Zakir Hussain

Zakir Hussain Welcome to []My page 🎉 Dive into a world of trending topics, viral sensations, political updates, and the latest music.

Whether you’re here for the buzz, to stay informed, or just to enjoy some good tunes, we've got something for everyone.

20/03/2026

Chuti ho g*i chuti Deep Memory

مہیرا خان اور یمنہ زیدی نے کراچی میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے فانڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کی، جہاں ایک دن میں 56.5 کروڑ روپ...
15/03/2026

مہیرا خان اور یمنہ زیدی نے کراچی میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے فانڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کی، جہاں ایک دن میں 56.5 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔ عمران خان کی غیر موجودگی کے باوجود عوام کی مضبوط حمایت نے ہسپتال کے مشن کے لیے مسلسل حمایت کو ظاہر کیا ہے ¹۔

یہ ایونٹ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا، جو لاہور اور پشاور میں اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ہسپتال کا مقصد مریضوں کو ان کی مالی حالت سے قطع نظر کینسر کے علاج فراہم کرنا ہے ²۔

RANJIT SINGH'S CONQUEST OF PESHAWAR 🤴 THAT LED TO THE DECLINE OF AFGHAN DURRANI RULE AND THE END OF INVASIONS OF HINDUST...
15/03/2026

RANJIT SINGH'S CONQUEST OF PESHAWAR 🤴 THAT LED TO THE DECLINE OF AFGHAN DURRANI RULE AND THE END OF INVASIONS OF HINDUSTAN 🏯

رنجیت سنگھ کی پشاور فتح جس سے افغان درانی حکمرانی کا زوال ہوا اور ہندوستان پر حملے تھمے
سنہ 1823 کے مارچ کے مہینے میں موسم بہار کی بارشیں دیر سے ہو رہی تھیں اور دریائے سندھ میں پانی کم تھا۔ چنانچہ مہاراجا رنجیت سنگھ نے دریا کو گاؤں ہُند کے قریب اسی تاریخی گھاٹ سے عبور کرنے کا ارادہ کیا، جہاں سے ان سے پہلے بھی کئی فاتحین گزر چکے تھے۔

اولف کیرو اپنی کتاب ’دی پٹھانز‘ میں بتاتے ہیں کہ سنہ 1818 میں ملتان اور اس سے اگلے سال کشمیر کھو کر، اٹھارویں صدی کے نصف سے حکمران درّانی افغان دریائے سندھ کے مشرق میں اپنی تمام عمل داریوں سے محروم ہو چکے تھے اورلاہور سے حکومت کرتے سکھ حکمران رنجیت سنگھ نے دریا کے افغان کنارے پر ایک مضبوط پڑاؤ قائم کر لیا تھا۔

’اگلے دو برسوں میں رنجیت سنگھ نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی۔ اپنے زیرِ اقتدار علاقوں میں ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی شامل کر لیا اور حسن ابدال کے شمال میں آباد ہزارہ کے قبائل کو بھی زیرِ نگیں کر لیا، جو کشمیر جانے والے راستوں میں سے ایک پر قابض تھے۔‘

درّانی اقتدار کو درپیش اس چیلنج کا جواب دینا ضروری تھا۔

کیرو کے مطابق سنہ 1822میں افغان گورنر عظیم خان بارکزئی مفرور سکھ سردار جے سنگھ اٹاری والا کے ساتھ پشاور آئے تاکہ خیرآباد پر حملہ کر کے رنجیت سنگھ کو دریائے سندھ کے پار دھکیل دیں، مگر اندرونی مشکلات کے باعث کارروائی سے پہلے ہی واپس ہونا پڑا۔ اس پر رنجیت سنگھ نے ان کے بھائی یار محمد خان سے خراج طلب کیا۔

’یار محمد نے مہاراجا کو قیمتی گھوڑوں کا تحفہ دے کر وقتی طور پر ٹال دیا۔ بعد میں رنجیت سنگھ کو خبر ملی کہ عظیم خان اس تحفے پر ناخوش ہو کر پشاور لوٹ رہے ہیں، جبکہ یار محمد ان کے غضب سے بچنے کے لیے سوات میں یوسف زئیوں کے پاس پناہ لے چکے تھے۔‘

