25/06/2026
اصلاح معاشرہ
قدم بقدم
تحریر محمد نعیم
پیشکش الرزاق اکیڈمی
معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مخلص اور حاسد کا فرق چہروں سے مٹ چکا ہے ـ ـ ـ ـ کچھ لوگ آپ کی زندگی میں دوست، خیر خواہ اور ہمدرد کا لبادہ اوڑھ کر آتے ہیں ـ ـ ـ ـ مگر حقیقت میں وہ آپ کی خوشیوں، کامیابیوں اور تخلیقی پرواز سے خوفزدہ ہوتے ہیں ـ ـ ـ ـ وہ بظاہر آپ کی مسکراہٹ پر مسکراتے ہیں ـ ـ ـ ـ مبارک باد بھی دیتے ہیں ـ ـ ـ ـ مگر ان کے دل کے نہاں خانوں میں حسد، بغض اور یہ کسک چھپی ہوتی ہے کہ "یہ ہم سے آگے کیوں نکل گیا؟"
ایسے منفی رویوں کے حامل لوگ کبھی آپ کے حقیقی ہم سفر نہیں ہو سکتے ـ ـ ـ ـ وہ آپ کے ہر خواب کی تعبیر میں خامیاں تلاش کریں گے ـ ـ ـ ـ ہر نئے عزم پر آپ کو منزل کی مشکلات کا خوف دلائیں گے ـ ـ ـ ـ اور حوصلہ بڑھانے کے بجائے آپ کے گرد مایوسی کا جالا بن دیں گے ـ ـ ـ ـ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ آپ کی محنت اور کامیابی کو اتنا کم تر کر کے دکھایا جائے کہ آپ خود اپنے ہی وجود اور صلاحیتوں پر شک کرنے لگیں ـ ـ ـ ـ
شعورِ زندگی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اپنی خوشیاں، اپنی فتوحات اور اپنے مستقبل کے منصوبے ہر راہ چلتے کے سامنے نہ کھولیں ـ ـ ـ ـ۔ ہر چمکتی ہوئی مسکراہٹ خلوص کی آئینہ دار نہیں ہوتی ـ ـ ـ ـ اور ہر ہاتھ ملانے والا دل سے آپ کے ساتھ نہیں ہوتا ـ ـ ـ ۔
سماجی اصلاح کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم اپنے حوصلوں کو دوسروں کی منفی رائے کا قیدی نہ بننے دیں ـ ـ ـ ـ جو لوگ آپ کی ترقی سے بے چین ہوں ـ ـ ـ ـ جو آپ کے خوابوں کا مذاق اڑائیں اور جو آپ کے دل و دماغ کو زہریلی اور منفی سوچ سے بھر دیں ـ ـ ـ ـ وہ دراصل آپ کی ترقی کی راہ میں کھڑی دیواریں ہیں ـ ـ ـ ـ ان دیواروں کو گرا دینا یا ان سے راستہ بدل لینا کوئی خود غرضی نہیں ـ ـ ـ ـ بلکہ خود سے سچی محبت ـ ـ ـ ـ ذہنی سکون اور اپنی صلاحیتوں کا احترام ہے ـ ـ ـ ـ یاد رکھیے!!! جب آپ منفی لوگوں سے فاصلہ اختیار کرتے ہیں ـ ـ ـ ـ تو آپ اپنے گرد ایک ایسا حصار قائم کر لیتے ہیں جہاں صرف سکون، اعتماد اور کامیابی کی راہیں جنم لیتی ہیں ـ ـ ـ ـ