M.Riaz Qaiser

M.Riaz Qaiser Journalist | Writer | Poet
Telling stories that matter, giving voice to truth, and turning emotions

سعودی عرب پر حوثی حملہ: امتِ مسلمہ کے اتحاد کا امتحان، جارحیت کے سامنے مزاحمت کی نئی صداتحریر: ایم ریاض قیصرسعودی عرب پر...
09/10/2026

سعودی عرب پر حوثی حملہ: امتِ مسلمہ کے اتحاد کا امتحان، جارحیت کے سامنے مزاحمت کی نئی صدا

تحریر: ایم ریاض قیصر

سعودی عرب پر حوثی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کو ایک مرتبہ پھر سنگین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملے نے نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کی بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور امتِ مسلمہ کے باہمی تعلقات پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ وقت جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر اتحاد، حکمت، ذمہ داری اور ایک مضبوط مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کا ہے۔

سعودی عرب کی سلامتی پر حملہ، خطے کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی

سعودی عرب محض ایک ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے حرمین شریفین، یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، کی سرزمین ہونے کی وجہ سے غیر معمولی روحانی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ان مقدس مقامات سے قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق کوئی بھی سنگین صورتِ حال پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا میں توجہ اور تشویش کا باعث بنتی ہے۔

اکتوبر 2026ء میں ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں سے منسوب میزائل حملے کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک مسافر طیارے کو بھی نقصان پہنچا اور فضائی آمدورفت متاثر ہوئی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جدید جنگوں میں میزائل اور ڈرون حملے صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، مسافروں اور روزمرہ زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

کسی بھی تنازع میں شہریوں کو نشانہ بنانا یا ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ اختلافات اور سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

امتِ مسلمہ کا اتحاد، وقت کی اہم ضرورت

آج اسلامی دنیا کو ایسے حالات کا سامنا ہے جن میں باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ مفادات کے تحفظ پر توجہ دینا ضروری ہے۔ فلسطین سے لے کر یمن اور خلیجی خطے تک، مختلف تنازعات نے مسلم معاشروں کو گہرے انسانی، معاشی اور سیاسی اثرات سے دوچار کیا ہے۔

سعودی عرب پر حملوں کے خلاف اسلامی ممالک کی آواز اس اصول پر متحد ہو سکتی ہے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم حقیقی اتحاد صرف بیانات جاری کرنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے سفارتی تعاون، مشترکہ مشاورت، انسانی امداد اور تنازعات کو روکنے کے لیے عملی کوششیں بھی ضروری ہیں۔

امتِ مسلمہ کی طاقت اس کی تعداد کے ساتھ ساتھ اس کی دانش، انصاف، اخلاقی قوت اور اجتماعی ذمہ داری میں پوشیدہ ہے۔ اگر اسلامی ممالک اختلافات کے باوجود بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیں تو وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حوثیوں کو اس جارحیت کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے؟

کسی بھی مسلح گروہ کی جانب سے دوسرے ملک پر میزائل حملے ایسے نتائج پیدا کر سکتے ہیں جن کا خمیازہ صرف اس گروہ کی قیادت ہی نہیں بلکہ اس کے زیرِ اثر علاقوں میں رہنے والے عام لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں حوثیوں کو کئی نوعیت کے نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پہلی صورت فوجی ردِعمل کی ہے۔ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے حوثی میزائل لانچ کرنے کے بعض مقامات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر لڑائی مزید پھیلتی ہے تو حوثیوں کے اسلحے، رسد اور فوجی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دوسرا نقصان سیاسی اور سفارتی تنہائی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ جب کسی گروہ کی کارروائیوں سے شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑتی ہیں اور علاقائی امن متاثر ہوتا ہے تو اس کے خلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں اس کی سیاسی حمایت، نقل و حرکت اور مذاکراتی گنجائش محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

تیسرا نقصان معاشی اور سماجی ہے۔ یمن پہلے ہی طویل خانہ جنگی، غربت، بے گھری اور انسانی بحران سے متاثر ہے۔ مزید لڑائی خوراک، ادویات، تجارت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی فریق کی جارحانہ حکمتِ عملی کا جائزہ لیتے ہوئے عام یمنی شہریوں کی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

کیا حوثی شکست کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

یمن میں حالیہ لڑائی کے دوران سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے بحیرۂ احمر اور باب المندب کے قریب بعض علاقوں میں پیش قدمی کی ہے، جبکہ حوثیوں نے اپنے بعض علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا میدان مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔

تاہم کسی گروہ کی مکمل شکست، اس کے کمانڈروں کی گرفتاری یا اس کے خاتمے کے دعوے کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔ ہر فوجی کارروائی کو فیصلہ کن فتح قرار دینا درست تجزیہ نہیں۔ جنگ کا حقیقی نتیجہ زمینی صورتِ حال، فوجی صلاحیت، سیاسی حمایت اور مذاکراتی امکانات سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

حوثیوں کے لیے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ آیا مسلسل حملے انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے قریب لے جا رہے ہیں یا ان کے نتیجے میں یمن کی تنہائی، عوامی مشکلات اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حرمین شریفین کا احترام اور پاکستان کی ذمہ داری

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مذہبی، تاریخی، سفارتی اور معاشی بنیادوں پر قائم ہیں۔ پاکستانی عوام کے دلوں میں حرمین شریفین کے لیے خصوصی عقیدت پائی جاتی ہے، جبکہ سعودی عرب میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد روزگار اور دیگر مقاصد کے لیے مقیم ہے۔

ایسے حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، شہریوں کے تحفظ اور سفارتی حل کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز کے ذریعے مشترکہ مؤقف اختیار کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔

امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف کا جواب جنگ سے دیا جائے۔ حقیقی اتحاد وہ ہے جو مظلوموں کی مدد کرے، شہریوں کی جان بچائے، جارحیت کی مخالفت کرے اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہے۔

