15/07/2026
محترم حکیم صاحب! پراسٹیٹ گلینڈ (غدہ مذی) کے بڑھ جانے (Benign Prostatic Hyperplasia - BPH) اور اس کے سرطان (Cancer) میں تبدیل ہونے کے اسباب پر صابر ملتانی صاحب کے نظریہ مفرد اعضاء (عضلاتی تحریک، غدی تسکین) اور روایتی طب کے اصولوں کے مطابق آپ کی یہ تشریح نہایت گہری اور معلوماتی ہے۔ جنسی ہجان کے وقت نکلنے والی رطوبت (مذی) کا سائنسی اور طبی مقصد آپ نے بہت خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔
ہمیشہ کی طرح، آپ کے مخلص علمی و طبی اسسٹنٹ کی حیثیت سے، اس نظریے کو جدید سائنسی اور کلینیکل ریسرچ کے ترازو میں تولتے ہوئے چند نہایت اہم اور ضروری نکات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ مریضوں کی تشخیص اور علاج میں کوئی ابہام نہ رہے:
1. کیا BPH (پراسٹیٹ کا بڑھنا) کینسر میں تبدیل ہوتا ہے؟ (طبی و سائنسی حقیقت)
روایتی نقطہ نظر: جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا کہ رطوبات کے رکنے اور تعفن (Infection/Inflammation) کی وجہ سے وہ زہریلی شکل اختیار کر کے سرطان بن جاتی ہیں۔
جدید سائنسی حقیقت: جدید میڈیکل سائنس اور یورولوجی (Urology) کی ریسرچ کے مطابق، پراسٹیٹ کا عام بڑھنا (BPH) اور پراسٹیٹ کینسر دو بالکل الگ الگ بیماریاں ہیں۔ پراسٹیٹ کا عام بڑھنا کینسر میں تبدیل نہیں ہوتا۔ BPH گلینڈ کے اندرونی حصے (Transition Zone) میں ہوتا ہے جو پیشاب کی نالی کو دباتا ہے، جبکہ کینسر اکثر گلینڈ کے بیرونی حصے (Peripheral Zone) سے شروع ہوتا ہے۔
حکمتِ عملی: اگر کسی مریض کا پراسٹیٹ بڑھا ہوا ہو، تو صرف علامات پر انحصار کرنے کے بجائے اس کا PSA (Prostate-Specific Antigen) بلڈ ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ لازمی کروائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ صرف عظمِ غدد (BPH) ہے یا کینسر کی شروعات، کیونکہ دونوں کا علاج بالکل مختلف ہے۔
2. منی کو روکنے اور کپڑے بچانے کا نقصان:
آپ کا یہ نقطہ سو فیصد درست ہے کہ اخراج کے وقت منی یا پیشاب کو زبردستی دبا کر روکنے سے پراسٹیٹ اور مثانے کے پٹھوں پر شدید معکوس دباؤ (Retrograde pressure) پڑتا ہے۔ یہ عادت پراسٹیٹ کی سوزش (Prostatitis) اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔
آپ کا یہ گراں قدر اور معلوماتی مضمون فخری دواخانہ کے روایتی ہری اور سنہری بارڈر والے پوسٹر کی تھیم کے مطابق بہترین معلوماتی کارڈ کی شکل میں ترتیب دے دیا گیا ہے:
ــ ھوالشافی ــ
عظمِ غددِ قدامیہ (پراسٹیٹ گلینڈ کا بڑھنا — اسباب، علامات اور روایتی علاج)
🔎 پراسٹیٹ گلینڈ کیا ہے؟
پراسٹیٹ ایک غدہ (گلٹی) ہے جو مردوں میں پیشاب کی نالی کے آغاز پر واقع ہوتا ہے۔ یہ انڈے کی سفیدی جیسی ایک خالص الکلی رطوبت پیدا کرتا ہے، جو انزال سے پہلے نالی کی تیزابیت کو ختم کرتی ہے تاکہ تولیدی صحت برقرار رہے۔
⚠️ مرض کے پیدا ہونے کے بنیادی اسباب:
طبی مزاج: طبِ یونانی اور نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق یہ مرض عضلاتی تحریک اور غدی تسکین (جسم میں خشکی اور گرمی کی کثرت) کا شاخسانہ ہے۔ تیز مصالحہ جات، خشک گرم غذاؤں کا زیادہ استعمال اور دائمی قبض اس کے اہم اسباب ہیں۔
نفسیاتی و جنسی اسباب: مسلسل جنسی ہجانات، خیالات کی پراگندگی اور اخراج کے وقت منی کو زبردستی روکنا (مثلاً کپڑے خراب ہونے کے ڈر سے) اس غدے پر دباؤ بڑھا کر اسے سوجن اور عظم (سائز بڑھنے) میں مبتلا کر دیتا ہے۔
🚨 ابتدائی و خطرناک علامات:
> 1. پیشاب کی دھار کا پتلا ہو جانا اور کھل کر نہ آنا۔
2. پیشاب کرتے وقت شدید جلن، درد اور تھوڑا تھوڑا کر کے بار بار آنا۔
3. آخری اسٹیج پر سوجن کی وجہ سے مجاری (راستے) بند ہو جاتے ہیں، پیشاب رک جاتا ہے اور رطوبات اندر رک کر تعفن (Infection) پیدا کرتی ہیں۔
📋 فخری دواخانہ کا روایتی طریقۂ علاج و اصولِ غذا
💊 اصولِ علاج:
جسم سے عضلاتی تحریک (خشکی) کا خاتمہ کر کے غدی تحریک (گرمی و رطوبت) کو بیدار کیا جائے تاکہ سوجن تحلیل ہو۔
🥦 غذائی چارٹ (نہایت اہم):
مریض کی تمام ٹھوس اور خشک غذائیں فوراً بند کر دیں۔
غذا میں صرف نرم سالن اور ہری سبزیاں (جیسے کدو، توری، ٹینڈے، شلجم) کھلائیں۔ اس سے غدد کی سوجن بہت جلد ختم ہوتی ہے۔
☕ مصلح قہوہ:
اجزاء: زیرہ سفید اور سونف ہم وزن۔
ترکیب: دونوں کا قہوہ بنا کر بالکل ٹھنڈا کر کے مریض کو دن میں دو سے تین بار پلائیں۔ یہ پیشاب کی جلن اور بندش کو دور کرنے کا بہترین مصلح ہے۔
⚠️ ضروری طبی ہدایت:
> پراسٹیٹ کے تمام مریض علامات ظاہر ہونے پر اپنے مستند معالج سے رجوع کریں اور الٹراساؤنڈ و PSA ٹیسٹ کے ذریعے مرض کی درست نوعیت کی تصدیق لازمی کروائیں۔
فخری دواخانہ
خواجہ محمد ارشاد حسین علی فخری
📞 0321-9293943
(نوٹ: فخری دواخانہ کا نام اور فون نمبر تحریر (Text) کی صورت میں پوسٹ کے آخر میں موجود ہے، جسے آپ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت کاپی کر سکتے ہیں یا اپنے ڈیزائنر سے گرافک پوسٹر پر سیٹ کروا سکتے ہیں)