Pak Rox

Pak Rox Pak Rox

22/02/2026
Ya Allah Reham farma
19/01/2026

Ya Allah Reham farma

19/01/2026

"پیٹ فقیر کا بھی کبھی خالی نہیں رہتا اور سبھی خواہشیں بادشاہ کی بھی پوری نہیں ہوتی۔"

27/11/2025

ریڑھی والے سے 10 روپے کیلئے بحث اور ریسٹورنٹ پہ 100 روپے ٹیپ۔
ضمیر کی آواز خاموش🙏💯

یا رب العالمین ہمارے  والدین اور عزیزواقارب کی مغفرت فرما  آمین
27/11/2025

یا رب العالمین ہمارے والدین اور عزیزواقارب کی مغفرت فرما آمین

ایلون مسک نے کل حادثاتی طور پر دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرانک لابی/بوٹ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیااور حیرت کی بات یہ ہے کہ جن...
27/11/2025

ایلون مسک نے کل حادثاتی طور پر دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرانک لابی/بوٹ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیااور حیرت کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے اکاؤنٹس آپ کو یا آپ کے ملک کو گالیاں دیتے ہیں چاہے آپ کی قومیت کچھ بھی ہوان میں سے آدھے تو انسان ہی نہیں!
سارا معاملہ ایک چھوٹے سے اپ ڈیٹ سے شروع ہوا جو پلیٹ فارم "ایکس" پر آیا تھایہ بس ایک معمولی اپ ڈیٹ ہونا چاہیے تھا مگر اس کے ساتھ ایک نئی خصوصیت شامل ہوگئی، یعنی آپ جس اکاؤنٹ کو فالو کرتے ہیں اُس کا اصل مقام دیکھ سکتے تھے
یعنی وہ نہیں جو اکاؤنٹ والے نے خود لکھ رکھا ہوتا ہے، بلکہ وہ جگہ جہاں سے اس کی ڈیوائس حقیقتًا چل رہی ہے۔
یہ اپ ڈیٹ میڈیا کے کئی ماہرین کے مطابق امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی الیکٹرانک لابیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے تھا۔ اور اِس نے واقعی ایسا ہی کیالیکن اس کا اثر پوری دنیا پر ایک ڈیجیٹل ایٹمی دھماکے کی طرح پھیل گیا۔
جیسے ہی اپ ڈیٹ آیا، لوگوں نے فوراً چیک کرنا شروع کیا کہ جن اکاؤنٹس کو وہ فالو کرتے ہیں وہ کہاں سے چل رہے ہیں
اور تب اصل دھماکہ ہوا۔
مصر کے کچھ مشہور اکاؤنٹس جو رات دن مصر کے خلاف لکھتے رہتے ہیں، اُن کا مقام ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نکلا
سعودی عرب کے خلاف چلنے والے اکاؤنٹس قطر اور برطانیہ سے نکلے۔ اور وہ صفحات جو مراکش الجزائر کے درمیان فتنہ پیدا کرنے کے لیے پوسٹس کرتے تھے، وہ یورپی ممالک سے چل رہے تھے
جن کا ان دونوں ممالک سے کوئی تعلق ہی نہیں!
اِسی طرح کئی "جعلی" شامی حب الوطن اکاؤنٹس استنبول سے چل رہے تھے، اور خلیجی لڑکیوں کے نام سے چلنے والے بعض اشتعال انگیز صفحات برطانیہ سے آپریٹ ہو رہے تھے۔
اور جانتے ہیں 99 فیصد ان اکاؤنٹس میں مشترک چیز کیا تھی؟
ہزاروں ایسے عربی لہجے میں لکھنے والے اکاؤنٹس جو عرب ملکوں کو گالیاں دیتے تھے اور خاص ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتے تھےاصل میں اسرائیل سے چل رہے تھے
اور وہ بھی اسرائیلی فوج کی بدنام زمانہ یونٹ 8200 سے، جو سائبر اور الیکٹرانک جنگ میں ماہر ہے
یہ یونٹ برسوں سے عرب دنیا کے خلاف نفسیاتی مہمات اور فتنہ پھیلانے والی کارروائیوں میں ملوث ہے۔
اب کی بار یہ حقیقت سب کے سامنے عیاں ہوگئی کہ جن اکاؤنٹس کے نام "عمر"، "ریم"، "سعودی اصیل"، یا "مصری اصیل" تھے، وہ دراصل اسرائیلی ماہرین چلا رہے تھے جو عربی لہجے جعل سازی میں مہارت رکھتے ہیں۔
اِس کا مطلب یہ ہوا کہ جن ممالک کے خلاف یہ اکاؤنٹس نفرت انگیز مواد پھیلا رہے تھے جیسے مصر، سعودی عرب، امارات، مراکش، الجزائر، شام، لبنان، سوڈان وغیرہ اور عرب قوموں کو آپس میں لڑاتے تھے ان میں سے بڑا حصہ عربی نہیں تھا
بلکہ یہودی صیہونی تھا۔
نتیجۃً یہ بات واضح ہوگئی کہ ہم جو کچھ روزانہ دیکھتے ہیں، وہ نہ عوام کا حقیقی غصہ ہے، نہ ثقافتی اختلاف، بلکہ ایک منظم منصوبہ ہے جس کا مقصد عرب قوموں میں نفرت، تقسیم اور فتنہ پیدا کرنا ہے۔
اِس کے علاوہ ہزاروں ایسے بوٹس جو 24 گھنٹے خودکار طریقے سے مواد پوسٹ کرتے ہیں تاکہ آپ کو لگے کہ آپ اکیلے ہیں اور آپ کا ملک برا ہے اور یہ صرف عرب دنیا تک محدود نہیں رہا۔
امریکہ میں بھی لوگوں نے سیاسی اکاؤنٹس کا جائزہ لینا شروع کیا جو ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کشیدگی بڑھاتے تھے، اور حیرت انگیز طور پر ان میں سے زیادہ تر روس، بھارت، بنگلہ دیش اور اسرائیل سے نکلے!
جی ہاں رئیل بھی۔
جیسے ہی اپ ڈیٹ آیا اور معاملہ سامنے آیا ایک گھنٹے کے اندر اندر ہزاروں اکاؤنٹس بند کر دیے گئے اور یہ فیچر بھی ہٹا دیا گیا۔ اب آپ یہ معلومات نہیں دیکھ سکتے۔
یہ کوئی پہلا سکینڈل نہیں. ا

جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی ک...
18/11/2025

جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے
سورہ الحج 73 ﴿۷۳﴾

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْ...
17/11/2025

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ-ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ ﴿۷۳﴾ - سورہ الحج آیت نمبر 73

لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں ﴿۷۳﴾

مظہر عباس نے کراچی والوں کی ترجمانی کردی ہے۔ *کراچی ’’ناراض ‘‘کیوں ہے؟* مظہر عباس یقین جانیے مسئلہ ’’ای چالان ‘‘ کا نہیں...
06/11/2025

مظہر عباس نے کراچی والوں کی ترجمانی کردی ہے۔
*کراچی ’’ناراض ‘‘کیوں ہے؟*
مظہر عباس

یقین جانیے مسئلہ ’’ای چالان ‘‘ کا نہیں ہے ورنہ کون نہیں چاہے گا کہ سگنل توڑنے والوں، ہیلمٹ نہ پہننے والوں، سیٹ بیلٹ نہ لگانے والوں یا چلتی گاڑی یا موٹر سائیکل پر موبائل فون سننے والوں پر جرمانہ نہ ہو، مسلسل خلاف ورزی پر تو لائسنس بھی منسوخ کردینا چاہیے مگر ایک دم جرمانہ پانچ سو سے پانچ ہزار کر دینگے وہ بھی اس کیلئے جو پہلے ہی پانی نہ آنے پر ہزاروں روپیہ صرف ٹینکر ڈلوانے میں خرچ کرتا ہو، بار بار گاڑی یا موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ تبدیلی کا بھی جرمانہ ادا کرتا ہو۔

