The House of Urdu - poetry

The House of Urdu - poetry The House of Urdu main objective is to promote the Urdu language, Urdu literature, and poetry. ار?

07/04/2026

مجھ سے اونچا ترا قد ہے، حد ہے
پھر بھی سینے میں حسد ہے؟ حد ہے

میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے، حد ہے

تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے

عشق میری ہی تمنا تو نہیں
تیری نیت بھی تو بد ہے، حد ہے

زندگی کو ہے ضرورت میری
اور ضرورت بھی اشد ہے، حد ہے

بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن
چاند بس ایک عدد ہے، حد ہے

اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ ترے ضبط کی حد ہے؟ حد ہے

روک سکتے ہو تو روکو جاذلؔ
یہ جو سانسوں کی رسد ہے، حد ہے

جیم جاذل

-
-

05/04/2026

جہاں میں کوئی بھی کاندھا نہیں ملا ، سو ہم
بروزِ حشر خدا سے لپٹ کے روئیں گے

26/03/2026

تم نے لڑے بغیر غلامی قبول کی
اچھے بھلے وجود پہ سر رائیگاں گیا
عابد حسین عابد

21/02/2026

وفا نے مرد بھی مارے چھڑے بھی
اجاڑے قصر بھی اور جھونپڑے بھی

ہماری آستینوں میں پلے ہیں
ترے جیسے بھی اور تجھ سے بڑے بھی

مری چابک زبانی تیرے شر سے
نشاں زد ہو گئے چکنے گھڑے بھی

عمار اقبال

16/02/2026

امجداسلام امجد
کیا کیا ہمارے خواب تھے ، جانے کہاں پہ کھو گئے
تم بھی کسی کے ساتھ ہو ، ہم بھی کسی کے ہو گئے

جانے وہ کیوں تھے ، کون تھے ؟ آئے تھے کس لیے
یہاں
وہ جو فشار وقت میں ، بوجھ سا ایک دھو گئے

اس کی نظر نے یوں کیا گرد ملال جان کو صاف
اَبْر برس کے جس طرح ، سارے چمن کو دھو گئے

کٹنے سے اور بڑھتی ہے اٹھے ہوئے سرو کی فصیل
اپنے لہو سے اہل دل ، بیج یہ کیسے بو گئے

جن کے بغیر اک پل ، جینا بھی مُحال تھا
شکلیں بھی ان کی بجھ گئیں ، نام بھی ان کے کھو گئے

آنکھوں میں بھر کے رت جگے ، رستوں کو دے کے دوریاں
امجد وہ اپنے ہمسفر ، کیسے مزے سے سو گئے

14/02/2026

محفل میرے دم سے محفل پھر بھی مجھ میں
ایک بھیانک تنہائی بھی پوشیدہ ہے
ضیا ضمیر

03/02/2026
01/02/2026

ُن کی محفل میں نصیر











01/02/2026

بیچ سے ایک داستاں ٹوٹی
اور پیدا ہوۓ فسانے دو

ہاتھ جس کو لگا نہیں سکتا
اس کو آواز تو لگانے دو

20/06/2024

اِک رنج بہ پیرایۂ زر کیوں نہیں جاتا
کشکولِ ہوس ہے تو یہ بھر کیوں نہیں جاتا

وہ آئنہ رُو ہے تو مِرا روپ دکھائے
میں اُس کے مقابل ہوں، سنور کیوں نہیں جاتا

دریا کا تلاطم تو بہت دن کی کتھا ہے
لیکن مِرے اندر کا بھنور کیوں نہیں جاتا

کہتے ہو کہ ہو اُسوہِ شبّیر پہ قائم
دربار میں کیوں جاتے ہو، سر کیوں نہیں جاتا؟

کہتے ہو جو تم روح سے "لبّیک حسینا"
پھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا؟

تم صاحب ِ معنی ہو تو تمثال پہ مت جاؤ
الزام کبھی آئنے پر کیوں نہیں جاتا

لو شام گئی، رات ہے، کابوس ہے، میں ہوں
میں صبح کا بھولا ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا

با وصف ِ خلش ہائے خدایانِ سلیقہ
اِس شخص کی سطروں سے ہنر کیوں نہیں جاتا

ہر سنگ ِ دعا مجھ کو لگا پھول سے بڑھ کر
جب اِتنی دعائیں ہیں تو مَر کیوں نہیں جاتا

اختر تِری گفتار ِ فسوں کار میں کیا ہے
جو بھی اِدھر آتا ہے، اُدھر کیوں نہیں جاتا؟

اختر عثمان

15/06/2024

پناہ مانگا کرو غربت سے، یہ محبت سے بڑا دکھ ہے

25/05/2024

تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں، بات سمجھ
مرے علاوہ ہیں چھے لوگ منحصر مجھ پر
مری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The House of Urdu - poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share