Fakhar Shahzad MFS

Call Website

Fakhar Shahzad MFS Poetry + quotes
Motivational Line's

نئی کتاب: کن فیکونمصنف: فخرشہزاد ایم ایف ایس روح ہمیشہ اپنے رب کی یاد میں سکون تلاش کرتی ہے، یہی اس کی اصل غذا ہے...  در...
21/06/2026

نئی کتاب: کن فیکون
مصنف: فخرشہزاد ایم ایف ایس

روح ہمیشہ اپنے رب کی یاد میں سکون تلاش کرتی ہے، یہی اس کی اصل غذا ہے...
درویش کے نزدیک 'رب کی یاد' محض زبان سے الفاظ دہرا دینا نہیں، بلکہ روح کا اپنے خالق کے ساتھ وہ ازلی و ابدی غیبی رابطہ ہے...
صاحبِ فقر خاموشی کا وضو کرتا ہے، تنہائی کا مصلّٰی بچھاتا ہے اور ہر سانس کو یادِ حق سے زندہ کر دیتا ہے...
اگر تمہاری روح بھی اس "یادِ لایزول" کی پیاسی ہے تو پھر یہ 500 سے زائد صفحات کی تصوف ، روحانیت کے موضوعات پر مشتمل کتاب تمہارے لیے ہے۔

پری آرڈر جاری ہے
تعارفی قیمت: 2500 روپے
رابطہ: [انباکس]

اقتباس
روح اور رب کی یاد
جاننا چاہیے کہ مٹی کے اس فانی قفس میں قید "امرِ ربی" یعنی روح جب تک دنیاوی لذتوں، مادی اسباب کی کثرت، عارضی رشتوں کے مان اور نفس کی عیار مصلحتوں کے اندھیرے میں سچے چین کی متلاشی رہتی ہے، یہ پیاسے پنچھی کی طرح تڑپتی اور بلکتی رہتی ہے۔ روح ہمیشہ اپنے رب کی یاد میں سکون تلاش کرتی ہے، یہی اس کی اصل غذا ہے۔ درویش کے نزدیک "رب کی یاد" (یادِ لایزول) محض زبان سے چند الفاظ دہرا دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ تو روح کا اپنے خالقِ حقیقی کے ساتھ وہ ازلی و ابدی غیبی رابطہ ہے جو باطن کے حجرے سے غفلت کے سب پردوں کو چاک کر کے بندے کو اس کے اصل مقام سے روشناس کرواتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد (اور اس کے ذکر) سے سچا اطمینان پاتے ہیں، سن لو! اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو (حقیقی) سکون حاصل ہوتا ہے۔
حقیقتِ غذا اور مادی اسباب کا سراب
روحانی خوراک کی اس اصل حقیقت یہ ہے کہ بندے کا باطن کائنات کے جھوٹے میلوں، طمع، حسد اور منافقت کے غبار سے یکسر پاک ہو کر اپنے مرکزِ اصلی کی طرف پرواز کر جائے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جیسے مٹی سے بنے جسم کی خوراک مٹی سے نکلنے والا اناج ہے، بالکل ویسے ہی عالمِ امر سے آئی ہوئی روح کی غذا عرشِ بریں سے اترنے والا نورِ الٰہی ہے، جو صرف رب کی یاد سے حاصل ہوتا ہے۔ دنیا دار باہر کے اسباب اکٹھے کر کے اپنے جسم و نفس کو تو پال لیتے ہیں مگر ان کا باطن ہمیشہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے، جبکہ صاحبِ فقر خاموشی کا وضو کرتا ہے، تنہائی کا مصلّٰی بچھاتا ہے اور ہر سانس کو یادِ حق سے زندہ کر کے اپنی روح کو وہ توانائی بخشتا ہے جو اسے زمان و مکاں کی قید سے آزاد کر دیتی ہے۔
حدیثِ قدسی (یادِ الٰہی کی غیبی معیت اور والہانہ پن پر) ہے:
أَنَا مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي، وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ
ترجمہ: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) میں اپنے بندے کے ساتھ (اپنے غیبی قرب کے ساتھ) ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا ہے اور (میری یاد میں) اس کے ہونٹ ہلتے ہیں۔
مقامِ ارتکازِ باطن
درویش کے نزدیک رب کی یاد میں اتر جانے کی معراج "مقامِ ارتکازِ باطن" ہے، جہاں پہنچ کر مسافر کا دل ایک ایسا مصفّٰی ظرف بن جاتا ہے جہاں یادِ حق کے سوا کائنات کا کوئی دوسرا خیال، کوئی عارضی محبت یا کوئی دنیاوی خوف اثر نہیں کر سکتا۔ اس مقام پر قائم انسان کا اٹھنا بیٹھنا، جینا مرنا سب اپنے محبوبِ حقیقی کے لیے وقف ہو جاتا ہے اور اس کا باطن ہر لمحہ "اللہ ھو" کے غیبی ترانے سے گونجتا رہتا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ مسافر جس نے کائنات کے اس شور بازار میں اپنی روح کی سچی پکار کو سنا اور عجز کے مصلّٰی پر سر رکھ کر اپنی انا کو ذبح کر دیا۔ کیونکہ جو رب کی یاد کو اپنی روح کی غذا بنا لیتا ہے، "کن فایا کن" کا مالک اسے ولایت کا ابدی لباس پہنا کر لایزول باطنی عروج اور دارین کی سچی سلطنت عطا فرما دیتا ہے۔

کتاب کن فیکون (حقیقت سے ملاقات)
تصنیف فخرشہزاد ایم ایف ایس

کل نمازِ جمعہ ادا کرنے گیا تو وہاں امام مسجد صاحب سے ایک بات سننے کو ملی جو کہ بہت ہی حیرت انگیز رہی آپ بھی سنئیےامام مس...
20/06/2026

کل نمازِ جمعہ ادا کرنے گیا تو وہاں امام مسجد صاحب سے ایک بات سننے کو ملی جو کہ بہت ہی حیرت انگیز رہی آپ بھی سنئیے
امام مسجد: بھائیوں یہ جو آپ لوگ 10 محرم الحرام کو مجلس میں جاتے ہو جس بھی نیت سے یا لنگر کھانا تو سن لو یہ حرام ہے وہاں جانا بھی حرام ہے انہیں دیکھنا ، سننا بھی حرام اور لنگر کھانا بھی حرام ہے کفر ہے یہ کفر سراسر جہنم خریدنا میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں۔۔۔
ہاں جی اب چلتے ہیں بات کی طرف
اب باتیں 5 ہے
1 وہاں جانا حرام ہے
2 دیکھنا حرام ہے
3 سننا حرام ہے
4 وہاں لنگر کھانا حرام ہے
5 کفر کا دعویٰ سرٹفکیٹ
پہلی بات کہ کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ مظلوم کے غم میں شامل ہونا حرام ہے ۔؟
اگر ایسا ہے تو پھر مرگ مرگت دکھ وغیرہ پے جانا چھوڑ دینا چاہیے۔
او بھئی مظلوم کے دکھ میں شریک ہونے سے خدا راضی ہوتا ہے

دوسری بات کونسا حوالہ ہے کہ مظلوم کا احتجاج دیکھنا حرام ہے ۔؟
مطلب ہمارے اندر ظلم کا کوئی خوف ہے جو ہم مظلوم دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

تیسری بات کہاں موجود ہے کہ انہیں سننا حرام ہے ۔؟
کیا ان کی مجلس میں شرک ہوتا ہے ۔؟ بدعتِ سیئہ، یا شریعت کی خلاف ورزی کی جاتی ۔؟
نہیں نہیں تو پھر کہاں حرام ہے۔؟
کیا انکی مجلس میں قرآن پاک ذکر ہوتا ہے ۔۔ جی
کیا انکی مجلس میں درود کا ورد ہوتا ہے ۔۔ جی
کیا انکی مجلس میں صبر کا پیغام ہوتا ہے ۔۔ جی
کیا انکی مجلس میں قربانی کا ذکر ہوتا ہے ۔۔ جی
جی تو پھر کہاں حرام ہے۔؟
اگر یہ سب سننا حرام ہے تو پھر کیا جو غیر مذہب کی فلمیں اور ڈرامے دیکھتے ہیں ان میں جو رام نام ، پوجا پاٹ ہوتی ہے وہ سننا حلال ہے ۔؟

