08/03/2026
🌍 تیل کی قیمتیں اور پاکستان — ایک سوالیہ کہانی
چین اپنی تقریباً 40٪ تیل کی سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کرتا ہے۔
بھارت تقریباً 80٪ اور جاپان 90٪ تیل اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں۔
جنگی صورتحال میں جب آبنائے ہرمز بند ہونے کی خبریں آئیں تو عالمی مارکیٹ میں یقیناً تیل کی قیمتوں پر اثر پڑا۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان بڑے ممالک نے ابھی تک عوام پر تیل کی قیمتوں میں ایک پیسہ بھی اضافہ نہیں کیا۔
ادھر پاکستان کی صورتحال دیکھیں۔
کہا گیا کہ پاکستان کے پاس تقریباً 28 دن کا تیل کا ذخیرہ موجود ہے جو پہلے والی قیمتوں پر خریدا گیا تھا۔
اس کی مقدار تقریباً 1 کروڑ 14 لاکھ ٹن بتائی جاتی ہے۔
اگر اسی ذخیرے پر فی لیٹر 55 روپے اضافہ کر دیا جائے تو حساب بنتا ہے تقریباً
💰 846 ارب روپے
یعنی تقریباً 3 ارب ڈالر۔
سوال یہ ہے کہ 28 دن میں 3 ارب ڈالر کا بوجھ آخر کیوں عوام پر ڈالا گیا؟
حکومت کی طرف سے صرف اتنا کہا گیا کہ
"وزیراعظم تیل کی بڑھتی قیمتوں پر بہت پریشان ہیں۔"
لیکن عوام پوچھتی ہے:
اگر اسٹاک پرانی قیمتوں پر تھا تو اتنا بڑا اضافہ کیوں؟
کبھی کبھی لگتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی
حساب کتاب کا سارا بوجھ صرف عوام پر ہی ڈال دیا جاتا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
👇 اپنی رائے ضرور لکھیں۔