21/06/2026
نئی کتاب: کن فیکون
مصنف: فخرشہزاد ایم ایف ایس
روح ہمیشہ اپنے رب کی یاد میں سکون تلاش کرتی ہے، یہی اس کی اصل غذا ہے...
درویش کے نزدیک 'رب کی یاد' محض زبان سے الفاظ دہرا دینا نہیں، بلکہ روح کا اپنے خالق کے ساتھ وہ ازلی و ابدی غیبی رابطہ ہے...
صاحبِ فقر خاموشی کا وضو کرتا ہے، تنہائی کا مصلّٰی بچھاتا ہے اور ہر سانس کو یادِ حق سے زندہ کر دیتا ہے...
اگر تمہاری روح بھی اس "یادِ لایزول" کی پیاسی ہے تو پھر یہ 500 سے زائد صفحات کی تصوف ، روحانیت کے موضوعات پر مشتمل کتاب تمہارے لیے ہے۔
پری آرڈر جاری ہے
تعارفی قیمت: 2500 روپے
رابطہ: [انباکس]
اقتباس
روح اور رب کی یاد
جاننا چاہیے کہ مٹی کے اس فانی قفس میں قید "امرِ ربی" یعنی روح جب تک دنیاوی لذتوں، مادی اسباب کی کثرت، عارضی رشتوں کے مان اور نفس کی عیار مصلحتوں کے اندھیرے میں سچے چین کی متلاشی رہتی ہے، یہ پیاسے پنچھی کی طرح تڑپتی اور بلکتی رہتی ہے۔ روح ہمیشہ اپنے رب کی یاد میں سکون تلاش کرتی ہے، یہی اس کی اصل غذا ہے۔ درویش کے نزدیک "رب کی یاد" (یادِ لایزول) محض زبان سے چند الفاظ دہرا دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ تو روح کا اپنے خالقِ حقیقی کے ساتھ وہ ازلی و ابدی غیبی رابطہ ہے جو باطن کے حجرے سے غفلت کے سب پردوں کو چاک کر کے بندے کو اس کے اصل مقام سے روشناس کرواتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد (اور اس کے ذکر) سے سچا اطمینان پاتے ہیں، سن لو! اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو (حقیقی) سکون حاصل ہوتا ہے۔
حقیقتِ غذا اور مادی اسباب کا سراب
روحانی خوراک کی اس اصل حقیقت یہ ہے کہ بندے کا باطن کائنات کے جھوٹے میلوں، طمع، حسد اور منافقت کے غبار سے یکسر پاک ہو کر اپنے مرکزِ اصلی کی طرف پرواز کر جائے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جیسے مٹی سے بنے جسم کی خوراک مٹی سے نکلنے والا اناج ہے، بالکل ویسے ہی عالمِ امر سے آئی ہوئی روح کی غذا عرشِ بریں سے اترنے والا نورِ الٰہی ہے، جو صرف رب کی یاد سے حاصل ہوتا ہے۔ دنیا دار باہر کے اسباب اکٹھے کر کے اپنے جسم و نفس کو تو پال لیتے ہیں مگر ان کا باطن ہمیشہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے، جبکہ صاحبِ فقر خاموشی کا وضو کرتا ہے، تنہائی کا مصلّٰی بچھاتا ہے اور ہر سانس کو یادِ حق سے زندہ کر کے اپنی روح کو وہ توانائی بخشتا ہے جو اسے زمان و مکاں کی قید سے آزاد کر دیتی ہے۔
حدیثِ قدسی (یادِ الٰہی کی غیبی معیت اور والہانہ پن پر) ہے:
أَنَا مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي، وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ
ترجمہ: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) میں اپنے بندے کے ساتھ (اپنے غیبی قرب کے ساتھ) ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا ہے اور (میری یاد میں) اس کے ہونٹ ہلتے ہیں۔
مقامِ ارتکازِ باطن
درویش کے نزدیک رب کی یاد میں اتر جانے کی معراج "مقامِ ارتکازِ باطن" ہے، جہاں پہنچ کر مسافر کا دل ایک ایسا مصفّٰی ظرف بن جاتا ہے جہاں یادِ حق کے سوا کائنات کا کوئی دوسرا خیال، کوئی عارضی محبت یا کوئی دنیاوی خوف اثر نہیں کر سکتا۔ اس مقام پر قائم انسان کا اٹھنا بیٹھنا، جینا مرنا سب اپنے محبوبِ حقیقی کے لیے وقف ہو جاتا ہے اور اس کا باطن ہر لمحہ "اللہ ھو" کے غیبی ترانے سے گونجتا رہتا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ مسافر جس نے کائنات کے اس شور بازار میں اپنی روح کی سچی پکار کو سنا اور عجز کے مصلّٰی پر سر رکھ کر اپنی انا کو ذبح کر دیا۔ کیونکہ جو رب کی یاد کو اپنی روح کی غذا بنا لیتا ہے، "کن فایا کن" کا مالک اسے ولایت کا ابدی لباس پہنا کر لایزول باطنی عروج اور دارین کی سچی سلطنت عطا فرما دیتا ہے۔
کتاب کن فیکون (حقیقت سے ملاقات)
تصنیف فخرشہزاد ایم ایف ایس