Roshan FINAH Multimedia

Roshan FINAH Multimedia RFM easy to contact

14/01/2026

ایران میں بغاوت کی ناکامی: عوامی شعور، قیادت کی بصیرت اور سامراجی حکمتِ عملی کی شکست:
ایران میں حالیہ بغاوت کی ناکامی کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھی بلکہ یہ اس تاریخی حقیقت کا تسلسل ہے کہ جس قوم کی جڑیں اپنے نظریے، تاریخ اور قیادت سے جڑی ہوں، اسے چند دہشت گردوں، کرائے کے قاتلوں اور بیرونی پروپیگنڈے کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی۔ ایرانی قوم نے کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر رہبرِ معظم کے حق میں جو اتحاد و یکجہتی دکھائی، اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ انقلاب عوام کے شعور سے زندہ رہتے ہیں، نہ کہ میڈیا کے شور اور سازشوں سے۔
یہ بغاوت بنیادی طور پر ایک نفسیاتی اور اطلاعاتی جنگ کا حصہ تھی، جس کا مقصد ایرانی نظام کو اندر سے کمزور دکھانا، عوام میں مایوسی پھیلانا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا تھا۔ لیکن اس حکمتِ عملی کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ اس نے ایرانی قوم کی فکری بلوغت اور انقلابی تجربے کو نظرانداز کر دیا۔ ایران کوئی نوآموز ریاست نہیں جو چند ہیش ٹیگز، جذباتی نعروں یا محدود احتجاج سے ڈھیر ہو جائے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے شاہی آمریت، مغربی غلامی، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ اور دہائیوں کی پابندیوں کا مقابلہ کیا ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی دراصل طاقت کے نشے اور فکری دیوالیہ پن کی علامت تھی۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ معاشی دباؤ، میڈیا وار اور چند مسلح عناصر کے ذریعے ایران کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سوچ اس حقیقت سے یکسر خالی تھی کہ ایرانی انقلاب محض ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور نظریاتی شناخت ہے۔ نظریات کو بموں سے ختم نہیں کیا جاتا اور شعور کو پابندیوں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔
بغاوت کی ناکامی کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
عوامی حمایت اور نظریاتی وابستگی
ایرانی قوم کی اکثریت رہبرِ معظم کو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی مرجع سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نظام کو خطرہ لاحق ہوا تو عوام خود اس کی ڈھال بن گئے۔
قیادت کی بصیرت اور استقامت
رہبرِ معظم نے جذباتی ردعمل کے بجائے صبر، حکمت اور تدبر کے ساتھ حالات کو سنبھالا۔ یہی قیادت کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ وہ بحران میں قوم کو انتشار کے بجائے اتحاد کی طرف لے جائے۔
سازشی عناصر کی محدود حیثیت
بغاوت میں شامل عناصر نہ تو عوامی نمائندگی رکھتے تھے اور نہ ہی کوئی جامع قومی پروگرام۔ وہ محض تخریبی کردار ادا کر سکتے تھے، تعمیری کردار نہیں۔
سامراجی بیانیے کی ساکھ کا خاتمہ
امریکہ اور صیہونی نظام کی اخلاقی حیثیت پہلے ہی فلسطین، عراق، افغانستان اور دیگر خطوں میں بے نقاب ہو چکی ہے۔ جب ظالم خود انصاف کا دعویدار بن جائے تو اس کی بات اثر کھو دیتی ہے۔
یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس معرکے میں رہبرِ معظم اور ایران فتح یاب ہوئے اور صیہونی و سامراجی طاقتیں سیاسی، اخلاقی اور فکری سطح پر شکست کھا چکی ہیں۔ کیونکہ فتح صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی، اصل فتح شعور، بیانیے اور عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اور اس محاذ پر ایران نہ صرف قائم رہا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔
یہ واقعہ دنیا کے تمام انقلابی اور مزاحمتی معاشروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے:
انقلاب بندوق سے نہیں، قوم کے ضمیر سے زندہ رہتے ہیں۔ نظام چند دہشت گردوں سے نہیں گرتے، بلکہ قوم کے ایمان کے ختم ہونے سے گرتے ہیں۔ اور جب ایمان زندہ ہو، قیادت با بصیرت ہو اور قوم متحد ہو، تو ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے کردار تاریخ کے حاشیے میں چلے جاتے ہیں۔
یہ بغاوت دراصل ایران کے لیے کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی دلیل بن گئی، اور رہبرِ معظم کی قیادت ایک بار پھر ثابت کر گئی کہ وہ صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ اور عالمی مزاحمت کی علامت ہیں۔

