Khofnak Kahaniyan

Khofnak Kahaniyan WELLCOM TO HORROR STORIES

insaf do
28/01/2026

insaf do

25/01/2026

شاپ نمبر 144 درد بھری داستان

منظر کیسا ہوگا؟

گل پلازہ کی شاپ نمبر 144 کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا۔ بجلی بند ہو جانے کے باعث اندر اندھیرا تھا، کچھ لوگوں نے موبائل فون کی ٹارچ جلائی ہوئی تھی۔ مگر روشنی بھی زندہ نہیں لگتی تھی۔ میزنائن فلور کی چھت کے نیچے جمع دھواں آہستہ آہستہ سانسوں کو نگل رہا تھا۔ کراکری کے شیلف اب بھی اپنی جگہ کھڑے تھے، جیسے کسی عجیب خاموشی میں منجمد ہوگئے ہوں۔ پلیٹوں، پیالیوں اور ڈنر سیٹس کے درمیان تقریبا دودرجن زندگیاں سمٹ کر کھڑی تھیں، ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کے سہارے پر۔

دکان کے مالک حاجی صاحب ، کانپتے ہاتھوں سے شٹر کو دوبارہ نیچے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
"۔۔۔بس بند رکھو۔۔۔باہر آگ ہے، یہاں بچ جائیں گے ہم"
ان کی آواز میں خود اعتمادی کم اور خود کو تسلی زیادہ تھی۔

نوجوان سیلز مین ، جو روزانہ اسی دکان میں گاہکوں کو مسکرا کر برتن دکھاتا تھا، اب موبائل ہاتھ میں لیے نیٹ ورک تلاش کر رہا تھا۔
حاجی صاحب۔۔۔میڈیا والے آگئے ہوں گے نیچے۔۔۔ جیسے ہی خبرچلے گی، فائر بریگیڈ آجائے گی۔۔۔" وہ آگ بجھا دیں گے"۔

ایک کونے میں تین خواتین بیٹھی تھیں۔ جن میں ایک پچاس سالہ عورت اپنی بیٹی اور بھانجی کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئے تھے ۔ ماں بار بار کہہ رہی تھی:
"ہم نے تو بس چائے کے کپ لینے تھے… اللہ ہمیں گھر واپس بھیج دے"
ان کی بیٹی خاموشی سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور بھانجی کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے، دعا میں، سسکی میں، شاید دونوں میں۔

قریب ہی باپ بیٹے کی جوڑی کھڑی تھی۔ باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
"ڈرنا نہیں، میں ہوں نا بیٹا"
بیٹا شاید دس یا گیارہ سال کا تھا، اس کی آنکھیں شاپ کے کونے پر جمی تھیں شاید اس کی آنکھیں محفوظ جگہ کی تلاش میں تھیں ۔
"بابا"۔۔۔آج نانو کے گھر جانا تھا ، وہ انتظار کر رہی ہوں گی… انھوں نے آج میری پسند کے مٹر چاول بھی بنائے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز ٹوٹ گئی، اور وہ دکان کے کونے میں جا کر سہم گیا، جیسے وہاں چھپ کر آگ کو دھوکا دے دے گا۔

ایک جوان بہن اپنے چھوٹے بھائی کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔
"امی نے کہا تھا زیادہ دیر نہ کرنا کیا پتہ ان کو ہماری خبر ہو یا نہ ہو"
بھائی نے سر اٹھا کر کہا،
"آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا آپا"
بہن مسکرانے کی کوشش میں رو پڑی۔

درمیان میں ایک پانچ افراد کی فیملی تھی۔ ماں، باپ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ فرش پر رکھے ڈنر سیٹس کے ڈبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ماں بولی:
"بس یہ آخری خریداری تھی۔۔۔عید کے بعد شادی ہے۔۔۔ میری بچی کا گھر بس جائے گا"
باپ نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے چھت کے پار کچھ نظر آ جائے۔
"اللہ کرے ہم سب سلامت باہر نکل جائیں"

قریبی دکان کا ایک سیلز مین بھاگتا ہوا اندر آیا تھا۔
"میری دکان پوری جل چکی ہے میں ادھر چھپ رہا ہوں۔۔۔ یہ دکان محفوظ ہے نا؟"
کسی کے پاس جواب نہیں تھا، مگر سب نے سر ہلا دیا، کیونکہ اس وقت جھوٹ بھی امید لگتا تھا۔