اختتامیہ: اتحاد کا راستہ انصاف اور امن سے گزرتا ہے

سعودی عرب پر حوثی حملوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ خطے میں پھیلنے والی جنگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات سرحدوں، معیشتوں، عالمی تجارت اور عام انسانوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔ حوثیوں کو اپنی کارروائیوں کے ممکنہ سیاسی، فوجی اور معاشی نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں کو بھی شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔

امتِ مسلمہ کی بیداری کا حقیقی اظہار نفرت، انتقام یا کسی قوم کے مکمل خاتمے کی خواہش نہیں بلکہ اتحاد، انصاف، خودمختاری کے احترام اور انسانی جانوں کے تحفظ میں ہے۔ مسلمانوں کو اپنے مقدس مقامات، اپنے ممالک اور اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے متحد ہونا چاہیے، مگر اس اتحاد کی بنیاد اخلاقی اصولوں اور دانش مندانہ حکمتِ عملی پر ہونی چاہیے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی اصل قوت صرف ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ ان کے اتحاد، بصیرت اور اصولی مؤقف میں ہوتی ہے۔ اگر اسلامی دنیا ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت امن، انصاف اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو جائے تو وہ خطے میں استحکام کی مضبوط بنیاد رکھ سکتی ہے۔

تحریر: ایم ریاض قیصر

سر سید، خردمندوں کا امامتحریر: ایم ریاض قیصربرصغیر کی تاریخ میں ایسے چند ہی لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے عہد کے اندھیروں ...
08/10/2026

سر سید، خردمندوں کا امام

تحریر: ایم ریاض قیصر

برصغیر کی تاریخ میں ایسے چند ہی لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے عہد کے اندھیروں کو صرف تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ علم، شعور اور عقل کی روشنی سے انہیں دور کرنے کی عملی جدوجہد بھی کی۔ سر سید احمد خان انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ایک زوال پذیر معاشرے کو یہ احساس دلایا کہ قومیں صرف جذبات، نعروں اور ماضی کے فخر سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ علم، تحقیق، کردار اور جدید شعور ہی انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ اسی لیے سر سید کو بجا طور پر "خردمندوں کا امام" کہا جا سکتا ہے۔

سر سید احمد خان ایسے دور میں سامنے آئے جب برصغیر کے مسلمان سیاسی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے شدید پسماندگی کا شکار تھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں کی حالت مزید ابتر ہو گئی۔ انگریز حکومت کے ساتھ بداعتمادی، جدید تعلیم سے دوری اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات نے مسلمان معاشرے کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں مستقبل انتہائی غیر یقینی دکھائی دیتا تھا۔ ایسے مشکل وقت میں سر سید نے جذباتی ردعمل کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ کو اپنایا۔

ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلایا۔ وہ سمجھتے تھے کہ جدید دنیا میں وہی قوم عزت اور اختیار حاصل کر سکتی ہے جو علم اور سائنس میں آگے ہو۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ انگریزی زبان، جدید سائنس، ریاضی، فلسفہ اور سائنسی علوم سے دور رہنا دراصل اپنے مستقبل سے دور رہنے کے مترادف ہے۔

سر سید کے نزدیک تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ ذہنی آزادی کا نام تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان نوجوان سوال کرنا سیکھیں، تحقیق کریں، دلیل کو سمجھیں اور دنیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جدید تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے انتھک جدوجہد کی اور بالآخر علی گڑھ تحریک نے ایک نئی نسل کی فکری تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔

سر سید کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی علم دوستی اور عقل پسندی تھا۔ وہ اندھی تقلید کے بجائے غوروفکر اور تحقیق کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہب اور عقل ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ انسان کو حقیقت تک پہنچنے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں میں سائنسی اندازِ فکر پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ باور کرایا کہ سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور کائنات کے قوانین کو سمجھنا علم کے بنیادی تقاضے ہیں۔

انہوں نے صرف تقریروں اور تحریروں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی میدان میں بھی کام کیا۔ سائنٹفک سوسائٹی کا قیام اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔ اس ادارے کے ذریعے جدید علوم کی کتابوں کو مقامی زبانوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ عام مسلمان بھی جدید علمی دنیا سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ کام اس زمانے میں معمولی بات نہیں تھا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں جدید تعلیم کے حوالے سے شدید تحفظات موجود تھے، سر سید نے علم کے دروازے کھولنے کی جرأت کی۔

سر سید کی صحافتی اور ادبی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے قلم کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ ان کی تحریروں میں مسلمانوں کی تعلیمی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کا درد نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ کسی قوم کی ترقی صرف حکومتیں نہیں کرتیں، بلکہ باشعور افراد، مضبوط تعلیمی ادارے اور زندہ فکری روایتیں قوموں کی تقدیر بدلتی ہیں۔

سر سید کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ تھی کہ وہ اپنے زمانے سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جب بہت سے لوگ ماضی کے زوال پر ماتم کر رہے تھے، وہ مستقبل کی تعمیر کی بات کر رہے تھے۔ جب لوگ شکست کے اسباب میں الجھے ہوئے تھے، وہ نئی نسل کو تعلیم دینے کی فکر میں تھے۔ جب معاشرہ جذباتی تقسیم کا شکار تھا، وہ عقل، برداشت اور علمی ترقی کی ضرورت پر زور دے رہے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ سر سید احمد خان کو صرف ایک ماہرِ تعلیم یا مصلح کہنا ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ایک مفکر، مصنف، تعلیمی رہنما، سماجی مصلح اور دوراندیش رہبر تھے۔ انہوں نے ایک پوری نسل کے سوچنے کا انداز تبدیل کیا۔ ان کی تحریک نے برصغیر کے مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کیا کہ اگر وہ دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں علم کے میدان میں اپنی جگہ بنانا ہوگی۔