اس پر رنجیت سنگھ سنہ 1823 کے مارچ میں پھر سے عظیم خان کے مقابل فوج کش ہوئے۔

کیرو لکھتے ہیں کہ قبائلی جتھے دریائے سندھ کے یوسف زئی کنارے پر جمع ہو کر نعرے لگا کر سکھ گھڑ سواروں کو للکار رہے تھے۔ جواب میں سکھ سپاہی غصے سے بھر گئے اور اپنے گھوڑوں کو دریا میں ڈال دیا۔ وہ آدھا تیرتے اور آدھا پانی میں چلتے ہوئے پار نکل گئے، اگرچہ کئی آدمی اور جانور تیز دھار میں بہہ بھی گئے۔

#رمضان

پاکستان کے مختلف شہروں میں سونے کی شرحیں یہ ہیں:- *کراچی*: 24K - 518,000 PKR, 22K - 474,833 PKR- *ہیدرآباد*: 24K - 518,2...
15/03/2026

پاکستان کے مختلف شہروں میں سونے کی شرحیں یہ ہیں:

- *کراچی*: 24K - 518,000 PKR, 22K - 474,833 PKR
- *ہیدرآباد*: 24K - 518,200 PKR, 22K - 475,033 PKR
- *لاہور*: 24K - 518,150 PKR, 22K - 474,983 PKR
- *ملتان*: 24K - 518,070 PKR, 22K - 474,903 PKR
- *اسلام آباد*: 24K - 518,100 PKR, 22K - 474,933 PKR
- *فیصل آباد*: 24K - 518,170 PKR, 22K - 475,003 PKR
- *راوپنڈی*: 24K - 518,350 PKR, 22K - 475,183 PKR
- *کوٹہ*: 24K - 518,070 PKR, 22K - 474,903 PKR

15/03/2026

- - #رمضان #میزائل #ایران #جنگ ゚viralシ

22/12/2025

Copied from Pakistan experience
Aek bar zaroor دیکھیں
@

1. جائزہ:سکویڈ گیم ایک جنوبی کوریائی بقا کی ڈراما سیریز ہے جسے ہوانگ ڈونگ ہیوک نے تخلیق کیا۔ اس سیریز کا پریمیئر 17 ستمب...
15/01/2025

1. جائزہ:
سکویڈ گیم ایک جنوبی کوریائی بقا کی ڈراما سیریز ہے جسے ہوانگ ڈونگ ہیوک نے تخلیق کیا۔ اس سیریز کا پریمیئر 17 ستمبر 2021 کو نیٹ فلیکس پر ہوا اور یہ دنیا بھر میں فوراً مقبول ہو گئی۔ یہ سیریز 456 شرکاء کے گرد گھومتی ہے، جو شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں ایک پراسرار ایونٹ میں مدعو کیا جاتا ہے، جہاں وہ بچوں کے روایتی کھیل کھیلتے ہیں، لیکن ان کھیلوں کے نتائج جان لیوا ہوتے ہیں۔ اس گیم کا انعام ایک بھاری رقم ہے، لیکن اس کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔

2. موضوعات:

طبقات کی جدوجہد: سیریز میں شرکاء کی مالی مشکلات اور معاشی ناہمواری کو اجاگر کیا گیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کی مشکلات جو سماج کے نچلے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

انسانی فطرت: یہ شو انسان کی نفسیات کو سامنے لاتا ہے، کہ کس طرح مایوسی اور لالچ انسانوں کو غیر اخلاقی اقدامات کرنے پر مجبور کرتی ہے، جس سے دھوکہ دہی اور تشدد بڑھتا ہے۔

بقا: بقا کا مرکزی موضوع ہر کھیل میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔ شرکاء کو زندہ رہنے کے لیے ایک دوسرے کو چالاکی سے مات دینا پڑتی ہے، جس سے تناؤ اور سنسنی پیدا ہوتی ہے۔