دروازے کے پاس ایک سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔ وردی پر کالک جم رہی تھی۔
"فورسز آتی ہی ہوں گی۔۔۔میں نے دیکھا ہے، وہ سیلاب، زلزلہ سب آفتوں میں پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ ہمیں بھی نکال لیں گی"
اس کے الفاظ مضبوط تھے، مگر آنکھیں خالی۔

وقت گزرتا گیا۔ دھواں گاڑھا ہوتا گیا۔ سانس لینا مشکل ہونے لگا۔
کسی نے کہا،
"ہمیں ریسکیو والے بچالیں گے، بس تھوڑا صبر"
کسی نے میڈیا پر بھروسا کیا،
"کیمرے آن ہوں گے، حکمران مجبور ہو جائیں گے"
ایک آدمی نے دو سیاسی جماعتوں کا نام لیا،
"میں نے ماضی میں ووٹ دیا ہے انھیں… وہ شہر کی نمائندہ ہیں… وہ ہمیں نہیں مرنے دیں گے"

لیکن امید کا وزن دھوئیں سے ہلکا ہوتا جا رہا تھا۔

خواتین کی دعائیں بلند ہو گئیں۔
"یا اللہ۔۔۔یا اللہ"
ایک عورت نے روتے ہوئے کہا،
"میری بچی کی شادی رہ گئی ہے"
دوسری نے ہاتھ اٹھا کر کہا،
"یا اللہ، اگر یہاں سے نہیں نکالنا تو کم از کم آسانی دے دے"

بچہ کونے میں کان بند کیے بیٹھا تھا۔
"نانو پیاری نانو"
اس کی آواز اب صرف ہونٹوں کی حرکت تھی۔

گرمی بڑھنے لگی۔ ہوا جلنے لگی۔
سیلز مین نے ہانپتے ہوئے کہا،
"حاجی صاحب۔۔۔شاید شٹر کھولنا پڑے"
حاجی صاحب نے سر ہلایا،
"باہر شدید آگ ہے۔۔۔اللہ سے دعا کرو شاید"

آخری لمحوں میں باتیں ٹوٹنے لگیں۔ جملے ادھورے۔
سیکیورٹی گارڈ نے وردی کے بٹن کھولتے ہوئے کہا،
"میرا فرض۔۔۔بس یہی تھا"
باپ نے بیٹے کو سینے میں بھینچا،
"آنکھیں بند کر لو میری جان اور مجھے معاف کردو"

دعا، امید، سیاست، میڈیا،سب دھوئیں میں گھل گئے۔

آخری دو لمحے چیخ نہیں تھے، وہ سرگوشیاں تھیں۔
"اللہ"
"امی"
"معاف کردیں"

اور گل پلازہ کی شاپ نمبر 144، جو کبھی چمکتے برتنوں کی دکان تھی،
خاموشی کا ایک بند کمرہ بن گئی. جہاں یقین زندہ رہا، مگر زندگی نہ بچ سکی۔
یہ واجد رضا اصفہانی کی تحریر

22/12/2025

چلہ کشی کی آخری رات

‎ماضی کے اوراق سے
‎ایک سچی آپ بیتی ‼️

‎چاند دور آسمان پر گھنے باد لوں کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا۔ رات کا پہلا پہر ختم ہو کر گہری تاریکیوں کو سدا دے رہا تھا۔اس بار اکتوبر ختم ہوتے ہی ٹھنڈ گویا یکلخت ہی آن وارد ہوئی تھی۔ کھلے میدانوں میں ٹھنڈ کچھ زیادہ ہی برہنہ ہوئے گھومتی ہے۔میں آبادی سے کوئی دو میل دور ویرانوں میں بیٹھا ہوا تھا۔
‎یہ رات کا پرسکوت وقت تھا۔ ہر طرف گہری تشویشناک خاموشی بھنبھنا رہی تھی۔ سیاہ فام اندھیرے کے ڈراؤنے عفریت رینگتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ دور دور تک کوئی آواز نہ گونج رہی تھی۔مدھم سی چلتی ہوئی ہوا سے ٹھنڈ کا شدید احساس میرے وجود میں سرایت کرنے لگا تھا۔
‎یہ ایک وسیع و عریض بيابان دشت نما میدان تھا جہاں صرف ویرانی ہی ویرانی تھی۔ کہیں کہیں اگی ہوئی جنگلی گھاس اور کانٹے دار جھاڑياں دہشت پھیلا رہی تھیں۔یہاں آتے جاتے ہوئے مجھے مہینہ سے اوپر ایام ہو چکے تھے۔آج میں قدرے پرجوش تھا اور شاید اندر کہیں خوف بھی اچھل رہا تھا۔ ڈر کا زہریلہ ناگ مجھے اندر سے ڈس رہا تھا۔یوں تو سوا مہینہ تک ہر رات قیامت خیز تھی۔دہشت بھری ہولناک راتوں کا یہ سفر میں نے تن تنہا ہی سہا تھا۔ اس کیفیت میں مجھے خود پر قابو رکھنا ہی میری نجات تھی سو میں آج بھی سنبھل چکا تھا۔
‎میرے چلہ کی آج آخری رات تھی۔کوثر کو آج میرے روبرو حاضر ہونا تھا اور پھر اس سے عہد و پیمان کرنا تھا۔ یہ سب سننے میں سادہ سی بات لگتی ہے لیکن یہ ایک پرخطر کام تھا۔کبھی كبهار شوق انسان کی جان تک لے ڈوبتا ہے۔ میرے ذہن کے زاویے گویا چکرا سے گئے تھے۔میری سوچ مجھے دہلا گئی تھی پر میں ثابت قدم رہا۔۔۔!