چوتھی بات کونسی حدیث ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا اور اس کے پیاروں کے نام کی خیرات کھانا حرام ہے ۔؟
وہ کسی یزید کتے یا فرعون نمرود کے نام کا نہیں بانٹ رہیں ہوتے بلکہ وہ تو امامِ حُسینی دسترخواں ہوتا ہے جہاں پر مسکین کو کھانا ملتا ہو وہ دسترخواں حرام نہیں ہوتا
اگر امام حُسین کے دسترخواں سے کھانا حرام ہے تو پھر ذرا اطمینان سے بیٹھ کر سوچو ، غور وفکر کرو جو ہم گھروں میں کھا رہیں ہے کیا وہ حلال ہے ۔؟

پانچویں بات ایسی کون سی دلیل ہے جس کے تحت ایک مسلمان فرقہ دوسرے مسلمان فرقہ کو کفر لیبل دے ۔؟
ہاں جی اگر آپ کی بات کا رخ ماتم، زنجیر کی طرف ہے تو اس سے اختلاف کرنا اپنی جگہ ٹھیک لیکن مجلس حسینی کو حرام قرار دینا غلط ہے
نبی ﷺ کا فرمان ہے جس نے کسی مسلمان کو کافر کہا اور وہ کافر نہ تھا، تو کفر خود کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔ بخاری، مسلم
جس کو کفر کا نام دیا جا رہا ہے وہاں ہوتا کیا ہے ذکرِ اہلبیت، تلاوتِ قرآن، درود، صبر و قربانی کا درس، ظلم کے خلاف آواز۔ یہ سب چیزیں قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔
کفر اس وقت ہوتا جب شرک ہو، اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ ہو، یا قرآن کی توہین ہو۔ ذکرِ حسینؑ میں تو اللہ ہی کی وحدانیت اور نبی ﷺ کی اطاعت کا درس ہے۔
اہلبیت کا ذکر کرنا تو خود ایمان کا حصہ ہے۔ حدیثِ ثقلین "میں تم میں 2 چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں قرآن اور میری اہلبیت"

تحریر فخرشہزاد ایم ایف ایس

نوٹ یہاں کسی بھی شخصیت کو نامزد نہیں کیا گیا برائے کرم اسے پبلک میسج قرار دیا جائے شکریہ ۔ (ایم ایف ایس)

بچپن کی جھلک۔۔۔جون کی تپتی دوپہر اپنے پورے جوبن پر تھی، سورج جیسے آسمان سے آگ کے انگارے برسا رہا تھا۔ دور تک پھیلی پختہ ...
14/06/2026

بچپن کی جھلک۔۔۔
جون کی تپتی دوپہر اپنے پورے جوبن پر تھی، سورج جیسے آسمان سے آگ کے انگارے برسا رہا تھا۔ دور تک پھیلی پختہ سڑک سے گرمی کی لپٹیں اور تپش ابلتی ہوئی صاف دیکھی جا سکتی تھیں، جو نظروں کے سامنے منظر کو دھندلا رہی تھیں۔ افتخار، جو زندگی کی تگ و دو اور شہر کی بے رحم، مشینی بھاگم بھاگ سے چور ہو چکا تھا، اس وقت تھکن سے نڈھال تھا۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے موٹے موٹے قطرے چمک رہے تھے، اور گرمی کی شدت سے اس کا حلق کانٹے کی طرح سوکھ رہا تھا۔ وہ پناہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک سڑک کنارے ایک شریں کے درخت پر اس کی نظر پڑی۔ اس کی گھنی، پھیلتی ہری بھری ٹہنیاں کسی مہربان دل کے پھیلے ہوئے بازوؤں کی مانند لگ رہی تھیں۔
افتخار نے موٹر سائیکل کا رخ اس کی طرف کر دیا اس کے سائے تلے پناہ لی اور نم آلود زمین پر سستانے کے لیے بیٹھ گیا۔
ابھی اسے بیٹھے چند ہی لمحے ہوئے تھے کہ پتوں کی سرسراہٹ کے ساتھ ہوا کا ایک نرم، ریشمی اور یخ بستہ جھونکا اس کے چہرے کو چھو کر گزرا۔ افتخار کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئیں۔ وہ ہوا اتنی سحر انگیز اور قدرتی طور پر ٹھنڈی تھی کہ بڑے سے بڑے ائیر کنڈیشنر (AC) کی بناوٹی ہوا بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ درخت کی گھنی، گہری چھاؤں نے زمین پر مخمل کی چادر بچھا رکھی تھی، جہاں تپتی دھوپ کی ایک چٹکی بھی داخل ہونے کا راستہ نہیں پا رہی تھی۔ پتے آپس میں ٹکرا کر ایک مدہم سا راگ الاپ رہے تھے۔ افتخار نے ایک گہرا، پرسکون سانس لیا اور اس کے لبوں سے بے اختیار، دل کی گہرائیوں سے نکلا، "سبحان اللہ!" وہ قدرت کے اس انمول کرشمے اور کمال پر سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے اس لمحاتی جنت سے لطف اندوز ہونے لگا۔
کچھ دیر بعد جب اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں، تو اس کی نظر سامنے بہتی ایک بل کھاتی، پتلی سی ندی پر پڑی۔ ندی کا شفاف، نیلا پانی دوپہر کی دھوپ میں پگھلی ہوئی چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کرسٹل جیسے پانی میں چار پانچ بچے، چہروں پر دنیا جہاں سے بے نیازی سجائے، شور مچاتے ہوئے نہا رہے تھے۔ کوئی ندی کے کنارے مٹی کے مینڈھے پر چڑھ کر پانی میں چھلانگ لگا رہا تھا، تو کوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے دوسرے پر پانی اچھال کر قہقہے لگا رہا تھا۔ پانی کی بوندیں جب ان کے دھوپ سے جھلسے چہروں پر گرتیں، تو ان کی معصوم مسکراہٹیں فضا میں جادو سا بکھیر دیتیں۔ ان کی کھلکھلاہٹیں ندی کے بہاؤ کے ساتھ مل کر ایک مسحور کن موسیقی پیدا کر رہی تھیں۔
بچوں کو اس طرح بے فکری کی انتہا پر کھیلتے دیکھ کر افتخار کے دل میں جیسے ایک دم سے وقت کا پہیہ الٹا گھوم گیا۔ وہ ایک ٹک، بنا پلک جھپکائے انہیں دیکھتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے موجودہ دنیا، زمان و مکان کے سارے بندھنوں کو توڑ کر اپنے ماضی کے نہاں خانوں میں اتر گیا۔
وہ اپنے بچپن کی وادی میں ڈوب گیا۔
اسے صاف یاد آیا کہ وہ بھی کبھی یوں ہی، ننگے پاؤں اور پھٹی ہوئی آستینوں کے ساتھ، کڑکتی دوپہروں میں ماں کی نظروں سے بچ بچا کر گھر کی دہلیز پار کر جایا کرتا تھا۔ ندی کا وہ ہڈیوں کو چھوتا ہوا ٹھنڈا پانی، دوستوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بے ساختہ ہنسنا، برسات کے پانی میں تیرتی کاغذ کی وہ کشتیاں، اور کنارے پر بنائے جانے والے وہ مٹی کے کچے گھروندے جنہیں لہریں مٹا دیتیں پر دل نہیں دکھتا تھا... سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ابلتے ہوئے رنگوں کی طرح زندہ ہو گیا۔ افتخار کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ایک گہری، دھیمی اور انتہائی خوبصورت مسکراہٹ تیر گئی۔ وہ سوچوں کے نیلے سمندر میں غوطہ زن تھا، پرسکون ہوا کے جھونکے اس کے بکھرے بالوں کو سہلا رہے تھے اور وہ اس پرفسون ماحول میں گم، اپنے بیتے ہوئے سنہری دنوں کو دوبارہ جی رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا، جس نے زندگی کے اس خشک صحرا میں اسے چند لمحوں کے لیے ہی سہی، اس پاکیزہ اور سچے سکون کا گھونٹ پلایا تھا۔
وہ ابھی بچپن کی اسی مخملی ریت پر ٹہل ہی رہا تھا کہ اچانک پسِ منظر سے ایک بھاری آواز گونجی
افتخار بھائی اٹھو یار، چلو... دیر ہو رہی ہے، آگے دفتر بھی پہنچنا ہے اور کلائنٹ بھی انتظار کر رہا ہوگا۔۔
وہ آواز کسی وزنی پتھر کی طرح اس کے خوابوں کے نازک شیش محل پر لگی۔ ایک زوردار، تکلیف دہ جھٹکے کے ساتھ وہ سارے حسین خواب، وہ چاندی جیسی ندی، وہ بچپن کے قہقہے لمحوں میں ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ وہ ایک دم سے چونک کر ہوش کی تلخ دنیا میں واپس پلٹ آیا۔
اس نے سامنے دیکھا جہاں اب ندی تو تھی، مگر اس کے ماتھے پر پسینہ پھر سے نمودار ہو چکا تھا۔ اس نے گرد و غبار سے اٹی سڑک کو دیکھا، اپنے لیدر کے بیگ اور اس میں دبی فائلوں پر نظر ڈالی، اور ایک لمبی، سرد آہ بھری۔ اسے شدت سے احساس ہوا کہ وہ معصومیت، وہ بے فکری اور وہ ہنستا ہوا بچپن تو وہ کہیں دور، ہزاروں سال پیچھے ماضی کے کسی موڑ پر چھوڑ کر آ چکا ہے۔ اب تو وہ زندگی کی اس اندھی ریس، پیٹ کی دوزخ اور وقت کی تیز رفتار بھاگم بھاگ کا قیدی ہے، جہاں ایک لمحے کو رکنے کا مطلب کچل دیا جانا ہے۔
اس نے ایک حسرت بھری آخری نظر ندی میں غوطے کھاتے بچوں پر ڈالی، اپنے کوٹ کو سیدھا کیا، مٹی جھاڑی اور تیز قدموں سے اپنے موٹر سائیکل کی طرح چل دیا دوبارہ شہر کے اسی اژدھام کا حصہ بننے کے لیے آگے بڑھ گیا... مگر اس کی روح، اس کا دل، اب بھی اسی شریں کی ٹھنڈی چھاؤں میں، ندی کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔

