ستارے زمین پر

ستارے زمین پر *قوم کے ستارے*
جو قربانی سے، علم سے، ایمان سے قوم کو روشن کرتے ہیں

تقریباً 2500 سال پہلے یمن پر *اَسْعَد تُبّان حِمْیَری* کی حکومت تھی۔ یمن کی زبان میں بادشاہ کو تُبّع کہتے تھے، اسی وجہ س...
29/07/2026

تقریباً 2500 سال پہلے یمن پر *اَسْعَد تُبّان حِمْیَری* کی حکومت تھی۔ یمن کی زبان میں بادشاہ کو تُبّع کہتے تھے، اسی وجہ سے تاریخ میں یہ تُبّعُ الْاَوَّل اور تُبّع حِمْیَری کے نام سے جانے گئے۔

ایک بار تُبّع اپنے وزیر کے ساتھ سفر پر نکلے۔ ساتھ تقریباً 1 لاکھ 13 ہزار پیدل اور 1 لاکھ 30 ہزار سوار بھی تھے۔ جہاں جہاں یہ قافلہ جاتا لوگ ڈر اور احترام سے استقبال کرتے۔ اسی سفر کے دوران تُبّع ہر شہر سے 10 عالم اپنے ساتھ شامل کر رہے تھے۔ کئی شہروں کے بعد ان کے قافلے میں تقریباً 4 ہزار علماء جمع ہو گئے۔

جب یہ قافلہ مکہ پہنچا تو اہلِ مکہ نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ یہ دیکھ کر تُبّع کو سخت غصہ آیا۔ وزیر سے پوچھا تو اس نے بتایا: "بادشاہ سلامت! یہاں ایک گھر ہے جسے کعبہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ اس میں بتوں اور شیطان کو سجدہ کرتے ہیں۔" یہ سن کر تُبّع نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ مکہ والوں کو قتل کر دوں گا، عورتوں بچوں کو قیدی بنا لوں گا اور کعبہ کو گرا کر اسے ویران کر دوں گا۔

اللہ کی شان دیکھیں۔ جیسے ہی یہ سوچ دل میں آئی، تُبّع کے سر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ آنکھ، ناک، کان اور منہ سے بدبودار پانی بہنے لگا۔ اتنی سڑاند پھیل گئی کہ پاس بیٹھنا مشکل ہو گیا۔ وزیر نے بڑے بڑے طبیبوں کو بلایا لیکن کوئی علاج نہ بتا سکا۔ سب نے کہا یہ کوئی آسمانی معاملہ ہے۔

درد کی وجہ سے نیند اڑ گئی۔ ایک رات ایک عالم وزیر کے پاس آئے اور کہا: "اگر بادشاہ سچ بولے تو میں علاج کر سکتا ہوں"۔ وزیر نے تُبّع کو بتایا تو وہ فوراً مان گئے۔ جب عالم تنہائی میں پہنچے تو پوچھا: "بادشاہ سچ بتاؤ، کعبہ کے بارے میں دل میں کیا ہے؟" تُبّع نے روتے ہوئے اپنا برا ارادہ بتا دیا۔ عالم بولے: "تمہاری بیماری کی وجہ یہی نیت ہے۔ کعبہ کا رب دل کی بات بھی جانتا ہے۔ برے خیال دل سے نکال دو"۔ تُبّع نے فوراً توبہ کی۔ ابھی عالم اٹھے بھی نہ تھے کہ وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ یہ کرامت دیکھ کر تُبّع ایمان لے آیا اور دینِ ابراہیمی اختیار کر لیا۔ پھر کعبہ کے احترام میں 7 غلاف بنوائے۔ اس سے پہلے کبھی کعبہ پر غلاف نہیں چڑھا تھا۔ اس کے بعد مکہ والوں کو کعبہ کی حفاظت کی وصیت کر کے مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

اس وقت مدینہ میں کوئی خاص آبادی نہ تھی۔ صرف ایک چشمہ تھا۔ تُبّع کا قافلہ وہیں ٹھہرا۔ یہاں 4 ہزار علماء نے آپس میں مشورہ کیا۔ ان میں سے 400 نے فیصلہ کیا کہ ہم مرتے دم تک یہ جگہ نہیں چھوڑیں گے چاہے جان چلی جائے۔ جب تُبّع کو پتہ چلا تو حیران ہو کر وجہ پوچھی۔ علماء نے جواب دیا:

