Fun and News

Fun and News For Entertainment and News

مجید چاچا بڑے خوش تھے کہ آخر کار 30 سال پردیس کاٹ کر اب وہ ہمیشہ کیلیئے پاکستان واپس جا رہے تھے، ہر کسی سے گلے مل رہے تھ...
26/01/2026

مجید چاچا بڑے خوش تھے کہ آخر کار 30 سال پردیس کاٹ کر اب وہ ہمیشہ کیلیئے پاکستان واپس جا رہے تھے، ہر کسی سے گلے مل رہے تھے ان کے چہرے پر خوشی نمایاں تھی، میں بھی پردیسی ہوں مجھے 15 سال ہوئے ان کو دیکھ کر مجھے بھی خیال آیا کہ ایک دن میں بھی ہمیشہ کیلیئے پردیس چھوڑ دونگا
مگر فی الحال مجید چاچا کی خوشیوں میں سے ہی خوشیاں بانٹ رہا تھا

ساری رات مجید چاچا نے خوشی سے جاگ کر گزاری اگلی صبح انہیں ائیرپورٹ چھوڑا اور واپس آ گیا، میں اپنے کام کاج میں لگ گیا اور مجید چاچا پاکستان پہنچ گئے، خیریت دریافت کرنے کیلیئے فون کیا انہیں خوش پایا دل کو اور بھی تسلی ہو گئی

ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ میں آفس سے گھر آیا دیکھتا ہوں مجید چاچا بیٹھے ہوئے ہیں، چہرہ مرجھایا ہوا کندھے جھکے ہوئے، میں نے حیران ہو کر پوچھا چاچا آپ یہاں واپس کیسے؟

مجید چاچا نے آٹھ کر مجھے گلے لگایا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، میں اتنا گھبرا گیا تھا کہ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے، میں نے چاچا کو زور سے گلے لگایا اور انہیں چپ کرانے کی کوشش کرنے لگا

چاچا کے آنسو شاید پاکستان میں ہی خشک ہو چکے تھے، میں نے کھانا بنایا مجید چاچا نماز پڑھنے لگ گئے، کھانے سے فارغ ہو کر میں نے دریافت کیا چاچا بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے

چاچا نے بتایا کہ ان کے 3 بیٹے 2 بیٹیاں ہیں، دونوں بیٹیوں کی شادی یہاں رہ کر ہی کر دی تھی بیٹے تینوں ابھی کنوارے ہیں اور نوکری وغیرہ کرتے ہیں

چاچا نے کہا جس دن وہ گھر پہنچے سب ٹھیک تھا، انہیں مہمان کی طرح عزت دی گئی، دو دن بعد ہی ایک بیٹے کو رات دیر سے گھر آنے کی وجہ سے ذرا سا ڈانٹ دیا تو جواب میں بیٹے نے کہا آپ آئے ہیں تو عزت سے رہیں زیادہ تحقیقات نہ کیا کریں کہ میں کہاں جا رہا ہوں کہاں سے آ رہا ہوں

چاچا خاموش ہو گئے، اگلے روز چچا نے خود ہی اس بیٹے کو پاس بٹھا کر اس سے معذرت کی اور اس کا موڈ ٹھیک کیا
مزید دو دن گزرے تو دروازے پر دستک ہوئی، باہر کوئی لڑکا ان کے بڑے بیٹے کو بلانے آیا تھا، اسی بیٹے نے دروازہ کھولا، ڈرائنگ روم میں بیٹھے چاچا مجید اپنے بیٹے کی اسکے دوست سے گفتگو سن رہے تھے

دوست کہہ رہا تھا 4 دن ہو گئے ہیں تُو رات کو باہر نہیں آتا ہم تیرا انتظار کرتے رہتے ہیں، بیٹے کا جواب تھا، یار ابا آیا ہوا ہے، یہ چلا جائے تو آزادی ملے گی، جب سے آیا ہے ناک میں دم کر رکھا ہے...