آج جب ہم اکیسویں صدی میں کھڑے ہیں تو سر سید کی فکر پہلے سے کہیں زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور ڈیجیٹل انقلاب کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے وقت میں اگر کوئی قوم تعلیم، تحقیق اور سائنسی سوچ سے دور رہ جائے تو اس کے لیے ترقی کی دوڑ میں شامل رہنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

ہمیں سر سید کی زندگی سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ قوموں کی تقدیر صرف سیاسی نعروں سے نہیں بدلتی۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، تحقیقاتی مراکز، کتابیں، لائبریریاں اور باشعور نوجوان ہی مستقبل کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر ہم سر سید کے خواب کو حقیقی معنوں میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا، نوجوانوں میں تحقیق کا شوق پیدا کرنا ہوگا اور علم کو معاشرے میں عزت دینی ہوگی۔

سر سید احمد خان نے ایک ایسے وقت میں چراغ جلایا جب ہر طرف مایوسی کے سائے تھے۔ ان کی جدوجہد نے ثابت کیا کہ ایک صاحبِ بصیرت انسان بھی پوری قوم کی فکری سمت بدل سکتا ہے۔ ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے کہ ترقی کا راستہ علم سے، طاقت کا راستہ شعور سے اور قوموں کی عزت کا راستہ کردار و تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔

سر سید واقعی خردمندوں کے امام تھے، کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو صرف خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے علم حاصل کرنے، سوچنے اور عمل کرنے کا راستہ دکھایا۔ ان کی سب سے بڑی یادگار کوئی عمارت نہیں بلکہ وہ شعور ہے جو انہوں نے ایک سوئی ہوئی قوم میں بیدار کیا۔ یہی شعور آنے والی نسلوں کے لیے ان کا سب سے قیمتی ورثہ ہے۔

شاعرِ مشرق، تصورِ پاکستان ڈاکٹر حضرت علامہ اقبال — ان کی نظر شاہین کی پرواز سے بھی زیادہ بلند ہےتحریر: ایم ریاض قیصربرصغ...
08/10/2026

شاعرِ مشرق، تصورِ پاکستان ڈاکٹر حضرت علامہ اقبال — ان کی نظر شاہین کی پرواز سے بھی زیادہ بلند ہے

تحریر: ایم ریاض قیصر

برصغیر کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے صرف اپنے عہد کو متاثر نہیں کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فکر و شعور کے ایسے چراغ روشن کیے جو آج تک پوری آب و تاب سے جل رہے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ بھی ایسی ہی عظیم شخصیت تھے۔ وہ شاعر تھے، فلسفی تھے، مفکر تھے، سیاست دان تھے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی بیدار روح تھے جس نے سوئی ہوئی ملت کو خودی، غیرت، عمل اور آزادی کا پیغام دیا۔ انہیں بجا طور پر شاعرِ مشرق کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی فکر کو صرف شاعری کی حدود میں قید کرنا ان کے مقام کو محدود کرنا ہے۔

علامہ اقبال کی نگاہ عام انسان کی نگاہ نہیں تھی۔ وہ حالات کے ظاہر کو نہیں بلکہ ان کے باطن کو دیکھتے تھے۔ جہاں عام انسان موجودہ حالات سے مایوس ہو جاتا ہے، وہاں اقبال آنے والے کل کے امکانات تلاش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظر شاہین کی پرواز سے بھی زیادہ بلند تھی۔ شاہین اقبال کے ہاں محض ایک پرندہ نہیں بلکہ بلند حوصلگی، خودداری، آزادی، جرأت اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان بھی شاہین کی طرح بلند پرواز، غیرت مند، خوددار اور مقصد سے وابستہ زندگی اختیار کرے۔

اقبال نے ایک ایسے دور میں آنکھ کھولی جب برصغیر کے مسلمان سیاسی، معاشی اور فکری زوال کا شکار تھے۔ غلامی نے ان کے اندر سے اعتماد چھین لیا تھا اور مایوسی نے ان کی قوتِ عمل کو کمزور کر دیا تھا۔ ایسے ماحول میں اقبال کی آواز ایک تیز بجلی کی طرح گونجی۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا مقام یاد دلایا اور کہا کہ غلامی صرف جسم کو قید نہیں کرتی بلکہ اگر انسان اپنی خودی اور اعتماد کھو دے تو اس کی سوچ بھی غلام ہو جاتی ہے۔

اقبال کے فلسفۂ خودی نے مسلمان نوجوان کو ایک نیا تصور دیا۔ ان کے نزدیک خودی غرور یا تکبر کا نام نہیں بلکہ اپنی حقیقت، اپنی صلاحیت، اپنی ذمہ داری اور اپنے مقصد کو پہچاننے کا نام ہے۔ اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان دوسروں کے سہارے پر زندہ رہنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرے، مشکلات کا مقابلہ کرے اور اپنی منزل خود متعین کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پیغام آج بھی نوجوان نسل کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کے زمانے میں تھا۔

اقبال کی شاعری میں شاہین کا استعارہ بار بار سامنے آتا ہے۔ شاہین بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسیرا کرتا ہے، بلند پرواز ہوتا ہے، آزاد فضا میں اڑتا ہے اور آسان زندگی کے بجائے مشکل راستوں کو پسند کرتا ہے۔ اقبال کا نوجوان بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ وہ مشکلات سے گھبرانے والا نہیں بلکہ مشکلات کو اپنی تربیت کا ذریعہ بنانے والا ہو۔ وہ وقتی کامیابی کے بجائے بلند مقصد کے لیے جدوجہد کرے۔ وہ دوسروں کی نقل نہ کرے بلکہ اپنی شناخت اور اپنی صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھے۔

