14/06/2026
بچپن کی جھلک۔۔۔
جون کی تپتی دوپہر اپنے پورے جوبن پر تھی، سورج جیسے آسمان سے آگ کے انگارے برسا رہا تھا۔ دور تک پھیلی پختہ سڑک سے گرمی کی لپٹیں اور تپش ابلتی ہوئی صاف دیکھی جا سکتی تھیں، جو نظروں کے سامنے منظر کو دھندلا رہی تھیں۔ افتخار، جو زندگی کی تگ و دو اور شہر کی بے رحم، مشینی بھاگم بھاگ سے چور ہو چکا تھا، اس وقت تھکن سے نڈھال تھا۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے موٹے موٹے قطرے چمک رہے تھے، اور گرمی کی شدت سے اس کا حلق کانٹے کی طرح سوکھ رہا تھا۔ وہ پناہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک سڑک کنارے ایک شریں کے درخت پر اس کی نظر پڑی۔ اس کی گھنی، پھیلتی ہری بھری ٹہنیاں کسی مہربان دل کے پھیلے ہوئے بازوؤں کی مانند لگ رہی تھیں۔
افتخار نے موٹر سائیکل کا رخ اس کی طرف کر دیا اس کے سائے تلے پناہ لی اور نم آلود زمین پر سستانے کے لیے بیٹھ گیا۔
ابھی اسے بیٹھے چند ہی لمحے ہوئے تھے کہ پتوں کی سرسراہٹ کے ساتھ ہوا کا ایک نرم، ریشمی اور یخ بستہ جھونکا اس کے چہرے کو چھو کر گزرا۔ افتخار کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئیں۔ وہ ہوا اتنی سحر انگیز اور قدرتی طور پر ٹھنڈی تھی کہ بڑے سے بڑے ائیر کنڈیشنر (AC) کی بناوٹی ہوا بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ درخت کی گھنی، گہری چھاؤں نے زمین پر مخمل کی چادر بچھا رکھی تھی، جہاں تپتی دھوپ کی ایک چٹکی بھی داخل ہونے کا راستہ نہیں پا رہی تھی۔ پتے آپس میں ٹکرا کر ایک مدہم سا راگ الاپ رہے تھے۔ افتخار نے ایک گہرا، پرسکون سانس لیا اور اس کے لبوں سے بے اختیار، دل کی گہرائیوں سے نکلا، "سبحان اللہ!" وہ قدرت کے اس انمول کرشمے اور کمال پر سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے اس لمحاتی جنت سے لطف اندوز ہونے لگا۔
کچھ دیر بعد جب اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں، تو اس کی نظر سامنے بہتی ایک بل کھاتی، پتلی سی ندی پر پڑی۔ ندی کا شفاف، نیلا پانی دوپہر کی دھوپ میں پگھلی ہوئی چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کرسٹل جیسے پانی میں چار پانچ بچے، چہروں پر دنیا جہاں سے بے نیازی سجائے، شور مچاتے ہوئے نہا رہے تھے۔ کوئی ندی کے کنارے مٹی کے مینڈھے پر چڑھ کر پانی میں چھلانگ لگا رہا تھا، تو کوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے دوسرے پر پانی اچھال کر قہقہے لگا رہا تھا۔ پانی کی بوندیں جب ان کے دھوپ سے جھلسے چہروں پر گرتیں، تو ان کی معصوم مسکراہٹیں فضا میں جادو سا بکھیر دیتیں۔ ان کی کھلکھلاہٹیں ندی کے بہاؤ کے ساتھ مل کر ایک مسحور کن موسیقی پیدا کر رہی تھیں۔
بچوں کو اس طرح بے فکری کی انتہا پر کھیلتے دیکھ کر افتخار کے دل میں جیسے ایک دم سے وقت کا پہیہ الٹا گھوم گیا۔ وہ ایک ٹک، بنا پلک جھپکائے انہیں دیکھتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے موجودہ دنیا، زمان و مکان کے سارے بندھنوں کو توڑ کر اپنے ماضی کے نہاں خانوں میں اتر گیا۔
