06/07/2025
کربلا کا سچا پیغام
دنیا کی قدیم تہذیبوں مصر، بابل، ایران، روم, میں
حکمران عوام کے مالک سمجھے جاتے تھے۔
فرعونِ مصر خود کو "خدا" کہلواتا تھا،
نمرود رعایا کو آگ میں ڈالتا تھا،
شہنشاہِ فارس انہیں زمین کا کیڑا سمجھتا،
اور رومی سیزر "خدا کا بیٹا" کہلاتا تھا۔
اور عوام؟
وہ موروثی غلام تھے،
جو باپ سے بیٹے تک وارثوں کی طرح منتقل ہوتے تھے۔
پھر اسلام آیا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"بادشاہ نہیں، خادم بنو۔"
اور پہلی بار دنیا نے دیکھا:
حکمران کچے مکان میں رہتا ہے
حاکم عوام کے ساتھ صف میں کھڑا ہوتا ہے
اقتدار بیٹے کو نہیں، اہل کو سونپا جاتا ہے
رعایا کو حاکم سے سوال کا حق حاصل ہوتا ہے
اسلامی نظام نے وہ تاریخ رقم کی
جہاں ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ اور حسنؓ
اقتدار کو ترکہ نہیں، امانت سمجھتے تھے۔
لیکن جب یزید مسلط ہوا —
انسانی آزادی کا نظام مٹایا گیا۔ اسلام نے جس بادشاہ کو جڑ سے اکھاڑا تھا
انسانیت پر ظلم کرنے کیلیے وہ بادشاہ پھر زندہ ہوگیا
یزید صرف فرد نہیں تھا —
وہ دوبارہ ابھرنے والی فرعونی ذہنیت تھی،
جہاں رعایا پھر سے غلام،
اور حاکم قانون سے بالاتر ہو چکا تھا۔
امام حسینؑ نے اسی انسانی غلامی کے خلاف علم بلند کیا۔
ان کا انکار اقتدار کے لیے نہیں تھا،
بلکہ انسانی آزادی، عوامی خودمختاری
اور دینِ محمدی ﷺ کی اصل روح کے تحفظ کے لیے تھا۔
کربلا محض ایک شہادت نہیں —
یہ انسانی تاریخ کی پہلی جمہوری مزاحمت تھی،
جس نے کہا:
"انکار کرو، جب اقتدار تمھیں عزت نہیں — غلامی دے رہا ہو۔"
(حسینیت کا یہ پیغام دنیا تک پہنچانا آپ کی ذمہ داری ہے)