"عنقریب ایک نبی آئیں گے جن کا نام محمد ہوگا۔ ان کی وجہ سے کعبہ اور مدینہ کو عزت ملے گی۔ وہ حق کے امام ہوں گے، ان کے پاس ذوالفقار ہوگی، اونٹنی پر سوار ہوں گے، منبر پر لاٹھی کے ساتھ خطبہ دیں گے۔ انہیں قرآن دیا جائے گا۔ قیامت کے دن ان کے سر پر حمد کا تاج اور ہاتھ میں جھنڈا ہوگا۔ وہ لا الہ الا اللہ کی دعوت دیں گے۔ ولادت مکہ میں ہوگی اور ہجرت کر کے مدینہ کو شرف بخشیں گے۔ جو شخص ان کا زمانہ پائے اور ایمان لائے وہ خوش نصیب ہوگا۔ اسی امید پر ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں کہ یا ہمیں ان کی زیارت نصیب ہو یا ہماری اولاد کو"۔

یہ سن کر تُبّع نے بھی سوچا کہ ایک سال یہیں ٹھہر جاتا ہوں، شاید آقا کا دیدار ہو جائے۔ اس نے 400 علماء کے لیے 400 مکان بنوائے، ان کی شادیاں کروائیں اور خوب مال دیا۔

ایک سال بعد جب واپسی کا ارادہ ہوا تو تُبّع نے بارگاہِ رسالت کے نام ایک خط لکھا:

"تُبّع الاول حمیر بن وردع کی طرف سے، دو جہان کے رب کے رسول، آخری نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں۔ یہ اللہ کی امانت ہے جسے ملے مالک تک پہنچا دے"

"یا محمد! میں آپ پر اور قرآن پر ایمان لاتا ہوں۔ آپ کے دین اور سنت کو مانتا ہوں۔ ہر چیز کے رب پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر آپ کی صحبت مل گئی تو یہ میری خوش بختی ہوگی ورنہ قیامت کے دن مجھے یاد رکھ کر شفاعت فرما دیجیے گا۔ میں آپ کا فرمانبردار امتی ہوں اور آپ کی آمد سے پہلے ہی آپ کا پیروکار ہوں۔ میں آپ اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوں"۔

اس خط پر سنہری مہر لگائی جس پر لکھا تھا: "لِلہِ الْاَمْرُ مِنۡ قَبْلُ وَ مِنۡۢ بَعْدُ ؕوَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوۡنَ بِنَصْرِاللہِ"۔ پھر وہی عالم جنہوں نے اصلاح کی تھی انہیں خط دے کر وصیت کی کہ اگر نبی سے ملاقات ہو تو یہ خط دے دینا ورنہ اپنی نسل کو کہنا کہ یہ امانت آگے پہنچا دیں۔ اس کے بعد تُبّع مدینہ سے ہند کے شہر غلسان چلا گیا اور وہیں وفات پا گیا۔

تُبّع کے انتقال کے تقریباً 1000 سال بعد ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ 53 سال مکہ میں قیام کے بعد ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ مدینہ کے جن لوگوں نے مدد کی انہیں انصار کہا جاتا ہے۔ یہ وہی 400 علماء کی اولاد تھے جو 1000 سال سے وہ خط سنبھالے ہوئے تھے۔ جب انہیں حضور کی آمد کا پتہ چلا تو خوشی سے مشورہ کیا کہ خط کیسے پہنچائیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مشورے سے یہ ذمہ داری ابو لیلیٰ انصاری کو دی گئی۔

ابو لیلیٰ خط لے کر مکہ کے راستے پر نکلے۔ بنو سلیم کے مقام پر پہنچے تو دیکھا ایک ہستی جلوہ فرما ہے۔ آقا نے خود پکارا: "کیا تم ابو لیلیٰ ہو؟" عرض کی: جی ہاں۔ فرمایا: "اور تمہارے پاس تُبّع اول کا خط بھی ہے"۔ ابو لیلیٰ حیران رہ گئے۔ پوچھا: "آپ کون ہیں؟" فرمایا: "میں ہی محمد ہوں، خط دو"۔ ابو لیلیٰ نے فوراً وہ ہزار سال پرانا مہر بند خط پیش کر دیا۔ نبی کریم نے حضرت صدیق اکبر سے خط پڑھوایا۔ سن کر تین بار فرمایا: "مَرْحَبًا بِالْاَخِ الصَّالِح" یعنی نیک بھائی کو خوش آمدید۔ پھر ابو لیلیٰ کو مدینہ واپس جانے کا حکم دیا۔

