06/03/2025
*صحيح البخاري # ١٩٠٤*
*Sahih Bukhari # 1904*
[عَنْ] أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : *قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «قَالَ اللَّهُ : {كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ} ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا : إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ» .*
Narrated Abu Hurairaؓ that *Allah's Messenger (ﷺ) said: "Allah said, «All the actions of the son of Adam are for him, except for fasting. Indeed, it is for Me, and I give the reward for it.» Fasting is a shield (i.e., protection from the fire and from committing sins). So when one of you is fasting, then let him not say obscene speech or make too much noise; and if someone insults him or fights him, then let him say: 'I am fasting.' By the One in Whose hand the soul of Muhammad is! The unpleasant smell that emanates from the mouth of the fasting person is more pleasant to Allah than the smell of the musk. There are two pleasures for the fasting person: one at the time of breaking his fast; and the other at the time when he will meet his Lord, then he will be pleased because of his fasting.”*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، «انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا»۔ اور روزہ ایک ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ شور وغل کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے يا اس سے جھگڑا کرے تو کہہ دے: 'میں روزہ دار آدمی ہوں'۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشی کے مواقع ہیں جن میں وہ خوش ہوتا ہے: جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو اپنا روزہ کھولنے سے خوش ہوتا ہے؛ اور جب اپنے رب سے ملے گا تو (اس کی جزا دیکھ کر) اپنے روزے سے خوش ہو گا۔”*
_*(اس حديث سے پتہ چلتا ہے کہ حقيقی روزہ اسی کو کہيں گے جس ميں بندہ دو چيزیں چھوڑ دے: روزہ کو توڑنے والی ظاہری اشياء، جيسے کھانا، پينا، ج**ع وغيرہ؛ اور عملی مخالفات، جيسے جھوٹی بات، شور وغل، بے حيائی اور بے ہودہ باتيں، تمام گناہ، اور بغض وحسد کو جنم دینے والے جھگڑے اور تنازعات۔ تو جو شخص دونوں طرح کے مخالفات کو چھوڑ دے تو اس کے لیے روزے داروں کا اجر پورا ہو گیا۔ اور جو ايسا نہيں کرتا اس کی خلاف ورزیوں کے حساب سے اس کے روزے کے اجر میں کمی ہو جائے گی۔ پھر روزہ دار کو حکم ديا گيا ہے کہ جب اس سے کوئی لڑائی کرنا چاہے يا گالی گلوج کرے تو اس سے کہہ دے کہ ميں روزے سے ہوں۔ يعنی اس کی گالی کا جواب نہ دے بلکہ کہے کہ ميں روزہ سے ہوں، گویا وہ کہتا ہے کہ: میں تمہارا مقابلہ کرنے سے قاصر نہیں ہوں، لیکن میں اپنے روزہ کا احترام کرتا ہوں، اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکم کا پاس و لحاظ کرتا ہوں۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)*_