از قلم فخرشہزاد ایم ایف ایس

غزلتو بھی یارا سمجھ نہ پایا۔میرا مسئلہ سمجھ نہ پایا۔پوری دنیا میں ایک بھی شخصمیرا رتبہ سمجھ نہ پایا۔لوگ سمجھے مجھے حرفِ ...
10/06/2026

غزل

تو بھی یارا سمجھ نہ پایا۔
میرا مسئلہ سمجھ نہ پایا۔

پوری دنیا میں ایک بھی شخص
میرا رتبہ سمجھ نہ پایا۔

لوگ سمجھے مجھے حرفِ غلط
کوئی قصہ سمجھ نہ پایا

دشتِ تنہائی میں بھٹکا ہوں میں
کوئی رستہ سمجھ نہ پایا

زندگی خواب تھی اک رات کی
کوئی دھوکہ سمجھ نہ پایا

میں نے دنیا کو بہت جانا ہے
پر وہ نکتہ سمجھ نہ پایا

دل کے دردوں کو جو سمجھ لیتا
وہ بھی وعدہ سمجھ نہ پایا

میں نے اپنوں سے کیا تھا گلہ
کوئی شکوه سمجھ نہ پایا

فخرشہزاد ایم ایف ایس

الحمدللہ رب العالمین 🥰 500 موضوعات پر مشتمل کتاب کی مقبولیت آپ کے سامنے ہےپس۔۔۔بات جو میری بنی ہے سب یہ تیری بات ہےورنہ ...
08/06/2026

الحمدللہ رب العالمین 🥰 500 موضوعات پر مشتمل کتاب کی مقبولیت آپ کے سامنے ہے
پس۔۔۔
بات جو میری بنی ہے سب یہ تیری بات ہے
ورنہ میری کیا حقیقت میری کیا اوقات ہے

کتاب کن فیکون (حقیقت سے ملاقات)
مصنف فخرشہزاد ایم ایف ایس

23/05/2026

مٹ گیا نقشِ دو جہاں جب سے
دھوپ چادر ہے، لا مکاں سایہ

فخرشہزاد ایم ایف ایس

زیرِ قلم کتاب "کن فیکون" کے متعدد موضوعات میں سے ایک موضوع اہلِ ذوق کی خدمت میں پیش ہے۔واضح رہے کہ اس کتاب میں تصوف، شعو...
22/05/2026

زیرِ قلم کتاب "کن فیکون" کے متعدد موضوعات میں سے ایک موضوع اہلِ ذوق کی خدمت میں پیش ہے۔
واضح رہے کہ اس کتاب میں تصوف، شعور، فکر ، زمانہ اور روحانیت سے جڑے تقریباً 500 موضوعات کو قلم بند کیا جا رہا ہے۔
مصنف فخرشہزاد ایم ایف ایس

ناول: نگاہِ عشقمصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایسآخری قسطمنظر 1چھ ماہ بعد۔۔۔(سٹی تھانے کے تشویشی کمرے میں مدھم روشنی ہے، سگریٹ ...
19/05/2026