‎وقت مقرر آن پہنچا تھا اور پھر میں نے اپنا ورد پکارنے کی تیاری شروع کردی۔
‎ہمیشہ کی طرح آج بھی میں نے لوہے کی چھری سے ایک گول نما تنگ سا دائرہ کھینچا اور اس کے اندر بیٹھ گیا۔ زمین کچی تھی سو دائرہ لگانا آسان کام تھا۔یہ چلہ زمین پر براجمان ہو کر پڑھنے والا تھا۔میرا رخ مشرق کی اور تھا۔ دور دور تک گہرا سکوت میری ہی سرگوشیاں کرتا محسوس ہو رہا تھا۔ چاند ابھی بھی سياهی مائل سفید بادلوں میں دبكا ہوا بیٹھا تھا۔ہر طرف گھٹا ٹوپ کالا اندھیرا ہر چیز کو ہڑپ کرتا جا رہا تھا۔ اندھیروں کی آغوش میں بیٹھے ہوئے مجھے خود سے ہی وحشت محسوس ہونے لگی تھی۔ مینے وقت ضائع نہ کیا اور اپنا ورد پڑھنا شروع کر دیا۔ آج بھی ورد شروع کرتے ہی میرے چہار سو عجیب و غریب سی بھنبھناہٹ گونج اٹھی تھی۔ یوں جیسے بیشمار مدھم سی ابھرنے والی آوازیں آپس میں ٹکرا کر معدوم ہو کر رہ جاتیں۔۔۔جنہیں سمجھنا ناممکن تھا۔ کبھی كبهار میرے سر کے اوپر سے کوئی تیز رفتار پرندہ اپنے لمبے پر پھڑپھڑاتا ہوا گزر جاتا اور شدید اندھیرے میں وه دکھائی نہ دیتا تھا۔ جبکہ اسکے پروں کی بھاری سی پھڑپھڑاہٹ دور دور تک سنائی دیتی کہیں گم ہو جاتی۔۔یہ لمحات روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے تھے ۔۔
‎مجھے پڑھتے ہوئے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک ہر طرف ماتم زدہ سی آوازیں گونجنے لگی۔۔جیسے کئی ساری عورتیں درد اور تکلیف میں رو رہی ہوں۔انکی چیختی ہوئی آوازوں میں ہولناک دہشت چنگھاڑ رہی تھی جسے شاید کوئی کمزور دل انسان برداشت نہ کر سکتا تھا۔ میں خود پر بمشکل قابو ڈالے بیٹھا رہا اور اپنا ورد جاری رکھا۔ اندھیرے میں ان عورتوں کے وجود دکھائی نہ دے رہے تھے ہاں البتہ انکے بین کرنے کی پھٹی ہوئی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں۔سنسان ویرانے میں خوفناک آوازوں کا میلہ سا لگ چکا تھا۔ سرد موسم کے باوجود دہشت کے مارے میرا وجود پسینہ چھوڑ چکا تھا۔ابھی میرے ورد کی آخری تسبیح باقی تھی۔میں تیز رفتاری سے پڑھتا جا رہا تھا۔ خوف کے احساس کی وجہ سے کبھی كبهار میری زبان لڑکھڑا سی جاتی تھی اور یہ بات میری جان کے لئے گویا موت تھی۔ ورد کے الفاظ بھول جانے پر یہ غیر مرئی مخلوق انسان کے جسم سے روح کھینچ لیا کرتی ہے۔۔میرا سارا دھیان ورد پر تھا لیکن وه بھیانک ماحول مجھے ناکام کرنے پر تلا ہوا تھا۔
‎میں سر جھکا کر بیٹھا ہوا ورد پکار رہا تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی میرے کان ارد گرد کے ماحول کو سننے کی جانب کھڑے ہو رہے تھے۔۔وہ ماتمی آوازیں اچانک بند ہو گئی تھیں۔پورے ویرانے میں ایک بار پھر سے گہری تشویشناک خاموشی کا راج چھا گیا تھا۔ میں اندر سے پرسکون تھا کہ میری آخری تسبیح اب ختم ہونے کو تھی۔
‎بس کسی نے وه ورد بتایا تھا کہ اس چلہ میں کوثر حاضر ہوتی ہے۔۔اور میرے شوق نے مجھے ان ویرانوں میں پڑھنے بیٹھا دیا۔۔۔۔ اور آج آخری رات تھی۔ لیکن کوثر شاید ورد مکمل ہونے پر ہی حاضر ہوگی۔ ۔۔ میرے ذہن میں سوچیں گڈ مڈھ سی ہو رہی تھیں اور اس کشمکش میں میرا ورد آخر کار مکمل ہو ہی گیا۔ ۔