3. پلاٹ:
سیریز کی کہانی مرکزی کردار، سونگ گی ہن سے شروع ہوتی ہے، جو ایک مالی بحران کا شکار شخص ہے اور اسے ایک پراسرار دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ بچوں کے کھیلوں میں حصہ لے کر بڑی رقم جیت سکے۔ جیسے ہی شرکاء کو گیم کی جان لیوا نوعیت کا پتہ چلتا ہے، انہیں زندگی اور موت کے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس دوران، دوستی آزمایا جاتی ہے، اتحاد بنتے ہیں اور شرکاء کا اصل کردار ظاہر ہوتا ہے۔

4. کردار:

سونگ گی ہن (کھلاڑی 456): ایک غمگین حال آدمی جو جوئے کی لت کا شکار ہے اور قرض سے نجات حاصل کرنے کے لیے گیم میں شامل ہوتا ہے۔

چو سنگ وو (کھلاڑی 218): گی ہن کا بچپن کا دوست، جو ایک کامیاب کاروباری شخص ہے لیکن اس نے پیسہ چرانا شروع کیا۔

کانگ سیے بیوک (کھلاڑی 067): شمالی کوریا کی پناہ گزین جو اپنے خاندان کو دوبارہ ملانے کے لیے گیم جیتنا چاہتی ہے۔

ہوانگ جون ہو: ایک پولیس افسر جو اپنے گمشدہ بھائی کو ڈھونڈنے کے لیے گیم میں گھس جاتا ہے۔

فرنٹ مین: گیم کا پراسرار رہنما جو ایونٹ کے پیچھے کے تمام معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔

5. پذیرائی:
سکویڈ گیم کو اس کی منفرد کہانی، سنسنی خیز موڑ، اور سماجی تبصرے کے لیے سراہا گیا۔ یہ نیٹ فلیکس کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیریز بن گئی اور اس نے دنیا بھر میں مالی ناہمواری، لالچ اور انسانوں کی بقا کے موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔

6. ثقافتی اثرات:
سیریز نے پاپ کلچر پر گہرا اثر ڈالا، جس نے میمز، ہالووین کے ملبوسات، اور عالمی سطح پر طبقاتی فرق کے بارے میں بات چیت کو فروغ دیا۔ گارڈز کے سرخ لباس اور کھلاڑیوں کے سبز ٹریک سوٹس ایک علامتی شکل بن گئے۔

7. تنقید:
اگرچہ سکویڈ گیم کو اس کی کہانی کے لیے سراہا گیا، کچھ ناقدین نے اس کی زیادتی کے ساتھ تشویش کا اظہار کیا اور اسے انتہائی تشدد پسند اور استحصال کرنے والا قرار دیا۔ ان تنقیدوں کے باوجود، سیریز کا عالمی تفریحی صنعت پر اثر واضح ہے۔

8. نتیجہ:
سکویڈ گیم ایک فکری طور پر چیلنج کرنے والی سنسنی خیز سیریز ہے جو انسان کی فطرت، بقا، اور معاشرتی تاریکی کو کھولتی ہے۔ اپنی دلچسپ کہانی اور یادگار کرداروں کے ساتھ، یہ آج بھی ایک اہم ثقافتی مظہر بنی ہوئی ہے۔

---
سکویڈ گیم کی کامیابی اور مالی تفصیلات کے بارے میں یہاں اہم نکات ہیں:

کامیابی:

1. مقبولیت:
سکویڈ گیم نیٹ فلیکس پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیریز بن گئی تھی۔ نیٹ فلیکس نے اعلان کیا کہ یہ سیریز 2021 میں دنیا بھر میں 111 ملین سے زیادہ اکاؤنٹس کے ذریعے دیکھی گئی، جو کہ اس کی مقبولیت کا ایک بڑا اشارہ ہے۔

2. کامیابی کے انعامات:
سیریز نے بہت سے ایوارڈز جیتے، جن میں 2022 کے گولڈن گلوب ایوارڈ میں بہترین ٹی وی سیریز کا ایوارڈ اور ایمی ایوارڈز میں بھی متعدد نامزدگیاں شامل تھیں۔