جب مدینہ پہنچے تو سارا واقعہ سنایا۔ لوگوں نے انعام سے نوازا۔ اس کے بعد جب آقا مدینہ تشریف لائے تو ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ آپ ان کے ہاں قیام کریں۔ آپ نے فرمایا: "اونٹنی کو چھوڑ دو، جہاں اللہ کا حکم ہوگا وہیں رکے گی"۔ اونٹنی چلتی ہوئی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے رک گئی۔ یہ وہی گھر تھا جو تُبّع نے خاص نبی کے لیے بنوایا تھا۔ اور حضرت ابو ایوب انہی عالم کی نسل سے تھے جنہوں نے تُبّع کی اصلاح کی تھی۔

واللہ اعلم بالصواب۔

دوستو...! آخر میں ایک بات۔ اگر کوئی تحریر، واقعہ یا بات اچھی لگے تو پڑھنے کے بعد آگے شیئر بھی کر دیا کریں۔ آپ کا ایک لمحہ لگے گا لیکن ہو سکتا ہے کسی کی زندگی بدل جائے۔ ایسی مزید پوسٹ کے لیے فالو ضرور کریں۔ بہت شکریہ ❤️

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
(ماخوذ از تاریخ دمشق، ج11، ص3 تا 14)

کرکے ہجرت یہاں آگئے مصطفےٰ
روشنی آج گھر گھر مدینے میں ہے

دنیا میں کچھ لوگ پیسے کے لیے نہیں، دعاؤں کے لیے کماتے ہیں۔ *سلیمان الراجحی* انہی لوگوں میں سے ہیں۔ فوربس نے انہیں دنیا ک...
28/07/2026

دنیا میں کچھ لوگ پیسے کے لیے نہیں، دعاؤں کے لیے کماتے ہیں۔ *سلیمان الراجحی* انہی لوگوں میں سے ہیں۔ فوربس نے انہیں دنیا کے 20 سب سے فیاض انسانوں میں شمار کیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر #القصیم میں ان کا ایک باغ ہے جس میں تقریباً 2 لاکھ کھجور کے درخت ہیں۔ 45 قسم کی کھجوریں اور ہر سال 10 ہزار ٹن پیداوار۔ ماشاءاللہ۔ لیکن اس باغ کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ کسی کی ذاتی جائیداد نہیں، یہ مکمل طور پر اللہ کی راہ میں وقف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ روئے زمین پر سب سے بڑا وقف ہے۔

اس باغ کی آمدنی کہاں جاتی ہے؟ دنیا کے مختلف ملکوں میں مساجد بنتی ہیں، یتیموں اور بیواؤں کے گھر چلتے ہیں، طلبہ کو وظیفے ملتے ہیں۔ اور رمضان میں مکہ مدینہ میں لاکھوں روزے داروں کے لیے افطاری کے دسترخوان لگتے ہیں۔ یہ سب ایک شخص کی نیت کا نتیجہ ہے۔ وہ شخص جو خود غربت میں پلے تھے۔ کا بچپن تنگدستی میں گزرا۔ اسکول میں ایک دن ٹیچر نے کہا کل تفریحی ٹور ہے، ہر بچہ 1 ریال لائے۔ وہ گھر گئے تو گھر میں 1 ریال بھی نہیں تھا۔ بہت روئے۔ اسی ہفتے امتحان کا رزلٹ آیا۔ کلاس میں پہلی پوزیشن لی۔ ایک فلسطینی استاد نے خوش ہو کر انہیں انعام میں 1 ریال دیا۔ وہ دوڑ کر گئے اور اسی ریال سے ٹور کی فیس جمع کروا دی۔

وقت گزرتا گیا۔ تعلیم مکمل کی۔ جدہ میں ایک چھوٹے سے کمرے سے بینک کا کام شروع کیا۔ اور پھر محنت اور امانت نے رنگ دکھایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے #الراجحی بینک پورے سعودی عرب میں پھیل گیا۔ امیر ہونے کے بعد انہیں وہ استاد یاد آئے۔ بہت تلاش کے بعد ملے۔ استاد ریٹائرڈ تھے اور گھر کے حالات بہت خراب تھے۔ راجحی انہیں گاڑی میں بٹھا کر لے گئے اور کہا "استاد جی میں آپ کا مقروض ہوں"۔ استاد بولے "میرا بھلا کس پر قرض؟" راجحی نے کہا "سالوں پہلے آپ نے مجھے 1 ریال دیا تھا"۔ استاد مسکرائے "تو اب وہ واپس کر رہے ہو؟"۔ کچھ دیر بعد گاڑی ایک خوبصورت بنگلے کے سامنے رکی۔ سامنے نئی گاڑی بھی کھڑی تھی۔ راجحی نے کہا "یہ گھر اور گاڑی اب سے آپ کی ہیں، اور آپ کے تمام اخراجات بھی میرے ذمہ"۔ استاد کی آنکھیں بھر آئیں اور بولے "بیٹا یہ بہت زیادہ ہے"۔ راجحی نے جواب دیا "اس دن آپ کے 1 ریال کی جو خوشی میرے دل میں تھی، آج اس سے کہیں زیادہ خوشی مجھے ہو رہی ہے"۔