اسکے الفاظ چچا مجید کے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو رہے تھے، شاید چاچا کے کانوں نے ہی مزید سننے کی طاقت گنوا دی

چاچا بیہوش ہو گئے، وہ کئی گھنٹے اسی کمرے کے فرش پر گرے پڑے رہے جب ہوش آیا تب بھی خود کو اکیلے ہی پایا، چچا کی بیوی اپنی محلے کی چند خواتین کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی ہوئی تھی اور بیٹے گھر سے باہر تھے

چچا اپنے خالی مکان کی دیواروں سے عجیب باتیں کرنے لگے، کبھی کہتے میں کہاں غلط ہوں؟ کیا میں اتنا غلط ہوں؟ میں نے کیا نہیں کیا؟ کیا میں اتنا غیر اہم ہوں؟

اسی رات چچا نے کھانے کی ٹیبل پر صرف اپنے لئے کھانا دیکھا، باقی سب باہر سے کھا کر آئے تھے، چچا نے گلہ کرنا چاہا کہ انکے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ ہی جاتے، مگر مزید تکلیف دہ جواب نہ سننے کا حوصلہ تھا نہ ہی سوال کیا، کھانا کھایا اور لیٹ گئے

اگلی صبح چچا نماز کیلیئے اٹھے وضو کر رہے تھے کہ بیٹے کی زوردار گرجتی آواز آئی، کون شور کر رہا ہے اس وقت؟

چچا معصوم سے بچے کی طرح ڈر سے گئے اور وضو ادھورا چھوڑ کر مسجد چلے گئے وہیں وضو کیا اور نماز پڑھی، نماز کے بعد دعا مانگتے ہوئے چچا رونے لگ گئے تبھی امام مسجد نے چچا کو پوچھا کیا ہوا بڑے میا روتے کیوں ہو؟

چچا نے سارا ماجرا بیان کیا، اور امام صاحب سے پوچھا کہ آپ ہی بتائیں مجھے اب کیا کرنا چاہیئے

امام صاحب جو بہت بزرگ تھے فرمانے لگے، اب تُو کچھ نہیں کر سکتا سوائے برداشت کے یا ان کیلیئے ہدایت کی دعا کرنے کے، جو وقت تیرے بچوں کی تربیت کا تھا وہ تُو نے پردیس میں گزار دیا، اب وہ بچے نہیں رہے، انہیں جس طرح کی پرورش ملی وہ ویسے بن چکےاب یا برداشت کر یا ان سے الگ ہو کر کہیں اور رہ لے

چچا واپس گھر گئے، بیوی سے تمام حال بیان کیا، بیوی نے بھی کہہ دیا میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ واپس آ کر کیا کرو گے، وہاں تو پھر بھی نوکری تھی پیسہ تھا یہاں فارغ رہ کر بچوں سے طعنے ہی سننے ہیں

چچا کو اپنے کانوں پر تیسری بار یقین نہ آیا کہ یہ ان کا وہم ہے کوئی ڈراونا خواب ہے یا کڑوی حقیقت

غرض چچا نے بینک میں رکھی ہوئی رقم سے واپسی کا ٹکٹ خریدا اور بنا کسی کو بتائے وہ اپنے گھر کے دروازے کو چوم کر یہ کہتے ہوئے نکلے کہ اے میرے وہم کے تو میرا گھر ہے، میں تجھ میں تو رہنا چاہتا ہوں پر وہم میں نہیں...

چاچا کی باتیں سن کر میری آنکھوں سے نکلتے آنسو میرے سینے تک کو تر کر گئے تھے، سناٹے کو توڑتے ہوئے مجید چاچا کی ہلکی سی آواز نکلی، جہانزیب، میں اب پاکستان کبھی نہیں جاؤں گا، جب میں نہ رہا تو مجھے یہیں پردیس میں ہی دفن کردینا

میں چچا کے ساتھ لپٹ کر زور زور سے رونے لگا، کیونکہ میرا دل بھی ڈرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہیں پاکستان میں بنایا گیا میرا گھر بھی وہم تو نہیں؟

مجیدمیمن copied from

Majeed memon

07/01/2026

پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
یہ معصوم بچہ اپنے والدیں کو مل سکے
۔یہ چھوٹا بچہ میرپور چوک سانگھڑ وین اڈے سے ملا ہے جو اپنا نام پتہ نہیں بتا سکتا ہے جس کا ہو وہ سانگھڑ تھانے پر رابطہ کرے

Copy from Imran Lander.