3. ثقافتی اثرات:
سکویڈ گیم کی مقبولیت نے عالمی سطح پر نئے رجحانات کو جنم دیا۔ جیسے کہ گارڈز کے سرخ لباس اور کھلاڑیوں کے سبز ٹریک سوٹس کے لباس کو ہالووین میں مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کے مختلف میمز اور انٹرنیٹ پر چیلنجز بھی بنے۔

لاگت:

سکویڈ گیم کی تیاری کا خرچ تقریباً 21.4 ملین ڈالر (تقریباً 3.6 ارب پاکستانی روپے) تھا۔ اس رقم میں سیریز کی پروڈکشن، کاسٹ، لوکیشن، اور اسپیشل ایفیکٹس کی لاگت شامل ہے۔

آمدنی اور منافع:

سکویڈ گیم نے نیٹ فلیکس کو زبردست مالی فائدہ پہنچایا۔ اندازے کے مطابق، اس سیریز نے نیٹ فلیکس کے لیے تقریباً 900 ملین ڈالر (تقریباً 153 ارب پاکستانی روپے) کی آمدنی پیدا کی۔ یہ رقم صرف اس کی مقبولیت اور سبسکرپشنز میں اضافے کی وجہ سے تھی۔

مجموعی اثرات:

سیریز نے نہ صرف نیٹ فلیکس کے سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ کیا بلکہ یہ ایک عالمی ثقافتی مظہر بن گئی۔ اس کی دنیا بھر میں کامیابی نے عالمی سطح پر جنوبی کوریائی تفریحی صنعت کی اہمیت کو مزید بڑھایا۔

نتیجہ:

سکویڈ گیم نے اپنے بجٹ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ منافع کمایا اور ایک بڑی ثقافتی اور مالی کامیابی حاصل کی۔ اس نے نہ صرف اپنے تخلیق کار کو شہرت دلائی بلکہ نیٹ فلیکس کے لیے بھی ایک گیم چینجر ثابت ہوئی۔

---

15/01/2025

لاس اینجلس میں حالیہ جنگلاتی آگ نے شہر میں تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں ہزاروں گھر جل کر خاکستر ہو گئے۔ اس سنگین صورتحال میں، ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی نے متاثرین کی مدد کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ان کا گھر آگ سے محفوظ رہا، اور انہوں نے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے پناہ گاہ فراہم کی۔

اس کے علاوہ، دیگر مشہور شخصیات بھی متاثرین کی مدد کے لیے سامنے آئی ہیں۔ میگھن مارکل اور پرنس ہیری نے بھی اپنے گھر کے دروازے کھولے ہیں تاکہ آگ سے بے گھر ہونے والوں کو پناہ دی جا سکے۔

لاس اینجلس کی یہ جنگلاتی آگ شہر کی تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن آگوں میں سے ایک ہے، جس سے اب تک دس ہزار سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

Today's   breaking news لبنان اور بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں میں اہم واقعات پیش آئے ہیں۔لبنان میں اسرائیلی حملے اور بین ال...
15/01/2025

Today's breaking news
لبنان اور بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں میں اہم واقعات پیش آئے ہیں۔

لبنان میں اسرائیلی حملے اور بین الاقوامی ردعمل

لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک بنگلہ دیشی شہری سمیت 32 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خیام میں دو حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کو ہلاک کیا گیا۔ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 23 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 6 غزہ سٹی اور جبالیہ میں، اور رفح میں ایک فلسطینی ماں اور اس کے دو بچے شامل ہیں۔ شمالی غزہ میں گرنیڈ حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا۔ یونیسیف نے شمالی غزہ میں جبالیہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ میں پولیو مرکز پر سٹن گرینیڈ سے حملہ کیا، جس میں 4 بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں 43,314 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,02,019 ہے۔

بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کا قیام

بنگلہ دیش میں کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں اور سول نافرمانی کی تحریک کے بعد، 5 اگست کو وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ جنرل وقار الزمان نے عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں۔ محمد یونس نے شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ملک کی دوسری فتح قرار دیا۔ انہوں نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی سے گریز کرنے کی درخواست کی۔

