29/07/2026
تقریباً 2500 سال پہلے یمن پر *اَسْعَد تُبّان حِمْیَری* کی حکومت تھی۔ یمن کی زبان میں بادشاہ کو تُبّع کہتے تھے، اسی وجہ سے تاریخ میں یہ تُبّعُ الْاَوَّل اور تُبّع حِمْیَری کے نام سے جانے گئے۔
ایک بار تُبّع اپنے وزیر کے ساتھ سفر پر نکلے۔ ساتھ تقریباً 1 لاکھ 13 ہزار پیدل اور 1 لاکھ 30 ہزار سوار بھی تھے۔ جہاں جہاں یہ قافلہ جاتا لوگ ڈر اور احترام سے استقبال کرتے۔ اسی سفر کے دوران تُبّع ہر شہر سے 10 عالم اپنے ساتھ شامل کر رہے تھے۔ کئی شہروں کے بعد ان کے قافلے میں تقریباً 4 ہزار علماء جمع ہو گئے۔
جب یہ قافلہ مکہ پہنچا تو اہلِ مکہ نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ یہ دیکھ کر تُبّع کو سخت غصہ آیا۔ وزیر سے پوچھا تو اس نے بتایا: "بادشاہ سلامت! یہاں ایک گھر ہے جسے کعبہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ اس میں بتوں اور شیطان کو سجدہ کرتے ہیں۔" یہ سن کر تُبّع نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ مکہ والوں کو قتل کر دوں گا، عورتوں بچوں کو قیدی بنا لوں گا اور کعبہ کو گرا کر اسے ویران کر دوں گا۔
اللہ کی شان دیکھیں۔ جیسے ہی یہ سوچ دل میں آئی، تُبّع کے سر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ آنکھ، ناک، کان اور منہ سے بدبودار پانی بہنے لگا۔ اتنی سڑاند پھیل گئی کہ پاس بیٹھنا مشکل ہو گیا۔ وزیر نے بڑے بڑے طبیبوں کو بلایا لیکن کوئی علاج نہ بتا سکا۔ سب نے کہا یہ کوئی آسمانی معاملہ ہے۔
درد کی وجہ سے نیند اڑ گئی۔ ایک رات ایک عالم وزیر کے پاس آئے اور کہا: "اگر بادشاہ سچ بولے تو میں علاج کر سکتا ہوں"۔ وزیر نے تُبّع کو بتایا تو وہ فوراً مان گئے۔ جب عالم تنہائی میں پہنچے تو پوچھا: "بادشاہ سچ بتاؤ، کعبہ کے بارے میں دل میں کیا ہے؟" تُبّع نے روتے ہوئے اپنا برا ارادہ بتا دیا۔ عالم بولے: "تمہاری بیماری کی وجہ یہی نیت ہے۔ کعبہ کا رب دل کی بات بھی جانتا ہے۔ برے خیال دل سے نکال دو"۔ تُبّع نے فوراً توبہ کی۔ ابھی عالم اٹھے بھی نہ تھے کہ وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ یہ کرامت دیکھ کر تُبّع ایمان لے آیا اور دینِ ابراہیمی اختیار کر لیا۔ پھر کعبہ کے احترام میں 7 غلاف بنوائے۔ اس سے پہلے کبھی کعبہ پر غلاف نہیں چڑھا تھا۔ اس کے بعد مکہ والوں کو کعبہ کی حفاظت کی وصیت کر کے مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
اس وقت مدینہ میں کوئی خاص آبادی نہ تھی۔ صرف ایک چشمہ تھا۔ تُبّع کا قافلہ وہیں ٹھہرا۔ یہاں 4 ہزار علماء نے آپس میں مشورہ کیا۔ ان میں سے 400 نے فیصلہ کیا کہ ہم مرتے دم تک یہ جگہ نہیں چھوڑیں گے چاہے جان چلی جائے۔ جب تُبّع کو پتہ چلا تو حیران ہو کر وجہ پوچھی۔ علماء نے جواب دیا:
"عنقریب ایک نبی آئیں گے جن کا نام محمد ہوگا۔ ان کی وجہ سے کعبہ اور مدینہ کو عزت ملے گی۔ وہ حق کے امام ہوں گے، ان کے پاس ذوالفقار ہوگی، اونٹنی پر سوار ہوں گے، منبر پر لاٹھی کے ساتھ خطبہ دیں گے۔ انہیں قرآن دیا جائے گا۔ قیامت کے دن ان کے سر پر حمد کا تاج اور ہاتھ میں جھنڈا ہوگا۔ وہ لا الہ الا اللہ کی دعوت دیں گے۔ ولادت مکہ میں ہوگی اور ہجرت کر کے مدینہ کو شرف بخشیں گے۔ جو شخص ان کا زمانہ پائے اور ایمان لائے وہ خوش نصیب ہوگا۔ اسی امید پر ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں کہ یا ہمیں ان کی زیارت نصیب ہو یا ہماری اولاد کو"۔
