہاری بیٹی نہیں مل رہی تو پولیس اسٹیشن جاؤ، اشتہار دو۔ میرے پاس کیوں دوڑے آئے ہو؟ میرا سکون کیوں غارت کر رہے ہو؟" سیٹھ جبار نے نہایت ہی بے حسی اور روکھے پن سے جواب دیتے ہوئے جھاڑ دیا۔
"صاحب جی، میں غریب آدمی ہوں، میری کہاں رسائی ہے؟ آپ کی ایک فون کال ہزاروں بند دروازے کھول سکتی ہے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی، اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کریں، میں جیتے جی مر جاؤں گا صاحب!" اصغر نے ہتھ جوڑ کر گڑگڑاتے ہوئے منت سماجت کی۔
"دیکھو اصغر میاں! میں اتنا فارغ نہیں ہوں کہ اب تمہاری مفرور بیٹی کو ڈھونڈنے کے لیے گلیوں کی خاک چھانتا پھروں۔ جوان جہان لڑکی رات کو گھر سے باہر ہو تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے... کہیں عیاشی کرنے نکل گئی ہوگی۔" سیٹھ جبار نے انتہا درجے کی گھٹیا بات کرتے ہوئے اسے جلی کٹی سنائیں۔
"صاحب جی! اتنی گری ہوئی بات نہ کریں میری بیٹی ایسی نہیں ہے۔ شرافت کی چادر میں پلی ہے وہ۔" اصغر نے اپنی بیٹی کی عزت پر حرف آتے دیکھ کر تڑپتے ہوئے جواب دیا۔
"اوہو! تو پھر کہاں گئی؟ اگر اتنی ہی پارسا تھی تو رات کے اندھیرے میں گھر سے کیوں نکلی؟ میرے پاس کیوں آئے ہو، کیا میں نے چھپا رکھا ہے اسے؟" سیٹھ جبار نے بیزاری اور غصے سے اسے جھڑکتے ہوئے پوچھا۔
"صاحب جی... وہ... وہ اکثر چھوٹے سائیں فیضان صاحب سے ملتی جلتی رہتی تھی۔ میں تو بس اس لیے حاضر ہوا تھا کہ شاید فیضان صاحب کو کچھ پتہ ہو؟" اصغر نے جھجکتے ہوئے اصل شک کا اظہار کیا۔
"فیضان کے پیچھے تو شہر کی ہزاروں لڑکیاں مری جاتی ہیں، وہ ہر وقت حسینوں کے جھرمٹ میں رہتا ہے۔ میں کیا اب سب کا بائیو ڈیٹا لے کر بیٹھا ہوں یہاں؟" سیٹھ جبار نے بیٹے کی عیاشیوں پر فخر کرتے ہوئے بڑے ہی لاپروا انداز میں کہا۔
"صاحب آپ ایک بار چھوٹے صاحب سے پوچھیں تو صحیح، ہو سکتا ہے کوئی سراغ مل جائے۔" اصغر نے ایک بار پھر امید کی آخری کرن کے ساتھ التجا کی۔
"پہلی بات تو یہ کہ فیضان گھر پر نہیں ہے، رات سے اپنے دوستوں کے ساتھ فارم ہاؤس پر ہے۔ اور دوسری بات... اگر تمہاری لڑکی اس کے ساتھ ہوئی بھی سہی، تو میاں پریشان کیوں ہوتے ہو؟ دونوں کہیں گھومنے پھرنے گئے ہوں گے، موج مستی کر کے آ جائے گی۔ جاؤ اب یہاں سے، میرا وقت ضائع مت کرو!" سیٹھ جبار نے اسے دھکے دینے والے انداز میں وہاں سے رخصت کرنے کے لیے اپنا حتمی فیصلہ سنایا۔
منظر 4
منصور مصلے پر بیٹھا تسبیح پڑھ رہا ہے۔ لاریب پریشان حال داخل ہوتی ہے۔
"السلام علیکم سر! میں۔۔۔ اندر آ جاؤں؟" لاریب نے ہچکچاتے ہوئے اور مری ہوئی آواز میں اجازت چاہی۔
"وعلیکم السلام۔ جی لاریب، آؤ۔۔۔ بیٹھو۔" منصور نے آہستہ سے آنکھیں کھولتے ہوئے ایک پُر سکون مسکراہٹ کے ساتھ اسے خوش آمدید کہا۔
"سر، سب سے پہلے تو معذرت۔ آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی آرام گاہ تک آن پہنچی۔ اصل میں۔۔۔ مجھے سننے میں آیا تھا کہ آپ کہیں گر گئے تھے؟" لاریب نے فکر مندی اور شرمندگی کے ملے جلے تاثر کے ساتھ پوچھا۔
"کوئی بات نہیں۔۔۔ اور ہاں، گرا؟ گرا تو دنیا داروں کی نظروں میں ہوں، میں تو اڑ رہا تھا۔" منصور نے ایک پُراسرار مسکراہٹ کے ساتھ فلسفیانہ انداز میں جواب دیا۔
"جی سر؟ کیا کہا آپ نے؟" لاریب نے بات کی گہرائی نہ سمجھتے ہوئے حیرت سے سوال کیا۔
"کچھ نہیں۔۔۔ بس یہی کہ تھوڑا سا چکر آگیا تھا۔ اچھا، اب بتاؤ تم کیسی ہو؟" منصور نے بات ٹالتے ہوئے نرمی سے اس کا حال پوچھا۔
"میں ٹھیک ہوں سر، لیکن۔۔۔ آپ سے ایک بات کرنی تھی۔ ایک الجھن ہے جو سلجھتی نہیں ہے۔" لاریب نے اپنی ذہنی بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
"جی، کریں بات۔" منصور نے پوری توجہ اس کی طرف مبذول کرتے ہوئے کہا۔