کراچی کا تو حال یہ ہے کہ سگنل پر رکو تو اسٹریٹ کرمنل پکڑ لیتا ہے سرخ بتی پر چل پڑو تو کیمرا پکڑ لیتا ہے، جان جانے کا خطرہ بھی برابر کا ہے اور کچھ نہ ہو تو کبھی وہ ڈمپر کا شکار تو کبھی کھلے مین ہول کا۔

کراچی کا غصہ بے وجہ نہیں اور وہ اپنی ناراضی کا اظہار مختلف انداز میں کرتا رہتا ہے، اس نے اپنے اس غصہ کا اظہار ووٹ کے ذریعے بھی کیا اور احتجاج کے ذریعے بھی اور اب شاید ایک لاتعلقی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، معذرت کیساتھ نوجوانوں نے قلم اُٹھایا تو آپ نے ’’میرٹ‘‘ کا ہی قتل کردیا، غصہ میں بندوق اُٹھائی تو ماورائے عدالت مارا گیا ۔

اُس نے پی پی پی کو ووٹ بھی دیا اور پھر اُس کیخلاف بھی ووٹ دیا، جماعت اسلامی کو بھی ووٹ دیا اور پھر اس کیخلاف بھی، پھر کراچی کے وارثوں کے دعویداروں کو بھی ووٹ دیا مگر وہاں سے بھی مایوسی ملی پھر یوں بھی ہوا کہ پہلی بار اُس نے ایسی جماعت کو ووٹ دیا جس نے وفاق میں بھی حکومت بنائی یعنی پاکستان تحریک انصاف، مگر وہاں سے بھی مایوسی اُسکے نصیب میں آئی۔

کراچی ناراض ہے تو اسلئے بھی کہ سات دہائیوں میں کوئی تو ایک ایسا ’’پروجیکٹ‘‘ بتائیں جس نے اس شہر کے بنیادی مسائل حل کیے ہوں، شہر کا دکھ تو یہ ہے کہ اسکے ’’اصل ماسٹر پلان‘‘ کو قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی ’’منوں مٹی‘‘ تلے دفن کردیا گیا پھر ہر حکومت اپنا ایک ماسٹر پلان لائی شہر کی تباہی کا۔ کراچی ماس ٹرانزٹ کا نام سنتے سنتے ہم جوانی سے60 سال کراس کرگئے۔

جوانی میں تو پھر اس شہر میں بڑی بسیں بھی چلتی تھیں ، ٹرام بھی اور سرکلر ریلوے بھی ، نلکوں میں پانی بھی آتا تھا اور سڑکیں بھی کشادہ تھیں، بچے کھیلوں کے میدان میں بھی آزادانہ انداز میں جاسکتے تھے اور پارک میں بھی، ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ نے سب کچھ تباہ کرکے رکھ دیا ، دیکھتے ہی دیکھتے یہ ملک کا معاشی حب ہر طرح کے مافیا کا گڑھ بن گیا اور 80کی دہائی کے بعد ’’جرم ،سیاست، ریاست اور مافیا‘‘ کا ایسا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے جس نے شہر کے ہر ادارے کو اقتدار اور پیسے کی ہوس میں برباد کرکے رکھ دیا۔

کمال تو یہ ہے کہ یا تو پروجیکٹ بنتے نہیں ہیں یامکمل برسوں میں ہوتے ہیں اور جب تختی لگ جاتی ہے افتتاح ہوجاتا ہے تو یہ سال بھر بھی نہیں چل پاتے یقین نہ آئے تو شہر کے فلائی اوور ، انڈر پاس کا موازنہ لاہور یا اسلام آباد سے کرلیں اور خود ہی فیصلہ کرلیں۔