( نوجوان نے کمال لکھا )‏اگر اس لڑکے کا مضمون ڈیلیٹ نہ کرواتے تو محض چند لوگ پڑھتے۔ ڈیلیٹ کروانے سے یہ کروڑوں پاکستانیوں ...
05/01/2026

( نوجوان نے کمال لکھا )
‏اگر اس لڑکے کا مضمون ڈیلیٹ نہ کرواتے تو محض چند لوگ پڑھتے۔ ڈیلیٹ کروانے سے یہ کروڑوں پاکستانیوں تک پہنچ چکا ہے ترجمے اور ویلاگرز کے ذریعے۔شکریہ deleters

‏یہ آرٹیکل آج ایکسپریس ٹریبیون سے ڈیلیٹ کروا دیا گیا آرٹیکل کا اردو ترجمہ!

طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل کو آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور سیمینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔
نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے۔
لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔
آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟
تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔
جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔
بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے یہ پرانا ہو چکا ہے۔

02/01/2026

ایسے لوگوں پر ہم افسوس ہی کرسکتے ہیں

ٹراما سینٹر کراچی میں ملازمتیںمیڈیکل اسٹاف, ایڈمنسٹریشن اسٹاف, آئی ٹی اسٹاف...آن لائن اپلائی کریں, آخری تاریخ یکم جنوری ...
01/01/2026

ٹراما سینٹر کراچی میں ملازمتیں
میڈیکل اسٹاف, ایڈمنسٹریشن اسٹاف, آئی ٹی اسٹاف...
آن لائن اپلائی کریں, آخری تاریخ یکم جنوری 2026

ملازمت کے مواقع...
صْروری ہدایات:
ملازمت دینے سے پہلے اگر کوئی ٹریننگ یا رجسٹریشن کی مد میں پیسوں کا تقاصْہ کرے تو ایسے عناصر سے کنارہ کشی اختیار کریں...
کسی بھی جگہ پر ملازمت ملنے سے پہلے ایسا فارم پر نہ کریں جس میں تمام فیملی ممبرز کے نام یا دیگر معلومات پُر کرنے کا لکھا گیا ہو, ایسے تمام خانے خالی چھوڑ دیں...
اپنے اوریجنل دستاویزات کسی کے پاس بھی جمع نہ کروائیں...
کوشش کریں انٹرویو پر جانے سے پہلے موٹی موٹی باتیں فون پر پوچھ لیں کہیں ایسا نہ ہو آپ کا پورا دن ایک فصْول سی مختصر ملاقات کی نظر ہوجائے...
مہنگائی کے اس دور میں کوشش کریں کہ آپ کی جاب قریب کے علاقے میں ہو جہاں آپ کو وقت پر پہنچنے کے لیے کم سے کم خرچہ کرنا پڑے...
باریک اشتہار کو موبائل میں محفوظ کرکے پڑھیں...
یہ اشہارات اخبارات سے لے کر نیک نیتی کی بنیاد پر پیج پر پوسٹ کیے جاتے ہیں ان کے غیر حقیقی ہونے کا یا اس کے سبب کسی بھی لین دین کا اس پیج سے کوئی تعلق نہیں...