‎میں چپ سادھ کر بیٹھ چکا تھا۔ میری نظر ایک بار پھر سامنے کی اور اٹھی۔میں اس سفید فام ہیولے کو دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا وه کون ہے۔۔لیکن وه ہیولہ مجھے کہیں دکھائی نہ دیا تھا۔ میری نگاہیں چاروں سمت اسے تلاش کر چکی تھی پر وه نجانے کہاں گم ہو گیا تھا۔ یہ حیرت انگیز تھا۔ میری پیشانی پر آئے ہوئے بل مجھے اس پراسرار ہیولے کی گمشدگی پر اکسانے لگے تھے۔ وه آخر کون تھا۔رات کے اس پہر ان ویرانوں میں یوں بھٹکنا کسی عام انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ ۔ میں کافی دیر انہی سوچوں میں ڈوبا رہا۔وسیع و عریض ویران صحرائی میدان کی اجڑی ہوئی آغوش میں وہاں میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ وہاں پر کہیں کہیں اگی ہوئی لمبی جنگلی گھاس اور جھاڑیوں کے نیچے اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ میری پھٹی ہوئی نگاہ چاندنی رات میں ان اندھیروں کے جھنڈ میں گویا اندھی ہو جاتی تھی۔شاید وه ہیولہ ان اندھیروں میں چھپا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ میں نا چاہتے ہوئے بھی اسے ڈھونڈتا رہا پر وه مجھے دکھائی نہ دیا تھا۔ حالانکہ اسے تلاش کرنا میرے لئے بے سود تھا۔ مگر پھر بھی وه اجنبی شخص میرے ذہن میں ایک خلش سا بن بیٹھا تھا۔ بہت مشکل سے وه گمنام پرچھائی میرے ذہن سے معدوم ہوئی اور مجھے یاد آیا کہ مجھے اپنے چلہ کی حاضری کو سوچنا چاہئے۔یہی تو میرا مقصد تھا۔ ۔شاید وه ہیولہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا تا کہ میں خیالی طور پر منتشر ہو جاؤں اور میرا عمل ناکام ہو جائے۔ ۔۔ میں نے اس ہیولے کو ذہن سے جھٹکا اور کوثر کی آمد پر دھیان دینا شروع کر دیا۔
‎ابھی کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ اچانک ایک طرف سے چھن چھناہٹ کی سریلی سی مدھم آواز سنائی دینے لگی۔ میری نگاہ فوراً اس طرف رخ پھیر گئی تھیں۔ فضا میں بھینی بھینی سی معطر خوشبو میرے نتھنوں سے گزر کر میرے دل و دماغ کو مسحور کرنے لگی تھی۔ مجھے چاندنی رات کی نرم سفیدی میں وہاں ایک سایہ سا دکھائی دے رہا تھا۔ وه صنف نازک تھی جو ایک سلیقے سے اور ناز و نین بھرے انداز میں چلتی ہوئی میری ہی طرف بڑھتی چلی آ رہی تھی۔ میرا دل ایک بار دھڑک اٹھا تھا اور روم روم حرکت میں آ گیا تھا۔ فضا میں بکھری پڑی اس دلربا خوشبو میری روح میں گھلتی جا رہی تھی نجانے وه کس طرح کی خوشبو تھی نہ سمجھ میں آ رہی تھی اور نہ پہلے کبھی ایسی خوشبو سونگھی تھی۔وه واقعی لاجواب اور نایاب سینٹ تھا۔ اس ماہ تاب چہرے والی عورت نے سفید فام لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس پر شیشے جڑے ہوئے تھے چاند کی کرنیں جب لباس پر پڑتی تو وه اور بھی زیادہ چمک اٹھتا تھا۔ اس کے پیروں میں پائل وقفہ وقفہ سے اٹھتے ہوئے قدموں کے ساتھ ایک لے میں گویا پرترنم ساز بجا رہی تھی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وه میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔وه خاموشی اختیار کیے ہوۓ تھی اور میں سکتے کے عالم میں اس کے حسن و جمال میں کہیں گم تھا۔ وه بہت خوبصورت تھی۔
‎5 فٹ لمبی اور بھرے ہوئے جسم میں تراشی ہوئی وه کوئی عظیم مصور کا شاہکار لگ رہی تھی۔ کھلے ہوئے کسی گلاب کے نازک پھول جیسے گول مٹول گال اور پنکھڑیوں جیسے کومل سرخی مائل ہونٹ اسے اور بھی پرکشش بنا رہے تھے۔ لمبی پلکوں کے حسین غلاف میں جھپکتی ہوئی موٹی لمبی سی ترچھی نیلگوں آنکھیں ہر دل و جان کو گویا قتل کر دینے والی تھیں۔ اسکے سیاہ کھلے ہوئے گیسو کمر سے قدرے نیچے تک لٹک رہے تھے۔ وه صراحی نما جسامت میں قیامت خیز جلوہ انگیز تھی۔ اسکے خوبصورت چہرے کے نقش و نگار اور جسم کے خدوخال بہت حسین و جمیل تھے۔ وه میرے بہت قریب کھڑی تھی اور میں بیٹھا ہوا اپنی اٹھی ہوئی نگاہوں سے اسے بغور دیکھتا ہوا اسکے حسن و جمال میں کہیں ڈوبا پڑا تھا۔