یہ سن کر تُبّع نے بھی سوچا کہ ایک سال یہیں ٹھہر جاتا ہوں، شاید آقا کا دیدار ہو جائے۔ اس نے 400 علماء کے لیے 400 مکان بنوائے، ان کی شادیاں کروائیں اور خوب مال دیا۔
ایک سال بعد جب واپسی کا ارادہ ہوا تو تُبّع نے بارگاہِ رسالت کے نام ایک خط لکھا:
"تُبّع الاول حمیر بن وردع کی طرف سے، دو جہان کے رب کے رسول، آخری نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں۔ یہ اللہ کی امانت ہے جسے ملے مالک تک پہنچا دے"
"یا محمد! میں آپ پر اور قرآن پر ایمان لاتا ہوں۔ آپ کے دین اور سنت کو مانتا ہوں۔ ہر چیز کے رب پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر آپ کی صحبت مل گئی تو یہ میری خوش بختی ہوگی ورنہ قیامت کے دن مجھے یاد رکھ کر شفاعت فرما دیجیے گا۔ میں آپ کا فرمانبردار امتی ہوں اور آپ کی آمد سے پہلے ہی آپ کا پیروکار ہوں۔ میں آپ اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوں"۔
اس خط پر سنہری مہر لگائی جس پر لکھا تھا: "لِلہِ الْاَمْرُ مِنۡ قَبْلُ وَ مِنۡۢ بَعْدُ ؕوَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوۡنَ بِنَصْرِاللہِ"۔ پھر وہی عالم جنہوں نے اصلاح کی تھی انہیں خط دے کر وصیت کی کہ اگر نبی سے ملاقات ہو تو یہ خط دے دینا ورنہ اپنی نسل کو کہنا کہ یہ امانت آگے پہنچا دیں۔ اس کے بعد تُبّع مدینہ سے ہند کے شہر غلسان چلا گیا اور وہیں وفات پا گیا۔
تُبّع کے انتقال کے تقریباً 1000 سال بعد ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ 53 سال مکہ میں قیام کے بعد ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ مدینہ کے جن لوگوں نے مدد کی انہیں انصار کہا جاتا ہے۔ یہ وہی 400 علماء کی اولاد تھے جو 1000 سال سے وہ خط سنبھالے ہوئے تھے۔ جب انہیں حضور کی آمد کا پتہ چلا تو خوشی سے مشورہ کیا کہ خط کیسے پہنچائیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مشورے سے یہ ذمہ داری ابو لیلیٰ انصاری کو دی گئی۔
ابو لیلیٰ خط لے کر مکہ کے راستے پر نکلے۔ بنو سلیم کے مقام پر پہنچے تو دیکھا ایک ہستی جلوہ فرما ہے۔ آقا نے خود پکارا: "کیا تم ابو لیلیٰ ہو؟" عرض کی: جی ہاں۔ فرمایا: "اور تمہارے پاس تُبّع اول کا خط بھی ہے"۔ ابو لیلیٰ حیران رہ گئے۔ پوچھا: "آپ کون ہیں؟" فرمایا: "میں ہی محمد ہوں، خط دو"۔ ابو لیلیٰ نے فوراً وہ ہزار سال پرانا مہر بند خط پیش کر دیا۔ نبی کریم نے حضرت صدیق اکبر سے خط پڑھوایا۔ سن کر تین بار فرمایا: "مَرْحَبًا بِالْاَخِ الصَّالِح" یعنی نیک بھائی کو خوش آمدید۔ پھر ابو لیلیٰ کو مدینہ واپس جانے کا حکم دیا۔
جب مدینہ پہنچے تو سارا واقعہ سنایا۔ لوگوں نے انعام سے نوازا۔ اس کے بعد جب آقا مدینہ تشریف لائے تو ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ آپ ان کے ہاں قیام کریں۔ آپ نے فرمایا: "اونٹنی کو چھوڑ دو، جہاں اللہ کا حکم ہوگا وہیں رکے گی"۔ اونٹنی چلتی ہوئی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے رک گئی۔ یہ وہی گھر تھا جو تُبّع نے خاص نبی کے لیے بنوایا تھا۔ اور حضرت ابو ایوب انہی عالم کی نسل سے تھے جنہوں نے تُبّع کی اصلاح کی تھی۔
واللہ اعلم بالصواب۔
دوستو...! آخر میں ایک بات۔ اگر کوئی تحریر، واقعہ یا بات اچھی لگے تو پڑھنے کے بعد آگے شیئر بھی کر دیا کریں۔ آپ کا ایک لمحہ لگے گا لیکن ہو سکتا ہے کسی کی زندگی بدل جائے۔ ایسی مزید پوسٹ کے لیے فالو ضرور کریں۔ بہت شکریہ ❤️
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
(ماخوذ از تاریخ دمشق، ج11، ص3 تا 14)
کرکے ہجرت یہاں آگئے مصطفےٰ
روشنی آج گھر گھر مدینے میں ہے