نوڪري جا موقعا...
اهم هدايتون:
جيڪڏهن ڪو نوڪري ڏيڻ کان اڳ تربيت يا رجسٽريشن جي صورت ۾ پئسا گهري ٿو، ته پوءِ اهڙن عنصرن کان پري رهو...
ڪنهن به جاءِ تي نوڪري حاصل ڪرڻ کان اڳ، اهڙو فارم نه ڀريو جنهن ۾ سڀني خاندان جي ميمبرن جا نالا يا ٻي معلومات ڀرڻ لاءِ لکيل هجي، اهڙن سڀني خانن کي خالي ڇڏي ڏيو...
پنهنجا اصل دستاويز ڪنهن کي به جمع نه ڪرايو...
انٽرويو تي وڃڻ کان اڳ فون تي اهم ڳالهيون پڇڻ جي ڪوشش ڪريو، نه ته توهان جو سڄو ڏينهن هڪ مختصر ملاقات جي طور تي ڏٺو وڃي...
مهانگائي جي هن دور ۾، ڪوشش ڪريو ته توهان جي نوڪري ڪنهن ويجهي علائقي ۾ هجي جتي توهان کي وقت تي پهچڻ لاءِ گهٽ ۾ گهٽ پئسا خرچ ڪرڻا پون...
تفصيلي اشتهار پنهنجي موبائل ۾ محفوظ ڪريو ۽ ان کي پڙهو...
اهي اشتهار اخبارن مان صفحي تي نيڪ نيتي جي بنياد تي پوسٽ ڪيا ويندا آهن، انهن جو غير حقيقي هجڻ يا ان جي ڪري ڪنهن به ٽرانزيڪشن جو هن صفحي سان ڪو به تعلق ناهي...

01/01/2026

یہ تھے ابُو عُـبَـیـدَہ…وہ جبالیا کے مہاجر کیمپ کا بیٹا تھا، خیموں کی بستی کا فرزندجسے دنیا چھو کر بھی نہیں گزری تھی، اس...
01/01/2026

یہ تھے ابُو عُـبَـیـدَہ…
وہ جبالیا کے مہاجر کیمپ کا بیٹا تھا، خیموں کی بستی کا فرزند
جسے دنیا چھو کر بھی نہیں گزری تھی، اسے جہان فانی سے اتنا ہی واسطہ تھا جتنا اس کی کمر سیدھی رکھنے کے لیے کافی ہو
اور زادِ راہ میں اتنا ہی اٹھائے پھرتا تھا جو اسے اللہ تک پہنچا دے
جبالیا کے لوگ اسے اچھی طرح جانتے تھے، مگر آج عصر تک خاموش تھے، ابھی ساری زبانیں گواہی دے رہیں کہ ہمارا سپوت سراپا پاکیزگی تھا، ایسی پاکیزگی جس نے ظاہر سے پہلے باطن کو صاف کر لیا ہو
وہ زاہد تھا، یوں لگتا تھا جیسے دنیا اس کے قریب سے گزرتی ہے
مگر اس کے دل میں کہیں ٹھہرتی نہیں
وہ عابد تھا، وہ پرہیزگار تھا، لفظ بولنے سے پہلے اسے تولتا تھا،
قدم اٹھانے سے پہلے اس کا وزن جانچتا تھا
قرآن اس کے ہاتھ کا ساتھی تھا، ذکر اس کے سینے کا مونس،
اور پہلی صف اس کی دائمی قرار گاہ۔ نماز میں بھی جہاد میں بھی صف اول
گویا وہ جانتا تھا کہ جو اللہ کی طرف سبقت لے جائے اللہ اسے قبولیت میں سبقت عطا فرما دیتا ہے
اس نے کبھی پہچان بننے کی کوشش نہیں کی، کبھی نمایاں ہونے کی خواہش نہیں رکھی، لیکن جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے
تو اسے لوگوں کو وہاں دکھا دیتا ہے جہاں وہ خود دکھائی دینا نہیں چاہتا
اس کا ذکر وہاں بلند کر دیتا ہے جہاں وہ خود بلندی کا طالب نہیں ہوتا،
اور اس کے لیے دلوں میں ایسی محبت ڈال دیتا ہے جس کی کوئی ظاہری وجہ نہیں ہوتی
اور یہی وہ راز ہے، نہ آواز میں، نہ تصویر میں، نہ نام میں، بلکہ اس دل میں جو اللہ کے ساتھ زندہ رہا، تو اللہ نے اسے مخلوق کے دلوں میں زندہ کر دیا۔
دنیا بھر کی مائیں ایسے فرزند جنم دینے سے قاصر ہیں۔
رونے والوں کو ایسے ابطال پر رونا چاہیے۔

Fun and News

31/12/2025
پاکستان تین زائنسٹس کی زد پر!!گریٹر اسرائیل نیتھن یاہو اور بہت سے انتہا پسند یہودی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اسرائیل کا...
13/11/2025

پاکستان تین زائنسٹس کی زد پر!!