‎اول اسی کو ہی بولنا تھا۔چلہ کے اصول کے مطابق چلنا ہی بقا تھی۔ سو میں تو ویسے بھی اس کے جمال کے جلووں میں گرفتار ہو کر رہ گیا تھا۔۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ لمحات کتنی دیر تک رواں رہے تھے۔ ہاں البتہ جب اس کی شیریں آواز میری سماعت سے ٹکرائی تو میں یکلخت ہوش میں آ گیا تھا۔
‎مجھے کیوں بلایا ہے !؟؟ ایک پرتبسم مسکراہٹ کے ساتھ اسکے لبوں سے یہ سوال مجھ پر ہاتھ اٹھا چکا تھا۔۔بظاہر وه سادہ لہجے میں بولی تھی مگر اس کے مزاج کی تپش مجھے واضح محسوس ہوئی تھی۔ جیسے وه یہاں حاضر ہو کر خوش نہ ہو۔ یہ بھی سچ ہے کہ کوئی کسی کے تابع ہو کر خوش کیونکر ہوگا۔ ۔!!!

‎تم سے دوستی کرنے کے لئے بلایا ہے۔ ۔میں نے سمبھلتے ہوئے مختصر جواب دیا۔
‎دوستی کس وجہ سے کرنی ہے!؟ ایک بار پھر اسکی آواز کی نرمی میرے کانوں میں رس گھول گئی۔وه قدرے دھیمے سے لہجہ میں بولی۔

‎تا کہ تم دنیا کے ہر کام میں میری مدد کرو۔ میں نے سپاٹ لہجہ میں کہا۔
‎میرا جواب سن کر وه مجھے بہت غور طلب نگاہوں سے گویا گھورنے لگی تھی۔جبکہ میں خود بھی اسے گہری دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ وه بلکل یوں دکھائی دے رہی تھی جیسے دن کی روشنی میں کسی کو دیکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسکی آنکھوں کے رنگ بھی واضح دکھائی دے رہے تھے۔ یہ حیران کن بات نہ تھی۔ وه مکمل طور پر حاضر کھڑی تھی۔
‎میرا دل پرزور دھڑک رہا تھا۔ ایک تجسس آمیز خوشی بھی تھی اور خفیف سا ڈر بھی۔ ۔۔ ایک عجب سی صورت حال میرے اندر موجزن تھی۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Abid Khan, Nauman Bhai, Faiz Jan, Malik Raheel, Abdul Gha...
26/04/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Abid Khan, Nauman Bhai, Faiz Jan, Malik Raheel, Abdul Ghani, Anwarali Anwar, M Basheer Butt, Muhamad Naeem, Shahzad Ansari, Malik Asad