اقبال کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے شاعری کو محض جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فکر اور انقلاب کا ذریعہ بنا دیا۔ ان کے اشعار میں دردِ دل بھی ہے، فلسفہ بھی، عشق بھی ہے، عمل کی دعوت بھی اور ملت کی بیداری کا پیغام بھی۔ وہ خواب دکھاتے ہیں مگر ایسے خواب جو انسان کو بستر سے اٹھا کر میدانِ عمل میں لے جائیں۔

تصورِ پاکستان بھی اقبال کی اسی بلند فکری بصیرت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا جہاں وہ اپنی تہذیبی، مذہبی اور سیاسی شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ خطبۂ الٰہ آباد نے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اقبال نے مسلمانوں کو یہ احساس دلایا کہ اگر وہ اپنے تشخص، تہذیب اور سیاسی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں تو انہیں اپنی اجتماعی قوت کو منظم کرنا ہوگا۔

اقبال اور قائداعظم کی فکری ہم آہنگی بھی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اقبال نے جس خواب اور فکری سمت کی نشاندہی کی، قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسی جدوجہد کو سیاسی میدان میں آگے بڑھایا۔ یوں اقبال کا قلم اور قائداعظم کی قیادت ایک تاریخی مقصد کے لیے یکجا ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک نے فکر کو بیدار کیا اور دوسرے نے اس فکر کو عملی سیاست کی طاقت عطا کی۔

علامہ اقبال کی نظر صرف اپنے زمانے تک محدود نہیں تھی۔ وہ آنے والی نسلوں کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ قومیں صرف ماضی کے قصے سنانے سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ انہیں اپنے مستقبل کی تعمیر خود کرنا پڑتی ہے۔ اسی لیے اقبال نے نوجوان کو مخاطب کیا، طالب علم کو پکارا، مسلمان کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی اور پوری ملت کو عمل، اتحاد اور خودی کا سبق دیا۔

آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو اقبال کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ آج کا نوجوان جدید دنیا کے بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ مقابلہ سخت ہے، معلومات کی بھرمار ہے، سوشل میڈیا نے توجہ کو منتشر کر دیا ہے اور کامیابی کے پیمانے بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان کی اصل طاقت اس کے اندر موجود ارادے، کردار، علم اور مقصد میں ہوتی ہے۔

ہمیں اقبال کے شاہین کو صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ شاہین دراصل ایک عملی کردار کا نام ہے۔ اگر نوجوان علم حاصل کرے، محنت کرے، اپنے کردار کو مضبوط بنائے، ناکامی سے نہ گھبرائے، اپنی قوم اور وطن کی خدمت کو اپنا مقصد بنائے اور بلند اہداف کے لیے جدوجہد کرے تو یہی اقبال کے شاہین کی حقیقی تصویر ہوگی۔

اقبال کی فکر ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قومیں دوسروں کی نقل سے عظیم نہیں بنتیں۔ انہیں اپنی شناخت، اپنی صلاحیت اور اپنی فکری آزادی پیدا کرنا ہوتی ہے۔ جو قوم اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے، وہ دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہے۔ اقبال مسلمانوں کو اسی فکری غلامی سے نکالنا چاہتے تھے۔

آج پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان سے نکلنے کے لیے ہمیں اقبال کے پیغام کو محض یومِ اقبال کی تقریبات تک محدود کرنے کے بجائے اپنی قومی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں تعلیم میں معیار، کردار میں مضبوطی، سیاست میں دیانت، معیشت میں خود انحصاری اور معاشرے میں انصاف کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی اقبال کی فکر کا عملی تقاضا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی نظر واقعی شاہین کی پرواز سے بھی زیادہ بلند تھی۔ شاہین آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہے، مگر اقبال انسان کو اس سے بھی آگے فکر، کردار اور مقصد کی بلندی کی طرف لے جاتے ہیں۔ ان کا شاہین صرف آسمان میں پرواز نہیں کرتا بلکہ اپنے اندر کی کمزوریوں، خوف، مایوسی اور غلامانہ سوچ کو شکست دے کر ایک بلند تر زندگی کی طرف سفر کرتا ہے۔

اقبال آج بھی ہمارے درمیان اپنی شاعری، فکر اور پیغام کی صورت میں موجود ہیں۔ ان کی آواز ہمیں پکار رہی ہے کہ اپنی خودی پہچانو، اپنے مقصد کو بلند کرو، علم حاصل کرو، کردار سنوارو اور مشکلات کے سامنے جھکنے کے بجائے انہیں اپنے عزم سے شکست دو۔

اگر پاکستان کے نوجوان اقبال کے حقیقی شاہین بن جائیں، اگر ان کی پرواز بلند ہو، سوچ آزاد ہو، کردار مضبوط ہو اور مقصد عظیم ہو تو پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت ترقی اور سربلندی کی منزل سے نہیں روک سکتی۔ یہی اقبال کا خواب تھا، یہی تصورِ پاکستان کی روح ہے اور یہی آج کے پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔

تحریر: ایم ریاض قیصر

قائداعظم محمد علی جناحؒ — اصول پسندی ان کا خاصہ تھیقائداعظم محمد علی جناحؒ برصغیر کی تاریخ کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے...
08/10/2026

قائداعظم محمد علی جناحؒ — اصول پسندی ان کا خاصہ تھی

قائداعظم محمد علی جناحؒ برصغیر کی تاریخ کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی بصیرت، مضبوط کردار، اصول پسندی، قوتِ استدلال اور سیاسی تدبر کے ذریعے ایک ناممکن نظر آنے والے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ وہ محض ایک سیاست دان نہیں تھے بلکہ ایک ایسے مدبر رہنما تھے جن کی گفتگو میں دلیل، فیصلوں میں اصول اور جدوجہد میں مقصد کی پاکیزگی نمایاں تھی۔ ان کی پوری سیاسی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اگر قیادت مخلص، بااصول اور دوراندیش ہو تو بڑے سے بڑا حریف بھی اس کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔

