Kasur Spotlight

Kasur Spotlight “Kasur ka sab se tez aur authentic spotlight — Business, Talent, News & Promotions at one place.”

🎉 I earned the emerging talent badge this week, recognizing me for creating engaging content that sparks an interest amo...
30/03/2026

🎉 I earned the emerging talent badge this week, recognizing me for creating engaging content that sparks an interest among my fans!

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Haroon Khan, Shafiullah Khan, محمد عمر, Mansoor Khan, Tan...
25/03/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Haroon Khan, Shafiullah Khan, محمد عمر, Mansoor Khan, Tanveer Khan Daha, Saddar Amjid, Hajim Khan, Haneef Zamir, Dilawar Khan, Sed Gul, Abdul Haq, Khan G, Niazbar Khan, Umar Khan, Akbar Ali, Malik Sohail Malik Sohail, Ayaz Khan, Shafiq MDk, Raham Taj, یوسف آفریدی, Azar Khan, Zain Ulhassan, Zafranullah Khan, M Ismail, Gul Rahman, Ayaz Khan, Mir Alam Khan Yousfzai, Waheed Khan, Wahid Jan, Ali Khn, Tahir Khan, Malik Zaman, Tariq Khan, Khalil Khan, Waqar Husain, Adil Khan Khan, Wakel Swati, Qudrat Ullah Afridi, Mohsin Mughal, Hanif Khan, Baber Azam, Amir Kakapoto, Zarshad Khan

23/03/2026

🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

23/03/2026


22/03/2026

21/03/2026

🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

21/03/2026

📢 Kasur Spotlight – Promotion Available

Apne business, shop ya service ko Kasur ki strong audience tak pohanchayein 🚀

👥 4,700+ followers
📍 Local audience (Kasur)
⚡ High reach + engagement

💼 Promotion Available For:
• Shops / Businesses
• Property / Rent
• Restaurants / Food
• Solar / Electric
• Online Stores

💰 Affordable promotion packages

📩 Inbox karein for details

⚠️ Note:
Post payment receive hone ke baad hi publish ki jati hai

⏳ Limited slots available!

پنجاب کا قصور شہر ایک پختون ریاست Exclusive قصور کا لفظی مطلب ہی "قلعوں کا شہر" ہے، جو عربی لفظ "قصر" کی جمع ہے۔ اس کی و...
07/01/2026

پنجاب کا قصور شہر ایک پختون ریاست

Exclusive

قصور کا لفظی مطلب ہی "قلعوں کا شہر" ہے، جو عربی لفظ "قصر" کی جمع ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ وہ بارہ قلعہ بند بستیاں یا "کوٹ" تھے جو خویشگی قبیلے کے مختلف خاندانوں نے اپنے دفاع کے لیے تعمیر کیے تھے۔ ان بارہ قلعوں میں کوت غلام محمد خان (جو ریاست کا انتظامی مرکز تھا)، کوت مراد خان، کوت عثمان خان، کوٹ بدر الدین خان، کوٹ اعظم خان، کوٹ حلیم خان، کوٹ فتح دین خان، کوٹ رکن الدین خان، کوت شیر باز خان، کوٹ میر باز خان، کوت پیران اور کوٹ قتل گڑھی شامل تھے۔ یہ بارہ کوٹ دراصل ایک وسیع اور مربوط دفاعی نظام کا حصہ تھے، جس کی بدولت قصور ایک ناقابلِ تسخیر شہر سمجھا جاتا تھا، کیونکہ کسی ایک قلعے پر قبضہ پورے شہر کی فتح کی ضمانت نہیں تھا۔

بیسویں صدی تک پنجاب کی تاریخ میں قصور کی خویشگی
ریاست ایک منفرد اہمیت کی حامل رہی ہے، جو 1526 سے 1807 تک پشتون شجاعت اور سیاسی خود مختاری کا مرکز بنی رہی۔ اس ریاست کی بنیاد اس وقت پڑی جب پشتونوں کے سڑبن گروہ سے تعلق رکھنے والے خویشگی (یا خیشگی) قبیلے نے کابل میں مغل بادشاہ بابر کا ساتھ دیا اور 1526 میں سلطان ابراہیم لودھی کے خلاف پانی پت کی تاریخی جنگ میں بھرپور حصہ لیا۔ اس وفاداری اور عسکری خدمات کے صلے میں بابر نے قصور کا علاقہ خویشگی سرداروں کو بطور جاگیر عطا کیا، جہاں انہوں نے اپنی مستقل سکونت اختیار کی اور مغل دربار میں اعلیٰ مناصب حاصل کیے۔

یہ ریاست محض ایک عسکری چھاؤنی نہیں تھی بلکہ علم، ادب اور روحانیت کا گہوارہ بھی تھی۔ پشتونوں کی خویشگی شاخوں میں سے عزیز زئی قبیلہ حکمرانی کے لیے مشہور ہوا، جبکہ زیر زئی شاخ نے کئی نامور علماء اور دانشور پیدا کیے۔ اسی دور میں عظیم صوفی شاعر حضرت بابا بلھے شاہؒ نے قصور کو اپنی تعلیمات کا مرکز بنایا، جس سے اس جنگجو ریاست کو ایک گہری صوفیانہ اور ثقافتی پہچان ملی۔
اٹھارہویں صدی میں مغل اقتدار کے کمزور ہوتے ہی قصور کو سکھ مِسلوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر 1763 اور 1770 میں بھنگی مِسل کے سرداروں نے شہر پر کامیاب حملے کیے اور اسے کافی نقصان پہنچایا۔ تاہم، 1794 میں نظام الدین خان کی زیرِ قیادت پشتونوں نے ایک بار پھر اپنی مکمل آزادی کا اعلان کیا اور رنجیت سنگھ کے ابتدائی حملوں کو ناکام بنایا۔ قصور کی اس آزاد ریاست کا سورج بالآخر 1807 میں اس وقت غروب ہوا جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ، جس میں ہری سنگھ نلوہ اور اکالی پھولا سنگھ جیسے جرنیل شامل تھے، شہر کا ایک ماہ طویل محاصرہ کیا۔
شکست کے بعد آخری افغان چیف قطب الدین خان کو قصور چھوڑنا پڑا اور رنجیت سنگھ نے انہیں ستلج کے پار ممدوٹ کے علاقے میں جاگیر دے دی، جہاں خویشگی خاندان نے ریاستِ ممدوٹ کی بنیاد رکھی۔ جو 1947 تک قائم تھی ۔۔
مشہور قانون دان احمد رضا قصوری کا نام تو سب نے سنا ہے۔ وہ جس کے والد کے قتل کے الزام زولفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ یہ اسی خشیگی خاندان سے ہے ۔ ہمارے نوشہرہ اور صوابی کے اس پاس یہ قبیلہ موجود ہے اور خشگی پائین اور بالا کے نام گاؤن بھی
مشھور پشتو سنگر فیاض خان خشکی بھی اس نسل ہے ہے ۔

09/12/2025

پورا قصور جانتا ہوگا… ایہہ جگہ کونسی ہے؟

قصور شہر کی سب سے پرانی پکچر قصور
03/12/2025

قصور شہر کی سب سے پرانی پکچر قصور

02/12/2025

اس بار دسمبر میں شاعری نہیں چالان والے پرچے بھگتیں گے ✌️🙂

Address

Kasur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kasur Spotlight posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share