25/04/2025
04/04/2025
03/04/2025

خوفناک کہانی: "کالے درخت کا جن"

(منظر: ایک سنسان گاؤں، جہاں ایک پراسرار درخت صدیوں سے کھڑا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے نیچے جو بھی رات گزارتا ہے، وہ پھر کبھی ویسا نہیں رہتا...)

ریاض ایک نوجوان لڑکا تھا، جو ہمیشہ مہم جوئی کا شوقین رہتا تھا۔ اسے اپنے دادا کی وہ بات یاد تھی،
"کبھی بھی کالے درخت کے قریب نہ جانا، وہ منحوس ہے!"

مگر جتنی بار اسے روکا جاتا، اتنا ہی اس کا تجسس بڑھتا۔ آخر ایک رات، اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ خود جا کر دیکھے گا کہ آخر یہ درخت اتنا خاص کیوں ہے؟

گاؤں کے کنارے، ایک بڑا اور سوکھا ہوا درخت کھڑا تھا، جیسے برسوں سے وہاں موت کا پہرہ ہو۔ چاندنی رات میں اس کی سائے دار شاخیں عجیب سی شکلیں بنا رہی تھیں۔

ریاض نے درخت کو چھوا، تو ایک دم یخ ٹھنڈک اس کے جسم میں سرایت کر گئی۔ اچانک، ہوا ساکت ہو گئی، پرندے چپ ہو گئے، اور درخت کے پتوں میں سرسراہٹ ہونے لگی۔

پھر ایک سرگوشی ابھری،
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟"

ریاض پیچھے ہٹا، مگر اس کے قدم جم گئے، جیسے کسی نے انہیں جکڑ لیا ہو۔ درخت کے تنے سے ایک دھندلی، مگر خوفناک شبیہہ نمودار ہوئی۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح جل رہی تھیں، اور اس کا چہرہ مسخ شدہ تھا۔

"یہ درخت تمہارے لیے نہیں، یہ میرا ہے!" جن کی بھاری آواز گونجی۔

ریاض نے ہمت کر کے پوچھا،
"تم کون ہو؟"

جن ہنسنے لگا،
"میں وہ ہوں جو صدیوں سے یہاں ہوں، جو اس درخت کے ساتھ دفن کیا گیا تھا، اور جو ہر اس شخص کو سزا دیتا ہے جو میرے سکون کو توڑتا ہے!"

ریاض کا جسم کانپنے لگا۔ اچانک، اس کے ارد گرد ہر چیز بدلنے لگی۔ درخت کی شاخیں لمبی ہو کر ہاتھوں میں بدل گئیں، اور زمین میں سے سائے نکلنے لگے۔

اس نے چیخنے کی کوشش کی، مگر اس کی آواز بند ہو گئی۔ وہ بھاگنا چاہتا تھا، مگر اس کے پیروں میں گویا زنجیریں پڑ چکی تھیں۔

پھر جن نے آخری بار کہا،
"جو یہاں آیا، وہ کبھی صحیح سلامت نہیں لوٹا!"

اگلی صبح، لوگ ریاض کو درخت کے نیچے بے ہوش پایا۔ جب وہ ہوش میں آیا، تو وہ پہلے جیسا نہ رہا۔ اس کی آنکھیں خوف سے بھری ہوئی تھیں، اور وہ بس ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا،
"وہ وہاں ہے... وہ ہمیشہ وہاں رہے گا..."

اس کے بعد کوئی بھی اس درخت کے قریب جانے کی ہمت نہ کر سکا۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ درخت اب بھی زندہ ہے، اور جو بھی اس کے قریب جاتا ہے، وہ کسی نہ کسی خوفناک انجام کا شکار ہو جاتا ہے۔

"کیا آپ بھی اس درخت کے نیچے رات گزارنا چاہیں گے؟"

آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ مزید کہانیوں کے لیے فولو کریں

01/04/2025

Horror Short Story

Address

Karachi
Karachi
75120

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khofnak Kahaniyan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share