ناول: نگاہِ عشق
مصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایس
آخری قسط
منظر 1
چھ ماہ بعد۔۔۔
(سٹی تھانے کے تشویشی کمرے میں مدھم روشنی ہے، سگریٹ کا دھواں فضا میں معلق ہے۔ میز کے ایک طرف انسپیکٹر جہانگیر اور ایس ایچ او خاور سنجیدہ چہروں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف فیضان جبار، جس کے چہرے پر تھکن اور خوف کے آثار ہیں، ہتھکڑیوں میں جکڑا بیٹھا ہے۔)
(ایک لیپ ٹاپ کی سکرین خاور کی طرف گھماتے ہوئے) "سر! ویڈیو آپ دیکھ رہے ہیں۔ مجھے اس لڑکے پر پہلے دن سے شک تھا۔ میں نے اپنا ایک خاص مخبر اس کے پیچھے لگایا ہوا تھا۔"
جہانگیر نے اپنی کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہوئے دبی آواز میں کہا۔
"ویڈیو پر نظریں جمائے ہوئے ہوں۔۔۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ ندی کے کنارے لاش ٹھکانے لگا رہا ہے۔"
خاور نے ویڈیو کے مناظر میں کھوئے ہوئے، انتہائی سنجیدگی سے تبصرہ کیا۔
"جی سر! اس واقعے کے فوراً بعد یہ غائب ہو گیا تھا۔ چھ ماہ تک ہم نے خاک چھانی ہے، تب جا کر آج یہ ہتھے چڑھا ہے۔"
جہانگیر نے اپنی انتھک محنت کا حوالہ دیتے ہوئے اطمینان سے بتایا۔
"سیٹھ جبار کا اکلوتا لاڈلا۔۔۔ اب بولے گا۔ جہانگیر! کیمرہ آن کرو، اس کا اعترافی بیان ریکارڈ کرنا ہے۔"
خاور نے فیضان پر ایک سرد اور شکاری نظر ڈالتے ہوئے حکم دیا۔
(جہانگیر کیمرہ آن کرتا ہے۔ ریڈ لائٹ جلتی ہے۔ فیضان کی آنکھوں میں خوف کی جھلک ابھرتی ہے۔)
"ہاں بھئی فیضان جبار! اب سچ سچ بتاؤ، اس رات کیا ہوا تھا؟"
خاور نے کرخت اور رعب دار لہجے میں سوال داغا۔
منظر 2 (فلیش بیک - 6 ماہ قبل)
(کمرہ بکھرا ہوا ہے۔ بیڈ پر مہوش اور فیضان بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ ماحول میں بظاہر سکون ہے مگر تناؤ کی لہریں موجود ہیں۔)
(فیضان کا ہاتھ تھامتے ہوئے) "فیضان! آخر کب تک ہم یوں چھپ چھپ کر ملتے رہیں گے؟ اب بہت وقت گزر گیا ہے، ہمیں شادی کر لینی چاہیے۔"
مہوش نے مستقبل کی امید لیے، ملتجیانہ انداز میں کہا۔
(ایک دم ہاتھ چھڑاتے ہوئے، قہقہہ لگا کر) "شادی؟ اور تم سے؟ پاگل ہو گئی ہو کیا؟ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ فیضان جبار تم جیسی لڑکی کو اپنے گھر کی عزت بنائے گا؟"
فیضان نے تمسخر اڑاتے ہوئے انتہائی بے رحمی سے اسے جھڑکا۔
"یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم تو مجھ سے محبت کے دعوے کرتے تھے، زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھاتے تھے۔"
مہوش کی آواز صدمے اور ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی وجہ سے تھرتھرانے لگی۔
"دیکھو مہوش! وقت گزاری کو محبت کا نام مت دو۔ میں نے تمہیں تمہارے ایک ایک پل کا معاوضہ دیا ہے۔ جو مانگا، وہ تمہارے قدموں میں ڈھیر کیا۔ اب یہ 'عشق' والا ڈرامہ بند کرو۔"
فیضان نے سفاکی سے حقیقت بیان کرتے ہوئے اسے جتایا۔
"ٹھیک کہتی تھیں میری دوستیں۔۔۔ کہ تم جیسے لوگ صرف جسموں سے کھیلتے ہیں، جذبات سے نہیں۔ تم ایک درندے ہو۔"
مہوش نے نفرت اور حقارت سے بھرے لہجے میں اسے کوسا۔
"زبان سنبھال کر بات کرو! اور ہاں، یہ شادی کے خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ اگر چاہو تو عمر بھر میرے ساتھ اسی 'تعلق' میں رہ سکتی ہو، لیکن بیوی بننے کی اوقات تمہاری نہیں ہے۔"
فیضان نے غصے سے دانت پیستے ہوئے اپنی اوقات دکھائی۔
"تم نیچ ہو فیضان! میں ابھی تمہارے باپ کے پاس جاؤں گی، سب کو بتاؤں گی کہ تم کتنے گرے ہوئے انسان ہو۔"
مہوش نے تڑپ کر آخری ہتھیار کے طور پر دھمکی دی۔
(جھگڑا بڑھ جاتا ہے۔ مہوش، فیضان کا گریبان پکڑتی ہے اور اسے دھکا دیتی ہے۔ فیضان غصے میں اندھا ہو کر مہوش کا گلا دبوچ لیتا ہے اور اسے دیوار سے دے مارتا ہے۔ مہوش کا سر زور سے الماری کے کونے سے ٹکراتا ہے اور وہ زمین پر گر جاتی ہے۔ تھوری دیر تڑپنے کے بعد وہ ساکت ہو جاتی ہے۔)
"مہوش۔۔۔ مہوش اٹھو! یہ کیا ڈرامہ ہے؟"
فیضان نے بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ میں اسے پکارا۔
منظر 3 (ندی کا کنارہ)
(سنسان سڑک، دور دور تک کوئی نہیں ہے۔ فیضان کی گاڑی ندی کے پاس آ کر رکتی ہے۔ وہ ڈگی کھولتا ہے، لاش نکالتا ہے اور بوجھل قدموں سے ندی کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ ایک گہرے سانس کے ساتھ لاش کو پانی میں دھکا دیتا ہے۔ پانی کی چھپاک کی آواز سنائی دیتی ہے۔)
منظر 4 (واپس حال - انویسٹی گیشن روم)
(فیضان کا بیان ختم ہوتا ہے۔ وہ سر جھکائے سسکیاں لے رہا ہے۔)
"جہانگیر! اس کا یہ لائیو بیان بہت سنبھال کر رکھنا۔ یہ ہمارا سب سے بڑا ثبوت ہے۔"
خاور نے کسی بڑی کامیابی کے احساس کے ساتھ تاکید کی۔
(دونوں کمرے سے باہر نکل کر ایس ایچ او کے دفتر میں آ جاتے ہیں۔)
منظر 5 (ایس ایچ او کا دفتر)
(جہانگیر دروازہ بند کرتا ہے اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔)
"سر! ہم جانتے ہیں کہ فیضان جبار کس کا بیٹا ہے۔ سیٹھ جبار کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ اس کے لیے کیس ختم کرنا، گواہ خریدنا یا ضمانت کروانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ کل صبح تک بڑے بڑے لوگوں کے فون آ جائیں گے اور یہ آزاد ہوگا۔"
جہانگیر نے تلخ حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی۔
"تو تم کیا چاہتے ہو؟ کیا ہم ایک قاتل کو یوں ہی چھوڑ دیں؟"
خاور نے مصلحت اور غصے کے ملے جلے تاثر سے پوچھا۔
"سر! میری سمجھ میں تو ایک ہی راستہ آتا ہے۔ اس جیسے درندے کو قانون کے چنگل سے نکلنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ اس کا انکاؤنٹر کرنا ہوگا۔"
جہانگیر نے دو ٹوک اور خطرناک لہجے میں تجویز پیش کی۔
"انکاؤنٹر؟ جہانگیر، یہ بہت بڑا رسک ہے۔"
خاور نے ہچکچاہٹ اور خوف کے زیر اثر دبی آواز میں کہا۔
"سر! معاشرے کو ایسے ناسوروں سے بچانے کا یہی طریقہ ہے۔ ہم ایک پلان بناتے ہیں۔ کل صبح جب اسے عدالت لے جانے کے لیے جیپ میں بٹھائیں گے، تو راستے میں 'سنسان موڑ' پر یہ ڈرامہ رچائیں گے کہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی، پولیس پر حملہ کیا اور جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔"
جہانگیر نے عزم مصمم کے ساتھ پورا نقشہ کھینچا۔
"ٹھیک ہے۔۔۔ انسانیت کے ناطے یہی انصاف ہے۔ صبح پانچ بجے ٹیم تیار ہونی چاہیے۔ فائل میں لکھ دینا کہ ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی۔"