گریٹر اسرائیل

نیتھن یاہو اور بہت سے انتہا پسند یہودی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اسرائیل کا رقبہ اتنا بڑا نہیں کیا جاتا جتنا موسی علیہ السلام کے دور میں تھا تب تک انکا مسیحا نہیں آئیگا۔ اسرائیل کو مدینہ تک پھیلایا جائے تو مسیحا آئیگا جس کے بعد دنیا پر یہودیوں کا غلبہ ہوجائیگا۔ یہ عقیدہ رکھنے والے یہودی زائنسٹ کہلاتے ہیں۔ سعودی عرب کو ہڑپنے کے لیے پاکستان نامی خطرے کا خاتمہ ضروری ہے اور اب تو مزید ضروری ہوگیا ہے کیونکہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے خلاف دفاعی اتحاد بھی بنا چکا ہے۔ اسی لیے اسرائیل پاکستان کے خلاف ہمیشہ انڈیا کا ساتھ دیتا ہے۔

اکھنڈ بھارت

ہندو انتہاپسند وہ بھارت دوبارہ بنانا چاہتے ہیں جو ڈھائی ہزار سال قبل اشوکا کے دور میں تھا۔ ان کے پاسپورٹ پر تین شیروں کا نشان اور جھنڈے پر پہیے کا نشان اسی اکھنڈ بھارت کی علامات ہیں۔ اس کے لیے پاکستان کو دوبارہ انڈیا میں ضم کرنا ضروری ہے۔ انڈیا کے خیال میں پاکستان کا انضمام ہوجائے تو باقی چھوٹے ممالک کو ہڑپنا آسان ہوگا۔ اس لیے قیام پاکستان سے آج تک انڈیا پاکستان کے خلاف جنگیں بھی لڑ رہا ہے اور سازشیں بھی کر رہا ہے۔ یہ خواہش رکھنے والے ہندو زائنسٹ کہلاتے ہیں۔

لوئے افغانستان

افغانستان میں موجود پشتونوں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ہمیں دوبارہ وہ افغانستان بنانا چاہیے جو احمد شاہ ابدالی کے دور میں بنا تھا اور جس میں پاکستان کے کچھ علاقے بھی شامل تھے۔ اسکو وہ 'لوئے افغانستان' کہتے ہیں۔ یہ خواہش رکھنے والوں کو ہم افغان زائنسٹ کہیں گے۔ افغانستان کبھی اتنا طاقتور نہیں ہوا کہ زبردستی پاکستان سے یہ علاقے چھین سکے۔ لہذا اس نے سازش کا راستہ چنا اور پچھتر سال سے پاکستان مسلسل انکی سازشوں سے زخمی ہورہا ہے۔ اتنا نقصان پاکستان کو یہودی اور ہندو زائنسٹ نہیں پہنچا سکے ہیں جتنا افغان زائسنٹ نے پہنچایا ہے۔ وجہ سادہ سی ہے۔ افغان زائنسٹس کو کبھی ہم نے دشمن سمجھا ہی نہیں اور ہمیشہ زبردستی انکو سینے سے لگانے کی کوشش کی۔

آپ یہ بھی نوٹ کریں کہ معرکہ حق میں پاکستان کے یہ تینوں دشمن ملکر پاکستان کے خلاف لڑے تھے۔ اسکا اعتراف انڈیا بارہا کر چکا ہے کہ آپریشن سندور میں انکو صرف افغانستان اور اسرائیل نے سپورٹ کیا تھا۔

ایک اور مزے دار بات ۔۔۔

وہ جو آخری جنگوں کے بارے میں حدیثیں اور روایات ہیں وہ کہتی ہیں کہ اس خطے میں موجود مسلمان فوج کے ہاتھوں دریائے اٹک کا پانی تین بار سرخ ہوگا، ہندوستان فتح ہوگا اور پھر وہ شام کے پاس (موجودہ اسرائیل) جائنگے یہودیوں سے لڑنے۔
اس پوسٹ کو آگے لازمی شیئر کریں

Address

Hawksbay Road 500 Quarters House No. 443 Bkock-H
Karachi
75781

Telephone

+923003498749

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fun and News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Fun and News:

Share