03/06/2023
غزل
اُسکی گلی میں پھر مجھے اک بار لے چلو
مجبور کر کے مجھ کو میرے یار لے چلو
اُس کی یاد آج آ رہی ہے بہت مجھ کو
بس صرف اک بار اُس کے پاس لے چلو
شاید یہ میرا وہم ہو کہ میرا خیال ہو!
ممکن ہے میرے بعد اُسے میرا ملال ہو
اُس کے دل میں بھی ہو گی میری یاد
کچھ بھی کر کے مجھے اک بار لے چلو
پچھتا رہا ہو گا اب مجھے در سے اُٹھا کہ وہ
بیٹھا ہو میری راہ میں آنکھیں بچھا کے وہ
ایسا انداز بیاں تو نہ تھا اُسکا کبھی بھی
نہ جانے یہ سب کیا ہو گیا اک بار لے چلو
اُس نے بھی تو کیا تھا مجھے پیار لے چلو
اُس کی گلی میں پھر مجھے اک با لے چلو
میں بھی تو دیکھوں اُس کی دوری کا یہ حال
کیسے جیتا وہ میرے بغیر اک بار لے چلو
دیوانی کہہ کے لوگوں نے ہر بات ٹال دی
دنیا نے میرے پاؤں میں اب زنجیر ڈال دی
سب نے دی مجھ کو میرے حصّے کی سزا
اُسکے حصّے کی سزا دلوانے اک بار لے چلو
چاہو جو اگر تم تو میرا مقدر سنوار دویارو
یہ میرے پاؤں کی بیڑی اب اُتار دو
اِن بیڑیوں نے اب جکڑا ہے مجھ کو ایسا
آزاد کر کے مجھ کو اُسکے پاس لے چلو
اُس نے کیا ہے ملنے کا اقرار لے چلو
دیکھوں میں بھی اُسکو اک بار لے چلو
چاہت کی ہے بس یہی اک ہی گھڑی
دنیا میں نہیں کوئی بھی چیز پیار سے بڑی
سب کہتے ہیں کہ دور رہنا اُس سے
پھر بھی دل کہتا ہے اک بار لے چلو
بس میرے خدارا اب اُس کے پاس لے چلو
اُس کی گلی میں پھر مجھے اک بار لے چلو
میں نے کھائی ہیں عمر بھر کی قسمیں
کیسے بھول سکتی ہوں میں وہ ساری رسمیں
کچھ نہ مانگ کر میں اُسے نے چاہا ہے
بدلے میں صرف میں نے اُسے ہی مانگا ہے
دل نے کی ہے اُس کی خواہش لے چلو
درد ایسا ہے پھر اک بار اُس کے پاس لے چلو
کیا پتہ یہ سانس آخری ہو اک بار لے چلو
اُس کی گلی میں پھر مجھے اک بار لے چلو