خاور نے بھاری دل مگر پختہ ارادے سے منظوری دی۔
(سلیوٹ کرتے ہوئے) "یس سر! کل کا سورج فیضان جبار کی زندگی کی آخری صبح ہوگی۔"
جہانگیر نے پرجوش اور حتمی لہجے میں عزم دہرایا۔
منظر 6
(منصور کمرے میں ایک سادہ سے بیڈ پر لیٹا ہوا ہے۔ اس کی حالت کچھ ناقص ہے، اچانک دروازہ کھلتا ہے۔)
"السلام علیکم۔ میں آ جاؤں؟"
لاریب نے انتہائی ادب اور فکر مندی سے اجازت چاہی۔
(منصور آہستہ سے آنکھیں کھولتا ہے اور لاریب کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سا اطمینان ہے۔)
"وعلیکم السلام۔ آ جاؤ لاریب، تمہارا ہی انتظار تھا۔"
منصور نے نحیف مگر پرسکون آواز میں اسے پکارا۔
(لاریب بیڈ کے پاس آتی ہے اور منصور کی حالت دیکھ کر اس کا دل پسیج جاتا ہے۔)
"سر، آپ کی طبیعت کا پتا چلا۔ میں تو بہت پریشان تھی۔"
لاریب نے نمناک آنکھوں سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
"کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ سب اللہ کی رضا ہے۔ آؤ بیٹھو، تمہیں ایک بات بتانی ہے۔ ذرا۔"
منصور نے ایک درویشانہ بے نیازی سے مسکراتے ہوئے اسے قریب بلایا۔
(لاریب ایک کرسی کھینچ کر بیڈ کے پاس بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں سوال ہے۔)
"جی، کیا بات؟"
لاریب نے پوری توجہ سے دریافت کیا۔
(منصور اپنے پاس بیڈ پر پڑے ایک چھوٹے سے، لیکن نفیس اور قدیمی نظر آنے والے تحفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ تحفہ ایک پرانی نقش و نگار والی لکڑی کی ڈبیا ہے، جس پر کوئی خاص دعا یا نام کندہ ہے)
(تحفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) "یہ دیکھ رہی ہو؟"
منصور نے معنی خیزی سے پوچھا۔
"جی، دیکھ رہی ہوں۔"
لاریب نے غور سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
"سنو۔"
منصور نے سنجیدگی سے مخاطب کیا اور اس کی آنکھیں دور خلا میں دیکھنے لگیں، جیسے ماضی کی پرتیں کھل رہی ہوں۔
منظر 7 (فلیش بیک)
(پیر عنایت اللہ شاہ کا آستانہ ایک پرسکون اور روحانی جگہ ہے۔)
"شاہ صاحب! بچپن میں بھی یہ آپ کے تعویذ سے ٹھیک ہوا تھا۔ اب بھی آپ کے پاس لائی ہوں۔ یہ جو بھی کام کرتا ہے، جب کامیاب ہونے لگتا ہے تو کہتا ہے، 'یہ میرا کام نہیں ہے، یہ میرا راستہ نہیں ہے'۔ چھوڑ دیتا ہے۔ اب اس کی شادی کی ہے، تو یہ کہتا ہے، مجھے کہیں تنہا رہنا ہے۔"
منصور کی ماں ہاجرہ نے پریشانی اور بے بسی سے پیر صاحب کو حال سنایا۔
(پیر عنایت اللہ شاہ منصور کی طرف دیکھتے ہیں، ان کی آنکھوں میں دانائی اور شفقت ہے۔)
"بی بی، میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ اس کے راستے الگ ہیں۔ اس نے کوئی اور کام کرنا ہے۔ اسے ہر طرح سے اجازت دے دو۔ باقی میں اسے سمجھا دیتا ہوں۔ تم ذرا باہر جاؤ۔"
پیر صاحب نے ایک روحانی پیشوا کے رعب اور مٹھاس سے اسے تسلی دی۔
(منصور کی ماں کچھ ہچکچاتی ہے، لیکن پھر پیر صاحب کا احترام کرتے ہوئے باہر چلی جاتی ہے۔ پیر عنایت اللہ شاہ اب منصور کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔)
"تم نے بہت امتحان پاس کیے ہیں، منصور۔ اب تم نے خدا کے کام کرنے ہیں۔ لوگوں کی اصلاح کرنی ہے۔ مجھے پتا ہے تم تنہا ہونے کی کیوں اجازت چاہتے ہو۔ تنہا رہو تم۔ لیکن ایک بات کا خیال رکھنا۔ گھر کے خرچ کی ذمہ داری کبھی نہ بھولنا۔ اور اپنے بیوی بچوں کی ازواجی زندگی کی ضرورت پوری کرنا۔"
شاہ صاحب نے ایک مرشد کے انداز میں اسے زندگی کا مقصد اور ذمہ داریاں سمجھائیں۔
(منصور سر جھکا کر سنتا ہے، اس کے چہرے پر فرمانبرداری ہے۔)
"جی، جو حکم۔"
منصور نے عاجزی سے سر تسلیم خم کیا۔
(پیر عنایت اللہ شاہ ایک پرانی، نقش و نگار والی لکڑی کی ڈبیا—وہی تحفہ جو لاریب کو دکھایا گیا تھا—منصور کو دیتے ہیں۔)
"یہ تیری امانت تھی۔ لے جا۔"
شاہ صاحب نے ایک گہری روحانی نسبت کے ساتھ وہ ڈبیا اس کے حوالے کی۔
منظر 8 (فلیش بیک)
(منصور کے گھر کا صحن۔ منصور اپنے گھر پہنچتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے پیر عنایت اللہ شاہ کے کچھ ملنگ آتے ہیں، ان میں سے ایک، پیر صاحب کا بیٹا غصے میں ہے۔)
"یہ ہمارے آباؤ اجداد کی وراثت ہے! یہ ہمارے حصے میں آنی چاہیے! تم کیسے یہ لے سکتے ہو؟"
عنایت اللہ شاہ کے بیٹے نے حسد اور غصے میں چکھتے ہوئے مطالبہ کیا۔
(پیر صاحب کا بیٹا منصور کی طرف بڑھتا ہے اور اس کے ہاتھ سے وہ تحفہ چھین لیتا ہے۔ منصور خاموشی سے دیکھتا رہتا ہے، کوئی مقاومت نہیں کرتا۔ اس کی ماں پریشان ہو جاتی ہے۔)
"یہ کیا کر رہے ہو تم لوگ؟"
ہاجرہ نے بدحواسی میں دہائی دی۔
منظر 9 (حال)
(منصور کا کمرہ۔ لاریب ابھی تک حیران ہے اور منصور کی طرف دیکھ رہی ہے۔)
"تو سر، اگر انہوں نے وہ چھین لیا تھا، تو یہ کیا ہے؟"
لاریب نے حیرت اور تجسس سے پوچھا۔
(منصور کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آتی ہے۔ وہ تحفہ اٹھاتا ہے اور لاریب کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔)
"جو انہوں نے چھینا، وہ ان کا وہم تھا۔ اور جو میرے پاس ہے، یہ میری امانت تھی۔"
منصور نے کسی عظیم سچائی سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
(لاریب تحفے کو دیکھتی ہے، جیسے اسے اب اس کی اصل قیمت کا اندازہ ہو رہا ہو۔)
"اب یہ تمہاری امانت ہے۔ تم لے جاؤ اسے۔ اور یاد رکھنا، دنیا سے دور رہنا ہے۔"
منصور نے اسے وصیت کرتے ہوئے بڑے بوجھل مگر پر اثر لہجے میں ہدایت کی۔
منظر 10 (اختتامی منظر)
(کچھ دن بعد، دن کا وقت۔ ایک پختہ قبر ہے، جس کے ارد گرد عقیدت مند کھڑے ہیں۔ لوگ قبر پر چادریں چڑھا رہے ہیں، پھول ڈال رہے ہیں، اور دعائیں مانگ رہے ہیں۔ یہاں پرسکون ماحول ہے، اور لوگ منصور کی یاد میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ فضا میں درود و سلام کی دھیمی آوازیں گونج رہی ہیں۔ لوگ عقیدت سے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ لاریب دور کھڑی وہی 'امانت' سینے سے لگائے آنکھوں میں آنسو لیے مسکرا رہی ہے، جیسے اسے اب زندگی کا مقصد مل گیا ہو۔)
(سیاہ اسکرین پر سنہری حروف میں یہ جملہ نمودار ہوتا ہے:)
"جس نے مخلوق کی چھین جھپٹ میں خاموشی اختیار کی، خالق نے اسے اپنی خاص امانت کا امین بنا دیا؛ کیونکہ دنیا صدف ہے اور معرفتِ الٰہی وہ موتی جو صرف ٹوٹے ہوئے دلوں میں ملتا ہے۔"
سین کٹ۔۔۔۔۔
Novel :: Nigaah e ishq
Writer :: Fakhar Shahzad MFS
Last Episode
نوٹ برائے قارئین
اختتام پر اپنی خصوصی تنقیدی رائے ضرور دیں شکریہ!

