02/11/2025
اب اور کتنا ملول ہوں گے
ہنسیں کہ آنسو قبول ہوں گے
جنہیں ستارے سمجھ رہے ہو
کسی کے قدموں کی دھول ہوں گے
ہماری دنیا بنے گی اک دن
ہمارے اپنے أصول ہوں گے
وہ ساری حسرت ہنسی بنے گی
وہ درد سارے وصول ہوں گے
مجھے تو جنت سے یہ غرض ہے
وہاں پہ میرے رسول ہوں گے
میں ڈرتے ڈرتے ملوں گا لیکن
خدا کے ہاتھوں میں پھول ہوں گے
عمران شمشاد نرمی