11/01/2026
09/01/2026

امتِ مسلمہ، ایران اور رہبرِ معظم
قرآن و حدیث کی روشنی میں یکجہتی کا فکری و شرعی جواز
دنیا آج جس اضطراب، ظلم اور استعماری جبر سے گزر رہی ہے، اس میں سب سے زیادہ نشانہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص وہ اقوام بنی ہیں جو استعمار، صہیونیت اور سامراجی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں ایران اور اس کی قیادت بالخصوص رہبرِ معظم کے ساتھ یکجہتی محض سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی، دینی اور فکری ذمہ داری بن جاتی ہے۔
1. مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا قرآنی حکم
قرآنِ کریم واضح طور پر مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے مقابل کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے:
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ
(النساء: 75)
“اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جدوجہد نہیں کرتے جو فریاد کر رہے ہیں؟”
یہ آیت بتاتی ہے کہ مظلوموں کی حمایت صرف ہمدردی نہیں بلکہ شرعی تقاضا ہے۔ اگر کوئی قوم یا قیادت مظلوموں کی آواز بنے، تو اس کے ساتھ کھڑا ہونا دراصل اسی قرآنی حکم کی تکمیل ہے۔
2. امت کی وحدت: بقاء کا بنیادی اصول
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
(آلِ عمران: 103)
امت کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ تفرقہ ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا—یعنی قرآن، حق، عدل اور باہمی اتحاد—ہی بقاء کی ضمانت ہے۔ ایران اور رہبرِ معظم کے خلاف فکری و سیاسی یلغار دراصل اسی وحدت کو توڑنے کی کوشش ہے۔
3. قیادت کا معیار: اقتدار نہیں، ذمہ داری
اسلامی تعلیمات کے مطابق قیادت کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ امانت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
(صحیح بخاری)
جو قیادت مظلوموں کی آواز بنے، استعماری دباؤ کے آگے نہ جھکے، اور قبلۂ اول کی آزادی کو امت کا مشترکہ مسئلہ سمجھے، وہ ذاتی اقتدار کی نہیں بلکہ امت کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہے۔
4. قبلۂ اول: صرف ایک قوم کا نہیں، پوری امت کا مسئلہ
مسجدِ اقصیٰ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اسے تین مقدس مساجد میں شمار فرمایا۔ اس کی آزادی کی جدوجہد کسی ایک ملک یا قیادت تک محدود نہیں ہو سکتی۔ یہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت، حمیت اور ایمانی ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔
5. جہاد کا جامع مفہوم: شعور، استقامت اور جدوجہد
قرآن میں جہاد کا مفہوم محض مسلح تصادم تک محدود نہیں بلکہ:
جہاد بالنفس (اخلاقی استقامت)
جہاد بالفکر (فکری مزاحمت)
جہاد باللسان (حق گوئی)
جہاد بالمال (وسائل کی قربانی)
اللہ فرماتا ہے:
وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ
(الحج: 78)
آج کے دور میں علماء، شعرا، دانشور اور سیاسی قیادت پر فرض ہے کہ وہ عوام کو شعور دیں، اتحاد پیدا کریں اور امت کو داخلی خلفشار سے بچائیں، کیونکہ داخلی کمزوری ہی بیرونی تسلط کا دروازہ کھولتی ہے۔
6. مسلم ریاستوں کے لیے تنبیہ
تاریخ گواہ ہے کہ جب امت کے کسی حصے کو تنہا چھوڑا گیا، تو اس کے بعد باری باری سب نشانہ بنے۔ اگر ایران یا کوئی بھی مزاحمتی مرکز داخلی خلفشار کے باعث کمزور ہوا تو یہ محض ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری امت کی سلامتی کا مسئلہ بن جائے گا۔
7. اقبالؒ کا پیغام: جغرافیہ نہیں، ملت
علامہ اقبالؒ نے اسی وحدتِ ملت کو یوں بیان کیا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
یہ شعر محض شاعری نہیں بلکہ ایک فکری منشور ہے کہ امت کی بقاء سرحدوں سے بالاتر اتحاد میں ہے۔
نتیجہ
ایران اور رہبرِ معظم کے ساتھ یکجہتی کسی فرد یا حکومت کی حمایت نہیں بلکہ:
مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے،
امت کی وحدت کو بچانے،
قبلۂ اول کی آزادی،
اور استعمار کے مقابل فکری و اخلاقی استقامت
کا نام ہے۔
یہی قرآن کا پیغام ہے، یہی سنتِ رسول ﷺ کی روح ہے، اور یہی امتِ مسلمہ کی بقاء کا واحد راستہ۔