کتاب دنیا میں اور خدا
کتاب چراغِ فہم
کتاب روح کی غذا
کتاب دنیاوی چکی
ناول میں سے من تک
ناول نگاہِ عِشق
مکمل حاصل کر سکتے ہیں شکریہ!

ناول: نگاہِ عشقمصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایسقسط نمبر: 8منظر 1(کینٹین میں ہلکا شور ہے، طلباء ادھر ادھر بیٹھے ہیں۔ ایک کونے ...
12/05/2026

ناول: نگاہِ عشق
مصنف: فخر شہزاد ایم ایف ایس
قسط نمبر: 8
منظر 1
(کینٹین میں ہلکا شور ہے، طلباء ادھر ادھر بیٹھے ہیں۔ ایک کونے میں باسط اور ماریہ بیٹھے ہیں، ان کے سامنے چائے کے کپ پڑے ہیں۔ باسط تھوڑا پرجوش اور تھوڑا فکرمند دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ماریہ کے لہجے میں ایک خاص پراعتمادی ہے۔)
"باسط، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس چھپن چھپائی کو ختم کریں۔ تم اپنے گھر والوں کو میرے گھر بھیج دو... میرا رشتہ لینے کے لیے۔"
ماریہ نے حتمی اور پر اعتماد لہجے میں تجویز پیش کی۔
"واہ یار! ماریہ، یہ تو تم نے زندگی کی سب سے بہترین خبر سنائی ہے! مطلب... تم واقعی تیار ہو؟"
باسط نے بے یقینی اور شدید مسرت کے ملے جلے جذبات سے پوچھا۔
"بالکل تیار ہوں۔"
ماریہ نے مسکراتے ہوئے تصدیق کی۔
"میں تو آج ہی امی سے بات کروں گا، بلکہ ابھی فون کر دوں! لیکن..."
باسط نے جوش میں کہتے کہتے اچانک رک کر تذبذب کا اظہار کیا۔
"...کیا تمہارے گھر والے مان جائیں گے؟ تمہارے پاپا بہت سخت مزاج ہیں، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تمہیں کوئی مشکل پیش آئے۔"
باسط کے لہجے میں اب فکر مندی نمایاں تھی۔
"تم میرے گھر والوں کی فکر بالکل نہ کرو عامر۔ انہیں کیسے منانا ہے، کب بات کرنی ہے، یہ سب میں دیکھ لوں گی۔ یہ محاذ مجھ پر چھوڑ دو۔"
ماریہ نے دلاسا دیتے ہوئے چٹان جیسے حوصلے کے ساتھ کہا۔
"تمہارا یہی کانفیڈنس تو مجھے تمہارا دیوانہ بناتا ہے۔ چلو، اگر تم کہتی ہو تو میں اپنے گھر والوں کو 'گرین سگنل' دے دیتا ہوں۔"
باسط نے اس کی ہمت کی داد دیتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
"صرف سگنل نہیں، انہیں پوری تیاری کے ساتھ بھیجنا۔ میں انتظار کروں گی۔"
ماریہ نے معنی خیزی سے جتاتے ہوئے کہا۔
(باسط کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ وہ چائے کا سپ لیتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگتے ہیں، جیسے مستقبل کے خواب بن رہے ہوں کہ اچانک باسط دوبارہ بول پڑتا ہے۔)
"اچھا سنو، اگر تمہارے پاپا نے مجھ سے میری جاب اور فیوچر پلانز کے بارے میں پوچھا تو؟"
باسط نے ایک نئے وہم کا شکار ہوتے ہوئے پوچھا۔
"اوہو باسط! اب تم نے انٹرویو کی تیاری ابھی سے شروع کر دی؟ ریلیکس! میں ہوں نا سب سنبھالنے کے لیے۔"
ماریہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے اسے چھیڑا اور اطمینان دلایا۔
منظر 2
(دفتر میں مکمل خاموشی ہے۔ منصور بیٹھا ایک پرانی کتاب کے مطالعے میں غرق ہے۔ دھوپ کی ایک سنہری لکیر اس کے ہاتھ پر پڑ رہی ہے۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے۔ لاریب آہستہ سے دروازہ کھولتی ہے، اس کا ایک پاؤں اندر ہے اور ایک باہر۔)
"السلام علیکم سر! کیا... کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟"
لاریب نے جھجکتے ہوئے دبی آواز میں اجازت چاہی۔
(منصور کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر، لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے۔)
"وعلیکم السلام... آؤ لاریب۔"
منصور نے انتہائی شفقت سے پکارا۔
(وہ آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی میز کے قریب آتی ہے، اس کے ہاتھ تھوڑے لرز رہے ہیں۔)
"سر! میں... میں آپ کو پہچان چکی ہوں۔ آپ وہ نہیں ہیں جو نظر آتے ہیں۔ آپ اللہ والے ہیں۔ آپ کو اس کا قرب نصیب ہے۔ آپ کی خاموشی بہت کچھ بولتی ہے سر!"
لاریب نے کسی انکشاف کے سحر میں ڈوبے ہوئے لہجے میں اعتراف کیا۔
(منصور ایک دم رک جاتا ہے۔ وہ اپنی گردن جھکاتا ہے اور ایک گہرا سانس لیتا ہے جیسے کسی بوجھ تلے دب گیا ہو۔ وہ اپنی ہتھیلیوں کو دیکھتا ہے۔)
"میں؟... میں کون ہوں؟ میں تو کچھ بھی نہیں۔ بس ایک مٹی کا ڈھیر، سراپا گناہ، خاکِ راہ..."
منصور نے عاجزی اور انکساری کی انتہا کو چھوتے ہوئے خود کلامی کی۔
(وہ اپنی کرسی سے تھوڑا پیچھے ہوتا ہے اور وجدانی کیفیت میں ایک شعر گنگناتا ہے:)
"بات جو میری بنی ہے، سب یہ تیری بات ہے
ورنہ میری کیا حقیقت، میری کیا اوقات ہے"
منصور کی آواز میں ایک کیف آور گداز تھا۔
(کمرے میں ایک لمحے کے لیے سکوت چھا جاتا ہے۔ لاریب کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں۔)
"سر! مجھے بھی وہی راستہ چاہیے۔ میں بھی اللہ کا قرب چاہتی ہوں۔ تڑپ رہی ہوں میں۔ بتائیے نا، وہ کہاں ملے گا؟ میں اسے کہاں ڈھونڈوں؟"
لاریب نے ہچکیاں روکتے ہوئے پیاسے کی مانند سوال کیا۔
(منصور آہستہ سے اٹھتا ہے اور کھڑکی کی طرف چلنے لگتا ہے جہاں سے روشنی چھن کر آ رہی ہے۔)
"(مسکراتے ہوئے) اسے ڈھونڈنا کیسا لاریب؟ وہ تو پہلے سے تیرے اندر موجود ہے۔ تیری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب۔ بس رکاوٹ تیری طرف سے ہے، اور تو باہر ڈھونڈ رہی ہے۔"
منصور نے ایک رہبر کی طرح نہایت پیار سے اسے سمجھایا۔
"کیا مطلب سر؟ اگر وہ اندر ہے تو مجھے محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ مجھے یہ اندھیرا کیوں دکھائی دیتا ہے؟"
لاریب نے الجھن اور معصومیت سے پوچھا۔
(منصور مڑتا ہے، اس کا چہرہ اب سورج کی روشنی میں چمک رہا ہے۔)
"تم نے سنا نہیں؟ خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ اپنے من کو اس دنیا کی گرد سے پاک کر لو۔ جب برتن صاف ہوتا ہے، تبھی اس میں لذیذ مشروب ڈالا جاتا ہے۔ جب تمہارا من صاف ہوگا، تو وہ نور خود بخود تمہاری روح میں اتر جائے گا۔"
منصور نے معرفت بھرے جلال کے ساتھ وضاحت کی۔
"وہ کیسے سر؟ میں اس من کو کیسے صاف کروں؟"
لاریب نے تڑپ کر طریقہ پوچھا۔
