14/01/2026
ایران میں بغاوت کی ناکامی: عوامی شعور، قیادت کی بصیرت اور سامراجی حکمتِ عملی کی شکست:
ایران میں حالیہ بغاوت کی ناکامی کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھی بلکہ یہ اس تاریخی حقیقت کا تسلسل ہے کہ جس قوم کی جڑیں اپنے نظریے، تاریخ اور قیادت سے جڑی ہوں، اسے چند دہشت گردوں، کرائے کے قاتلوں اور بیرونی پروپیگنڈے کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی۔ ایرانی قوم نے کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر رہبرِ معظم کے حق میں جو اتحاد و یکجہتی دکھائی، اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ انقلاب عوام کے شعور سے زندہ رہتے ہیں، نہ کہ میڈیا کے شور اور سازشوں سے۔
یہ بغاوت بنیادی طور پر ایک نفسیاتی اور اطلاعاتی جنگ کا حصہ تھی، جس کا مقصد ایرانی نظام کو اندر سے کمزور دکھانا، عوام میں مایوسی پھیلانا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا تھا۔ لیکن اس حکمتِ عملی کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ اس نے ایرانی قوم کی فکری بلوغت اور انقلابی تجربے کو نظرانداز کر دیا۔ ایران کوئی نوآموز ریاست نہیں جو چند ہیش ٹیگز، جذباتی نعروں یا محدود احتجاج سے ڈھیر ہو جائے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے شاہی آمریت، مغربی غلامی، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ اور دہائیوں کی پابندیوں کا مقابلہ کیا ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی دراصل طاقت کے نشے اور فکری دیوالیہ پن کی علامت تھی۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ معاشی دباؤ، میڈیا وار اور چند مسلح عناصر کے ذریعے ایران کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سوچ اس حقیقت سے یکسر خالی تھی کہ ایرانی انقلاب محض ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور نظریاتی شناخت ہے۔ نظریات کو بموں سے ختم نہیں کیا جاتا اور شعور کو پابندیوں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔
بغاوت کی ناکامی کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
عوامی حمایت اور نظریاتی وابستگی
ایرانی قوم کی اکثریت رہبرِ معظم کو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی مرجع سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نظام کو خطرہ لاحق ہوا تو عوام خود اس کی ڈھال بن گئے۔
قیادت کی بصیرت اور استقامت
رہبرِ معظم نے جذباتی ردعمل کے بجائے صبر، حکمت اور تدبر کے ساتھ حالات کو سنبھالا۔ یہی قیادت کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ وہ بحران میں قوم کو انتشار کے بجائے اتحاد کی طرف لے جائے۔
سازشی عناصر کی محدود حیثیت
بغاوت میں شامل عناصر نہ تو عوامی نمائندگی رکھتے تھے اور نہ ہی کوئی جامع قومی پروگرام۔ وہ محض تخریبی کردار ادا کر سکتے تھے، تعمیری کردار نہیں۔
سامراجی بیانیے کی ساکھ کا خاتمہ
امریکہ اور صیہونی نظام کی اخلاقی حیثیت پہلے ہی فلسطین، عراق، افغانستان اور دیگر خطوں میں بے نقاب ہو چکی ہے۔ جب ظالم خود انصاف کا دعویدار بن جائے تو اس کی بات اثر کھو دیتی ہے۔
یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس معرکے میں رہبرِ معظم اور ایران فتح یاب ہوئے اور صیہونی و سامراجی طاقتیں سیاسی، اخلاقی اور فکری سطح پر شکست کھا چکی ہیں۔ کیونکہ فتح صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی، اصل فتح شعور، بیانیے اور عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اور اس محاذ پر ایران نہ صرف قائم رہا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔
یہ واقعہ دنیا کے تمام انقلابی اور مزاحمتی معاشروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے:
انقلاب بندوق سے نہیں، قوم کے ضمیر سے زندہ رہتے ہیں۔ نظام چند دہشت گردوں سے نہیں گرتے، بلکہ قوم کے ایمان کے ختم ہونے سے گرتے ہیں۔ اور جب ایمان زندہ ہو، قیادت با بصیرت ہو اور قوم متحد ہو، تو ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے کردار تاریخ کے حاشیے میں چلے جاتے ہیں۔
یہ بغاوت دراصل ایران کے لیے کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی دلیل بن گئی، اور رہبرِ معظم کی قیادت ایک بار پھر ثابت کر گئی کہ وہ صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ اور عالمی مزاحمت کی علامت ہیں۔