19/11/2025

گلگت بلتستان میں امن کیسے ممکن ہے؟ فرقہ واریت سے نجات کیسے ملے؟ اور بیرونی سازشوں کو کیسے روکا جائے؟

گلگت بلتستان کے امن کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ ماننا ضروری ہے کہ یہ خطہ صرف ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ مختلف مسالک، ثقافتوں، زبانوں اور روایتوں کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ اس گلدستے کو سنبھالنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ذیل میں تین اہم سوالات—امن کیسے ممکن ہے؟ فرقہ واریت سے نجات کیسے ملے؟ اور بیرونی سازشوں کو کیسے روکا جائے؟—کا جامع، فکری اور عملی جواب پیش ہے:

1. گلگت بلتستان میں امن کیسے ممکن ہے؟

الف: مضبوط سماجی ہم آہنگی

جہاں لوگ ایک دوسرے کی زبان، عقائد اور ثقافت کا احترام کرتے ہیں، وہاں بدامنی کی جڑیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔

علاقائی مجالس، جرگے اور بین المسالک ڈائیلاگ کا مستقل انعقاد ضروری ہے۔

ب: مضبوط مقامی ادارے

پولیس، ضلعی انتظامیہ، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر بلا امتیاز کارروائی کریں تو لوگ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں امن و برداشت کو نصاب اور سرگرمیوں کا حصہ بنانا ہو گا۔

ج: نوجوانوں کی شمولیت

نوجوانوں کو مہارت، روزگار، اور مثبت سرگرمیوں (Debates, Sports, Social Projects) میں شامل کیا جائے۔

بیکار نوجوان فرقہ وارانہ طاقتوں کا آسان ہدف بنتے ہیں، مصروف نوجوان امن کے سفیر بن جاتے ہیں۔

2. فرقہ واریت سے نجات کیسے مل سکتی ہے؟

الف: مشترکہ انسانیت کو مرکز بنانا

ہر مسلک اور ہر گروہ سے پہلے ہم انسان، مسلمان، اور گلگتی بلتی ہیں۔

اگر بات انسانیت پر ہو تو اختلافات ہمیشہ کمزور پڑ جاتے ہیں۔

ب: مذہبی قیادت کا مثبت کردار

مساجد، امام بارگاہوں اور خانقاہوں کے خطیب اگر اپنے خطابات میں اتحاد و رواداری کو فروغ دیں تو معاشرہ بدل جاتا ہے۔

نفرت انگیز تقریر اور اشتعال انگیزی کے خلاف "زیرو ٹالرنس" پالیسی ضروری ہے۔

ج: خاندان اور گھر کی تربیت

فرقہ واریت کا زہر زیادہ تر گھروں سے منتقل ہوتا ہے۔

والدین اگر بچوں کو احترامِ انسانیت سکھائیں تو معاشرے کا مزاج بدل جاتا ہے۔

3. بیرونی سازشوں کو روکنے کا طریقہ

الف: تعلیم اور آگاہی

تعلیم یافتہ معاشرے کو تقسیم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

بیرونی طاقتیں ہمیشہ وہاں کامیاب ہوتی ہیں جہاں لوگ لاعلم ہوں۔

ب: سوشل میڈیا پر ذمہ داری

فرقہ وارانہ پوسٹس، افواہیں، اور جھوٹی خبریں بیرونی قوتوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔

معلومات شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کرنا اور اشتعال انگیز مواد رپورٹ کرنا ضروری ہے۔

ج: قومی بیانیہ اور ایک اجتماعی موقف

جب پوری کمیونٹی ایک زبان میں بولے—کہ امن ہمارا فیصلہ ہے—تب کوئی سازش کامیاب نہیں ہوتی۔

4. ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟

الف: کردار کا آغاز "خود سے"

