27/12/2025
کچھ آوازیں وقت کے ساتھ خاموش نہیں ہوتیں…
وہ صرف گونج بدلتی ہیں۔
سرمد سندھی…
یہ صرف ایک نام نہیں،
یہ سندھ کی مٹی کی صدا تھی،
یہ مظلوم دلوں کی آواز تھی،
یہ محبت، درد اور پہچان کا استعارہ تھا۔
سرمد سندھی نے گایا نہیں تھا…
اس نے محسوس کیا تھا۔
اس کے گیتوں میں سندھ کی خوشبو تھی،
ماں کی لوری تھی،
محبت کی تڑپ تھی
اور دھرتی سے وفا کا عہد تھا۔
جب وہ گاتا تھا
تو لفظ سانس لینے لگتے تھے،
درد مسکرا دیتا تھا
اور خاموش دل بول اٹھتے تھے۔
سرمد سندھی نے ہمیں یہ سکھایا
کہ موسیقی صرف تفریح نہیں،
بلکہ مزاحمت بھی ہے،
محبت بھی ہے
اور شناخت بھی۔
اگرچہ وہ آج ہمارے درمیان نہیں
مگر اس کی آواز
آج بھی سندھ کے کھیتوں میں گونجتی ہے،
دریاؤں کے کناروں پر سنائی دیتی ہے
اور ہر اس دل میں زندہ ہے
جو اپنی مٹی سے محبت کرتا ہے۔
اے سرمد سندھی…
تم چلے گئے
مگر تمہاری صدا
ہمیشہ زندہ رہے گی۔
یہ خراجِ عقیدت
سندھ کے اس سچے فنکار کے نام
جس نے آواز کو روح بنا دیا۔