(منصور اشارے سے لاریب کو کھڑکی کے پاس بلاتا ہے۔ وہ کھڑکی کے شیشے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔)
"دیکھو اس شیشے کو۔ یہ صاف ہے، شفاف ہے۔ اسی لیے سورج کی روشنی اسے چیرتی ہوئی اندر آ رہی ہے۔ اب دیکھو..."
منصور نے اسے مثال دیتے ہوئے متوجہ کیا۔
(منصور اچانک کھڑکی کا بھاری پردہ کھینچ دیتا ہے۔ کمرے میں یکدم اندھیرا چھا جاتا ہے، صرف ایک مدہم سی روشنی باقی رہ جاتی ہے۔)
"یہ ہے دنیا کا پردہ۔ لالچ، حسد، انا اور خواہشات کا پردہ۔ اس نے روشنی کو ڈھانپ لیا۔ روشنی اب بھی باہر موجود ہے، ختم نہیں ہوئی، لیکن کمرے کے اندر نہیں آ رہی۔ جب تک من میں دنیا بسی ہے، یہ پردہ رہے گا اور تمہاری روح اندھیرے میں رہے گی۔"
منصور نے بھاری اور پُر اثر آواز میں حقیقت سے پردہ اٹھایا۔
(لاریب خاموشی سے اس اندھیرے کو دیکھتی ہے، جیسے اسے اپنی زندگی کی حقیقت نظر آ گئی ہو۔)
"جی سر... سمجھ گئی۔ لیکن سر، یہ روشنی اصل میں آتی کہاں سے ہے؟ اس کا منبع کیا ہے؟"
لاریب نے مرعوب ہو کر دھیمے لہجے میں سوال کیا۔
"یہ روشنی آسمانوں کو چیرتی ہوئی سیدھی روح میں بستی ہے۔ اور یہ روشنی اسی 'چراغ' سے آتی ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآنِ پاک کے اٹھارہویں پارے، سورۃ النور کی آیت نمبر 35 میں کیا ہے۔ وہ چراغ جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی، جس کا تیل خود بخود روشن ہونے کو ہے چاہے اسے آگ نہ بھی چھوئے۔ وہی نور ہے جو نور پر نور ہے۔"
منصور نے وجدانی کیفیت میں ڈوب کر بیان کیا۔
(لاریب جذبات سے مغلوب ہو کر منصور کے سامنے بیٹھ جاتی ہے۔)
"سر! میرا ہاتھ پکڑ لیں۔ مجھے راستہ دکھا دیں۔ مجھے اکیلا مت چھوڑیے گا، میں بھٹک جاؤں گی۔ آپ مجھے اس راستے پر لے چلیں۔"
لاریب نے روہانسی ہو کر بیچارگی سے التجا کی۔
(منصور کی آنکھوں میں شفقت آتی ہے، مگر وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لیتا ہے۔)
نہ لاریب! چلنا بھی تم نے ہے، فیصلہ بھی تمہارا ہے۔ میرا فرض صرف بتانا تھا۔ یاد رکھنا، اس راستے پر اکیلے ہی چلنا ہوتا ہے۔ جیسے وہ 'وحدہ لاشریک' ہے، وہ اپنی محبت میں بھی کسی دوسرے کا شریک پسند نہیں کرتا۔ جب تم اس کی طرف چلو گی، تو وہ خود تمہارا ہاتھ تھام لے گا۔"
منصور نے درویشانہ سختی اور حقیقت پسندی سے اسے باور کرایا۔
(منصور واپس اپنی میز کی طرف مڑ جاتا ہے اور دوبارہ وہی کتاب کھول لیتا ہے، جیسے اس کا کام مکمل ہو گیا ہو۔)
"چلو اب جاؤ۔ اپنے من کو دنیا سے پاک کرو اور اپنی روح کو اس کے نور سے روشن کرو۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔"
منصور نے دعا دیتے ہوئے اسے رخصت ہونے کا اشارہ کیا۔
(لاریب سر جھکا کر، بوجھل قدموں مگر روشن دل کے ساتھ باہر کی طرف بڑھتی ہے۔ منصور کا چہرہ اب دوبارہ کتاب کے الفاظ میں گم ہو چکا ہے، مگر اس کے لبوں پر وہی ابدی مسکراہٹ ہے۔)
منظر 3
(سٹی تھانے میں معمول کا شور شرابہ ہے۔ ٹائپ رائٹر کی آوازیں، حوالداروں کی گونجتی بولیاں اور سائلین کا رش۔ اصغر، جو پریشان حال اور میلے کچیلے کپڑوں میں ہے، تیزی سے انسپیکٹر کے کمرے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔)
"(راستہ روکتے ہوئے) اوئے اوئے! کہاں گھسے جا رہے ہو؟ لائن میں آؤ۔"
حوالدار نے کرخت آواز میں اسے دھکا دے کر روکا۔
"(ہانپتے ہوئے) جناب، مجھے صاحب سے ملنا ہے، بہت ضروری کام ہے۔"
اصغر نے بے بسی سے التجائیہ انداز میں کہا۔
"سب کو ضروری کام ہی ہوتا ہے یہاں۔ مسئلہ کیا ہے تمہارا؟ پہلے مجھے بتاؤ۔"
حوالدار نے روکھے پن سے سوال کیا۔
"میری بیٹی... میری بیٹی دو دن سے غائب ہے۔ کہیں پتا نہیں چل رہا اس کا۔"
اصغر نے لرزتی آواز میں اپنا دکھ بیان کیا۔
"تو میاں جا کر وہاں محرر کے پاس رپٹ لکھواؤ۔ ہم تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ صاحب کے پاس جانے سے کیا وہ جادو سے برآمد ہو جائے گی؟"
حوالدار نے بیزاری سے اسے مشورہ دیا۔
نہیں جناب، مجھے انسپیکٹر صاحب سے ہی ملنا ہے۔ مجھے رپٹ نہیں لکھوانی، مجھے مدد چاہیے۔"
اصغر نے ضد اور امید کے ملے جلے تاثر سے کہا۔
(انسپیکٹر کا دفتر)
(شور سن کر کمرے کا دروازہ کھلتا ہے۔ انسپیکٹر جہانگیر، جو ایک رعب دار شخصیت ہے، باہر آتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی تیزی ہے۔)
یہ کیا مچھلی منڈی بنا رکھی ہے تم لوگوں نے؟ حوالدار! یہ کیا شور ہے؟"
جہانگیر نے دھاڑتے ہوئے سب کو خاموش کرایا۔
"(سلوٹ مارتے ہوئے) سر، معذرت۔ یہ بندہ ضد کر رہا ہے کہ آپ سے ملنا ہے۔ کہہ رہا ہے بیٹی دو دن سے لاپتہ ہے، رپورٹ لکھوانے کی بجائے آپ سے ملنے پر بضد ہے۔"
حوالدار نے گھبراتے ہوئے وضاحت پیش کی۔
(جہانگیر کی نظر اصغر کے آنسوؤں سے بھرے چہرے پر پڑتی ہے۔ اس کا لہجہ اچانک نرم ہو جاتا ہے۔)
"جی چاچا جی، بتائیں کیا مسئلہ ہے؟ میرے کمرے میں آئیے۔"
جہانگیر نے ہمدردانہ لہجے میں اسے اندر بلایا۔
(انسپیکٹر کا دفتر - اندرونی)
(جہانگیر اپنی کرسی پر بیٹھتا ہے اور اصغر کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔)
جناب انسپیکٹر صاحب، میری بیٹی دو دن سے لاپتہ ہے۔ ہم نے ہر جگہ ڈھونڈ لیا، رشتہ داروں، پڑوسیوں سب سے پوچھ لیا۔ مہربانی کریں صاحب، میری بچی ڈھونڈ دیں۔"
اصغر نے ہاتھ جوڑ کر گریہ وزاری کی۔
چاچا، آپ پریشان نہ ہوں، پولیس اپنا کام کرے گی۔ لیکن سچ بتائیے گا... آپ کو کسی پر شک ہے؟ یا کسی سے کوئی پرانی دشمنی یا جھگڑا؟
جہانگیر نے پیشہ ورانہ لیکن نرم لہجے میں تفتیش کا آغاز کیا۔
نہیں صاحب، میں تو ایک معمولی سا غریب آدمی ہوں۔ میرا کسی سے کیا جھگڑا ہونا ہے؟ میں نے تو زندگی بھر کسی کا دل نہیں دکھایا۔ مجھے کسی پر کوئی شک نہیں۔
اصغر نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
بیٹی کی کوئی سہیلی؟ یا کوئی ایسا بندہ جس سے اس کا ملنا جلنا ہو؟ کسی نے اسے پریشان کیا ہو؟
جہانگیر نے کریدتے ہوئے پوچھا۔
(اصغر تھوڑی دیر ہچکچاتا ہے، پھر ہمت جمع کر کے بولتا ہے۔)