قائداعظم کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف اصول پسندی تھا۔ وہ وقتی مفادات، ذاتی دباؤ یا سیاسی مصلحت کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنے کے قائل نہیں تھے۔ ان کے نزدیک سیاست اقتدار حاصل کرنے کا کھیل نہیں بلکہ قوم کے حقوق کے تحفظ اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مخالفین کی شدید مخالفت، سیاسی دباؤ اور مشکل حالات بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکے۔

قائداعظم کی قوت کا اصل راز ان کی قوتِ استدلال تھی۔ وہ جذباتی نعروں کے بجائے دلیل اور آئینی و قانونی نکات کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ ان کا اندازِ گفتگو شائستہ مگر انتہائی مؤثر تھا۔ وہ اپنے مخالف کے موقف کو پوری گہرائی سے سمجھتے، اس کے کمزور پہلو تلاش کرتے اور پھر ایسی دلیل پیش کرتے کہ سامنے والے کے پاس جواب دینا مشکل ہو جاتا۔ یہی وہ غیر معمولی صلاحیت تھی جس نے انہیں برصغیر کے بڑے بڑے سیاسی حریفوں کے مقابلے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔

قائداعظم جانتے تھے کہ کسی قوم کی کامیابی صرف جذبات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے شعور، نظم و ضبط، اتحاد اور واضح سمت ضروری ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو منتشر جذباتی ہجوم کے بجائے ایک منظم سیاسی قوت میں تبدیل کیا۔ ان کی قیادت میں مسلمانانِ ہند نے اپنے سیاسی حقوق کے لیے ایک ایسی منظم جدوجہد شروع کی جس نے بالآخر تاریخ کا رخ بدل دیا۔

قائداعظم کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں جلد بازی کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ وہ حالات کا گہرا مشاہدہ کرتے، مختلف پہلوؤں پر غور کرتے اور پھر فیصلہ کرتے۔ ان کی سیاسی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں بھی اپنے بنیادی مقصد سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ ان کے سامنے منزل واضح تھی اور وہ جانتے تھے کہ راستے میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ آئیں، اصولی موقف سے پیچھے ہٹنا شکست کے مترادف ہوگا۔

قائداعظم کے مخالفین میں کئی ایسے لوگ شامل تھے جن کے پاس سیاسی تجربہ، حکومتی طاقت اور وسیع وسائل موجود تھے، مگر قائداعظم کے پاس ایک ایسی طاقت تھی جو کسی خزانے یا سرکاری منصب سے نہیں ملتی—اصول، دلیل اور عوام کا اعتماد۔ انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ ثابت کیا کہ مضبوط کردار رکھنے والا ایک شخص بھی تاریخ کے طاقتور ترین دھاروں کا رخ موڑ سکتا ہے۔

ان کی جدوجہد ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قوموں کی تقدیر صرف بڑے بڑے دعووں سے نہیں بدلتی بلکہ مستقل مزاجی اور کردار کی مضبوطی سے بدلتی ہے۔ قائداعظم نے مسلمانوں کو صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں دیا بلکہ انہیں ایک مقصد، ایک سمت اور ایک اجتماعی شناخت عطا کی۔ ان کی قیادت میں مسلمانوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور بالآخر ایک آزاد وطن کے حصول کی منزل تک پہنچے۔

قائداعظم کی کامیابی کا ایک اہم راز ان کا نظم و ضبط بھی تھا۔ وہ وقت کی پابندی، قانون کی پاسداری اور ذمہ داری کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک قومی ترقی کے لیے افراد کا باکردار اور منظم ہونا ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پیغام صرف سیاسی جدوجہد تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ نئی نسل کو اتحاد، ایمان، نظم و ضبط اور محنت کا درس بھی دیتے رہے۔

آج جب ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالتے ہیں تو قائداعظم کے اصول پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں۔ قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب اصولوں کی جگہ مفادات، میرٹ کی جگہ سفارش اور قانون کی جگہ طاقت لے لیتی ہے۔ قائداعظم کا پاکستان ایک ایسے معاشرے کا خواب تھا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے۔

یہی وجہ ہے کہ قائداعظم آج بھی محض تاریخ کی کتابوں کا ایک باب نہیں بلکہ پاکستان کے قومی شعور کا زندہ حوالہ ہیں۔ ان کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی اور اصول پسندی کی راہ اگرچہ مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر تاریخ میں عزت ہمیشہ انہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو مشکل وقت میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی زندگی سے ثابت کر دیا کہ مضبوط ارادہ، واضح مقصد، بے مثال سیاسی بصیرت اور قوتِ استدلال کے سامنے بڑے سے بڑا سیاسی حریف بھی شکست کھا سکتا ہے۔ انہوں نے نہ تلوار اٹھائی، نہ طاقت کے زور پر اپنی بات منوائی؛ انہوں نے قانون، دلیل، کردار اور اصول کو اپنا ہتھیار بنایا اور اسی ہتھیار سے ایک عظیم سیاسی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

آج پاکستان کو اگر ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منزل حاصل کرنی ہے تو ہمیں قائداعظم کی تقاریر سننے اور ان کی تصاویر لگانے سے آگے بڑھ کر ان کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم مفاد پرستی کی سیاست چاہتے ہیں یا اصول پسندی کی سیاست، وقتی کامیابی چاہتے ہیں یا قومی مستقبل کی مضبوط بنیاد۔

قائداعظم کا پیغام آج بھی واضح ہے: قومیں اصولوں پر قائم رہتی ہیں، شخصیات کے سہارے نہیں۔ اگر ہم واقعی بانیٔ پاکستان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے کردار، دیانت، نظم و ضبط، قانون پسندی اور اصولی سیاست کو اپنانا ہوگا۔ یہی قائداعظم سے حقیقی محبت ہے، یہی پاکستان سے وفاداری ہے اور یہی ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف جانے والا راستہ ہے۔

