Ibrahim shobi

Ibrahim shobi Poet,writer & music lover

مرحوم بشیر بدر صاحب کے مصرع پر گرہ حاضر ہے ۔۔۔۔تم کو اندازہ نہیں ہے کیا سے کیا ہو جائے گا “ اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہ...
31/05/2026

مرحوم بشیر بدر صاحب کے مصرع پر گرہ حاضر ہے ۔۔۔۔
تم کو اندازہ نہیں ہے کیا سے کیا ہو جائے گا
“ اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا“
ابراہیم شوبی

آئے ہوۓ ہیں عارضی سیر و سفر پہ ہم کچھ مُستقل قیام کی صورت جہاں نہیں ابراہیم شوبی
31/05/2026

آئے ہوۓ ہیں عارضی سیر و سفر پہ ہم
کچھ مُستقل قیام کی صورت جہاں نہیں
ابراہیم شوبی

28/05/2026
لفظی کہانی مقابلہ (عید الاضحیٰ اسپیشل)​موضوع : قربانی صرف جانور کی نہیں ، نفس کی بھی ہوتی ہے مصنف : ابراہیم شوبی ​کہانی:...
27/05/2026

لفظی کہانی مقابلہ (عید الاضحیٰ اسپیشل)
​موضوع : قربانی صرف جانور کی نہیں ، نفس کی بھی ہوتی ہے
مصنف : ابراہیم شوبی
​کہانی:
عید الاضحیٰ کی آمد آمد تھی علی اپنے والد سے ضد کر رہا تھا کہ بکرا کب لے کر آئیں گے ، محمود صاحب اس انتظار میں تھے کہ انھوں نے جن لوگوں کو ادھار دیا ہوا ہے وہ انھیں واپس کر دیں تو منڈی جا کر علی کے ساتھ قربانی کے لیے بکرا لے آئیں اتنے میں محمود صاحب کے دوست حیدر صاحب آ گئے اور انھوں نے محمود صاحب سے کہا میں اس بات پہ شرمندہ ہوں کہ آپ سے لیا ہوا قرض وقت پہ واپس نہیں کر پایا ، میری بیوی کا آپریشن ہے محمود صاحب نے حیدر سے کہا کوئی بات نہیں ہم قربانی اگلے سال کر لیں گے قربانی صرف جانور کی نہیں نفس کی بھی ہوتی ہے تم اپنی بیوی کا علاج کروا لو میں تمھارا قرض معاف کرتا ہوں۔

یوں  بھی  کڑوا انہیں  لگوں گا میںسچ کی عادت ہے سچ کہوں گا میں ہار   مانوں   گا   کب  سہولت  سے جب  تلک  سانس  ہے  لڑوں  ...
17/05/2026

یوں بھی کڑوا انہیں لگوں گا میں
سچ کی عادت ہے سچ کہوں گا میں

ہار مانوں گا کب سہولت سے
جب تلک سانس ہے لڑوں گا میں

لڑکھڑانے لگے قدم میرے
گر گیا بھی تو پھر اُٹھوں گا میں

جیسی کرنی ہے ویسی بھرنی ہے
گر کیا ہے بُرا بھروں گا میں

تم جو چاہو تو کیا نہیں ممکن
تم نہ چاہو تو کیا کروں گا میں

جس میں نورِ خُدا بھرا ہوا ہے
طاقچے میں وہ دل رکھوں گا میں

ایسا سوچا بھی تھا نہیں شوبی
کہ کسی پہ کبھی مروں گا میں

(ابراہیم شوبی)

اس عنایت پہ Dua Ali  کا بیحد شکریہ
17/05/2026

اس عنایت پہ Dua Ali کا بیحد شکریہ

پہلے اُس نے بال و پر نوچے مرے پھر کہا مجھ سے کہ تو آزاد ہے ابراہیم شوبی
17/05/2026

پہلے اُس نے بال و پر نوچے مرے
پھر کہا مجھ سے کہ تو آزاد ہے
ابراہیم شوبی

یہ مرے باپ کی بدولت ہےبختِ بیدار میں نے پایا ہےابراہیم شوبی
09/05/2026

یہ مرے باپ کی بدولت ہے
بختِ بیدار میں نے پایا ہے
ابراہیم شوبی

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ibrahim shobi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category