"صاحب... وہ اکثر سیٹھ جبار کے بیٹے، فیضان جبار سے ملتی جلتی رہتی تھی۔ لوگ باتیں کرتے تھے، پر میں نے کبھی غور نہیں کیا تھا۔"
اصغر نے دبے لفظوں میں ایک اہم انکشاف کیا۔
(جہانگیر کے ہاتھ میں موجود قلم رک جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں پھیل جاتی ہیں اور چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ اور حیرت کا امتزاج ابھرتا ہے۔)
"فیضان جبار؟ سیٹھ جبار کا اکلوتا لاڈلا؟"
جہانگیر نے جیسے اپنے آپ سے سوال کیا ہو۔
"جی صاحب۔ کیا کچھ ہو سکتا ہے؟"
اصغر نے معصومیت اور خوف سے پوچھا۔
"(فوری سنبھلتے ہوئے) چاچا، اب آپ جائیے اور سکون سے گھر بیٹھیے۔ آپ کا کام ہو گیا۔ اب آپ کی بیٹی کو ڈھونڈنا میری ذمہ داری ہے۔"
جہانگیر نے اسے پر اعتماد طریقے سے رخصت کیا۔
(اصغر دعائیں دیتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔ جہانگیر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر گہرا سانس لیتا ہے، جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔ وہ فوراً فون اٹھاتا ہے اور نمبر ڈائل کرتا ہے۔)
"ہیلو... ساجد؟ میرے یار، مبارک ہو۔ تیرے اس 'مقدس' مجرم کے خلاف ایک کیس تو ہاتھ آیا ہے۔ ابھی صرف شک کی بنا پر ہے، لیکن اگر میں نے ڈور صحیح کھینچی... تو بہت جلد وہ میرے شکنجے میں ہوگا۔ بس اب تماشہ دیکھ!"
جہانگیر نے فون پر فاتحانہ اور مکارانہ لہجے میں اپنے ساتھی کو اطلاع دی۔
منظر 4
(کمرے کی فضا میں عود یا صندل کی ہلکی سی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ پسِ منظر میں تسبیح کے دانوں کے گرنے کی ایک دھیمی اور مسحور کن آواز سنائی دیتی ہے۔ منصور جائے نماز پر بیٹھا ہے۔ اس کی آنکھیں نیم وا ہیں اور لب خاموشی سے ہل رہے ہیں۔ وہ یہاں موجود ہو کر بھی جیسے کہیں اور ہے۔)
(اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے۔ باسط داخل ہوتا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی چمک اور مسکراہٹ ہے جو چھپائے نہیں چھپتی۔ وہ جوتوں کی آواز دبانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کا جوش نمایاں ہے۔)
(منصور تسبیح ہاتھ میں روکے بغیر، سر اٹھائے بغیر ہی مسکراتا ہے۔ جیسے اسے قدموں کی چاپ سے ہی باسط کے دل کا حال معلوم ہو گیا ہو۔)
"آؤ باسط میاں۔۔۔ آج تو تمہارے ماتھے کی تحریر ہی بدلی ہوئی ہے۔ بہت خوش نظر آ رہے ہو؟"
منصور نے بن دیکھے ہی اس کے خوشگوار موڈ کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔
(باسط تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا مصلے کے قریب فرش پر بیٹھ جاتا ہے۔)
"جی۔۔۔ بہت خوش! شاید زندگی میں پہلی بار اتنا پرسکون اور خوش ہوں۔"
باسط نے دل سے نکلتی ہوئی سچائی کے ساتھ جواب دیا۔
(منصور آہستہ سے تسبیح مکمل کر کے جائے نماز کی ایک نوک پلٹتا ہے اور پوری توجہ باسط کی طرف کرتا ہے۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سی گہرائی ہے۔)
"خیریت؟ یہ خوشی کی لہر کہاں سے اٹھی ہے؟ کوئی خاص وجہ؟"
منصور نے بڑی دلجمعی سے دریافت کیا۔
"آپ پوچھ رہے ہیں؟ آپ تو بخوبی جانتے ہیں کہ میں کیوں خوش ہوں۔ آپ سے کیا چھپا ہے؟"
باسط نے لاڈ اور عقیدت سے منصور کی طرف دیکھا۔
(منصور اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہے اور تھوڑا پیچھے ہو کر تکیے سے ٹیک لگاتا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک درویشانہ بے نیازی ہے۔)
"میں تو صرف ایک انسان ہوں باسط، جو دیوار کے اس پار بھی نہیں دیکھ سکتا۔ تم کیا کہنا چاہتے ہو، صاف کہو۔"
منصور نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے نرمی سے کہا۔
"یہ سب آپ کی صحبت کا اثر ہے منصور صاحب۔ آپ کی وہ باتیں، وہ راتوں کو مانگی گئی دعائیں۔۔۔ آج مجھے لگتا ہے میری بکھری ہوئی زندگی سمٹ گئی ہے۔ یہ سب آپ کا صلہ ہے۔"
باسط نے اپنی کامیابی کا سہرا منصور کے سر باندھتے ہوئے کہا۔
(منصور کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک جلال آمیز سنجیدگی لے لیتی ہے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے باسط کو ٹوکتا ہے۔)
"نہ کر دیوانے! ایسی بات پھر کبھی زبان پر نہ لانا۔ میں کون ہوتا ہوں؟ میری اوقات تو ایک خاک کے ذرے سے بھی کم ہے۔"
منصور نے سختی سے ٹوکتے ہوئے اپنی حقیقت واضح کی۔
(وہ انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کرتا ہے:)
"وہ 'وحدہ لا شریک' ہے۔ جو ہوتا ہے، اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ دینے والا وہ، دعا سننے والا وہ اور اسے قبول کرنے والا بھی وہی۔ میں اور تم تو بس اس کے در کے منگتے ہیں۔ شکر اس کا ادا کرو جس نے تمہارے دل کو یہ اطمینان بخشا ہے۔"
منصور نے توحید کے رنگ میں ڈوب کر باسط کی اصلاح کی۔
(باسط کچھ دیر خاموش رہتا ہے، جیسے منصور کی بات کی گہرائی کو اپنے اندر اتار رہا ہو۔ پھر وہ فضا کو ہلکا کرنے کے لیے مسکراتا ہے۔)
"چلیں، آپ کی بات سر آنکھوں پر۔ وہ تو شاکر ہے ہی، لیکن اس خوشی کے موقع پر کیا اس درویش کے ہاتھ کی چائے نہیں ملے گی؟"
باسط نے شرارت اور اپنائیت سے فرمائش کی۔
(منصور کی سنجیدگی دوبارہ نرمی میں بدل جاتی ہے۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔)
"جی جی، بے شک! کیوں نہیں؟ اگر تمہاری خوشی کا راستہ میری چائے کی پیالی سے گزرتا ہے، تو ابھی بنا کر لاتا ہوں۔ تم بیٹھو، میں بس ابھی آیا۔"
منصور نے ہنستے ہوئے اٹھ کر کچن کی راہ لی۔
(منصور اٹھ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ جاتا ہے، جبکہ باسط اسے عقیدت بھری نظروں سے دیکھتا رہتا ہے۔)
سین کٹ۔۔۔۔۔
Novel :: Nigaah e ishq
Writer :: Fakhar Shahzad MFS
Episode No :: 08
نوٹ برائے قارئین
کتاب دنیا میں اور خدا
کتاب چراغِ فہم
کتاب روح کی غذا
کتاب دنیاوی چکی
ناول میں سے من تک
ناول نگاہِ عِشق
مکمل حاصل کر سکتے ہیں شکریہ!

Address

Khanewal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fakhar Shahzad MFS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category