تحریر: ایم ریاض قیصر

قائداعظم بحیثیت قانون دانقائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کے مختلف پہلو...
08/10/2026

قائداعظم بحیثیت قانون دان

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کے مختلف پہلو آج بھی اہلِ فکر و دانش کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ ایک عظیم سیاست دان، مدبر رہنما، بے مثال پارلیمنٹیرین اور تحریکِ پاکستان کے عظیم قائد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک غیر معمولی قانون دان بھی تھے۔ ان کی کامیابی کے پیچھے صرف سیاسی بصیرت نہیں بلکہ قانون، آئین، دلیل اور انصاف پر ان کی گہری گرفت بھی بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔ انہوں نے اپنی قانونی قابلیت کو محض ذاتی کامیابی کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اسے ایک پوری قوم کے سیاسی، آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بنا دیا۔

محمد علی جناحؒ نے قانون کے میدان میں قدم رکھتے ہی اپنی غیر معمولی ذہانت اور محنت کا ثبوت دیا۔ وہ قانون کو محض دفعات اور شقوں کا مجموعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک قانون معاشرے میں انصاف، حقوق اور نظم و ضبط کے قیام کا بنیادی ذریعہ تھا۔ ان کی طبیعت میں شروع ہی سے منطق، تحقیق، دلیل اور اصول پسندی نمایاں تھی، یہی اوصاف آگے چل کر ان کی سیاسی شخصیت کی بنیاد بنے۔

قائداعظم نے برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور وہاں کے قانونی و پارلیمانی نظام کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ اس دور نے ان کی شخصیت میں آئینی شعور کو مزید پختہ کیا۔ انہوں نے برطانوی پارلیمانی روایات، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اصولوں کو گہرائی سے سمجھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ ہندوستان واپس آئے تو ان کی شخصیت ایک ایسے نوجوان قانون دان کی تھی جو قانون کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ علمی اور فکری میدان سمجھتا تھا۔

قائداعظم بحیثیت وکیل اپنی تیاری، دلائل اور پیشکش کے لیے معروف تھے۔ وہ مقدمے کی تیاری میں معمولی سے معمولی نکتے کو بھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔ ان کا طریقۂ کار یہ تھا کہ پہلے معاملے کے تمام پہلوؤں کو سمجھا جائے، پھر متعلقہ قانون کا مطالعہ کیا جائے اور اس کے بعد عدالت کے سامنے مختصر مگر جامع دلیل پیش کی جائے۔ ان کی گفتگو میں غیر ضروری طوالت کے بجائے منطق اور وزن ہوتا تھا۔

ان کی سب سے بڑی قانونی خوبی یہ تھی کہ وہ جذبات کے بجائے دلیل پر اعتماد کرتے تھے۔ عدالت ہو یا سیاسی ایوان، ان کا انداز تقریباً یکساں رہتا تھا۔ وہ اپنے مؤقف کو مضبوط قانونی اور آئینی بنیادوں پر پیش کرتے اور مخالف کے دلائل کا جواب اسی کی زبان میں دیتے۔ ان کی شخصیت میں خود اعتمادی ضرور تھی مگر غیر ضروری جارحیت نہیں تھی۔ یہی توازن ایک کامیاب قانون دان کی پہچان ہے۔

قائداعظم کی قانونی تربیت نے ان کی سیاسی جدوجہد کو بھی ایک منفرد سمت دی۔ انہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے معاملے کو محض جذباتی یا مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے اسے سیاسی، آئینی اور قانونی حقوق کے تناظر میں اجاگر کیا۔ وہ نمائندگی، آئینی تحفظ، سیاسی اختیارات اور اقلیتوں کے حقوق جیسے بنیادی سوالات کو نہایت سنجیدگی سے اٹھاتے تھے۔

یہاں قائداعظم کی قانون دانی اور سیاسی بصیرت ایک دوسرے سے جڑتی نظر آتی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ برصغیر جیسے متنوع معاشرے میں پائیدار سیاسی حل اسی وقت ممکن ہے جب اسے آئینی بنیاد حاصل ہو۔ اسی لیے انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے مسلسل آئینی جدوجہد کی۔ ان کی سیاست میں جلسوں کے نعروں سے زیادہ مذاکرات، قراردادوں، پارلیمانی مباحث اور قانونی نکات کو اہمیت حاصل رہی۔

قائداعظم کی وکالت کا ایک اہم وصف اصول پسندی تھا۔ وہ اپنے مؤکل یا سیاسی ساتھی کے دباؤ میں آکر اصولی مؤقف سے ہٹنے کے قائل نہیں تھے۔ ان کے کردار میں قانون کی بالادستی کا تصور اتنا گہرا تھا کہ بعد کی سیاسی زندگی میں بھی وہ آئینی راستے کو ترجیح دیتے رہے۔ یہی قانونی ذہن تھا جس نے انہیں سیاسی بحرانوں میں بھی واضح راستہ اختیار کرنے میں مدد دی۔

ایک ماہر قانون دان کی حیثیت سے قائداعظم جانتے تھے کہ کسی بھی معاہدے، قرارداد یا آئینی دستاویز کے الفاظ معمولی اہمیت نہیں رکھتے۔ الفاظ کے انتخاب، قانونی مفہوم اور عملی نتائج کو وہ انتہائی باریک بینی سے دیکھتے تھے۔ ان کی سیاسی گفتگو میں یہ قانونی شعور بارہا نمایاں ہوتا ہے۔ وہ جذباتی ماحول میں بھی بنیادی سوال سے نہیں ہٹتے تھے کہ قانون کیا کہتا ہے، آئین کیا تقاضا کرتا ہے اور قوم کے حقوق کس طرح محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔

قائداعظم کی یہی قانونی بصیرت تحریکِ پاکستان کے اہم ترین مراحل میں ان کے لیے ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہوئی۔ ایک طرف ان کے سامنے ایک بڑی سیاسی جماعت اور وسیع حکومتی طاقت موجود تھی، دوسری طرف مسلمانانِ ہند کے سیاسی حقوق کا مسئلہ تھا۔ قائداعظم نے طاقت کے تصادم کے بجائے دلیل، مذاکرات اور آئینی جدوجہد کو اپنا راستہ بنایا۔ یہی ان کی عظمت تھی کہ انہوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک ایسی سیاسی تحریک کی قیادت کی جس نے برصغیر کا نقشہ تبدیل کر دیا۔

قائداعظم کی زندگی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قانون دان کا اصل مقام صرف عدالت کے کمرۂ سماعت تک محدود نہیں ہوتا۔ ایک باصلاحیت قانون دان اپنی علمی قابلیت، فکری دیانت اور آئینی شعور کے ذریعے پورے معاشرے کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ قائداعظم نے اس تصور کو اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا۔ وہ عدالت سے سیاست کے میدان میں آئے تو ان کی قانونی تربیت ان کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔

پاکستان کے قیام کے بعد بھی قائداعظم نے قانون کی حکمرانی، ریاستی نظم اور شہری حقوق کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط ریاست وہی ہو سکتی ہے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو اور ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ یہی تصور آج بھی ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے۔

آج جب ہم قائداعظم کو بحیثیت قانون دان یاد کرتے ہیں تو ہمیں صرف ان کی وکالت کی کامیابیوں پر فخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے قانونی شعور، دلیل پسندی، دیانت اور اصول پسندی کو اپنی اجتماعی زندگی میں اپنانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ پاکستان میں قانون کی بالادستی اسی وقت مضبوط ہوگی جب قانون کو طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں سمجھا جائے گا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی زندگی سے ثابت کیا کہ قلم، قانون اور دلیل بھی تاریخ کے بڑے بڑے فیصلے بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں دلیل دی تو ایک کامیاب قانون دان کی حیثیت سے، پارلیمنٹ میں بات کی تو ایک بااصول سیاست دان کی حیثیت سے، اور مسلمانوں کی قیادت کی تو ایک دوراندیش قومی رہنما کی حیثیت سے۔ ان کی شخصیت کے یہ تمام پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر قائداعظم ایک عظیم سیاست دان نہ ہوتے تو شاید ان کی قانونی شہرت انہیں ایک کامیاب وکیل بنا دیتی، لیکن ان کی غیر معمولی بصیرت نے انہیں صرف کامیاب وکیل نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے قانون کی کتابوں سے نکل کر تاریخ کی کتاب میں اپنا نام لکھا اور ایک ایسی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی جس کا خواب لاکھوں مسلمانوں نے دیکھا تھا۔

قائداعظم بحیثیت قانون دان ہمارے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ ان کا پیغام آج بھی یہی ہے کہ دلیل کو طاقت بناؤ، قانون کو رہنما بناؤ، اصولوں پر قائم رہو اور انصاف کو مقدم رکھو۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک فرد باکردار اور ایک قوم باوقار بن سکتی ہے۔

تحریر: ایم ریاض قیصر

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے قابل وزیراعظم برسرِ اقتدار ہوئے ہیں مگر انہیں جب بھی کسی عدالت نے گھر بھیجا ہے تو انہوں نے م...
08/10/2026

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے قابل وزیراعظم برسرِ اقتدار ہوئے ہیں مگر انہیں جب بھی کسی عدالت نے گھر بھیجا ہے تو انہوں نے ملکی سالمیت کو نقصان نہیں پہنچایا، لیکن ایک سابق وزیراعظم کی سیاست نے 9 مئی 2023 کو ملک کو شدید انتشار سے دوچار کیا، اب یہ لانگ مارچ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے

تحریر: ایم ریاض قیصر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اقتدار کا آنا جانا کوئی نئی بات نہیں۔ اس ملک نے ایسے وزرائے اعظم بھی دیکھے جنہیں پارلیمانی عمل کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا گیا، ایسے بھی جنہیں عدالتی فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسے بھی جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے عروج کے بعد زوال دیکھا۔ مگر جمہوری سیاست کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ اقتدار عارضی ہے اور ریاست مستقل۔ وزیراعظم چلا جاتا ہے، حکومت ختم ہو جاتی ہے، اسمبلی تحلیل ہو جاتی ہے، لیکن پاکستان باقی رہتا ہے۔

اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ اس کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت نے اس سیاسی تبدیلی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے ایک بڑی سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے ملک گیر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ عمران خان نے اس وقت بھی اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا، جسے فوج نے مسترد کیا۔

یہاں سے پاکستان کی سیاست میں تلخی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ جلسے ہوئے، احتجاج ہوئے، لانگ مارچ ہوئے، حکومت کے خلاف سخت ترین زبان استعمال ہوئی اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا گیا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب اختلاف نفرت میں اور سیاسی مقابلہ تصادم میں بدل جائے تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں، پوری ریاست کا ہوتا ہے۔

پھر آیا 9 مئی 2023۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج نے ایک خطرناک شکل اختیار کی۔ فوجی تنصیبات، سرکاری عمارات اور دیگر املاک پر حملے ہوئے۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس اور راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے گیٹ سمیت حساس مقامات پر توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً دو ہزار افراد گرفتار کیے گئے۔

یہاں ایک بات انتہائی واضح رہنی چاہیے: کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری قانونی تھی یا غیر قانونی، یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے؛ لیکن کسی گرفتاری کے ردعمل میں قومی املاک کو آگ لگانا، فوجی تنصیبات پر حملہ کرنا یا قانون ہاتھ میں لینا کسی بھی صورت سیاسی احتجاج کی قابلِ قبول شکل نہیں بن سکتا۔