نفرت کی بات نہ سنیں، نہ پھیلائیں۔

اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں۔

ب: اپنی مجلسوں، محفلوں اور دوستوں میں مثبت گفتگو

ہم جس موضوع پر بات کرتے ہیں وہی معاشرے کا بیانیہ بنتا ہے۔

اگر گھروں اور بازاروں میں امن کی بات ہوگی تو باہر بھی امن بڑھے گا۔

ج: عملی اقدامات
تصادم والے حالات میں آگ بجھانے والا بنیں، آگ لگانے والا نہیں۔

رضاکار تنظیموں کے ساتھ مل کر سماجی ہم آہنگی کے پروجیکٹس کریں۔

پُرامن گلگت بلتستان ھمارے محفوظ
اور روشن مستقبل کا ضامن ہے۔

تحریر عاقل حسین ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

15/11/2025
15/11/2025

چھبیسویں اور ستائسویں آئینی ترمیم وکلاء کی جنگ نہیں—یہ پارلیمان کا کام ہے، اُن منتخب نمائندوں کا فریضہ جو عوام کے ووٹ سے ایوانوں میں پہنچے۔ وکلاء کے نام پر سیاست کرنا، ان کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرنا، اور اُن کی صفوں میں انتشار بونا محض سازش نہیں، بلکہ وکلاء کے وقار پر ضرب ہے۔

ہم نے اپنی آنکھوں سے وہ دور دیکھا ہے جب جسٹس افتخار چودھری کے نام پر ایک طوفان کھڑا کیا گیا۔ اُس زمانے میں "ریاست ہوگی ماں جیسی" کا نعرہ دلوں میں امید کی شمع بن کر جلا تھا۔ مگر اس تحریک کے بعد جو کچھ وکلاء کے ساتھ ہوا، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا—
کہیں لاٹھیاں برسیں، کہیں وکلاء کے آفس جلائے گئے،
کہیں بے قصور وکلاء اٹھا کر غائب کر دیے گئے،
تو کہیں جیلوں کی سیاہ کوٹھڑیوں نے اُن کے صبر اور حوصلے کا امتحان لیا۔

افتخار چودھری بحال تو ہو گئے…
مگر وہ وکلاء جنہوں نے قربانیاں دیں—
جو مارے گئے، جلے، ٹوٹے، رُل گئے—
کیا اُنہیں آج تک انصاف ملا؟
نہیں! ایک کربناک "نہیں"۔

چند لوگ ضرور دولت مند ہو گئے، مناصب پا گئے، شہرت کما گئے…
مگر 95 فیصد وکلاء آج بھی معاشی قتل کا شکار ہیں۔
اُن کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑتے ہیں،
اُن کے بچوں کی فیسیں مشکل سے ادا ہوتی ہیں،
اُن کی صحت، اُن کا مستقبل—سب ملبے میں دب چکا ہے۔
اوپر سے ستم یہ کہ انہی وکلاء کی بے بسی کو بار بار سیاسی دکان چمکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خدا کے لیے!
وکلا کو سمجھنا ہوگا کہ ایسی تحریکیں وکلاء کی نہیں ہوتیں—یہ چند افراد کا کاروبار ہوتی ہیں!
وہ وکلاء کے نام، جذبات، قربانیوں اور اتحاد کو بیچ کر اپنے مفاد چمکاتے ہیں، اور عام وکیل پھر وہی—
عدالتوں کی راہداریوں میں رزق کی تلاش میں دھکے کھاتا رہتا ہے۔

غلط قانون سازیوں کو روکنے کا حق سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا ہے۔
وکلا کا وقار، ان کا کام، ان کا اسلحہ صرف ایک چیز ہے—
قانون اور آئین کی جنگ عدالت کے اندر۔
سڑکوں پر دنگا فساد، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ، اداروں پر الزامات—
یہ نہ وکیل کی شان ہے نہ وکالت کی روایت۔

آج حقیقت یہ ہے کہ:
ججوں نے کبھی وکلاء کے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
کبھی اُن کا حال پوچھا نہیں۔
پھر انہی کے نام پر انتشار پھیلانا کیسی عقل مندی ہے؟

وکلا کی زندگیاں آسان نہیں—
صبح سے شام تک عدالتوں میں دھکے،
موکلین کے ناز نخرے،
فائلوں کا بوجھ،
مہنگائی کا سیلاب،
اور اوپر سے غیر ذمہ دار تحریکوں کی آگ۔