اللہ ایسے محسن شناس لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔ 2010 میں انہوں نے اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کو جمع کر کے ساری دولت تقسیم کر دی اور اپنا حصہ مکمل طور پر وقف کر دیا۔ آج ان کے وقف کی مالیت 60 ارب ریال سے زیادہ ہے۔ الراجحی بینک اور الوطنیہ کمپنی کے مالک ہیں۔ کورونا کے دنوں میں 170 ملین ریال امداد دی۔ مکہ میں دو ہوٹل وزارتِ صحت کے حوالے کر دیے۔ 1.5 لاکھ سے زیادہ ملازمین ہیں اور اصول یہ کہ تنخواہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے مل جاتی ہے۔ سعودی عرب میں شاید ہی کوئی شہر ہو جہاں ان کے تعاون سے مسجد، قرآن سینٹر یا خیراتی ادارہ نہ بنا ہو۔ گنیز بک میں ان کا باغ سب سے بڑے وقف کے طور پر درج ہے۔

اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کا دیا ہوا صدقہ جاریہ آج بھی چل رہا ہے۔ میرے پیارو اگر وقت ملے تو ان کے لیے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھ کر ایصالِ ثواب کر دیں۔ اللہ ان کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے اور درجات بلند کرے۔ آمین۔

#القصیم #وقف #سخاوت

27/07/2026

فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں رام دیوالی میں 2 فروری 1995 کو ایک بچی پیدا ہوئی۔ گھر والوں نے نام رکھا *ارفع کریم رندھاوا*۔ عام سی بچی لگتی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ الگ چمک تھی۔ 3 سال کی عمر میں جب گھر میں پہلا کمپیوٹر آیا تو سب بچے کھلونوں کی طرف بھاگے، ارفع کمپیوٹر کے پاس بیٹھ گئی۔ چھوٹے ہاتھوں سے کی بورڈ چلانے لگی۔ والد نے دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ بچی کچھ الگ سوچتی ہے۔ 5 سال کی عمر تک وہ Windows خود چلا لیتی تھی، Paint میں تصویریں بناتی تھی۔ محلے والے کہتے تھے "ڈاکٹر صاحب یہ کیا کرے گی" اور والد مسکرا کر کہتے "بس دیکھتے جاؤ"۔

وقت گزرا اور 2004 کا سال آیا۔ ارفع ابھی 9 سال کی تھی۔ ایک دن اس نے ضد کی کہ اس نے مائیکروسافٹ کا امتحان دینا ہے۔ سب ہنسے۔ بولے "یہ بڑوں کا پیپر ہے بیٹا"۔ لیکن ارفع نے کتابیں اٹھائیں، راتیں جاگیں، انٹرنیٹ پر گھنٹوں پریکٹس کی۔ اور پھر وہ دن بھی آیا جب رزلٹ آیا۔ ارفع کریم دنیا کی سب سے کم عمر *Microsoft Certified Professional* بن چکی تھی۔ عمر تھی صرف 9 سال 11 ماہ۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ پاکستان سے امریکہ تک ہر طرف ایک ہی نام تھا۔ اخبارات میں اس کی تصویر چھپی۔ لوگ کہنے لگے "یہ تو پاکستان کا فخر ہے"۔

کچھ مہینے بعد مائیکروسافٹ سے بلاوا آیا۔ ارفع اپنے والد کے ساتھ امریکہ گئی۔ Redmond میں مائیکروسافٹ کے ہیڈکوارٹر میں جب بل گیٹس نے اس 10 سالہ بچی کا ہاتھ تھاما تو دنیا دیکھتی رہ گئی۔ بل گیٹس نے اسے سرٹیفکیٹ دیا اور کہا "تم مستقبل ہو"۔ ارفع نے جواب میں صرف اتنا کہا "سر میں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں"۔ واپسی پر حکومت نے اسے "پرائیڈ آف پرفارمنس" دیا۔ فیصل آباد میں ایک پورے سافٹ ویئر پارک کا نام اس کے نام پر رکھ دیا گیا۔ ارفع سادہ رہی۔ شہرت کے باوجود وہ اسکول جاتی، دوستوں کے ساتھ کھیلتی، اور جب وقت ملتا تو گاؤں کے بچوں کو اکٹھا کر کے کمپیوٹر سکھاتی۔ اس کا ایک ہی خواب تھا کہ پاکستان کا ہر بچہ ٹیکنالوجی سیکھے۔