9 مئی پاکستان کے لیے صرف ایک دن نہیں تھا؛ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ریاست اور سیاست کے درمیان موجود اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ بعد میں متعدد افراد کے خلاف مقدمات قائم ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمات میں سزائیں بھی سنائی گئیں۔ عمران خان ان الزامات سے انکار کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے۔

مگر آج سوال صرف یہ نہیں کہ عمران خان درست ہیں یا ان کے سیاسی مخالفین۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کب تک سیاسی جنگ کا میدان بنا رہے گا؟

آج اکتوبر 2026 میں ایک مرتبہ پھر عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ان کے حامی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ موجودہ مارچ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا ہے اور تحریک انصاف کے صوبائی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کر دی ہے اور دارالحکومت میں مارچ کے داخلے کی مخالفت کی ہے۔

یہ صورتحال ہمیں ماضی کے تلخ تجربات کی طرف واپس لے جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو اپنے قائد کی رہائی مطلوب ہے تو کیا اس کا راستہ صرف سڑکوں کے ذریعے تصادم ہے؟ کیا ریاستی نظام کو مفلوج کرنا ہی سیاسی کامیابی کی علامت ہے؟ کیا عام شہری کی دکان، کاروبار، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کو احتجاج کی قیمت ادا کرنی چاہیے؟

سیاسی احتجاج ضرور کریں، حکومت پر تنقید ضرور کریں، اپنے مطالبات ضرور پیش کریں، مگر پاکستان کو یرغمال بنانے کی سیاست کسی کے حق میں نہیں۔

یہ بات حکومت پر بھی اتنی ہی لاگو ہوتی ہے۔ ریاست کا کام صرف طاقت استعمال کرنا نہیں بلکہ قانون کے مطابق سیاسی احتجاج کے حق کو تحفظ دینا بھی ہے۔ اگر کوئی سیاسی رہنما یا کارکن قانون توڑتا ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، شفاف مقدمہ چلایا جائے اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ مگر پورے سیاسی طبقے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

پاکستان اس وقت معاشی مشکلات، سکیورٹی چیلنجز اور سیاسی تقسیم جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مسلسل دھرنے، راستوں کی بندش اور سیاسی محاذ آرائی ملک کے عام شہری کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاسی کارکن کسی لیڈر کی ملکیت نہیں ہوتے۔ وہ اس ملک کے شہری ہیں، ان کے گھر ہیں، ان کے بچے ہیں، ان کے کاروبار ہیں۔ انہیں جذباتی نعروں کے ذریعے ایسے راستے پر نہیں دھکیلا جانا چاہیے جہاں چند گھنٹوں کے سیاسی جوش کے بعد برسوں تک مقدمات اور تباہی کا بوجھ اٹھانا پڑے۔

پاکستان میں وزیراعظم کئی آئے اور کئی چلے گئے۔ کسی نے اپنی مدت پوری کی، کسی کو عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا، کسی کو عدالت نے نااہل قرار دیا اور کسی نے جلاوطنی اختیار کی۔ مگر ریاست اپنی جگہ موجود رہی۔ یہی ریاست ہماری اصل طاقت ہے۔

سیاسی جماعتوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ پارٹی پاکستان سے بڑی نہیں، لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، حکومت پاکستان سے بڑی نہیں اور اپوزیشن بھی پاکستان سے بڑی نہیں۔

اگر کسی سیاسی رہنما کو عدالت سے انصاف ملتا ہے تو اسے قبول کیا جائے۔ اگر عدالت کے فیصلے سے اختلاف ہے تو اپیل کی جائے۔ اگر حکومت کی پالیسی غلط ہے تو پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی جائے۔ اگر عوام کو متحرک کرنا ہے تو پرامن جلسے کیے جائیں۔ لیکن قومی اداروں، سرکاری املاک اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی سیاسی مقصد کو جائز نہیں بنا سکتا۔

9 مئی کے واقعات نے ہمیں یہ سبق دیا کہ سیاسی جذبات اگر قانون کی حدود سے باہر نکل جائیں تو صورتحال کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ آج کے لانگ مارچ کو بھی اسی تجربے سے سبق سیکھنا ہوگا۔ اگر احتجاج پرامن رہتا ہے تو یہ جمہوری حق ہے؛ اگر یہ تشدد میں تبدیل ہوتا ہے تو پھر ریاست کو قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہوگی اور سیاسی قیادت کو اپنے کارکنوں کو روکنے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

پاکستان کو اب مزید سیاسی آگ نہیں چاہیے۔ اسے سکون چاہیے، معیشت چاہیے، روزگار چاہیے، تعلیم چاہیے، امن چاہیے اور سب سے بڑھ کر آئین اور قانون کی بالادستی چاہیے۔

اختلاف ضرور ہو، مگر دشمنی نہ ہو۔ احتجاج ضرور ہو، مگر تشدد نہ ہو۔ حکومت پر تنقید ضرور ہو، مگر ریاست کو کمزور کرنے کی قیمت پر نہیں۔

کیونکہ اقتدار کی کرسی آج کسی ایک کے پاس ہے، کل کسی دوسرے کے پاس ہوگی۔ لیکن پاکستان کی سرزمین، پاکستان کا پرچم اور پاکستان کی ریاست ہم سب کی ہے۔

اس لیے موجودہ لانگ مارچ ہو یا مستقبل کی کوئی سیاسی تحریک، فیصلہ سڑکوں کے پتھر نہیں بلکہ آئین، قانون، مذاکرات اور عوامی مینڈیٹ کو کرنا چاہیے۔ یہی راستہ پاکستان کو سیاسی تصادم سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Address

Kanganpur
Kasur
55000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.Riaz Qaiser posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category