وہ اپنے بچپن کی وادی میں ڈوب گیا۔
اسے صاف یاد آیا کہ وہ بھی کبھی یوں ہی، ننگے پاؤں اور پھٹی ہوئی آستینوں کے ساتھ، کڑکتی دوپہروں میں ماں کی نظروں سے بچ بچا کر گھر کی دہلیز پار کر جایا کرتا تھا۔ ندی کا وہ ہڈیوں کو چھوتا ہوا ٹھنڈا پانی، دوستوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بے ساختہ ہنسنا، برسات کے پانی میں تیرتی کاغذ کی وہ کشتیاں، اور کنارے پر بنائے جانے والے وہ مٹی کے کچے گھروندے جنہیں لہریں مٹا دیتیں پر دل نہیں دکھتا تھا... سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ابلتے ہوئے رنگوں کی طرح زندہ ہو گیا۔ افتخار کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ایک گہری، دھیمی اور انتہائی خوبصورت مسکراہٹ تیر گئی۔ وہ سوچوں کے نیلے سمندر میں غوطہ زن تھا، پرسکون ہوا کے جھونکے اس کے بکھرے بالوں کو سہلا رہے تھے اور وہ اس پرفسون ماحول میں گم، اپنے بیتے ہوئے سنہری دنوں کو دوبارہ جی رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا، جس نے زندگی کے اس خشک صحرا میں اسے چند لمحوں کے لیے ہی سہی، اس پاکیزہ اور سچے سکون کا گھونٹ پلایا تھا۔
وہ ابھی بچپن کی اسی مخملی ریت پر ٹہل ہی رہا تھا کہ اچانک پسِ منظر سے ایک بھاری آواز گونجی
افتخار بھائی اٹھو یار، چلو... دیر ہو رہی ہے، آگے دفتر بھی پہنچنا ہے اور کلائنٹ بھی انتظار کر رہا ہوگا۔۔
وہ آواز کسی وزنی پتھر کی طرح اس کے خوابوں کے نازک شیش محل پر لگی۔ ایک زوردار، تکلیف دہ جھٹکے کے ساتھ وہ سارے حسین خواب، وہ چاندی جیسی ندی، وہ بچپن کے قہقہے لمحوں میں ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ وہ ایک دم سے چونک کر ہوش کی تلخ دنیا میں واپس پلٹ آیا۔
اس نے سامنے دیکھا جہاں اب ندی تو تھی، مگر اس کے ماتھے پر پسینہ پھر سے نمودار ہو چکا تھا۔ اس نے گرد و غبار سے اٹی سڑک کو دیکھا، اپنے لیدر کے بیگ اور اس میں دبی فائلوں پر نظر ڈالی، اور ایک لمبی، سرد آہ بھری۔ اسے شدت سے احساس ہوا کہ وہ معصومیت، وہ بے فکری اور وہ ہنستا ہوا بچپن تو وہ کہیں دور، ہزاروں سال پیچھے ماضی کے کسی موڑ پر چھوڑ کر آ چکا ہے۔ اب تو وہ زندگی کی اس اندھی ریس، پیٹ کی دوزخ اور وقت کی تیز رفتار بھاگم بھاگ کا قیدی ہے، جہاں ایک لمحے کو رکنے کا مطلب کچل دیا جانا ہے۔
اس نے ایک حسرت بھری آخری نظر ندی میں غوطے کھاتے بچوں پر ڈالی، اپنے کوٹ کو سیدھا کیا، مٹی جھاڑی اور تیز قدموں سے اپنے موٹر سائیکل کی طرح چل دیا دوبارہ شہر کے اسی اژدھام کا حصہ بننے کے لیے آگے بڑھ گیا... مگر اس کی روح، اس کا دل، اب بھی اسی شریں کی ٹھنڈی چھاؤں میں، ندی کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔
از قلم فخرشہزاد ایم ایف ایس