پھر دسمبر 2011 آیا۔ 22 تاریخ کو ارفع کو اچانک مرگی کا دورہ پڑا۔ وہ بے ہوش ہو گئی۔ لاہور CMH لے جایا گیا۔ خبر سنتے ہی پورا ملک ٹوٹ گیا۔ ٹی وی پر دعائیں، مسجدوں میں دعائیں، اسکولوں میں بچے ہاتھ اٹھا کر رو رہے تھے۔ بل گیٹس نے بھی پیغام بھیجا۔ ڈاکٹرز نے 16 دن تک جنگ لڑی۔ لیکن 14 جنوری 2012 کو 16 سال کی عمر میں وہ خاموشی سے چلی گئی۔ جس دن جنازہ تھا، سڑکوں پر ہزاروں لوگ تھے۔ بچوں کے ہاتھوں میں لکھا تھا "ہماری ارفع"۔

ارفع چلی گئی لیکن ایک سوال چھوڑ گئی۔ کہ کامیابی کے لیے عمر نہیں لگن چاہیے۔ کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی بچی بھی دنیا کو ہلا سکتی ہے۔ کہ اگر نیت صاف ہو تو 9 سال میں بھی تاریخ بن سکتی ہے۔ آج جب کوئی بچہ لیپ ٹاپ کھولتا ہے تو کہیں نہ کہیں ارفع کی ہنسی اس کے ساتھ ہوتی ہے۔

ہم سلام کرتے ہیں *ارفع کریم* کو۔ پاکستان کی بیٹی کو۔ اللہ اس کے درجات بلند کرے۔ آمین۔



-

*ڈاکٹر رتھ فاؤ: وہ جرمن فرشتہ جو پاکستان کی ماں بن گئی*تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگ سرحدیں، مذہب اور قومیت سے اوپر اٹھ کر ان...
26/07/2026

*ڈاکٹر رتھ فاؤ: وہ جرمن فرشتہ جو پاکستان کی ماں بن گئی*

تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگ سرحدیں، مذہب اور قومیت سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نام ہے _ڈاکٹر رتھ فاؤ_۔ ایک جرمن خاتون جس نے اپنا سارا یورپ چھوڑ کر پاکستان کو اپنا گھر بنا لیا۔ جس نے کوڑھ کے مریضوں کو، جنہیں دنیا نے ٹھکرا دیا تھا، اپنی بانہوں میں لیا۔
رتھ فاؤ 1929 میں جنگ زدہ جرمنی میں پیدا ہوئیں۔ بچپن میں انہوں نے بمباری، بھوک اور لاشیں دیکھیں۔ وہ کہتی تھیں: _"میں نے بچپن میں بہت درد دیکھا۔ اسی لیے میں درد کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔"_ ڈاکٹر بن گئیں لیکن دل میں بے چینی تھی۔ وہ کہتی تھیں "مجھے کسی ایسے کام کے لیے بلایا جا رہا ہے جو بہت بڑا ہے۔"

1960 میں وہ صرف 3 مہینے کے ویزے پر کراچی آئیں۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ایک کوڑھی شخص کو سڑک کنارے تڑپتے دیکھا۔ اس کے جسم سے پیپ بہہ رہی تھی اور لوگ پتھر مار رہے تھے۔ رتھ فاؤ گاڑی سے اتریں۔ لوگوں نے کہا "میڈم ہاتھ مت لگائیں، یہ ناپاک ہے"۔ انہوں نے جواب میں اس شخص کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ وہ دن تھا اور آج کا دن۔ وہ واپس نہیں گئیں۔ وہ 3 مہینے، 55 سال بن گئے۔

انہیں کیا کچھ نہیں سہنا پڑا۔ پیسے نہیں تھے تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر مریضوں کا علاج کرتیں۔ خیرات مانگ کر دوا لاتیں۔ لوگ کہتے "یہ عیسائی ہے، یہ ہمیں عیسائی بنائے گی"۔ حکومت شک کرتی تھی۔ کوڑھ کے مریضوں کے گلے سڑے زخم، بدبو، کیڑے۔ نرسز بھاگ جاتیں۔ وہ خود پٹی کرتیں۔ ایک بار ان سے پوچھا گیا "آپ کو گھن نہیں آتی؟" تو وہ بولیں: _"گھن تو مجھے اس معاشرے پر آتی ہے جس نے ان انسانوں کو جانور بنا دیا ہے۔"_