"سر! آپ کہتے ہیں کہ روح کا سکون مانگو۔ جائے نماز پر سب فکریں رد کر کے بیٹھا کرو۔ لیکن سر۔۔۔ بچوں کی فکر کا کیا کروں؟ وہ کیسے رد کر دوں؟" لاریب نے ایک ماں کی فطری الجھن کو زبان دیتے ہوئے سوال کیا۔
"بچے؟ کیا تم شادی شدہ ہو؟" منصور نے تعجب سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"جی سر۔" لاریب نے مختصر جواب دیا۔
"تعجب ہے! اتنی چھوٹی عمر اور ماشاءاللہ بچے بھی؟" منصور نے حیرت بھری آواز میں کہا۔
"بس سر، کیا بتاؤں۔ ماں باپ نے کم عمری میں شادی کر دی تھی۔ تب میں صرف سترہ برس کی تھی۔ آج ماشاءاللہ میرے دو بچے ہیں۔" لاریب نے اپنی زندگی کے ماضی کا ایک ورق کھولتے ہوئے آہستگی سے بتایا۔
"ماشاءاللہ یہ تو خدا کی عنایت ہے۔ تو پھر پریشانی کس بات کی ہے؟" منصور نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے پوچھا۔
"سر وہی۔۔۔ بچوں کی فکر۔ ان کا مستقبل، ان کی زندگی۔" لاریب نے اپنی دائمی پریشانی کا ذکر کیا۔
"لاریب، بچوں کی صرف ایک فکر ہونی چاہیے؛ ان کے لیے 'رزقِ حلال' کا بندوبست۔ باقی وہ خدا کی تخلیق ہیں اور خدا اپنے شاہکار کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔" منصور نے بڑے ہی پُراثر اور پراعتماد لہجے میں اسے بندگی کی حقیقت سمجھائی۔
"سر! رزق تو اللہ دے ہی رہا ہے، لیکن ان کی تعلیم، ان کے معاشرے میں مقام۔۔۔ ایک ماں ہونے کے ناطے یہ فکریں پیچھا نہیں چھوڑتیں۔" لاریب نے اپنی منطق پیش کرنے کی کوشش کی۔
"یہی فکریں تو انسان کو آگے نہیں بڑھنے دیتیں لاریب! ہم نے خدا کے کام اپنے ذمے لے لیے ہیں، اسی لیے تھک جاتے ہیں۔ فکر صرف اپنی روح کی کرنی چاہیے کہ وہ کس حال میں ہے، باقی نظام تو وہ رب چلا رہا ہے۔" منصور نے اس کے ذہن کی گرہیں کھولتے ہوئے مدلل انداز میں کہا۔
"سر، میں آپ کی بات کی گہرائی سمجھ نہیں پا رہی۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا کیا غلط ہے؟" لاریب نے الجھ کر ایک بار پھر سوال کیا۔
"دیکھو! یہ جو دنیا کی فکریں ہیں نا۔۔۔ یہ صرف تمہارے اپنے ذہن کی بنائی ہوئی ایک تصویر ہے۔ ہونا وہی ہے جو اس نے لکھ دیا ہے، اور وہ بہترین لکھنے والا ہے۔ انسان پیدا ہونے سے مرنے تک صرف اس لیے پریشان ہے کہ وہ 'خدا' بننا چاہتا ہے، حالانکہ اسے صرف 'بندہ' بننا تھا۔" منصور نے کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کو نہایت سادہ مگر پُر اثر الفاظ میں بیان کیا۔
"وہ بات تو ٹھیک ہے سر۔۔۔ لیکن اگر میں نے ان کے مستقبل کی فکر چھوڑ دی، تو لوگ کیا کہیں گے؟ معاشرہ کہے گا کیسی لاپروا ماں ہے۔" لاریب نے 'لوگوں کے ڈر' کا تذکرہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا۔
"یہی تو اصل گرہ ہے لاریب! 'لوگ کیا کہیں گے؟' کیا کبھی ہم نے اپنے 'نفس' کی تصویر دیکھنا چاہی؟ اگر ہم ایک بار اپنے نفس کی بدصورت تصویر دیکھ لیں اور اس کی خواہشات سے راستہ بدل لیں، تو پھر زمانہ کچھ بھی کہے، کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ جب تم جائے نماز پر بیٹھو، تو بچوں کو خدا کے حوالے کر کے بیٹھا کرو، کیونکہ تم ان کی اتنی خیر خواہ نہیں ہو سکتی جتنا وہ 'رب' ہے۔" منصور نے لاریب کے کندھے پر جیسے ایک روحانی بوجھ ہلکا کرتے ہوئے نہایت ہی مشفقانہ انداز میں اسے نصیحت کی۔
لاریب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون اترنے لگا۔
"جاؤ لاریب، اپنے بچوں میں خدا کو تلاش کرو، ان کی فکر میں خود کو گم نہ کرو۔" منصور نے دوبارہ تسبیح اٹھاتے ہوئے اسے پرسکون لہجے میں رخصت کیا۔
سین کٹ۔۔۔۔۔
Novel :: Nigaah e ishq
Writer :: Fakhar Shahzad MFS
Episode No :: 07
نوٹ برائے قارئین
کتاب دنیا میں اور خدا
کتاب چراغِ فہم
کتاب روح کی غذا
کتاب دنیاوی چکی
ناول میں سے من تک
ناول نگاہِ عِشق
مکمل حاصل کر سکتے ہیں شکریہ!

Address

Khanewal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fakhar Shahzad MFS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category