09/10/2026
سعودی عرب پر حوثی حملہ: امتِ مسلمہ کے اتحاد کا امتحان، جارحیت کے سامنے مزاحمت کی نئی صدا
تحریر: ایم ریاض قیصر
سعودی عرب پر حوثی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کو ایک مرتبہ پھر سنگین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملے نے نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کی بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور امتِ مسلمہ کے باہمی تعلقات پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ وقت جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر اتحاد، حکمت، ذمہ داری اور ایک مضبوط مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کا ہے۔
سعودی عرب کی سلامتی پر حملہ، خطے کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی
سعودی عرب محض ایک ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے حرمین شریفین، یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، کی سرزمین ہونے کی وجہ سے غیر معمولی روحانی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ان مقدس مقامات سے قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق کوئی بھی سنگین صورتِ حال پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا میں توجہ اور تشویش کا باعث بنتی ہے۔
اکتوبر 2026ء میں ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں سے منسوب میزائل حملے کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک مسافر طیارے کو بھی نقصان پہنچا اور فضائی آمدورفت متاثر ہوئی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جدید جنگوں میں میزائل اور ڈرون حملے صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، مسافروں اور روزمرہ زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
کسی بھی تنازع میں شہریوں کو نشانہ بنانا یا ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ اختلافات اور سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
امتِ مسلمہ کا اتحاد، وقت کی اہم ضرورت
آج اسلامی دنیا کو ایسے حالات کا سامنا ہے جن میں باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ مفادات کے تحفظ پر توجہ دینا ضروری ہے۔ فلسطین سے لے کر یمن اور خلیجی خطے تک، مختلف تنازعات نے مسلم معاشروں کو گہرے انسانی، معاشی اور سیاسی اثرات سے دوچار کیا ہے۔
سعودی عرب پر حملوں کے خلاف اسلامی ممالک کی آواز اس اصول پر متحد ہو سکتی ہے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم حقیقی اتحاد صرف بیانات جاری کرنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے سفارتی تعاون، مشترکہ مشاورت، انسانی امداد اور تنازعات کو روکنے کے لیے عملی کوششیں بھی ضروری ہیں۔
امتِ مسلمہ کی طاقت اس کی تعداد کے ساتھ ساتھ اس کی دانش، انصاف، اخلاقی قوت اور اجتماعی ذمہ داری میں پوشیدہ ہے۔ اگر اسلامی ممالک اختلافات کے باوجود بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیں تو وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حوثیوں کو اس جارحیت کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے؟
کسی بھی مسلح گروہ کی جانب سے دوسرے ملک پر میزائل حملے ایسے نتائج پیدا کر سکتے ہیں جن کا خمیازہ صرف اس گروہ کی قیادت ہی نہیں بلکہ اس کے زیرِ اثر علاقوں میں رہنے والے عام لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں حوثیوں کو کئی نوعیت کے نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پہلی صورت فوجی ردِعمل کی ہے۔ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے حوثی میزائل لانچ کرنے کے بعض مقامات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر لڑائی مزید پھیلتی ہے تو حوثیوں کے اسلحے، رسد اور فوجی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسرا نقصان سیاسی اور سفارتی تنہائی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ جب کسی گروہ کی کارروائیوں سے شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑتی ہیں اور علاقائی امن متاثر ہوتا ہے تو اس کے خلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں اس کی سیاسی حمایت، نقل و حرکت اور مذاکراتی گنجائش محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
تیسرا نقصان معاشی اور سماجی ہے۔ یمن پہلے ہی طویل خانہ جنگی، غربت، بے گھری اور انسانی بحران سے متاثر ہے۔ مزید لڑائی خوراک، ادویات، تجارت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی فریق کی جارحانہ حکمتِ عملی کا جائزہ لیتے ہوئے عام یمنی شہریوں کی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیا حوثی شکست کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
یمن میں حالیہ لڑائی کے دوران سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے بحیرۂ احمر اور باب المندب کے قریب بعض علاقوں میں پیش قدمی کی ہے، جبکہ حوثیوں نے اپنے بعض علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا میدان مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔
تاہم کسی گروہ کی مکمل شکست، اس کے کمانڈروں کی گرفتاری یا اس کے خاتمے کے دعوے کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔ ہر فوجی کارروائی کو فیصلہ کن فتح قرار دینا درست تجزیہ نہیں۔ جنگ کا حقیقی نتیجہ زمینی صورتِ حال، فوجی صلاحیت، سیاسی حمایت اور مذاکراتی امکانات سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
حوثیوں کے لیے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ آیا مسلسل حملے انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے قریب لے جا رہے ہیں یا ان کے نتیجے میں یمن کی تنہائی، عوامی مشکلات اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حرمین شریفین کا احترام اور پاکستان کی ذمہ داری
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مذہبی، تاریخی، سفارتی اور معاشی بنیادوں پر قائم ہیں۔ پاکستانی عوام کے دلوں میں حرمین شریفین کے لیے خصوصی عقیدت پائی جاتی ہے، جبکہ سعودی عرب میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد روزگار اور دیگر مقاصد کے لیے مقیم ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، شہریوں کے تحفظ اور سفارتی حل کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز کے ذریعے مشترکہ مؤقف اختیار کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔
امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف کا جواب جنگ سے دیا جائے۔ حقیقی اتحاد وہ ہے جو مظلوموں کی مدد کرے، شہریوں کی جان بچائے، جارحیت کی مخالفت کرے اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہے۔
اختتامیہ: اتحاد کا راستہ انصاف اور امن سے گزرتا ہے
سعودی عرب پر حوثی حملوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ خطے میں پھیلنے والی جنگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات سرحدوں، معیشتوں، عالمی تجارت اور عام انسانوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔ حوثیوں کو اپنی کارروائیوں کے ممکنہ سیاسی، فوجی اور معاشی نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں کو بھی شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
امتِ مسلمہ کی بیداری کا حقیقی اظہار نفرت، انتقام یا کسی قوم کے مکمل خاتمے کی خواہش نہیں بلکہ اتحاد، انصاف، خودمختاری کے احترام اور انسانی جانوں کے تحفظ میں ہے۔ مسلمانوں کو اپنے مقدس مقامات، اپنے ممالک اور اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے متحد ہونا چاہیے، مگر اس اتحاد کی بنیاد اخلاقی اصولوں اور دانش مندانہ حکمتِ عملی پر ہونی چاہیے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی اصل قوت صرف ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ ان کے اتحاد، بصیرت اور اصولی مؤقف میں ہوتی ہے۔ اگر اسلامی دنیا ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت امن، انصاف اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو جائے تو وہ خطے میں استحکام کی مضبوط بنیاد رکھ سکتی ہے۔
تحریر: ایم ریاض قیصر