1962 میں انہوں نے کراچی میں پہلا کوڑھ کلینک کھولا۔ آہستہ آہستہ _Marie Adelaide Leprosy Centre_ بنا۔ پھر پورے پاکستان میں 157 سینٹر۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کوڑھ لاعلاج نہیں ہے۔ 6 ماہ کی دوا سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ نتیجہ؟ 1996 میں WHO نے اعلان کیا: *"Pakistan is Leprosy Free"*۔ یہ معجزہ ایک عورت نے کر دکھایا۔ انہوں نے کوڑھ کے ساتھ تپ دق، اندھے پن اور معذوری پر بھی کام کیا۔

جرمنی نے انہیں کئی بار بلایا۔ کہا "آپ کو بڑا اعزاز دیں گے، گھر دیں گے"۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ کہا: _"میرے بچے یہاں ہیں۔ یہ کوڑھی میرے بچے ہیں۔ میں انہیں چھوڑ کر کہاں جاؤں؟"_ 1998 میں انہوں نے پاکستانی شہریت لے لی۔ کہا "اب میں جرمن بھی نہیں رہی، میں پاکستانی ہوں"۔

10 اگست 2017۔ 87 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پائیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی غیر ملکی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین دی گئی۔ فوج نے سلامی دی۔ پورا ملک رویا۔ وزیراعظم نے کہا: _"رتھ فاؤ نے پاکستان کے لیے جو کیا وہ ہماری کئی نسلیں نہیں کر سکیں"_

رتھ فاؤ نے ہمیں 3 باتیں سکھائیں: 1. *انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا*۔ 2. *ایک شخص قوم بدل سکتا ہے*۔ 3. *محبت زخم بھر دیتی ہے*۔ دوا سے پہلے عزت چاہیے ہوتی ہے۔ آج بھی کراچی کے اس سینٹر میں ان کی تصویر لگی ہے۔ نیچے لکھا ہے: _"I don't want to be a saint. I want to be a human."_

ہم سلام کرتے ہیں _ڈاکٹر رتھ فاؤ_ کو۔ اللہ پاک ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔

تاریخ انہی ناموں کو سنہری حروف سے لکھتی ہے جنہوں نے وطن کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ 20 اگست 1971 کا دن پاکستان کی فضاؤں...
26/07/2026

تاریخ انہی ناموں کو سنہری حروف سے لکھتی ہے جنہوں نے وطن کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ 20 اگست 1971 کا دن پاکستان کی فضاؤں میں ایک ایسا واقعہ لے کر آیا جس نے ثابت کر دیا کہ بہادری عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس دن ایک 20 سالہ پائلٹ نے اپنی جان دے کر وطن کی عزت بچا لی۔ وہ تھا *پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید*۔

*زندگی کا پس منظر*
راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم یافتہ، شریف اور وطن سے بے پناہ محبت کرنے والے نوجوان تھے۔ بچپن سے ہی ان کا شوق تھا کہ وہ پاک فضائیہ کا حصہ بنیں اور آسمانوں کی حفاظت کریں۔ 1968 میں انہوں نے PAF Academy رسالپور جوائن کی۔ محنت اور لگن سے ٹریننگ مکمل کی اور 1971 میں پائلٹ آفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

*وہ المناک دن 20 اگست 1971*
اس دن راشد منہاس رسالپور ایئر بیس پر T-33 جیٹ ٹرینر طیارے پر سولو فلائٹ کی ٹریننگ کر رہے تھے۔ ان کے انسٹرکٹر پائلٹ *فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان* بھی ساتھ تھے۔ ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی مطیع الرحمان نے دھوکے سے راشد منہاس پر قابو پا لیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ طیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جائے۔

*فیصلے کا ایک لمحہ*
راشد منہاس نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ غداری ہے۔ ریڈیو پر انہوں نے کنٹرول ٹاور کو پیغام دیا: "I am being hijacked"۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان طیارے کے کنٹرول کے لیے شدید کشمکش شروع ہو گئی۔
مطیع الرحمان طیارہ بھارت کی طرف موڑ رہا تھا۔ راشد منہاس کے سامنے دو راستے تھے۔ یا تو چپ کر کے بیٹھ جائیں اور ملک سے غداری ہونے دیں، یا اپنی جان قربان کر دیں۔