کیا کوئی ہے جو وکلاء کے گھر کا چولہا دیکھے؟
کیا کوئی ہے جو ان کے بچوں کی تعلیم پر رحم کرے؟
کیا کوئی ہے جو ان کی صحت کے لیے سوچے؟
آخر کب تک وکلاء قربانی کا بکرا بنائے جائیں گے؟
وقت آ گیا ہے کہ وکلاء اپنے وقار، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے لیے کھڑے ہوں—
نہ کہ اُن سیاسی سوداگر کے لیے جو وکلاء کی قربانی پر اپنی سیاست کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔

13/11/2025

بااختیار اور باوقار انسان، جیسے عقاب، صرف بہادری کی علامت نہیں بلکہ خودی کا شعور رکھتا ہے، جو اسے معمولی زندگی کی سطح سے بلند کرتا ہے۔ عقاب آسمان کی بلندی کی تلاش میں رہتا ہے، نہ کہ دکھاوے کے لیے۔ وہ طوفان سے نہیں ڈرتا، کیونکہ جانتا ہے کہ ہر طوفان اسے مضبوط بناتا ہے اور نئے جہانوں کی طرف اُٹھاتا ہے۔ ہر رکاوٹ اسے ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی باکردار انسان چیلنجز کو مواقع میں بدل دیتا ہے، مشکلات کو اپنی ترقی کا راستہ بناتا ہے، اور اپنے وجود کی بلندی حاصل کرتا ہے۔

علامہ اقبال عقاب کو محض پرندہ نہیں بلکہ کامل انسان کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ عقاب خودی، عزت، وقار اور بے غرضی کا آئینہ ہے۔ اس کی تنہا پرواز تنہائی نہیں، بلکہ شعوری انتخاب ہے کہ وہ ہجوم سے بلند ہو۔ اقبال فرماتے ہیں:

"جب عقاب کی روح نوجوان میں جاگتی ہے تو اپنی منزل کو آسمانوں میں دیکھتا ہے۔"

یہ الفاظ ہر انسان کے لیے ایک فکری پیغام ہیں: اپنی اندرونی خودی جگاؤ، دنیا کے طوفانوں سے نہ گھبراؤ، بلکہ انہیں اپنی پرواز کی راہ بناؤ۔ عقاب طوفان سے نہیں ڈرتا، اور اسی طرح باخبر انسان زندگی کے امتحانات سے نہیں ڈرتا، بلکہ انہیں ترقی اور بلندی کے مواقع کے طور پر قبول کرتا ہے۔

اقبال کہتے ہیں کہ حقیقی بلندی تنہائی میں حاصل ہوتی ہے، نہ کہ ہجوم میں۔ ہجوم اکثر آسان راستہ اختیار کرتا ہے، خوف یا عادت کی وجہ سے۔ عقاب کے لیے ہر پرواز ایک جدوجہد، ایک شعوری فیصلہ ہے، جو انسان کی فکری اور اخلاقی بلندی کی علامت ہے۔ یہ تنہائی صرف جسمانی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بھی ہے، جو انسان کو اپنی ذات کے راز سے روشناس کراتی ہے۔

یہ “خودی کا خزانہ” اقبال کی تعلیمات کا محور ہے۔ خودی بہادری، نظم و ضبط، اور اخلاقی وقار کی بنیاد ہے۔ یہ تقلید سے نہیں بلکہ شعوری جدوجہد اور فکر سے حاصل ہوتی ہے۔ عقاب کی پرواز ہمیں سکھاتی ہے کہ عظمت ہجوم میں نہیں بلکہ خود شناسی، فکری آزادی، اور اخلاقی جرات میں پوشیدہ ہے۔

ایسے افراد، عقاب کی طرح، شہرت یا پذیرائی کے طلبگار نہیں ہوتے۔ یہ قوموں کے ضمیر، فکر کے محافظ، اور مستقبل کے معمار ہیں۔ ہجوم شور اور دکھاوا دیکھتا ہے، عقاب خاموشی سے اوپر پرواز کرتا ہے، نظریں افق پر جمائے، وہ سب دیکھ رہا ہے جو ہجوم کی نظروں سے اوجھل ہے۔

اقبال فرماتے ہیں:
"اپنی خودی کو اتنا بلند کر کہ ہر تقدیر کے سامنے خدا خود پوچھے، بتا! تیرا ارادہ کیا ہے؟"

