14/04/2026
یہ عاشقی کا ہی تو الزام ہے مجھ پر
یونہی نہیں قیس بھیجتا سلام ہے مجھ پر
یہ محبت بھی نہیں قبول کہ ملے خیرات میں
جان جہاں سید ہوں صدقہ حرام ہے مجھ پر
جہاں بھر میں محبت بانٹتا پھرتا ہوں
میرے خدا کا یہ انعام ہے مجھ پر
تمہیں بے وفا کہوں یہ ہمت نہیں مجھے
میں عاشق ہوں ، واجب احترام ہے مجھ پر
میں کیسے اس عاشقی میں پہل کروں
غالب ابھی سے ڈر انجام ہے مجھ پر
تمہاری یاد کے دیپ جلاۓ رکھے ہیں
ورنہ تو بڑی بھاری یہ شام ہے مجھ پر
تمہاری یاد پر بھی کہوں گا یہ وعدہ رہا
یاسر اب ادھار ایک کلام ہے مجھ پر
یاسر علی یاسر