*قربانی*
راشد منہاس نے دوسرا راستہ چنا۔ انہوں نے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا تاکہ یہ بھارت کی سرحد پار نہ کر سکے۔ طیارہ تھٹہ کے قریب زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔
20 سال کی عمر میں راشد منہاس نے اپنی جان دے کر وطن کی عزت اور رازوں کو دشمن کے ہاتھ جانے سے بچا لیا۔

*قوم کا سبق*
راشد منہاس شہید کی یہ قربانی آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی بے مثال بہادری کے اعتراف میں انہیں ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز *نشانِ حیدر* سے نوازا۔ وہ پاک فضائیہ کے واحد اور پاکستان کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر یافتہ ہیں۔

کراچی میں PAF Base کا نام بھی *PAF Base Masroor سے بدل کر PAF Base Rashid* رکھا گیا۔ ہر سال 20 اگست کو پوری قوم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔

*پیغام*
راشد منہاس نے ثابت کیا کہ وطن کی محبت کے لیے عمر، تجربہ یا عہدہ نہیں دیکھا جاتا۔ بس دل میں ایمان اور جگر میں ہمت ہونی چاہیے۔
آج جب ہم آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہیں تو اس کے پیچھے راشد منہاس جیسے نوجوانوں کی قربانیاں ہیں۔

ہم سلام کرتے ہیں *پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید* کو۔
اللہ پاک ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔



-

شام کے 5 بج رہے تھے۔ کوئٹہ کی کامرانی روڈ کا پٹرول پمپ اپنی روٹین میں تھا۔ گاڑیاں لائن میں لگی تھیں، لوگ ٹینکیاں فُل کرو...
25/07/2026

شام کے 5 بج رہے تھے۔ کوئٹہ کی کامرانی روڈ کا پٹرول پمپ اپنی روٹین میں تھا۔ گاڑیاں لائن میں لگی تھیں، لوگ ٹینکیاں فُل کروا رہے تھے۔ آس پاس گھر بھی تھے جہاں بچے کھیل رہے تھے اور عورتیں چھتوں پر تھیں۔

اسی دوران آئل ٹینکر پٹرول اتارنے آیا۔ ساری احتیاط ہو چکی تھی۔ وال کھلا اور تیل کی منتقلی شروع ہوئی ہی تھی کہ اچانک شعلہ نکل آیا۔
پل بھر میں ٹینکر آگ کا گولا بن گیا۔

اگر یہیں دھماکہ ہو جاتا تو پمپ پر کھڑے درجنوں لوگ، اور ساتھ والے گھروں میں موجود مائیں بچے سب راکھ ہو جاتے۔

تبھی ایک شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھا - فیصل بلوچ
اس نے سامنے زندگی دیکھی۔ بچے، بوڑھے، گھر۔ اور ایک طرف اپنی جان۔
اس نے سوچنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا۔ دل نے کہا "اگر قربانی دینی ہے تو میں دوں گا"۔

وہ بھاگ کر جلتے ٹینکر میں چڑھا اور اسٹیرنگ گھما دیا۔ شعلے کیبن تک آ رہے تھے، سانس لینا مشکل تھا۔ مگر وہ رکا نہیں۔ آبادی سے کوئی 3 کلومیٹر دور ویرانے کی طرف لے گیا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے صرف ایک منظر تھا: کسی معصوم کی لاش نہ گرے۔

بعد میں فیصل نے خود کہا تھا: "مجھے لگ رہا تھا میں واپس نہیں آؤں گا۔ لگا وقت پورا ہو گیا۔ لیکن اگر میری ایک جان سے کئی گھر بچ جائیں تو سودا مہنگا نہیں"۔

اللہ کو یہ نیت منظور ہوئی۔ بہت بڑا سانحہ ٹل گیا۔ درجنوں جانیں بچ گئیں۔ اور معجزہ یہ کہ فیصل بھی اس آگ سے نکل آیا۔

قوم نے اس بہادری کو سراہا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسے بلا کر 5 لاکھ کا انعام دیا۔ وزیراعظم نے اسلام آباد بلا کر ایوارڈ دیا۔

کتابیں سب کی کہانی نہیں لکھتیں۔ کچھ لوگ اپنے عمل سے تاریخ بنا جاتے ہیں۔
فیصل بلوچ انہی میں سے ہے۔ جس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دوسروں کے چراغ جلنے دیے۔