یہی بااختیاری اور باوقاری زندگی کی بنیاد ہے: اپنی خودی کو پہچاننا، شعور کے ساتھ راستہ منتخب کرنا، ہجوم سے اوپر اٹھنا اور بلند پرواز کرنا۔ حقیقی عظمت تنہا راستے میں ملتی ہے، کیونکہ یہی راستہ انسان کو اپنی روح کی لا محدود پرواز تک لے جاتا ہے۔

عقاب محض تنہائی یا بہادری کی علامت نہیں، بلکہ شعور، فکر اور خودی کی بلندی کی علامت ہے۔ اس کی پرواز ہر انسان کے لیے سبق ہے جو معمولی زندگی سے بلند ہو کر فکری، اخلاقی اور روحانی بلندی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

آپ کے ووٹ کا صحیح حقدار کون ہے؟ 1. ایماندار اور شفاف کردار والا شخص وہ جو اپنی زندگی میں جھوٹ، بدعنوانی یا خود غرضی سے پ...
12/11/2025

آپ کے ووٹ کا صحیح حقدار کون ہے؟

1. ایماندار اور شفاف کردار والا شخص
وہ جو اپنی زندگی میں جھوٹ، بدعنوانی یا خود غرضی سے پاک ہو۔
2. عوامی عہدے کو ذاتی دولت کا ذریعہ نہیں سمجھتا اور کرپشن سے پاک ہے۔
3. قانون اور آئین کا احترام کرتا ہے۔
جو قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہو، وہ اداروں کی خود مختاری کو کمزور نہیں کرتا،
اور اپنے اختیارات کو ذاتی یا سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتا۔

4. محض نعرے بازی یا الزام تراشی سے آگے دیکھ سکتا ہے، اس کے لہجے میں نرمی اور عاجزی ہے اور تنقید میں اخلاق اور شرافت کی عکاسی ہوتی ہے۔

5. جو سیاست کو عوامی خدمت کا فرض سمجھتا ہے،
عوامی وسائل پر بھروسہ کرتا ہے، اور کمزور ترین طبقات کی آواز بنتا ہے۔

6. رواداری، مکالمے اور جمہوری رویے کی حمایت کرتا ہے۔
جو اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھے
اور معاشرے میں رواداری، برداشت اور یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔

7. جو سڑکوں، چند نوکریوں، عوامی ووٹوں کی خرید و فروخت یا نعرے بازی سے زیادہ تعلیم، انصاف، صحت اور انسانی وقار پر سرمایہ کاری کرے۔
مہذب معاشروں میں ووٹ چہرے یا زبان کو نہیں دیا جاتا۔
بلکہ کردار، یا معیار کے لیے، اوپر دیے گئے بنیادی اصولوں کی بنیاد پر۔
اور جہاں برادری، مفاد یا جذبات کی آڑ میں ووٹ دیے جائیں،
وہ قومیں ہمیشہ جمود کا شکار رہتی ہیں۔

ایک عظیم فرزند فینہ دانش علی ولد نیاز احمد مدرس فنا کی طرف سے بقائے دائمی کی طرف کوچ کر گئے۔ مومنین سے دعا التماس ہے الل...
10/04/2023

ایک عظیم فرزند فینہ دانش علی ولد نیاز احمد مدرس فنا کی طرف سے بقائے دائمی کی طرف کوچ کر گئے۔ مومنین سے دعا التماس ہے
اللھم اغفر لہ وارحمہ ،وعافہ واعف عنہ ،واکرم نزلہ ووسع مدخلہ ،واغسلہ بالماء والثلج والبرد ونقہ من الخطایا کما نقیت الثوب الابیض من الدنس ،وابدلہ دارا خیرا من دارہ و اھلا خیرا من اگلہ وادخلہ الجنۃ الفردوس
اللھم انہ اصبح فقیرا الی رحمتک وانت غنی عن عذابہ فارحمہ
اللھم انت خلقتہ وانت رزقتہ وانت قبضت روحہ وانت اعلم بسرہ وعلانیتہ جئنا شفعالہ فاغفرلہ وارحمہ
اللھم ان کان محسنا فزد فی احسانہ وان کان مسیئا فتجاوزْ عن سیئاتہ
اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تضلنا بعدہ۔

Address

Shah Faisal Town
Karachi

Telephone

03332106231

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roshan FINAH Multimedia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Roshan FINAH Multimedia:

Share