یہ واقعات خطے کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔


10/01/2025

Agha waqar ki invention ke barye main hasil ki hai Kuch ahm maloomat
آغا وقار احمد کا نام پاکستان میں 2012 کے آس پاس مشہور ہوا، جب انہوں نے پانی سے گاڑی چلانے والی "واٹر کِٹ" کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ایجاد ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو گاڑی کے انجن کو چلانے کے لیے پانی کا استعمال کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں توڑ کر ہائیڈروجن کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

آغا وقار کی واٹر کِٹ کے اہم نکات:

1. ہائیڈروجن گیس کا استعمال:
آغا وقار نے ایک الیکٹرولائسز عمل کا ذکر کیا، جس میں پانی کو توڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن الگ کی جاتی ہے۔ ہائیڈروجن کو انجن چلانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

2. کم قیمت حل:
ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی ڈیزل اور پٹرول کا سستا متبادل ہو سکتی ہے اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے بہت فائدہ مند ہے، جہاں ایندھن کی قیمتیں زیادہ ہیں۔

3. عوامی مظاہرے:
انہوں نے ٹیلی ویژن اور میڈیا کے سامنے اپنی ایجاد کا مظاہرہ بھی کیا، جس میں گاڑی صرف پانی کے ذریعے چلتی ہوئی دکھائی گئی۔

تنقید اور مسائل:

1. سائنسی تنقید:
سائنس اور انجینئرنگ کے ماہرین نے آغا وقار کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرولائسز کے لیے جتنی توانائی درکار ہوتی ہے، وہ مؤثر اور عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔

2. ترمودائنامکس کے اصول:
ماہرین نے کہا کہ آغا وقار کا دعویٰ ترمودائنامکس کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، جن میں توانائی کے تحفظ اور نقصانات کی بات کی جاتی ہے۔

3. ٹیکنالوجی کا مستقبل:
آغا وقار کی ایجاد کو نہ تو حکومت نے سپورٹ کیا اور نہ ہی کسی سائنسی پلیٹ فارم پر اسے آگے بڑھایا گیا۔

آج بھی اس ایجاد کو ایک متنازع اور نامکمل آئیڈیا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس نے پاکستان میں اختراعات اور متبادل توانائی کے ذرائع کے حوالے سے ایک بحث ضرور شروع کی۔

آغا وقار احمد کی واٹر کِٹ کے حوالے سے اندرونی معلومات اور بعض افراد کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ان کی ایجاد کو جان بوجھ کر جھوٹا اور ناکارہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ایجاد کامیاب ہو جاتی تو اس سے پاکستان میں تیل کی کھپت میں زبردست کمی آ سکتی تھی، جو کہ مقامی اور بین الاقوامی آئل مافیا کے مفادات کے خلاف تھی۔

ان دعوؤں کے اہم نکات:

1. آئل مافیا کا دباؤ:
کہا جاتا ہے کہ آغا وقار کی ایجاد آئل مافیا کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ثابت ہو سکتی تھی، کیونکہ اگر گاڑیاں پانی سے چلنا شروع کر دیتیں تو تیل کی طلب میں نمایاں کمی آتی۔ اس لیے آئل مافیا نے مبینہ طور پر حکومت پر دباؤ ڈالا کہ اس ایجاد کو جھوٹا ثابت کیا جائے۔

2. دھمکیاں:
آغا وقار نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، تاکہ وہ اپنی ایجاد کو عوام کے سامنے مزید نہ لائیں اور اس پر بات کرنا چھوڑ دیں۔

3. حکومتی رویہ:
ناقدین کا کہنا ہے کہ بجائے اس کے کہ حکومت اس ایجاد کو سائنسی طور پر پرکھتی یا تحقیق کے لیے وسائل فراہم کرتی، انہوں نے جلدی سے اسے رد کر دیا، جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

4. میڈیا پر پروپیگنڈہ:
آغا وقار کے حامیوں کا کہنا ہے کہ میڈیا پر ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ چلایا گیا، تاکہ عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ ان کی ایجاد محض ایک دھوکہ ہے۔

Please ap sab apni Raye ka izhar karain ap kia soch rakhty hain

Address

Karachi
74800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zakir Hussain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share