Shahid Adeel Poetry

Shahid Adeel Poetry عمر بھر کی بحث کے بعد آخر اپنے آپ سے --- معذرت کر لی ہے می?

04/04/2025

تازہ کلام

کر دیا تیرے جنوں نے مجھے جانی، برباد
تو سمجھتا ہے ناں؟ برباد معانی برباد

خود سے وحشت ہے کہ جب تو ہی نہیں، میں کیوں ہوں؟
کرنی ہو گی یہ مجھے تیری نشانی برباد

مدتوں سے یہاں آباد ہے اک شخص جسے
کر گئی تھی کبھی اک نقل مکانی برباد

اندھی آنکھوں پہ ہوئے دیپ، الاؤ ضایع
بہرے کانوں پہ ہوئی شعلہ بیانی برباد

اس کی تصویر ابھی تک ہے مرا ٹھوس جواز
میں نے ایسے ہی نہیں کی تھی جوانی برباد

کتنا سمجھایا بجھایا تھا تجھے میں نے عدیل
دل کے صحرا پہ نہ کر آنکھ کا پانی برباد

------ شاہد عدیل

جیسے تو سب کو دیکھتا ہے اس طرح نہیںکچھ دیر میری آنکھ کی حیرانگی کو دیکھ.. شاہد عدیل ...
14/02/2025

جیسے تو سب کو دیکھتا ہے اس طرح نہیں
کچھ دیر میری آنکھ کی حیرانگی کو دیکھ
.. شاہد عدیل ...

22/10/2024

تم آنکھیں نوچ چکے میری؟ اب چلو جھنجھلاو
مجھے بموجبِ سابق دکھائی دیتا ہے

----- شاہد عدیل -----

Address

5A/2, N. Karachi
Karachi
75850

Telephone

+923062729236

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahid Adeel Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Shahid Adeel Poetry:

Share

Category