صرف سیف سٹی پروجیکٹ کی لاگت 2010میں کیا تھی جب اسلام آباد کا غالباً 126ملین ڈالرز اور لاہور کا 150ملین ڈالرز کی لاگت سے بنایا گیا، اس وقت کراچی کے پروجیکٹ پرجہاں تک مجھے یاد ہے مالیت 1.8ملین ڈالرز آئی تھی اور آج ہم 2025میں کھڑے ہیں شاید آج اگر میں غلط ہوں تو معذرت 500ملین ڈالرز تک بات پہنچ چکی ہے، K-IVپانی کے منصوبے کا حال اس سے مختلف نہیں، دلچسپ امر بقول ہمارے دوست کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم زمان کے یہ بن بھی جائے تو ’’شہر‘‘ کو پانی نہیں ملے گا۔

کراچی کیساتھ ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ ہم نے غیر ضروری طور پر اس شہر کو پھیلانا شروع کردیا ، جس کیلئے کراچی بلڈنگ اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ اتھارٹی بنادیا گیا جبکہ سندھ کے دیگر شہروں کی بلڈنگ اتھارٹی کا نام شہر سے ہی جڑا ہے۔ یہ سب مبینہ طور پر اُسی ’’مافیا الائنس‘‘ کا شاخسانہ ہے۔

شہر اور شہریوں کا غصہ اسلئے بھی نظر آتا ہے کہ لوگ برسوں سے کلفٹن ،ہاکس بے یا سی ویو جاتے تھے جاتے تو اب بھی ہیں مگر اب تو سمندر کو بھی دور کیا جارہا ہے اور پانی سے بدبو آتی ہے، ایسے میں شہر میں صرف ’’کھانا‘‘ ہی واحد تفریح رہ گیا ہے اور اب تو کھانا بھی اتنا مہنگا کہ آدمی ’’ای ۔چالان‘‘ دے یا کھانے کا بل۔

سیاسی طور پر اس کی ذمہ دار صوبائی حکومت بھی ہے اور بلدیاتی ادارے بھی، پی پی پی کی 2008کے بعد سے مسلسل حکومت ہے مگر ہم مقامی حکومتوں کو مضبوط نہیں کرنا چاہتے، حکومت بڑے بڑے منصوبوں کا دعوی کررہی ہے بعض بہت اچھی سڑکیں ابھی بن بھی رہی ہیں خاص طور پر جب سے کچھ بڑے پروجیکٹ سپرہائی وے پر بننے شروع ہوئے ہیں ، مگر یہ 4کروڑ کا شہر ہے۔

لہٰذا مسئلہ ’’ای ۔چالان‘‘ کا نہیں ہے شہر کو بہتر بنانے کا ہے منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے کا ہے، ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا ہے اور چلیں ابتدا ای چالان سے ہی کرنی ہے تو جرمانہ کچھ مناسب رکھیں مگر کوئی بار بار قانون توڑے تو اس پر گاڑی چلانے پر پابندی بھی لگائیں، مگر ’’محترم‘‘ میں پانی کب تک ٹینکر کے ذریعے استعمال کروں اور پھر پانی کا ای۔چالان بھی دوں ، بار بار گاڑیوں ، موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ بدلوانے کا حکم ملے تو پیسہ بھی میں ہی دوں۔

جب تک جرم و سیاست اور مافیا کا یہ کھیل چلتا رہے گا آپ کراچی کو جیت نہیں سکتے ان دوریوں اور فاصلوں کو صرف بہتر منصوبہ بندی، حکمت عملی اور اہلیت سے ہی ختم کر کے شہر اور شہریوں کوجیتا جاسکتا ہے،کراچی کے شہری ناراض ہیں بس اب اعتماد کریں تو کس پر کہ سب نے ہی مایوس کیا، کیا کوئی اپنے معاشی حب کے ساتھ ایسا بھی کرتا ہے۔

Address

Baba E Urdu Road
Karachi

Telephone

+923232517469

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Rox posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share