سلام ہے فیصل بلوچ کو۔
اللہ اسے سلامت رکھے۔ آمین۔

25/07/2026

*میجر عزیز بھٹی: لاہور کا محافظ*
تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں پیٹھ نہیں دکھاتے۔ 1965 میں جب دشمن نے لاہور پر حملہ کیا تو ایک نام سب سے نمایاں ہوا - *میجر راجہ عزیز بھٹی شہید*۔ وہ تنہا دیوار بن گئے اور شہر کو تباہی سے بچا لیا۔

*زندگی کا سفر*
عزیز بھٹی 6 اگست 1928 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔ والد فوج سے وابستہ تھے اس لیے نظم و ضبط بچپن سے سیکھا۔ 1947 میں جب پاکستان بنا تو 19 سال کی عمر میں فوج کا حصہ بن گئے۔ وہ پڑھائی اور کھیل دونوں میں آگے تھے۔ ہاکی ٹیم کے کپتان رہے۔ 1960 میں میجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ساتھی انہیں بہت عزت دیتے تھے کیونکہ وہ حکم دینے سے پہلے خود مثال بنتے تھے۔ رات کے وقت خندقوں کا چکر لگانا ان کا معمول تھا۔

*برکی کا معرکہ 1965*
6 ستمبر کی رات بھارت نے اچانک لاہور پر یلغار کر دی۔ سب سے نازک پوائنٹ "برکی" تھا۔ یہاں سے دشمن سیدھا شہر میں داخل ہو سکتا تھا۔ اس محاذ کی کمان عزیز بھٹی کے سپرد تھی۔ ان کے پاس صرف ایک کمپنی یعنی 120 جوان تھے۔ مقابلے میں دشمن کی مکمل بریگیڈ تھی۔ پیچھے ہٹنے کا پیغام آیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ کہا: "یہ سرزمین میری ہے، میں پیچھے نہیں جاؤں گا"۔

*5 دن کی مزاحمت*
اگلے 5 دن ناقابلِ فراموش ہیں۔ مسلسل شیلنگ، گولہ باری اور ٹینکوں کا حملہ۔ راشن کم، نیند حرام۔ لیکن عزیز بھٹی کا حوصلہ بلند رہا۔ وہ خود مورچے میں بیٹھ کر جوانوں کی رہنمائی کرتے۔ دشمن کی نقل و حرکت خود نوٹ کرتے اور توپچیوں کو ہدف بتاتے۔ اسی بہادری سے انہوں نے دشمن کے کئی ٹینک اڑا دیے اور 4 بار بڑا حملہ پسپا کیا۔

*آخری دن اور شہادت*
12 ستمبر 1965 کو دشمن نے پوری طاقت جھونک دی۔ آسمان گولوں سے پٹ گیا تھا۔ عزیز بھٹی جوانوں کو ڈٹے رہنے کا کہہ رہے تھے کہ ایک گولہ قریب آ کر پھٹا۔ وہ شدید زخمی ہوئے۔ آخری سانس تک ان کے الفاظ تھے: "مورچہ مت چھوڑنا"۔ یوں 37 سال کی عمر میں وہ وطن پر قربان ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد دشمن کا حملہ رک گیا اور لاہور محفوظ رہا۔

*قوم کا قرض*
پاکستان نے انہیں *نشانِ حیدر* سے نوازا جو فوج کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ آج برکی کو "عزیز بھٹی شہید" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کا پیغام واضح ہے: قیادت قربانی مانگتی ہے، ہمت سے کم وسائل بھی بڑی فتح دلا دیتے ہیں، اور وطن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ہم آج آزاد ہیں کیونکہ کل کسی نے اپنی جان دے دی تھی۔

23/04/2026

Anyone want to get admission in Pharmacy Technician Batch 2025-2027?
Special Package available .

16/09/2022
06/09/2022

Contact on number given in ad
Hmen cv ya msg na kren page pe

ORTA Laboratories operating since 1954 on Lahore Multan Road is looking candidates for the following positions.

Quality assurance pharmacist to be based at the plant
Minimum experience of 1 year

Warehouse pharmacist to be based at the plant
Minimum experience of 1 year

Accounts executive to be based in head office Lahore
Minimum experience 2 years

Office secretary (Female) to be based in head office Lahore.
Minimum experience 2 years

Interested candidates may apply through sending their cv on company WhatsApp number
03064335798
Contact there not with us

Address

Walsall
35200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ستارے زمین پر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to ستارے زمین پر:

Shortcuts

Share

Category